(1) بدنگاہی کرنا (2) زیادہ گفتگو یعنی بے مقصد باتیں کرنا
(3) زیادہ کھانا (4) زیادہ سونا۔1۔ بدنگاہی کرنا

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق نگاہیں جس جگہ جمتی ہیں پھر ان کا اچھا اور بُرا اثر اعصاب، دماغ اور ہارمونز پر پڑتا ہے۔ شہوت کی نگاہ سے دیکھنے سے ہارمونری سسٹم کے اندر خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ان نگاہوں کا اثر زہریلی رطوبت کا باعث بن جاتا ہے اور ہارمونز گلینڈز ایسی تیز اور خلاف جسم زہریلی رطوبتیں خارج کرتے ہیں جس سے تمام جسم درہم برہم ہو
جاتا ہے اور آدمی بے شمار امراض و علل میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
بہر حال نگاہوں کی حفاظت نہ کرنے سے آدمی ڈپریشن، بے چینی اور مایوسی کا شکار ہوتا ہے جس کا علاج ناممکن ہے کیونکہ نگاہیں انسان کے خیالات اور جذبات کو منتشر کرتی ہیں ایسی خطرناک پوزیشن سے بچنے کے لئے صرف اور صرف اسلامی تعلیمات کا سہارا لینا پڑے گا۔ یعنی چلتے پھرتے اپنی نگاہوں کو نیچا رکھنے کی عادت بنائیں اور دل میں اللہ عزوجل کا خوف پیدا کریں کہ اللہ عزوجل مجھے دیکھ رہا ہے جس قدر اللہ عزوجل کا خوف زیادہ ہوگا اتنا ہی حرام چیزوں سے بچنا آسان ہوگا۔

یاد رکھئے ! اگر اجنبی یا نامحرم عورت پر اچانک نظر پڑ جائے تو دوبارہ دیکھنا گناہ ہے قیامت کے روز ایسی آنکھ میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا حرام اشیاء کو دیکھنا ہے۔ (بخاری۔ مسلم)

تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “اللہ عزوجل دیکھنے اور دکھانے والی دونوں پر لعنت فرمائے۔“ (بیہقی)

2۔ زیادہ باتیں کرنا

حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؛۔
جب تم اپنے دل میں قساوت (سنگ دلی) بدن میں سستی اور رزق میں تنگی محسوس کرو تو سمجھ لو کہ تم سے کہیں فضول کلمے نکل گئے ہیں جس کا یہ نتیجہ ہے۔
بدن میں سستی اور دل کی سختی سے بیسیوں روحانی اور جسمانی امراض جنم لیتے ہیں۔

3۔ زیادہ کھانا

یہ حقیقت پر مبنی ہے کہ زیادہ کھانا متعدد امراض کا سبب بنتا ہے اور معدہ کی خرابی بہت سے امراض کی جڑ ہے۔ جن میں سے زیادہ خطرناک شوگر، بلڈ پریشر، فالج اور موٹاپا ہیں۔ کم کھانے سے طبیعت ہلکی پھلکی اور دماغ روشن رہتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بوجھل پیٹ کے ساتھ کوئی شخص اپنی خداداد صلاحیتوں کے ساتھ ترقی کی راہ گامزن نہیں ہو سکتا۔ جب کہ اصول یہ ہے کہ تھوڑی سی بھوک رکھ کر دسترخوان سے ہاتھ کھینچ لینا چاہئیے۔

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھانے پینے کی کثرت کرکے دلوں کو نہ مارو، کیونکہ اس سے دل مُردہ ہو جاتا ہے۔ جیسے پانی کی کثرت کے باعث کھیتی مر جاتی ہے۔ تباہ ہو جاتی ہے۔ (مکاشفۃ القلوب)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کی ڈکار سنی تو ارشاد فرمایا:۔
“اپنی ڈکار کم کر کیونکہ قیامت کے روز سب سے زیادہ بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھرتا ہے۔“ (ترمذی)
مذید فرمایا “آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا کر دیں اگر زیادہ کھانے کی ضرورت ہو تو تہائی پیٹ کھانے کیلئے ارو تہائی پانی کیلئے اور تہائی سانس کیلئے رکھے۔“ (ترمذی و ابن ماجہ)

یہ حدیث خوراک کی متوازن مقدار کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ معدہ میں غذا پانی اور رطوبتوں کے عمل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بنتی ہے اور یہ معدہ کے اوپر والے حصہ میں آ جاتی ہے اگر معدہ کے اس حصے کو بھی خوراک سے بھر دیا جائے تو گیس کیلئے جگہ نہ ہوگی۔ یہ عمل معدہ کی بہت سی بیماریوں کا باعث اور سانس میں دشواری پیدا کرتا ہے۔

4۔ زیادہ سونا
زیادہ سونا اعصاب اور دماغ کو کند کر دیتا ہے اور دوران خون کم و بیش نہ ہونے سے دل اور اعصاب کے کئی عوارض پیدا ہو جاتے ہیں۔ قبض اور ہاضمہ کی خرابی بڑھنی شروع ہو جاتی ہے خصوصاً کھانے کے فوراً بعد سو جانا معدہ اور آنتوں کی سنگین بیماریوں پیدا کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *