جنسی امراض اباحیت

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ھے “جب بھی کسی قوم کے اندر فحش کاموں کا ظھور ھوگا اور وہ اس کوکھلم کرنے لگیں، تو نتیجہّ ان میں طاعون اور ایسے امراض عام ھوں گے جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھے”

اور ارشاد ھے”زنا جس قوم میں عام ھوگا اس میں اموات کثرت سے ھوں گی “۔ مؤطآ مالک۔

سائنسی تحقیق:

گذشتہ دو صدیوں میں کائنات کے اسرار ورموز پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے جدید سائنس میں اس بات کا انکشاف کیا ھے۔ کہ بہت بیکٹریا، فطریات اور وائرس ایسے ھیں، جو انسانوں میں صرف غیر فطری طریقے پر جنسی خواھشات پورا کرنے سے منتقل ھوتے ھیں مثلا عورتوں، مردوں کے غیر محدود تعلقات، مردوں، مردوں اور عورتوں، عورتوں کے جنسی تعلقات،اور جب اس طرح کےتعلقات کا دائرہ وسیع ھو گا، تو معاشرہ میں ایسے وبائی امراض آئیں گے، جن کا تصور بھی نہ ھوگا چونکہ ان جراثیم کی خاصیت بدلتی رھتی ھے۔ جس کی بنیاد پر ان کا علاج نا ممکن ھوتا ھے، اس طرح جسم میں بھی قوت مناعت ختم ھونے کی بنیاد پر ان کے مقابلےکی طاقت نھین رھتی۔ یہ بھی ممکن ھے، کہ مستقبل میں مواصفات کی صورت میں ان کا ظھور ھو ۔

سبب اعجاز:

حدیث نبوی سےایک عام اجتماعی حالت کا انکشاف ھوتا ھے ۔ جو ان مقدمات اور نتائج پاۓ جانے والے کسی بھی معاشرہ میں ظھور پذیر او سکتی ھے۔ جس کا مقدمہ یہ ھے کہ کسی معاشرہ میں حرام تعلقات جیسے زنا اور غیر فطری تعلقات عام ھوں اور ان کو جرم نہ سمجھا جاتا ھو بلکہ بخوشی ان کوعام کیا جاتا ھو،اس کو ھم جنسی انارکی کا نام بھی دے سکتے ھیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم “لم تظهر الفاحشة فى قوم قط حتى يعلنوا بها “کا بھی یھی مفھوم ھے اور اس انارکی کےنتائج جنسی امراض کا عام ھو جانا اور مہلک اور وبائی شکل اختیار کر لینا اور بعد کی نسلوں میں نئی اشکال اور صورتوں میں ظھور پذیر ھونا ھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول “إلا فشا فيهم الطاعون والأوجاع التى لم تكن مضت فى أسلافهم الذين مضوا.” کا یھی مطلب ھے۔ اور بھت سے مغربی معاشروں میں یہ حالت عام ھے چونکہ حرام اور غیر فطری تعلقات ان میں عام ھیں اور ایک اجتماعی ضرورت کے تحت وہ اس کو پسند بھی کرتے ھیں، بلکہ ھر طرح اشتہارات کےذریعہ وہ اس کی تشھیر و ترویج بھی کرتے ھیں۔ ڈاکٹرشوڈیلڑ اپنی کتاب’امراض جنسیہ’ میں لکھتے ھیں :’پورے معاشرہ میں تمام جنسی طریقوں کے تئیں تساہل سے کام لیا جاتا ھے اور زنا، لواطت یا کسی بھی حرام اور غیرفطری جنسی تعلق کے سلسلے میں ندامت وشرمندگی کا احساس نھیں ھے۔ بلکہ ذرائع ابلاغ نے نوجوان لڑکےاور لڑکیوں کیلئے پاکدامن رھنے کوایک عاراور شرمندگی چیزبنا دیا ھے۔ مرد وعورت کیلئے عفت و پاکدامن کے تصور سے مغربی معاشروں میں پیشانی پر شرم سے پسینہ آجاتا ھے۔ ذرائع ابلاغ اباحیت کو ایک فطری چیز سمجھـ کر اس کی دعوت دیتے ھیں۔

برٹانی کا انسائیکلوپیڈیا کے مطابق غیر فطری عمل کرنے کے بجاۓ اب کھلم کھلا یہ عمل کر رھے ھیں۔ ان کے لئے کلب ھیں گاڑدنس ھیں، پاڑک ھیں، سمندروں کے خاص سواحل اور سویمنگ پول یہاں تک کہ خاص بیت الخلائیں۔

سیکڑوں مقالات، آرٹیکلس ،کتابیں، ڈرامے، افسانے، کہانیاں اور فلمین طوائفی اور غیر فطری تعلقات کی عظمت کے لئےلکھے گئےھیں بلکہ بھت سے مغربی چرچوں نے زنا اور لواطت کو جائز قرار دیدیا ھے یہاں تک بعض مغربی ممالک میں پوپ کے ذریعہ چرچ میں مرد مرد کا نکاح بھی ھوتا ھے، اور ھزاروں تنظیموں اور کلب غیرفطری عمل کرنے والوں کی ضروریات کا تکفل کرتی ھیں۔ تو گویا کہ اس عام حالت کا مقدمہ تو تیار ھو چکا ھے تو کیا نتائج بھی ظاھر ھو چکےھیں؟

اس کا جواب بھی اثبات میں ھے۔ ان میں جنسی امراض وبائی شکل میں ظاھر ھوۓ ھیں جس کی وجہ سے بھت ساری تکلیفیں اور بیماریاں سامنے آئیں۔ چنانچہ 1494ء لے کر آج تک دنیا نے ‘ زھری ، وباء کے عام ھونے کا حال دیکھا، جس نے گذشتہ پانچ صدیوں میں کروڑھا کروڑ افراد کو موت کا جام پلا دیا اور دوسرے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو مفلوج کر کے رکھدیا۔ اور اس مرض کے جراثیم خاصیت اور شکل بدل بدل کر سیلان کا مرض لگنے والی بیماریوں میں سر فھرست ھے۔ چنانچہ دنیا میں یہ مرض سب سے زیادہ عام ھے۔ اور نسل کشی مرض ھے،جس کو لگ جاتا ھے، بانجھـ بناکر رکھـ دیتا ھے، اس طرح تمام جنسی امراض اس شخص کو لگ جاتے ھیں، جو آسمانی تعلیمات سے منحرف ھو کر جنسی خواھشات کی تکمیل کرتا ھے۔ اور اب آخری دور میں ایڈز جیسا مہلک مرض ظاھر ھوا ھے، جس کا وائرس انسان کےاندر سے قوت مناعت کو ختم کر دیتا ھے، جس کی وجہ سے جستہ جستہ انسان کے تمام اعضاء مفلوج اور بے اثر ھوتے جاتے ھیں یہاں تک کہ انسان ھلاک ھو جاتا ھے۔ جس کا علم 1983ء میں وائرس کے انکشاف کے بعد ھوا ھے،اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان صحیح ثابت ھوا، کیایہ اس بات کی دلیل نھیں ھےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بر حق ھیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *