جنسی طور پر ہراساں کرنا
ہراساں کرنا کیا ہوتا ہے اور جنسی طور پر ہراساں کرنا کیا ہوتا ہے؟غیر مطلوبہ ،نا پسندیدہ اور غیر اخلاقی روّیہ ،جس کی وجہ سے آپ خوف ،پریشانی،خطرہ، بے سکونی یا شکار ہوجانا محسوس کریں، ہراساں کرنا کہلاتا ہے۔اِس کی وجہ سے کام کی جگہ،تحقیق کے کاموں اورمعاشرتی زندگی پر خوف، مخالفت اور ناگواری کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔جب اِس طرزِ عمل میں نا پسندیدہ جنسی پیش قدمی ،جنسی رعایت طلب کرنا، یا جنسی نوعیت کا زبانی یا جسمانی طرزِ عمل بھی شامل ہو تو یہ جنسی طور پر ہراساں کرناکہلاتا ہے۔

چند غیر مطلوبہ /نا پسندیدہ روّیے ذیل میں درج ہیں:

* جنسی طور پر واضح اِشارے مثلأٔ گھورنا جس سے پریشانی پیدا ہو(جنسی لحاظ سے گھورنا)۔
* مخصوص طرز سے ہنسنا/مُسکرانا۔
* جنسی اِشارے کِنائے/ترغیبات۔
* کسی فرد کے اُوپر جُھکنا یا اُس کی ذاتی حدود میں تجاوز کرنا/اِرادے کے ساتھ جسم سے جسم کو مَس کرنا جس پر دُوسرے فردکی رضامندی نہ ہواگرچہ کسی وجہ سے دُوسرا فرد خاموش ہی کیوں نہ ہو۔
* آوازیں کَسنا، ہونٹوں سے نا پسندیدہ آواز نکالنا، جانوروں کی آواز نکالنا وغیرہ۔
* جنسی لطیفے سُنانا/جنسی مذاق کرنااور جنسی کارٹون بنانا یا دِکھانا۔
* جنسی ترغیب دینے والا مواد دِکھانا یا بے لباس تصویریں دِکھانا۔

بس صِرف یہ ہی نہیں بلکہ،زنا بالجبر جنسی مقاصد کے لئے اغوا کرنا اور محرم رِشتہ دار سے جنسی ملاپ کرنا ،جنسی طور پر ہراساں کرنے کی زیادہ شدید صورتیں ہیں۔
جنسی طور پر ہراساں کہاں کیا جاتا ہے؟

جنسی طور پر ہراساں کہیں بھی کیا جا سکتا ہے۔مثلأٔ سڑک پر، کلب میں، اِنٹر ویو کے دوران، دُکان، اسکول ، کالج اور بازار میں، سُرخ ٹریفک سگنل پر انتظار کے دوران، بس اسٹاپ، ریستوران، اور ہوائی اڈّے پر ۔الغرض کسی بھی عوامی جگہ پر اور کام کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کیا جا سکتا ہے۔
کیا صِرف مَرد ہی عورتوںکو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں؟

نہیں، عورتیں بھی مَردوں کو جنسی طور پر ہراساں کر سکتی ہیں(بعض اوقات عورتیں جنسی طور پرہراساں کرنے والی ہوتی ہیں)۔مَرد مَردوں کو اور عورتیں عورتوں کو بھی جنسی طور پر ہراساں کرتی ہیں ۔لہٰذا جنسی طور پر ہراسں کرنے کے معاملے میں صنف کی کوئی قید نہیں ہے۔
کیا اِن واقعات کی رِپورٹ سرکاری طور پر /معمول کے قواعد کے مطابق کی جاتی ہے؟

پاکستان میں اِ ن واقعات کی رِپورٹ نہیں کی جاتی،یہ واقعات عام ہیں اور ہر فرد اپنے لحاظ سے اِن واقعات سے نمٹتا ہے ،لیکن یہ بات یاد رکھئے کہ ایسی صورت حال سے دوچار ہونے والے آپ اکیلے ہی نہیں ہیں۔
کیا جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی وجہ کسی طرح میری کوئی غلطی ہوتی ہے؟کیا میں کسی لحاظ سے ذمّہ دار ہُوں؟

اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ کے کسی عمل کی وجہ سے ہراساں کیا جانا ممکن ہو سکا تو ایسے حالات پیدا ہونے پر آپ کواحساسِ گناہ شِدّت سے محسوس ہوگا۔آپ خود کو الزام دیں گے۔احساسِ گناہ محسوس کرنے اور خود کو الزام دینے سے ہراساں کرنے والے کو زیادہ قوّت حاصل ہوگی۔یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ ہراساں کئے جانے کا سبب آپ کا کوئی عمل نہیں ہے۔خوف، غُصّہ یا خطرہ محسوس کرنا معمول کے مطابق ہے اوراِس روّیے کا شکار ہوجانے پرغمزدہ ہوجانا یا خفگی محسوس کرنا بھی معمول کے مطابق ہے۔ ۔ ۔ لیکن خود کو اِس کا ذمّہ دار نہ سمجھئے یا خود کو الزام نہ دیجئے۔
جنسی طور پر ہراساں کئے جانے سے کس طرح نمٹا جا سکتا ہے؟

1. غیر متوقع بات کیجئے ۔ متعلقہ روّیے کو نام دیجئے۔جو کچھ بھی اُس فرد نے ابھی ابھی کیا ہے وہ واضح طور پر بیان کیجئے ۔ بات کو غیر واضح نہ رکھئے۔مثال کے طور پر ،’آپ میری چھاتیوں سے کیوں ٹکرائے؟‘،’مجھے اِس قِسم کی گفتگو پسند نہیں‘،’اپنے ہاتھوں کو اپنے پاس رکھئے‘۔
2. ہراساں کرنے والے کو ذمّہ دار ٹھرائیے۔اُن کے لئے معذرت نہ کیجئے۔یہ ظاہر کرنے کی کوشش نہ کیجئے کہ کچھ ہُوا ہی نہیں۔مقابلے کو اپنے ہاتھ میں لیجئے اور لوگوں کو بتائیے کہ اُنہوں نے کیا کیا ہے۔خاموشی ہراساں کرنے والوں کو تحفظ دیتی ہے جب کہ معاملہ ظاہر کرنے سے اُن کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
3. دُرست اور راست بیان دیجئے۔سچ بولئے(کوئی دھمکی ،توہین، فحاشی، سمجھوتہ یا لفظی کمزوری نہیں ہونا چاہئے)۔سنجیدگی اور راست طریقے سے معاملے کو نمٹائیے۔
4. ہراساں کئے جانے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیجئے۔
5. یہ بات واضح کر دیجئے کہ تمام عورتوں اور مَردوں کا حق ہے کہ اُن کو جنسی طور پر ہراساں نہ کیا جائے ۔ہراساں کئے جانے پر اعتراض کرنا اُصولی معاملہ ہے۔
6. اپنے ایجنڈا پر عمل کیجئے ۔ہراساں کرنے والے کے بہانوں اور بہکانے میں نہ آئیے۔
7. ہراساں کرنے والے/والی کا روّیہ اصل ،مسئلہ ہے،لہٰذا جو آپ کو کہنا چاہئے وہ کہئے۔اور اگر وہ باز نہ آئیںتو اسے دُہرائیے۔
8. اپنی بات کو مضبوط ،خود احترامی والی جسمانی حرکات و سکنات کے ذریعے تقویت دیجئے۔مثلأٔ نظر ملانا؛سر بلند رکھنا؛ شانے کُھلے رکھنا؛باعتماد اور پُروقارروّیہ رکھنا۔مُسکرائیے نہیں؛شرمیلا انداز آپ کی بات کو کمزور کر دے گا۔
9. مناسب سطح پر ردِّعمل ظاہر کیجئے۔جسمانی طور پر ہراساں کئے جانے کی صورت میں زبانی اور جسمانی ردِّعمل ظاہر کیجئے۔
10. بات کو اپنے انداز سے ختم کیجئے۔قوی انداز میں کہئے: ’’سُن لیا آپ نے، بات ختم ہوگئی‘‘
11. بد زبانی یا گالی کی زبان استعمال نہ کیجئے۔

جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی انتہائی صورتوں کا نتیجہ زنا بالجبر ہو سکتا ہے۔
کیا پاکستان میں کوئی اِس سلسلے میں کچھ کرتا ہے؟

اِس مقصد کے لئے کراچی میں ایک ادارہ ہے جس کا نام ہےLHRLA ۔ یعنی انسانی حقوق اور قانونی مدد کے لئے وکلاء کی تنظیم۔یہ ادارہ آگہی بڑھاتا ہے اور جنسی طور پر ہراساں کی گئی عورتوںکو قانونی مدد فراہم کرتا ہے۔

لائرز فار ہیومن رائٹس اینڈ لیگل ایڈ
www.lhrla.sdnpk.org
بالمقابل سندھ اسمبلی بلڈنگ
کورٹ روڈ
کراچی۔74200
UAN – 111-911-922
فیکس نمبر: 5695938
ای میل کا پتہ: [email protected]
[email protected]

Customer Service (Pakistan) +92-313-99-77-999
Helpline +92–30-40-50-60-70
Customer Service (UAE) +971-5095-45517
E-Mail [email protected]
Dr. Hakeem Muhammad Irfan Skype ID alshifa.herbal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *