بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیماری کا علاج کرنا خلاف توکل خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ توکل اس چیز کا نام نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور کہے کہ ہر کام خود بخود ہو جائے گا۔ البتہ بعض بزرگان دین کے واقعات اس سے مستثنٰی ہیں اور وہ صرف انہی کا درجہ اور حصہ ہے۔
خود سرکار مدینہ، راحت قلب سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے توکل کے ساتھ ساتھ عمل کا حکم بھی فرمایا بلکہ عملاً ایسا کرکے دکھایا۔ مثلاً میدان جنگ میں بنفس نفیس تشریف لے گئے۔ کفار سے مقابلہ فرمایا اور اللہ عزوجل پر بھروسہ کیا۔ یوں نہیں کیا کہ مدینہ طیبہ میں تشریف فرما رہے اور بغیر عمل کے توکل کیا ہو۔

حضت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کی “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہم دوا کیا کریں ؟“ فرمایا۔ “ہاں! اللہ عزوجل کے بندو، دوا استعمال کیا کرو کیونکہ اللہ تعالٰی نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر اس کیلئے شفاء پیدا فرمائی ہے۔ سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے۔ (امام احمد، ترمذی، ابی داؤد)
حق یہ ہے کہ دوا کرنا بھی تقدیر الٰہی سے ہے۔ حضور سرور کائنات سے کسی نے عرض کیا کہ کیا علاج کرنا تقدیر الٰہی کو لوٹا سکتا ہے تو اس پر تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کہ علاج بھی تو تقدیر الٰہی سے ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کیلئے شفاء بھی نازل فرمائی۔ (مشکوٰۃ شریف)
مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے پتہ چلا کہ ہر بیماری جو پیدا کی گئی ہے، اس کا علاج بھی پیدا کیا گیا ہے۔ اس لئے بیماری کا علاج نہ کرنا گناہ ہے۔ تدبیر کرنا انسان کا فرض ہے۔ تقدیر قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ شافی مطلق صرف اللہ تعالٰی کی ذات ہے۔ دوائیں اور معالج حصول شفاء کا ذریعہ ہیں۔
تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے علاج و معالجہ کیلئے جو ہدایات عطا فرمائیں، ان پر خود بنفس نفیس عمل کرکے امت کیلئے مثالیں قائم فرما دیں۔ مختلف مواقع پر ضروری طبی مشورے دئیے۔ سنن ابو داؤد میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جس کی رو سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سینہ میں شدید درد کی شکایت ہوئی تو حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حال معلوم کیا اور حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سینہ پر اپنا مرمریں ہاتھ رکھا۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ کا فرمانا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ شریف رکھنے سے ان کے سینے میں ٹھنڈک محسوس ہوئی، گویا وہ ٹھیک ہو گئے۔
ظاہر ہے کہ ایک پیغمبر اپنی امت کے کسی بیمار فرد پر ہاتھ رکھ دے تو اس کا کیا سوال کہ وہ مریض فوراً صحت یاب نہ ہو جائے اور یہ معجزہ کسی نبی علیہ السلام یا کسی پیغمبر کیلئے مشکل بات بھی تو نہیں لیکن تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر کسی معجزاتی علاج کو ضروری نہ سمجھتے ہوئے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو طبعی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ مشورہ یقیناً آئندہ نسلوں کیلئے پیغام ثابت ہوتا ہے۔آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ چونکہ انہیں (سعد رضی اللہ عنہ کو) دل کی تکلیف (دورہ) ہے۔ اس لئے اچھی طبیب سے رجوع کیا جائے اور جس طبیب سے رجوع کرنے کا مشورہ مرحمت فرماتے ہیں وہ حارث بن کلدہ نامی شخص تھا جو ثقیف کا باشندہ تھا۔ اس نے طب کا فن ایران کے مشہور شہر شاپور میں حاصل کیا تھا اور عقیدہ کے اعتبار سے یہودی تھا۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ اس نے اسلام قبول نہ کیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس کے یہودی ہونے اور ماہر فن سے خوب واقف تھے۔
غرضیکہ حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ کا علاج حارث کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ وہ صحت یاب ہو جاتے ہیں اور ایک عرصہ تک اسلامی افواج کی قیادت فرماتے ہیں۔ عراق و فارس کی مہم کامیابی سے کرتے ہیں۔ یہ واقعہ ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہے۔
اس حدیث کا اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ کیلئے صرف ایک مشورہ ہی نہیں ہے بلکہ پوری امت کیلئے پیغام ہے کہ جب بھی کوئی فرد کسی شدید مرض میں مبتلا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے قریب کے کسی ماہر طبیب سے رجوع کرے۔ طبیب کا صرف ماہر ہونا شرط ہے۔ اس کا دین اور نسل اور قومیت کیا ہے، اس کا کوئی واسطہ علاج سے نہیں ہے۔
آج کی دنیا میں یہ مشورہ لوگوں کو نیا نہ معلوم پڑے لیکن ساتویں صدی کے پس منظر میں جبکہ طب اور طبیب کے کوئی معنی نہ تھے، اس مشورہ کو انقلابی طبی مشورہ کے علاوہ کچھ نہیں سمجھا جا سکتا۔
طبیب سے رجوع کرنے کی ہدایت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ اس ضمن میں کئی احادیث مبارکہ ملتی ہیں۔ مثلاً ایک موقع پر حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حارث بن کلدہ نے جو نسخہ تجویز کیا، اسے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے پسند فرمایا۔ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد کا ہے اور یوں بیان ہوا ہے۔
“مکہ معظمہ کی فتح کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ بیمار ہوئے تو حکیم حارث بن مکدہ نے ان کیلئے “فریقہ“ تیار کرنے کا مشورہ دیا جس میں تھا۔ کھجور، جو کا دلیا اور میتھی پانی میں ابال کر مریض کو نہار منہ شہد ملا کر گرم گرم پلایا جائے۔ جب یہ نسخہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اسے پسند فرمایا اور مریض کو شفاء ہوگئی۔“
بعض احادیث سے اس بات کا واضح طور اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ جب بھی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے کسی مریض کیلئے طبیب سے رجوع کرنے کی ہدایت سنتے تو قدرے تعجب میں پڑ جاتے اور کبھی دریافت بھی کر لیتے کہ “آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہیں۔“ چنانچہ حضرت عمر بن دینار کی سند سے ایک حدیث اس طرح بیان ہوئی ہے۔ ترجمہ:۔ “نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ایک مریض کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ طبیب کو بلا کر انہیں دکھاؤ۔ ایک شخص نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کیا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ (الجوزی طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم)
امام مالک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی موطا میں اسی موضوع پر ایک حدیث حضرت زید بن اسلم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے جس کے مطابق نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مبارک دور میں ایک شخص کو زخم آگیا تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خواہش پر طبیب کو بلایا گیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا۔ “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کیا طب میں بھی خیر ہے۔ (قعال اوفی الطب خیر یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے بیماری نازل کی ہے۔ اسی نے اس کی دوا بھی نازل کی ہے۔
طب میں خیر کا مقام موطا کی اس حدیث کے علاوہ دیگر احادیث میں بھی ملتا ہے جو بخاری، مسلم وغیرہ میں درج ہیں جن کا ذکر اسی عنوان کے ابتداء میں ہے۔
کسی مرض کیلئے دوا کا صحیح اور ضروری استعمال ہر انسان کا فرض ہے لیکن دوا سے شفاء بخشنا اللہ عزوجل کی مرضی پر منحصر ہے۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا۔
ترجمہ: “جب دوا کے اثرات بیماری کی مائیت سے مطابق رکھیں تو اس وقت اللہ عزوجل کے حکم سے شفاء ہوتی ہے۔“ (راوی حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن عبداللہ۔ مسلم)
احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دعاء سے قبل مریض یا اس کے متعلقین پر واجب ہے کہ وہ صحیح دوا کا انتظام کریں اور انسان کی یہی خواہش نئی دواؤں کی ایجاد کی محرک بنتی ہے۔ جو شخص دوا کیلئے کوشاں رہتا ہے اور اسے حاصل کرنے کیلئے جد و جہد کرتا ہے، وہ مرض میں افاقہ یا اس سے ازالہ کا مستحق ہوتا ہے اور جو کسی مرض کو لاعلاج سمجھ کر عمل اور کوشش و جستجو سے کنارہ کش ہو جاتا ہے، اللہ تعالٰی اس کی مدد نہیں فرماتا۔ اس لئے تو پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
ترجمہ: “خدا عزوجل نے کوئی بیماری ایسی نہیں بھیجتی جس کیلئے شفاء نہ رکھی ہو۔ جس نے جاننا چاہا اسے بتایا اور جس نے پروا نہ کی، اسے ناواقف رکھا۔“ (راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، مسند احمد، نسائی)
طب نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ضمن میں نہ جانے کتنی احادیث ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ ہر انسان مرض کے ظاہر ہونے کے فوراً بعد اس کے تدارک کیلئے طبی طریقہ اپنائے۔ پھر دعاء کیلئے ہاتھ اٹھائے۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زندگی مبارکہ کے نہ جانے کتنے واقعات بیان ہوئے ہیں جن کے مطابق جب بھی کوئی شخص حاضر ہوتا اور کسی مرض کی شکایت کرتا تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یا تو کوئی اسے دوا بتاتے یا کسی طبیب سے رجوع کرنے کا مشورہ ارشاد فرماتے۔
حضرت ام قیس رضی اللہ تعالٰی عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اپنے بیٹے کو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں۔ بیٹے کے حلق میں تکلیف تھی اور تکلیف رفع کرنے کیلئے اس کا گلا دبایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے لڑکے کو دیکھ کر قدرے ناگواری سے فرمایا۔ “اپنی اولاد کو حلق دبا کر اذیت نہ دو۔ عود الہندی استعمال کرو۔“ (بخاری)
اسی موضوع پر ایک دوسری حدیث اس طرح ہے۔
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں داخل ہوئے تو ان کے پاس ایک بچہ تھا جس کے منہ اور کان سے خون نکل رہا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ جواب ملا کہ بچہ عذرہ ہے۔ حضور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ “اے خواتین! تم پر افسوس ہے کہ اپنے بچوں کو یوں قتل کرتی ہو۔ کسی بچہ کو حلق کا عذرہ ہو یا اس کے سر میں درد ہو تو قچط الہندی کو رگڑ کر اسے چٹا دو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اس پر عمل کروایا اور بچہ تندرست ہوگیا۔ (راوی حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ بن عبداللہ۔ مسلم)
کتنے غور اور فکر کا مقام ہے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوگ آتے ہیں۔ اپنی تکالیف بتاتے ہیں اور آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ان کو طبعی علاجوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ کبھی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کلونجی کے استعمال پر زور دیتے تو کبھی سناء اور کاسنی کے طبی فوائد بیان فرماتے۔ کھجور کے استعمال کو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم صحت کیلئے انتہائی مفید بتاتے۔ غذا کے طور پر سرکہ اور شہد کے فوائد سے آگاہ فرماتے۔ زیتون اور مسواک کے نفع کی اطلاع دیتے۔ ان دواؤں کو تجویز کرنے کے علاوہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مختلف دواؤں کا علم حاصل کرنے کی تلقین فرماتے۔ گویا کہ ہر دوا جو تجربہ سے نفع بخش ثابت ہو، اس کے استعمال کی جانب آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم متوجہ ہونے کا مشورہ عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حجامت کے طریقوں (پچھنے لگوانا) اور فصد کھلوانے کے طریقوں سے بوقت ضرورت فائدہ اٹھانے کیلئے بھی کہا۔ زخم کے مندمل کرنے کیلئے داغ لگانے کی بھی اجازت دی لیکن اس تکلیف دہ طریقوں سے جہاں تک ہو سکے، پرہیز کی بھی تاکید فرمائی اور فرمایا کہ وہ بذات خود اس علاج کو پسند نہیں فرماتے ہیں۔
جراحی آج کل انتہائی ترقی یافتہ علم سمجھا جاتا ہے اور علاج میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ حالانکہ دور قدیم اور از منہ وسطٰی میں اسے عزت و وقار کے ساتھ نہ دیکھا جاتا تھا لیکن آنحضرت نے کئی موقعوں پر جب دوا کو بے اثر محسوس کیا تو جراحی کا مشورہ فرمایا۔ اس سلسلہ کی دوا احادیث الجوزی نے اپنی کتاب طب نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں شامل کی ہیں۔ پہلی حدیث جو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم ایک شخص کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ مریض کی پشت پر ورم تھا۔ جس میں مواد پڑ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ “اس کی جراحی کر دو۔“ چنانچہ اس مریض کی جراحی کر دی گئی اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں عمل جراحی کے دوران موجود تھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مشاہدہ کرتے رہے۔
الجوزی نے دوسری جو حدیث بیان کی ہے، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس کے مطابق حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایک طبیب کو مریض کا پیٹ شق کرکے پانی نکالنے کا حکم فرمایا۔ جراحی کے متعلق یہ دونوں احادیث حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا جراحی کیلئے ضرورت اور اجازت کا اشارہ دیتی ہیں۔ ان ہی اشاروں کی روشنی میں مسلمان طبیبوں نے عمل جراحی میں اتنی ترقی کی کہ گردہ کی پتھری وغیرہ کے کامیاب آپریشن کئے۔ سائنس کے مؤرخین کا بھی خیال ہے کہ بارہویں صدی کے بعد ابوالقاسم زہراوی اور ابن زہر جیسے جید سرجنوں کے توسط سے ہی یورپ میں علم جراحی کو فروغ حاصل ہوا اور اسے ایک باعزت فط کا درجہ دیا گیا ورنہ اس سے قبل تو جراحی ایک قابل نفرت کام تصور کیا جاتا تھا جسے صرف حجام انجام دیتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *