تربوز دنیا کے اکثر گرم ملکوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔ مشرق وسطٰی کے ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ ہندو پاکستان میں بھی عام ملتا ہے۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا کا تربوز اپنی سرخی اور حلاوت میں مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ رتیلے علاقوں کا تربوز اپنی سرخی اور حلاوت میں مشہور ہے۔ تربوز کی عمدگی اس کے گودے کی سرخی اور مٹھاس پر قرار دی جاتی ہے۔ ملاوٹ کے اس دور میں دیکھا گیا ہے کہ پھل فروش سرخ رنگ میں سکرین ملا کر تربوزوں میں انجکشن لگا کر ان کو مصنوعی طور پر سرخ اور میٹھا کر لیتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ افریقہ کا پھل ہے جو سیاحوں کی بدولت دنیا بھر میں مقبول ہو گیا۔ آج کل پاکستان میں چین کے درآمدی بیج سے چھوٹے حجم کے ایسے تربوز کثرت سے پیدا ہو رہے ہیں جو لذیذ بھی ہیں۔ پھل وزنی ہونے کی وجہ سے اس کا پودا زمین پر رینگنے والا ہے۔ بیج بونے سے چار ماہ میں پھل پک کر تیار ہو جاتا ہے۔ پکے ہوئے پھل کی پہچان میں کہا جاتا ہے کہ اگر اس پر ہاتھ ماریں تو جواب میں مدھم آواز عمدگی کی علامت ہے۔
محدثین کی اکثریت تربوز کے بارے میں صرف ایک حدیث کو ثقہ قرار دیتی ہے۔
حضرت سہیل بن سعد سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ تازہ پکی ہوئی کھجوروں کے ساتھ تربوز کھایا کرتے تھے۔
اس حدیث کے الفاظ میں سنن ابی داؤد میں یہ اضافہ ملتا ہے۔
اور فرمایا کہ اس کی گرمی اس کی ٹھنڈک مار دیتی ہے اور اس کی ٹھنڈک کو اس کی گرمی مار دیتی ہے۔ مذید فرمایا کہ تربوز کھانا بھی ہے اور مشروب بھی یہ مثانہ کو دھو کر صاف کر دیتا ہے اور باہ میں اضافہ اور چہرے کو نکھارتا ہے۔ (ذہبی، مسند فردوس)
اکثر محدثین نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم کو پھلوں میں انگور اور تربوز بہت پسند تھے اور وہ انہیں شوق سے کھاتے ہیں
Customer Service (Pakistan) +92-313-99-77-999
Helpline +92–30-40-50-60-70
Customer Service (UAE) +971-5095-45517
E-Mail [email protected]
Dr. Hakeem Muhammad Irfan Skype ID alshifa.herbal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *