برطانیہ میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کے ایک ماہر نے ایک کانفرنس کے دوران بتایا کہ یورپ میں ابھی سات میں سے ایک جوڑے کو قدرتی عمل سے بچہ پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دس سالوں میں ہر تیسرا جوڑا اس مسئلے کا شکار ہوگا۔

شیفیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر بِل لیجر نے کانفرنس کو بتایا کہ خواتین کو کام میں وقفہ ملنا چاہیے تاکہ وہ جوانی میں حاملہ ہو سکیں جب ان میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موٹاپے اور جنسی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جنسی بیماری Chlamydia جو بانجھپن کا باعث بنتی ہے کے شکار لوگوں کی تعداد دوگنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انیس سال سے کم عمر کی چھ فیصد لڑکیاں موٹاپے کا شکار ہیں۔

پروفیسر لیجر نے کہا کہ مردوں میں بانجھپن میں ممکنہ اضافے سے جوڑے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپرم یعنی نطفہ کی مقدار اور معیار میں بظاہر کمی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان لوگ کل بانجھپن کے کلینک میں مریض ہوں گے۔

ڈاکٹر لیجر کا کہنا تھا کہ نوجوانی میں جنسی عمل کے دوران لگنے والی بیماریاں خواتین کی اہم نالیوں کی بندش کا باعث ہوتی ہیں اور جب یہ لڑکیاں بڑی ہو کر ماں بننا چاہتی ہیں تو حاملہ نہیں ہو سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ کیریئر بنانے والی خواتین دیر سے بچے پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شرح پیدائش میں کمی کی وجہ سے یورپ کی آبادی کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر لیجر نے کہا کہ اس رجحان کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کے بارے میں انہوں شمالی یورپ میں سکینڈی نیویائی ممالک کی مثال دی جہاں خواتین کی جلدی بچے پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہ برطانیہ کو بھی فرانس کی طرح بچّے پیدا کرنے کے لیے کیریئر میں وقفہ ڈالنے والی خواتین کو ٹیکس میں چھوٹ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین میں پینتیس سال کے بعد بچّہ پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

Customer Service (Pakistan) +92-313-99-77-999
Helpline +92–30-40-50-60-70
Customer Service (UAE) +971-5095-45517
E-Mail [email protected]
Dr. Hakeem Muhammad Irfan Skype ID alshifa.herbal

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *