تاجدار انبیاء کی مبارک تعلیمات میں آرام طلبی کو کبھی دخل نہیں رہا۔ ذات گرامی باوجود سینکڑوں جانثاروں کے اپنا کام خود اپنے دست مبارک سے انجام دیتے دودھ دہو لیتے، کپڑا سی لیتے، خادم کے ساتھ آٹا پیس لیتے، بازار سے سودا خود لا دیتے، صحابہ کی عیادت فرماتے، جنازوں میں شرکت فرماتے۔تاجدار مدینہ کی رفتار مبارک کے بارے میں آتا ہے۔ آپ سے زیادہ تیز رفتار میں کوئی نہیں دیکھا۔ (شمائل ترمذی ص 88 )

ہمت اور قوت سے پاؤں اٹھاتے، عورتوں کی طرح پاؤں زمین پر گھسیٹ کر نہیں چلتے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا اونچائی سے اتر رہے ہیں۔

سست رفتاری میں نہ جسم میں دوران خون تیز ہوتا ہے نہ چستی پیدا ہوتی ہے بلکہ بیماروں کی رفتار ہوگی یا شاہانہ نوابی چال۔

آج کے دور میں ہم بہت زیادہ آرام طلبی کا شکار نظر آتے ہیں بلکہ چند گز کے فاصلے پر جانے کیلئے بھی سواری اختیار کرتے ہیں۔ اس لئے آج اکثریت پیٹ کے امراض میں مبتلا ہو چکی ہے۔ ہر وقت ملائم گدوں پر بیٹھے رہنا یا ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں آرام کرنا صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ قیمتی اور عُمدہ چیزیں خواہ کتنی ہی کھائی جائیں مگر وہ ہضم نہ ہوں تو سب بیکار ہیں بلکہ الٹا طبیعت پر بوجھ ہو جاتی ہیں۔ یہ آرام طلبی اور کاہلی کی وجہ سے ہے۔

نظام دوران خون کو درست رکھنے کا راز چلنے پھرنے میں مضمر ہے۔ چلنے پھرنے سے ہمارے زیریں جسم کی پرورش ہوتی ہے اور قلب کو اپنے قدرتی وظائف انجام دینے میں مدد ملتی ہے اور اگر اس حصہ (زیریں) کے اعصاب کام نہ کریں تو خون ہمارے پیروں اور پیٹ میں جمع ہونے لگتا ہے اور دل کو ان حصوں سے خون کو نکالنے کیلئے معمول سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور اس طرح صورتحال بد سے بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔

انسان کے جسم کی بناوٹ کچھ ایسی ہی ہے کہ اسے ہر وقت اس دوسرے دل (اعصابی امداد) کی ضرورت پڑتی ہے۔

بہت سی تحقیقات کے بعد سائنس دان اور ماہرین طب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ قلب کے مریضوں کیلئے چلنا پھرنا نہایت ضروری ہے۔ زیریں اعصاب کے حرکت میں آنے سے قلب کا بار بڑی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ چہل قدمی سے دوران خون پر اچھا اثر پڑتا ہے اور دل کو اس سے متعلق تکلیف نہیں ہوتی۔

چہل قدمی سے ان مریضوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے جن کی نبض معمول سے زیادہ چلتی ہے اور جنہیں فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کی شکایت ہے۔ یہ خیال غلط ہے کہ صرف تیز تیز چلنے سے ورزش ہوتی ہے اور فائدہ ہوتا ہے۔ کھڑے رہنے اور راستہ چلنے سے بھی فائدہ ہوتا ہے جیسے نماز میں ہلکی ورزش بار بار مفید ہوتی ہے اور آپ کے قلب کا فعل تیز اور خون کا دباؤ دونوں معمول پر آ جاتے ہیں۔

آج آرام طلبی نے ہمیں سواری کے بغیر چلنے پھرنے سے روک دیا پھر اگر پیٹ کے عوارض فربہی اور اختلاج قلب جیسے امراض زیادہ پیدا ہو جائیں تو تعجب کی کیا بات ہے۔

آج کل سرجن آپریشن کے بعد چند ہی گھنٹے بعد مریض کو چند قدم چلنے کی تاکید کرتے ہیں ایسا کرنے سے دوران خون تیز ہو جاتا ہے اور مریض تیزی سے صحت یاب ہونے لگتا ہے ہاضمہ میں بھی مدد ملتی ہے اور قبض نہیں ہونے پاتا۔

اگر انسان چلتا پھرتا رہے تو اس کا وزن بھی حد سے تجاوز نہیں کرے گا لیکن اگر باقاعدگی سے چہل قدمی، چلنا پھرنا جاری رکھیں تو آپ کا وزن معقول حد سے تجاوز بھی نہ ہوگا اگر وزن بڑھنا شروع ہو تو غذا کو کم کرنے کے علاوہ چلنا پھرنا بہترین علاج ہے۔

دن بھر بیٹھے رہنے یا دن میں سونے سے آپ کے جسم میں جتنے اضافی حرارے یا کیلورینز جمع ہو جاتے ہیں۔ انہیں جلانے کا بہترین طریقہ بھی چلنا پھرنا ہے ایک گھنٹہ چلنے پھرنے سے آپ کا جسم تین سو حرارے صرف کرتا ہے اور آپ کو فربہ ہونے سے بچاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *