خنزیر کا گوشت حرام کیوں ہے؟

السلام علیکم۔
اس میں رتی برابر بھی شک و شبہ نہیں کہ اللہ تعالی اور اسکے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احکامات کے تحت حرام کردہ فہرست میں*ہر چیز انسان کے لیے مضر ہے جبھی اسے حرام قرار دیا گیا اور حلال کردہ فہرست میں کسی نہ کسی حوالے سے یقینا خیر اور بھلائی ہے جبھی اسے حلال کیا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک رحمۃ اللعالمین اور مومنین کے لیےہر طرح سے بہتری کے لیے حریص ہیں۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اِسلام اپنے ماننے والوں کو مذہب اور سائنس دونوں کا نور عطا کرتا ہے۔ اِس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اِسلام دُنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ دِین ہے، جو نہ صرف قدم قدم سائنسی علوم کے ساتھ چلتا نظر آتا ہے بلکہ تحقیق و جستجو کی راہوں میں سائنسی ذِہن کی ہر مشکل میں رہنمائی بھی کرتا ہے۔ اسلامی احکامات کی سائنسی توجیہہ تلاش کرنا اور بیان کرنا کہیں بھی خلاف از اسلام نہیں بلکہ عین منشائے اسلام ہے۔ جدید دور میں اہم ضرورت ہے کہ نسل نو کو بالخصوص اور جدید ذہین کو بالعموم اسلامی احکامات میں موجود حکیمانہ معارف و رموز سے آگاہ کرکے انہیں اسلام کی

Practical & Scientifical Approach اور قابل عمل ثابت کرکے انہیں اسلام کی عظمت و وسعت سے آگہی دی جائے۔ اور پھر مغربی معاشروں میں پیداشدہ مسلمان بچوں کی تعلیم و تربیت میں لاجک و ریزننگ ۔ Logic & Reasoningکا عنصر نمایاں ہوتا ہے وہ ہر بات کو عقل و دانش کی کسوٹی پر پرکھ کر قبول کرنا چاہتے ہیں۔
اللہ تعالی نے بھی قرآن حکیم میں انسانی نفسیات کے اس تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے احکم الحاکمین ہونے کے باوجود اپنے احکامات کی عقلی توجیہہ بیان کرکے اپنے بندوں* یا ملائکہ کو مطمئن فرمایا ہے۔ قرآن حکیم میں سورہ البقرہ آیت 30-35 میں تخلیق آدم کے وقت ملائکہ کا اپنا تسبیح و تقدیس الہی کا بیان کرکے حضرت آدم کی خلافت پر فساد انگیزی وخونریزی کے مسئلے کا اٹھانا اور اسکے جواب میں اللہ تعالی کا حضرت آدم علیہ السلام (اور انسان) کی علمی برتری ثابت کرنا
وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَـؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اس بات کا مظہر ہے کہ اللہ کریم نے فرشتوں پر حضرت آدم علیہ السلام کی علمی فضیلت کا اجاگر کرکے انہیں مطمئن کیا۔
اسی طرح حضرت ابراھیم علیہ السلام کا اپنے اطمینان قلب کے لیے اللہ تعالی سے سوال کرنا کہ میرے رب مجھے دکھا تو موت کے بعد کیسے زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے پوچھا۔ کیا تم ایمان نہیں رکھتے۔ ابراھیم علیہ السلام نے عرض کیا۔ بےشک ایمان رکھتا ہوں۔ مگر اطمینان قلب چاہتا ہوں۔
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِـي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَى وَلَـكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ۔۔۔۔ (القرآن ۔ 2:260)
اسی طرح کئی اور مثالیں ہیں جن میں اسلام کو بالجبر نافذ کرنے کی بجائے اسکے احکامات کی حکمتیں بیان کرکے عقلی و قلبی تسکین کے ذریعے نفاذ احکام کی ترغیب ملتی ہے۔

قرآن حکیم میں خنزیر کا حرام ہونا ۔
قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے متعدد مواقع پر خنزیر کو حرام قرار دیا ہے۔

إنما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل به لغير الله فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا إثم عليه إن الله غفور رحيم” (سورة البقرة الآية 173)

ترجمہ: اس نے تم پر صرف مُردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو حرام کیا ہے، پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے نہ تو نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (زندگی بچانے کی حد تک کھا لینے میں) کوئی گناہ نہیں، بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا ۔

قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ ۔۔۔۔ (سورہ الانعام ۔ 145)
ترجمہ : آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو ۔۔۔۔

اسی طرح ۔ سورہ النمل ۔ آیت 115، سورہ المائدہ ۔ آیت 3، میں بھی خنزیر کی حرمت کے واضح احکامات آئے ہیں۔

بائبل میں سؤر و خنزیر کی ممانعت ۔

مزے کی بات ہے کہ بائبل میں بھی خنزیر کے گوشت کی ممانعت موجود ہے ۔
You may not eat the meat of these animals (pig) or even touch their carcasses. They are ceremonially unclean for you.
Leviticus 11:8)؃)
اور تم سؤر اور اس طرح کے جانور کا گوشت نہ کھاؤ ۔ حتی کہ انکی مردہ لاش یا پنجر کو بھی مت چھوؤ۔ کیونکہ وہ غلیظ ہیں۔ Leviticus 11:8)؃)

لیکن چونکہ یورپی و مغربی معاشرہ مذہب سے انتہائی دور چلا گیا ہے اس لیے وہ اپنے الہامی کتاب کے احکامات کی پرواہ بھی نہیں کرتے۔البتہ ایونجالسٹ عیسائی جو نسبتا اپنے مذہب سے قریب ہیں وہ آج بھی خنزیر کا گوشت نہیں کھاتے۔

طبی طور پر مضر صحت گوشت ۔
سؤر یا خنزیر کے گوشت میں سائنسی و طبی اعتبار سے بےشمار خرابیاں ہیں ۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

1۔سؤر دنیا کے چند غلیظ ترین جانوروں میں سے ایک جانور ہے جو کہ پیشاب و پاخانہ سمیت ہر گندی چیز کھاتا ہے۔ سائنسی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ خوراک کا براہ راست اثر جسم پر ہوتا ہے ۔
2۔ خنزیر کے گوشت اور چکنائی میں زہریلے مادے جذب کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسکے گوشت و چکنائی میں زہریلے مادے عام جانوروں کے گوشت کے مقابلے میں 30 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ گویا یہ گوشت بقیہ عام گوشت سے 30 گنا زیادہ زہریلا Toxinہوتا ہے۔
3۔ عام گوشت انسانی نظام ہضم میں 8سے 9 گھنٹے میں ہضم ہوتا ہےاور اسکے زہریلے مادے Toxinsانسانی جسم میں آہستہ آہستہ منتقل ہوتے ہیں جو کہ آسانی سے لیور کے ذریعہ فلٹر ہوجاتے ہیں۔ جبکہ خنزیر کا گوشت محض 4 گھنٹے میں ہضم ہونے سےاپنے 30 گنا زیادہ زہریلے مادے Toxins انسانی جسم میں عام گوشت کی نسبت آدھے وقت یعنی 4 گھنٹوں میں انسان کے جسمانی نظام کو منتقل کردیتا ہے۔ جسے مکمل طور پر فلٹر کرنا انسانی جگر Leverکے لیے مشکل ہوتاہے۔
4۔ عام جانوروں کے برعکس خنزیر یا سؤر میں پسینہ کا اخراج نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے اسکے جسم کی نمکیات و زہریلے مادہ جات جسم سے خارج ہونے کی بجائے گوشت میں ہی موجود رہتے ہیں۔جو کھانے سے انسانی جسم میں*باآسانی منتقل ہوکر بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
5۔ سور اس قدر زہریلا ہوتا ہے کہ اژ دہے کے ڈسنے سے بھی نہیں مرتا۔ چنانچہ بعض اوقات سؤر فارم کے رکھوالے سؤروں کو اژدھوں کے بلوں کے پاس بھی چھوڑدیتے ہیں تاکہ اژدھے اس علاقے سے نکل جائیں۔
6۔ عام گوشت کے مقابلے میں خنزیر کے گوشت کے گلنے سڑنے کی رفتار 30 گنا زیادہ ہوتی ہے ۔ یعنی عام گوشت سے بہت جلدی خنزیر سے گوشت میں کیڑے پڑتے ہیں۔ تجربہ کے طور پرچکن یا گائے کے گوشت کا ٹکڑا اور خنزیر کا ٹکڑا کھلی جگہ پر رکھ کر دیکھ لیں کونسے گوشت میں جلد بدبواور کیڑے پڑتے ہیں۔ یہ لنک مشاہدہ کریں۔
7۔ عام گائے کے گوشت کے مقابلے میں سؤر کے گوشت میں چکنائی Fat پائی جاتی ہے
3 اونس بیف سٹیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 8،5گرام چکنائی
3 اونس خنزیر سٹیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 18 گرام چکنائی
اسی طرح ۔
3 اونس بیف rib ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 11،1 گرام چکنائی
3 اونس خنزیر rib ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 23،2 گرام چکنائی
میڈیکل سائنس ثابت کرچکی ہے کہ زیادہ چکنائی ، براہ راست دل اور خون کی بیماریوں کی بنیادی وجہ ہے۔

8۔ عام جانوروں اور بالخصوص گائے کے نظام انہضام میں 4 مراحل ہونے کی وجہ سے کھائی گئی خوراک کم و بیش 24 گھنٹوں میں ہضم ہوتی ہے جس وجہ سے زہریلے مادے باآسانی فلٹر ہوکر گوشت یا خون میں شامل ہونے کی بجائے اسکے فضلات میں چلے جاتے ہیں*جبکہ سؤر کا نظام انہضام انتہائی مختصر اور ڈائریکٹ ہونے کی وجہ سے 3۔4 گھنٹوں میں ہرطرح کی غلیظ خوارک ہضم ہوجاتی ہے ۔ دورانیہ مختصر ہونے کی وجہ سے خوارک کے زہریلے مادے فلٹر ہونے کی بجائے خون و گوشت میں منتقل ہوجاتے ہیں۔
9۔ خنزیر کے گوشت میں ایک کیڑا trichinae worm ہوتا ہے جو انتڑیوں ، مسلز، ریڑھ کی ہڈی یا دماغ تک پہنچ جائے تو دماغی بخار، گنٹھیا (جوڑوں کا درد)، وجع المفاصل (ہڈیوں کا درد)، تیزابیت معدہ، گردن توڑ بخار، مثانہ کی سوزش، بلڈ پریشر یا دل کے دورے کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
اخلاقی خرابیاں ۔
طبی ضرب المثل ہے کہ ’’انسان وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ کھاتا ہے‘‘ You are what you eat.
۔۔۔ سؤر گندگی و غلاظت میں ساری زندگی گذارتا ہے یعنی اسے غلاظت سے کراہت نہیں ہوتی۔ اسکا گوشت کھانے والے کے اندر بھی یہی خرابی پیدا ہوجاتی ہے
۔۔۔سؤر جنسی شہوت کا رسیا ہوتا ہے ۔ اسکا گوشت کھانے سے جنسی اشتہا تیزی سے بڑھتی ہے۔ انسان حرام حلال کی تمیز کیے بغیر اس جذبے کی تسکین چاہتا ہے
۔۔۔سؤر انتہا درجے کا بے غیرت جانور ہے۔ جنسی تسکین کے لیے نر و مادہ کوئی تمیز نہیں*رکھتے۔ اسے کھانے والے معاشرے میں یہ خصوصیت باآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔

امید ہے اگر ہم جدید سائنسی سوچ و فکر کے حامل ذہنوں کو مندرجہ بالا حقائق بتا کر پھر قرآن مجید میں خنزیر کی حرمت کے احکامات بتائیں گے تو یقینا اطمینان قلب و ذہن اور شرح صدر سے ان احکامات کی تعمیل پر آمادگی ہوجائے گی۔ان شاء اللہ العزیز۔

Customer Service (Pakistan) +92-313-99-77-999
Helpline +92–30-40-50-60-70
Customer Service (UAE) +971-5095-45517
E-Mail info@alshifaherbal.com
Dr. Hakeem Muhammad Irfan Skype ID alshifa.herbal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *