* نمک اندرونی طور پر باریک باریک کیڑوں کو ہلاک کرتا ہے۔

* سلور نائٹریٹ زہر کا تریاق ہے۔ اس کو غیر محلول کلوارئیڈ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ غالباً اسی لئے تاجدار مدینہ نے بچھو کاٹنے پر نمک کا محلول لگایا ہے۔

* اندرون جریان خون اور نفث الدام (خون تھوکنے) کو بند کرتا ہے۔

* نمک بدن کے ہیموگلوبن کو محلول حالت میں رکھتا ہے اور ہم مسلسل اس کو پسینہ، پیشاب اور آنسوؤں وغیرہ سے خارج کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے نمک کی ضرورت یا کمی نہ صرف امراض کا باعث ہو گی بلکہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

* معدی لعابات اور ہضمی غدودود میں ترشحات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے بھوک کم لگتی ہے۔

* ہضم کی قوت بڑھ جاتی ہے۔ خصوصاً ترکاریوں کے ہضم میں۔

* پیاس بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے پتلی غذاؤں کے جذب ہونے میں مدد ملتی ہے۔

* نمک محلول میں خون کے البومن اور گلو بیونس کو حل کرتا ہے۔

* گوشت کو نمک لگا کر کباب کی شکل میں محفوظ اور مذیدار بنایا جا سکتا ہے۔

* اعتدال کی صورت میں یہ ایک ٹناک ہے۔ معمول صورتوں میں غذا کا اہم جز ہے اور ذائقہ اور مصالحہ کے بطور استعمال ہوتا ہے۔

Customer Service (Pakistan) +92-313-99-77-999
Helpline +92–30-40-50-60-70
Customer Service (UAE) +971-5095-45517
E-Mail info@alshifaherbal.com
Dr. Hakeem Muhammad Irfan Skype ID alshifa.herbal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *