نفاس فرج سے خارج ہونے والے اس خون کو کہتے ہیں جو بچہ کی ولادت کے بعد آتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ مدت 40 دن ہے اور کم از کم مدت کا کوئی تعین نہیں ہے۔ عین ممکن ہے کہ کسی عورت کو بچہ کی ولادت کے موقع پر ایک دن بھی خون نہ آئے۔

حیض کی طرح ایام نفاس کے دوران مین بھی عورت نمازیں نہیں پڑھ سکتی اور روزے بھی نہیں رکھ سکتی۔ تاہم نفاس سے فارغ ہونے کے بعد وہ روزوں کی طرح نمازوں کی بھی قضا کرنے کی پابند ہے۔ حیض کی طرح نفاس کے دوران میں بھی مباشرت ممنوع ہے تاہم میاں بیوی کا ایک بستر میں‌ سونا اور بوس و کنار کرنا جائز ہے۔

ایام نفاس میں عورت کے ہاتھ، پاؤں، منہ اور پہنے ہوئے کپڑے پاک ہوتے ہیں، بشرطیکہ خشک ہوں۔ البتہ جس جگہ، بدن یا کپڑے پر خون لگ جائے وہ جگہ ناپاک ہو جاتی ہے۔ اس کو دھو کر پاک کرنا ضروری ہے۔ نفاس والی عورت کے ساتھ دوسری عورتوں کا، اس کی اولاد کا، اس کے محرموں کا اٹھنا بیٹھنا منع نہیں یہ یہودیوں اور ہندوؤں میں دستور ہے کہ نفاس والی عورت کو منحوس خیال کرتے ہیں اور اسے اچھوت بنا کر چھوڑ دیتے ہیں کہ نہ وہ کسی برتن کو ہاتھ لگائے نہ وہ کسی کپڑے کو چھوئے۔ شریعت اسلامیہ میں ایسا نہیں ہے۔ اسلام نے عورت کو بلند مقام دیا ہے۔

امام ابن عابدین شامی بیان کرتے ہیں: حیض ونفاس والی عورت کا کھانا پکانا، اس کے چھوئے ہوئے آٹے اور پانی وغیرہ کو استعمال کرنا مکروہ نہیں ہے۔ اس کے بستر کو علیحدہ نہ کیا جائے کیونکہ یہ یہودیوں کے فعل کے مشابہ ہے، حیض و نفاس والی عورت کو علیحدہ کر دینا کہ جہاں وہ ہو وہاں کوئی نہ جائے، ایسا کرنا درست نہیں۔ (رد المحتار علی در المختار، 1 : 194)

حیض کی طرح نفاس کی صورت میں بھی قرآن مجید کی تعلیم دینے والی معلمات کے لئے جائز ہے کہ وہ قرآن حکیم کا ایک ایک کلمہ سکھائیں اور کلموں کے درمیان وقفہ کریں۔ نیز قرآن کے ہجے کرانا جائز ہے۔

Customer Service (Pakistan) +92-313-99-77-999
Helpline +92–30-40-50-60-70
Customer Service (UAE) +971-5095-45517
E-Mail [email protected]
Dr. Hakeem Muhammad Irfan Skype ID alshifa.herbal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *