حکیم محمد ادریس لدھیانوی
کہتے ہیں کہ وہم کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔ انسان کی زندگی کا کوئی پہلو ہو، کوئی معاملہ ہو، انسان اپنے معاملات میں کبھی کسی نہ کسی درجے میں وہم کا شکار ہو ہی جاتا ہے اور اکثر وہ اسی وہم کی بدولت زندگی کی حقیقی لذتوں سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ چاہے وہ معاملہ اس کے روزگار یا کاروبار کا ہو یا اس کی صحت کا ہو یا وہ معاملہ رشتے داری کا یا عزیز و اقارب سے متعلق ہو یا کوئی اور پہلو ہو۔

انسان کا وہم
انسان خواہ مخواہ ایک اَن دیکھی قوت کے اثر میں آکر وہم کرنے لگتا ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، اکثر لوگوں کے لیے بعض اعداد اُن کی خوش قسمتی یا بد قسمتی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے 7 کا نمبر لکی نمبر ہوتا ہے اور 13 کا نمبر منحوس۔ بعض لوگوں کے خیال میں کوئی دن مبارک ہوتا ہے تو کوئی دن بھاری، کوئی رنگ موافق ہوتا ہے تو کوئی ناموافق۔ بلی راستہ کاٹ جائے تو برا شگون ہوتا ہے۔ مینا بولے تو لڑائی ہوتی ہے۔ کوا منڈیر پر بولے تو مہمان آجاتے ہیں․․․ وغیرہ وغیرہ۔
یہ وہم یا غلط فہمیاں انسان کو غذا کے معاملے میں بھی درپیش رہتی ہیں۔ دراصل غذا کے متعلق ہر شخص کے مخصوص خیالات ہیں۔ لوگوں کے اپنے خاندانوں کے اپنے اپنے الگ الگ طور طریقے اور پکوان ہیں۔ پکوانوں سے یا پکانے کے طور طریقوں سے وہ دوسرے لوگوں سے اپنی ایک شناخت بناتے ہیں اور یہ شناخت ان کے بزرگوں کے زمانے سے چلی آرہی ہوتی ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی مشکل ہوتی ہے، چاہے اس روایت سے یا اس قسم کے غذائی پلان سے انھیں فائدے کے بجائے نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑ رہا ہو۔

غذا کے معاملے میں جو غلط فہمیاں یا پرانی روایات لوگوں کے ذہنوں میں جمی ہوئی ہیں، وہ صرف اور صرف صحیح غذائی معلومات کی کمی کی وجہ سے ہیں یا پھر بعض باتیں جو اُن کے بزرگوں کے زمانے سے نسل در نسل چلی آرہی ہیں۔ اب اگر اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد ان کی موجودہ نسل سے اس غذائی غلط فہمی کا سبب یا اس غذا کے نقص یا نقصان کے متعلق پوچھیں تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ معلوم نہیں بس یہ تو ہمارے بزرگوں کا کہا ہوا اور آزمایا ہوا ہے اور ان کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔ کوئی بات ہوگی، اور ویسے بھی ہمارے بڑوں کی صحت ہم سے اچھی تھی، نہ کبھی نزلہ ہوتا تھا، نہ زکام، نہ بخار۔ دیسی گھی کھاتے تھے۔ خوب دودھ پیتے تھے۔ انھیں کبھی بلڈ پریشر ہوا، نہ شوگر اور نہ دل کی بیماری۔ اسی نوے سال کی عمر پاتے تھے۔ مرتے دم تک اپنے تمام کام اپنے ہاتھوں سے سر انجام دیتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
غذا سے متعلق ہماری لاعملی
درحقیقت غذا کے متعلق ان اوہام یا ان غلط فہمیوں کا تعلق بنیادی طور پر دو چیزوں سے ہے۔ پہلی تو غذا اور غذائیت کے علم سے ناواقفیت اور دوسرے اس میں انسان کی اپنی نفسیات بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور انسان بعض اوقات نفسیاتی طور پر اس کے اثر میں آجاتا ہے۔ مثلاً اگر کبھی زندگی کے کسی موڑ پر انسان کسی بیماری میں یا کسی تکلیف میں مبتلا ہوجائے تو وہ اس کی کوئی دوسری وجہ نہیں سوچے گا بلکہ اس کے دماغ میں سب سے پہلی بات جو آئے گی وہ یہی آئے گی کہ اس تکلیف کے ہونے سے پہلے ہم نے کیا کھایا تھا؟ مثال کے طور پر، اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ کیلا کھانے کے بعد پانی نہیں پینا چاہیے۔ اس سے پیٹ اور معدے میں تکلیف ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر کسی کو پیٹ کی کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو اس کا دھیان سب سے پہلے اسی طرف جائے گا۔ اس کے علاوہ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سگریٹ نوشی اور پان غذا کے ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے، لہٰذا بعض لوگ جنھیں بدہضمی کی شکایت ہو وہ اپنی غذا پر نظر ثانی کرنے کے بجائے سگریٹ نوشی اور پان خوری جیسی بری عادت کو اپنا لیتے ہیں۔ اس سے ان کی بدہضمی کی تکلیف میں تو افاقہ کیا ہوگا، بلکہ وہ اس کے ذریعے کینسر جیسی موذی بیماری کو دعوت دے بیٹھتے ہیں۔
آج سائنس نے اس قدر ترقی کرلی ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں نئی نئی تخلیقات ہورہی ہیں، ہر چیز کے فائدے اور نقصانات پر ریسرچ ہورہی ہے، اس کے باوجود بہت سے لوگ ان غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ غذا اور اس سے متعلق چند غلط فہمیاں جو اس زمانے میں بھی زندہ یا رائج ہیں، درج ذیل ہیں:
پُرروغن غذائیں اچھی صحت کی ضامن ہیں۔
دودھ مٹاپے کا باعث ہے۔
کیلا مٹاپے کا باعث ہے۔
کیلا کھانے کے بعد پانی نہیں پینا چاہیے، اس سے معدے کے امراض جنم لیتے ہیں۔
مرغی کے ساتھ مولی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
گھی اور شہد ایک ساتھ استعمال کرنے سے فالج ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
مٹر، آلو، سویا بین قبض کا باعث ہیں۔
دہی اور اچار ایک ساتھ استعمال کرنے سے برص ہوجاتا ہے۔
سگرٹ نوشی اور پان غذا کے ہضم میں مدد دیتے ہیں۔
بخار کے دوران غذا کی مقدار کم کردینی چاہیے۔
انسان کی خرابی صحت کی ایک بڑی وجہ اسی قسم کی بہت سی غلط فہمیاں ہیں، کیوں کہ ہم اکثر اپنی غلط فہمیوں میں مبتلا ہو کر بعض ایسی غذاؤں کو بہ کثرت استعمال کرتے ہیں جن کا حد سے زیادہ استعمال صحت کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتا ہے۔ اور یہ غذائیں اس وقت تک استعمال کرتے رہتے ہیں جب تک ان کا استعمال ہمارے لیے مضر بننا شروع نہ ہوجائے مثلاً گھی، گوشت، روغنیات وغیرہ۔ اور اکثر غذاؤں سے پرہیز کرتے یا ان کو ناپسند کرتے ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہوں مثلاً سبزیاں، پھل، دالیں، تیل (گھی کی بجائے) وغیرہ وغیرہ۔
پرانی عادات ترک کردیجیے
آج کے زمانے میں جب کہ دل کی بیماریاں اور ہائی بلڈ پریشر کی بیماریاں عام ہوگئی ہیں، اب بھی اکثر لوگ صبح کے وقت گھی کے پراٹھے کھاتے ہیں جس سے ان کے خیال میں انسان کو بھوک بھی نہیں لگتی اور طاقت بھی ضائع نہیں ہوتی۔
اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ گھی اور تیل میں کیا فرق ہے؟ تیل بھی چکنا ہے اور گھی بھی بلکہ گھی میں ذائقہ ہے، کوئی بو نہیں ہوتی، کھانا بھی مزے دار پکتا ہے اور صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ اس کے مقابلے میں تیل میں پکے ہوئے کھانوں میں نہ لذت ہوتی ہے، نہ ذائقہ، اور بساند الگ۔ پھر جو غذا توانائی نہ دے اس کا کیا فائدہ! لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کو فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ جس غذا کو وہ اپنے لیے قوت بخش سمجھ رہے ہیں وہ آہستہ آہستہ ان کے لیے کس قدر نقصان دہ ثابت ہورہی ہے اور کن کن امراض کا باعث بن رہی ہے۔ مثلاً دل کے امراض، ہائی بلڈپریشر وغیرہ۔ اب تو تحقیق سے ثابت ہوگیا ہے کہ روغنی یا چکنی غذاؤں سے قولون کے سرطان(آنتوں کا کینسر) کا بڑا گہرا تعلق ہے جب کہ کم روغنی غذا کھانے والے اس سے محفوظ رہتے ہیں۔
گھی، تیل، چربی اور مکھن کسی صورت میں ہوں، دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور پھر انھیں بہ کثرت استعمال کرنے سے چکر بھی آنے لگتے ہیں اور آنت بھاری ہوجاتی ہے۔ قولون میں اگر ایسی غذا دیر تک ٹھہری رہے تو اس سے ریاح (گیس) بننا شروع ہوجاتی ہے جو مختلف امراض اور تکالیف کا سبب بنتی ہے۔
اکثر لوگ سبزی، پھل، دالیں، پھلیاں اور دوسری غذاؤں کے بارے میں بھی اسی قسم کی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ جن چیزوں کو وہ ناپسند کر رہے ہیں یا جن کی افادیت سے انکار کر رہے ہیں وہ ان کو بڑی بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر، نئی تحقیق کے مطابق اگر بلڈپریشر کے مریض کو ملی جلی غذائیں دی جائیں جن میں پھل اور سبزیاں بہ کثرت شامل ہوں اور نمک کی مقدار بھی کم رکھی جائے تو بلڈ پریشر کو اتنا ہی افاقہ ہوتا ہے جتنا کہ کسی دوا کے استعمال سے۔ اس جدید تحقیق کے مطابق، اگر ایسی غذا مسلسل استعمال میں رکھی جائے تو اس کے بعد بلڈ پریشر کی گولیوں کے استعمال کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔
سبزیوں، دالوں اور پھلوں کے بارے میں بھی بہت سے لوگوں میں مختلف غلط فہمیاں ہیں۔ جیسے پالک، مولی، ساگ، سویابین، بند گوبھی، پھول گوبھی، شلجم، چقندر وغیرہ۔ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ جس دن گھر میں کوئی سبزی پکے، گھر کے زیادہ تر لوگ برے برے منھ بناتے ہیں اور سبزی نہ کھانے کے لیے سو سو بہانے کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پھول گوبھی، بند گوبھی اور شلجم بھاری اور بادی پیدا کرنے والی سبزیاں ہیں، بے مزہ ہوتی ہیں اور وزن بڑھانے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ لیکن اس کے برعکس تجربات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ بند گوبھی، پھول گوبھی، شلجم، مولی، چقندر حتیٰ کہ ان کے پتوں تک کے استعمال سے قولون کے سرطان کے خطرات میں نمایاں کمی ہوجاتی ہے، کیوں کہ ان غذاؤں میں ”انڈول گلوکوسینولیٹس“ (Indole Gluco Sinolates) مرکبات موجود ہوتے ہیں جو نہ صرف آنتوں کو بلکہ جسم کے دیگر اعضا کو بھی کینسر پیدا کرنے والے اجزا یا مضر مادوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ان سبزیوں کو کچا کھانا صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ انھیں ابالنے سے یہ مفید اجزا ضائع ہوجاتے ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پھل کھانے سے بہتر ہے کہ پھلوں کا رس پیا جائے، کیوں کہ پھلوں کا رس زیادہ غذائیت دیتا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نزلہ زکام میں کینو، مالٹے، مسمی سے پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ یہ نزلہ، زکام کو بڑھاتے ہیں یا اس کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن جدید تحقیقات سے ثابت ہوگیا ہے کہ نزلے زکام میں، زخم بھرنے کے لیے سرجری کے بعد اور ذہنی و اعصابی تناؤ کم کرنے کے لیے حیاتین ج (وٹامن سی) مفید ہے۔ کینو، مالٹا، لیموں، امرود، تربوز، آملہ، پپیتا، لیچی، انناس اور گریپ فروٹ وغیرہ وٹامن سی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
کیلے کے بارے میں بھی لوگوں کے ذہنوں میں خاصی غلط فہمیاں ہیں مثلاً کیلا کھانے کے بعد پانی پینے سے پیٹ میں تکلیف ہوجاتی ہے۔ نیز یہ کہ کیلے کا ملک شیک پینے سے برص ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کیلا ایک طاقت بخش پھل ہے اور اس میں پائی جانے والی شکر بہ آسانی ہضم ہوجاتی ہے۔ پھر کیلے میں پوٹاسیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو اعصاب اور دیگر عضلات کو صحت مند رکھتا ہے۔ بعض معدنی نمک زیادہ دیر تک ذخیرہ نہیں رہتے اور گھریلو کام کاج کے دوران میں آنے والے پسینے، ورزش کرنے یا کسی طریقے سے پسینا آنے پر یہ کم ہوجاتے ہیں اور پوٹاسیم کم ہو تو عضلات میں بے قاعدگی ہوتی ہے اور اس سے دل کی حرکت بھی غیر متوازن ہوجاتی ہے۔ اگرچہ کیلا اس شکایت کا علاج نہیں ہے، مگر اس سے حاصل شدہ پوٹاسیم توانائی کا بہترین ذریعہ ہے۔
زندگی کے دیگر معاملوں کی طرح اگر غذا میں بھی متوازن رہا جائے اور غذا سے متعلق غلط فہمیوں اور وہموں سے بچا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ انسان اپنی غذا سے صحت مند نہ رہ سکے۔ اگر ہم غذا اور غذائیت کے متعلق تھوڑا بہت علم ہی رکھ لیں تو نہ صرف اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے گھر اور ارد گرد کے ماحول کو بھی صحت مند اور خوش گوار بنا سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر اب بہت سے معالجین نے ان موضوعات پر لکھنا شروع کردیا ہے۔ ان کی یہ نادر تحقیقات اور زندگی کے حاصل شدہ تجربات کتابوں کی صورت میں سامنے آرہے ہیں، لہٰذا ہمیں ایسے غذائی شعور کو اجاگر کرنے والی کتابیں پہلی ترجیح میں خریدنی چاہییں تاکہ ہم جان سکیں کہ جو کچھ ہم کھا رہے ہیں وہ ہمارے لیے مفید ہے یا نقصان دہ۔
شائع ہواالفاروق, ذوالحجہ۱۴۳۰ھ, Volume 25, No. 12

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *