Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

لیموں سے بیماریوں کا آزمودہ علاج

عر بی لیبک /لیبو
فارسی لیبک /لیبو
سندھی لیمو
انگریزی Lemon
اس کا رنگ زرد اور کچے لیمو ں کا رنگ سبز ہو تاہے ۔ اس کا ذائقہ تر ش ہو تاہے ۔ اس میں سٹرک ایسڈ پا یا جا تاہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں ۔ سب سے اعلیٰ قسم کا غذی لیمو ں کی ہے جس کا چھلکا کا غذ کی طر ح پتلا ہو تاہے ۔ اس کا مزاج سرد دوسرے درجے اور تر پہلے درجے ہو تا ہے ۔ اس کی مقدار خوراک چھ ما شہ لیمو ں کا رس ہے جبکہ روغن لیمو ں کی مقدار ایک سے تین قطرے تک ہے ۔ لیمو ں کے بے شما ر فوائد ہیں

لیمو ں کے فوائد
(1) وٹا من بی اور سی اور نمکیا ت کی بہترین ما خذ ہے اس میں وٹا من اے معمولی مقدارمیں پا یا جاتا ہے-
(2 ) اس کا گودا اور رس دونو ں مفید ہو تے ہیں-
(3) یہ مفر ح اور سردی پہنچا تا ہے-
(4 )دافع صفرا ہوتا ہے-
(5 ) بھوک لگا تا ہے اور پیاس کو تسکین دیتا ہے-
(6 ) متلی اور صفرا وی قے کو بے حد مفید ہے-
(7) تا زہ لیمو ں کی سکنجبین بنا کر بخار میں پلا نے سے افا قہ ہوتاہے-
(8) ملیریا بخا ر کی صورت لیمو ں کو نمک اور مر چ سیا ہ لگا کر چو سنا بخا ر کی شد ت کوکم کر Read More

سبزیوں سے صحت

سبزیوں سے صحت
جسم کو درحقیقت پروٹین کی اتنی مقدار کی ضرورت نہیں جتنی فرض کی گئی ہے،  سبز پتوں والی پروٹین کا معیار اتنا ہی اعلیٰ ہے جتنا دودھ کی پروٹین کا ہے  اس لیے یہ دونوں، کسی سبزی خور کی پروٹینی غذائیت میں قابل قدر کردار انجام دیتی ہیں سبزی خوری کو رواج دینے سے کوئی ہیلتھ پرابلم پیدا نہیں ہوگا گوشت نہ کھانے اور سبزیوں پر گزارہ کرنیوالوں کے لیے  کا لفظ ویجی ٹیرین سوسائٹی آف یونائیٹڈ کنگ ڈم نے میں وضع کیا تھا یہ لفظ سبزی  لاطینی زبان کے لفظ   Vegetari  سے لیا گیا ہے جس کے معنی  تازگی بخشنایا نئی روح پھونکنا  کے ہیں،  برہمن ازم جین ازم، زر تشت مذہب اور بدھ ازم کے ماننے والے زندگی کے  تقدس،  کے علمبردار تھے،  ان کا کہنا تھا کہ دوسروں کو اذیت دئیے بغیر زندگی گزارنا سیکھو  جانوروں سے حاصل ہونے والے انڈوں اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاءپنیر، دہی، مکھن، گھی اور شہد کو بھی ممنوعہ قرار دیتے ہیں،  ایک مچھلی خور سبزی خوروں  کا زمرہ بھی ہے ان سب میں مشترک عنصر یہ ہے کہ یہ گرم خون والے جانوروں کے گوشت سے پرہیز کرتے ہیں،  اگر گوشت خوری کا خاتمہ ہوگیا تو دنیا غذائی قلت بالخصوص پروٹینز اور وٹامنز    کی قلت کے  بحران  میں مبتلا ہوجائے گی تاہم اس مسئلے پر گہری سوچ بچار اور تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ سبزی خوری کو رواج دینے سے کوئی ہیلتھ پرابلم پیدا نہیں ہوگا اورنہ گوشت کی قلت سے منسو ب کردہ بیماریا ں پیدا ہوں گی جسم کو اپنی نارمل کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے جن 22 امائنوایسڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے صرف 9 ایسڈ خوراک کے ذریعہ حاصل کرنا ہوتے ہیں، باقی 13 ایسڈز جسم خود تیار کرلیتا ہے۔ جسم اپنے تیار کردہ امائنو ایسڈز کی پروٹین کا 100 فی صد استعما ل کرلیتاہے، بشرطیکہ دس امائنوایسڈز   تناسب میں ہوں، تاہم اگر ان لازمی امائنوایسڈ میں سے ایک یا اس سے زائد ایسڈز معیاری مقدار میں نہ ہوں تو ساری پروٹین کی افادیت اسی تناسب سے کم پڑجاتی ہے، کوالٹی ریٹنگ کے سکیل پر ایک سے لے کر 100 تک درجے پر‘ مچھلی 80 پر اناج 50 سے 70 کے درمیان دالیں نٹس اور بیج 40 سے 60 درجے کے درمیان ہوں گے۔
سبزیوں پر مبنی غذاءمیں پروٹین کی نام نہاد کمی کا جو پروپیگنڈہ کیا جاتاہے، یہ حقیقت نہیں، بلکہ ایک مبالغہ ہے کیونکہ یہ بات مشہور کرنے والوں نے سبز پتوں والی سبزیوں میں پروٹین فراہم کرنے کی صلا حیت کو نظرانداز کردیا ہے اور انہوں نے یہ بات بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ جسم کو درحقیقت پروٹین کی اتنی مقدار کی ضرورت نہیں جتنی فرض کی گئی ہے،  سبز پتوں والی پروٹین کا معیار اتنا ہی اعلیٰ ہے جتنا دودھ کی پروٹین کا ہے،  اس لیے یہ دونوں، کسی سبزی خور کی پروٹینی غذائیت میں قابل قدر کردار انجام دیتی ہیں۔ اس پروٹین کا معیار اس شخص کے لیے دیگر اشیاءمثلاً بادام، اخروٹ وغیرہ کی گریوں اور پھلیوں میں پائی جانے والی پروٹین کے معیار کی کمی کی بھی تلافی کردیتاہے، روزانہ کھانے میں مرد کو 70 گرام اور عورت کو 44 گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے،  حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ انسانوں کے لیے پروٹین حقیقی کی ضرورت  اس سے بھی کہیں کم ہوتی ہے
جہا ں تک  نیوٹریشن کے تناسب کا تعلق ہے انڈہ اور دودھ پر انحصار کرنے والے سبزی خورو ںکو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ  کی ضرورت، ڈیری کی مصنوعات اور انڈوں سے پوری ہوسکتی ہیں،  دودھ کے ایک لٹر کا چوتھائی حصہ یا 100 گرام پنیر یا ایک انڈہ روزانہ بی 12  اس کمی کو پورا کرسکتا ہے جانداروں کا گوشت، ان کے اعضائے اخراج   پر بوجھ بڑھاتا رہتا ہے اور سسٹم پر فالتو اور زہریلے مادوں کا ہجوم کردیتا ہے۔ گوشت خوری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی یورک ایسڈ کی زیادہ مقدار، گنٹھیا، گردے اور پتے کی پتھری جیسی بیماریوں کا بھی با عث بنتی ہے،  گوشت کی پروٹینز سبزیوں کی پروٹینز کے مقابلے میں بدبو اور سٹیرائڈز دو گنا تیزی سے پیدا کرتی ہیں اس سے ان کے خون اور ٹشوز میں زہرپھیل جاتاہے پھر جب یہ جانور ذبح ہوکر ہماری خوراک بنتے ہیں تو ان کا زہر ہمارے جسم میں سرایت کر جاتا ہے۔کھانے والے مویشیوں میں سے بعض کے اندر ٹی بی اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کے جراثیم موجود ہوتے ہیں،  یہی وجہ ہے کہ بکثرت گوشت کھا نے والے لوگ سبزی خوروں کی بہ نسبت امراض کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

ٹائیفائیڈ کا جڑی بوٹیوںسے علاج

مریض کی قوت مدافعت قائم رکھنے کیلئے اس کی غذا پر خصوصی توجہ دی جائے جو ابال کر چھان کر یا پانی دانہ میں کئی بار پلایا جائے اگر جو کے پانی میں شہد ملا کر پیا جائے تو سب سے بہتر ہے شہد ایک مکمل غذا ہے جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے
یہ ایک جراثیمی سوزش ہے جو اس کو پیدا کرنے والے جراثیم Salmonella typhi کی وجہ سے ہوتی ہے پیٹ کی دوسری بیماریوں کی طرح یہ بھی ایک سے دوسرے تک مکھیوں‘ آلودہ پانی یا بیمار کے جسم سے نکلنے والے جراثیم کے ذریعے پھیلتا ہے۔ گندی خوراک کے ذریعے یہ جراثیم جسم میں داخل ہونے کے بعد گندی خوراک کے ذریعے یہ جراثیم جسم میں داخل ہونے کے بعد چھوٹی آنت کے کسی حصہ کو پسند کرکے اپنے تخریبی عمل کا آغاز کرتے ہیں۔ انسانی جسم میں ان جراثیم کے خلاف قوت مدافعت موجود ہوتی ہے اور یہ جس کسی کے جسم میں جاتے ہیں اس میں ہر ہر ایک کو بیمار نہیں کرسکتے۔ اگر ان کی مقدار زیادہ ہو یا مریض کی قوت مدافعت کمزور ہوتو ٹائیفائیڈ بخار کا حملہ ہوجاتا ہے۔ جسم میں داخل ہونے کے ایک ہفتہ سے لیکر تین ہفتوں کے درمیان یہ جراثیم اپنا کام مکمل کرکے اپنی تعداد اتنی زیادہ کرلیتے ہیں مریض کی جسمانی مدافعت کو ختم کرکے باقاعدہ تب محرقہ کا بیمار بنالیں۔
Read More

پیٹ کے کینسر کا تیر بہدف علاج

ہمارے عزیز وں میں فورتھ ایئر کے طالب علم کو عین امتحانات کے دوران پیٹ میں تکلیف ہو گئی۔ پہلے درد اٹھا پھر مسلسل
ٹیسیں اٹھنے لگیں اور درد ایسی شدت اختیار کر گیا کہ والدین پہلے تو اپنے شہر میں علاج کراتے رہے۔ پھر آخر کار جب صحت بد سے بد تر ہوتی گئی اور ڈاکٹر حضرات نے مایوسی کا اظہار کیا کہ آپ کسی بڑے ہسپتال میں لے جائیںچونکہ والدین کا اکلوتا چشم و چراغ تھااس لئے وہ نشتر ہسپتال ملتان لے گئے۔ وہاں بڑے سرجن کا علاج ہونے لگا۔ جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا۔ ایک ہفتے کے بعد اچھے علاج اور توجہی کے باوجود وہ نوجوان تکلیف کی شدت سے ہر وقت چیختا اور چلاتا۔ آخر اس ہسپتال میں میٹنگ ہوئی اور پھر ان لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ ہمارے علاج سے یہ نوجوان ٹھیک نہیں ہو سکا۔ آپ لوگ اسے امریکہ لے جائیں ‘شاید وہاں علاج ہو سکے۔ والدین نے جب یہ سنا تو ان کی تو امید ہی ختم ہو گئی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اسٹیچر پر ڈالا اور روتے دھوتے ہسپتال سے نکلے۔ ان کے عزیز و
اقارب بھی ساتھ تھے۔ والدین کی آہ و بکا ایسی تھی کہ جتنے بھی لوگ تھے۔ وہ والدین سے پوچھتے
Read More

آٹا جو کہ ایک بنیادی غذا اور ضرورت ہے اسے سفید کرنے والے ایلوکسن سے پوری انسانیت کا نقصان ہو رہا ہے۔

غیر ضروری کیمیائی مواد کا استعمال مضر اثرات اور بیماریوں کی جڑ ہے۔ یہ بنی نوع انسان کیلئے ایک عذاب اور لمحہ فکریہ بن گیا ہے۔ سفید آٹا جس کیلئے اتنا بڑا بحران وجود میں آیا ہے‘ اس میں سفید کرنے والا کیمیکل ملایا جاتا ہے جسے ایلوکسن (alloxan) کہا جاتا ہے۔ یہ جز انسانوں میں ذیابیطس کا موجب ہے۔ یہ انسانوں کیلئے تباہ کن ہے۔ سفید آٹے کی روٹی کھانے سے ذیابیطس کی بیماری لاحق ہونے کے خطرات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ روٹی‘ چپاتی‘ نان‘ ڈبل روٹی اور بَن ہماری غذا کا جزو ہیں‘ سفید اور خوبصورت بنانے کے طریقے میں اس کیمیکل کا استعمال بڑے پیمانے پر لبلبے کو ناکارہ کرنے اور ذیابیطس کا موجب ہے۔ اس کی معلومات سائنسدانوں کو کئی سالوں سے ہے یہاں تک کہ اس کا استعمال لیبارٹری میں چوہوںمیں ذیابیطس پیدا کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ آٹا جو کہ ایک بنیادی غذا اور ضرورت ہے اسے سفید کرنے والے ایلوکسن سے پوری انسانیت کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ عمومی طور پر Read More

پاﺅں دھوئیں ٹینشن سے نجات پائیں

پاﺅں دھوئیں ٹینشن سے نجات پائیں
عید کی خریداری کا موقع ہو یا شادی بیاہ کی تیاریاں ہو رہی ہوں۔ بازاروں میں پسند کی چیزیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے‘ دکانداروں سے مول بھاﺅ کرتے کرتے جب ہم گھر واپس آتے ہیں تو تھک کر نڈھال ہو جاتے ہیں۔ کبھی سردرد کی شکایت ہوتی ہے اور کبھی شدید اضمحلال طاری ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے نجات کیلئے ہم سوائے اسپرین کی گولیاں نگلنے کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں لیکن چین میں ایسا نہیں ہوتا‘ وہاں کے لوگ خواہ وہ امیر ہوں یا غریب ‘جب زندگی کے ہنگاموں اور بھاگ دوڑ سے بہت زیادہ تھک جاتے ہیں اور سکون کے متلاشی ہوتی ہیں تو وہ ” پاﺅں دھونے والوں“ کے پاس چلے جاتے ہیں ۔ چین میں ذہنی یا جسمانی دباﺅ سے نجات کا یہ تیر بہدف علاج سمجھا جاتا ہے۔
اگر آپ کبھی چین جائیں اور وہاں کی مصروفیات سے اسٹریس محسوس کرنے لگیں تو ” فٹ واش
Read More

اجوائن…درجنوں بیماریوں کا علاج

اجوائن…درجنوں بیماریوں کا علاج
اجوائن کا استعمال بطور دوا زمانہ قدیم بلکہ قبل از مسیح سے ہو رہا ہے۔ اس کا نباتی نام ptcuoticAjowan ہے اور انگریزی میں omum seed کہتے ہیں۔جبکہ زبان طب (فارسی) میں نانخواہ کے نام سے پکاراجاتا ہے۔ اجوائن ایک مفرد ہے۔ اس کے پودے کا رنگ سفیدی مائل اور بیج سونف کی طرح حجم میں چھوٹے اور ذائقہ میں تلخ ہوتے ہیں۔ اس کا پودا ہندوستان‘ ایران‘ مصر اور پاکستان میں عام پایا جاتا ہے۔ یہ کاشت بھی کیا جاتا ہے اورخودرو بھی ہے۔ اطباءنے اس کا مزاج تیسرے درجے میں گرم خشک بتایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرد مزاج کے لوگوں میں مفید ہے اور بلغمی مزاج اور بلغمی امراض میں بہت فائدہ دیتا ہے۔ اجوائن دو قسم کی ہوتی ہے جس اجوائن کا ذکر کیا جارہا ہے اسے دیسی اجوائن کا نام دیا جاتا ہے ۔دوسری قسم اجوائن خراسانی ہے۔ یہ ایک مختلف چیزہے۔ یہ تخم بھنگ کا نام ہے جس کے افعال و معالجاتی اثرات قطعی مختلف ہیں۔ تخم بھنگ جو خراسان سے ہندوستان آتے تھے اجوائن سے مشابہہ ہونے کے باعث اجوائن خراسانی کا نام دے دیا گیا ہے ‘حالانکہ ان دونوں میں Read More

فاسٹ فوڈ سے شریانوں کی تنگی

فاسٹ فوڈ سے شریانوں کی تنگی
فاسٹ فوڈ کے کھانے جھٹ پٹ تیار ملتے ہیں لیکن ان میں موجود چکنائی کھانے والوں کی شریانوں کو روغنی مادوں سے بھر دیتی ہے۔ الٹرا ساﺅنڈ سے ایسا کھانا کھانے والوں اور کم چکنائی والا کھانا کھانے والوں کی شریانوں کے جائزے سے ظاہر ہوا کہ پہلے گروپ کے خون میں چکنائی کی مقدار 50 گرام اور بغیر بالائی کا دودھ، پھل اور کم چکنائی والی روٹی کھانے والوں کے خون میںچکنائی کی مقدار محض 6 گرام تھی۔ پہلے گروپ کو بالائی والا آئس کریم، زیادہ چربی والا گوشت اور پنیر کے سینڈوچ
Read More

آیئے ! بیوی کا خانہ خراب کریں

یاد رکھئے !بیوی کو آپ کے لیٹ آنے سے بڑی چڑ ہوتی ہے۔ اس لئے رات کو ہمیشہ دیر سے واپس آیئے۔ دفتری اوقات کے بعد جو وقت بچے اسے ہمیشہ دوستوں کے ساتھ سیرو تفریح، اور ہوٹل وغیرہ میں ضائع کیجئے۔ گھر جا کر بیوی کے ساتھ مغز مارنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دس بجے سے پہلے جانا تو بیوقوفی ہے البتہ بارہ بجے کے بعد آپ بخوبی گھر تشریف لے جا سکتے ہیں۔ اگر بدنصیب بیوی آپ کے انتظار میں اس وقت بھی جاگ رہی ہو تو نادم ہونے کی بالکل ضرورت نہیں۔ وہ ناک بھوں چڑھائے اور دیر سے آنے کی شکایت کرے، تو میز پر زور زور سے مکے مار کر یوں مخاطب کیجئے۔” دیر سے آیا ہوں تو کیا غضب ہو گیا۔ اس گھر میں میرے سکون کے لئے رکھا ہی کیا ہے۔ خون پسینہ ایک کر کے کماتا میں ہوں اور تمہیں تو عیش کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔ ہماری بلی اور ہمیں کو میائوں…. سارے دن کے تھکے ہوئے ذہن کیلئے اگر تفریح کے چند لمحے بھی نہ گزاروں تو دماغ خراب ہو جائے۔ کون سا جہیز میں کوٹھی کار لے آئی تھیں کہ مجھے محنت نہ کرنی پڑتی۔ قسمت پھوٹ گئی اپنی تو….!
Read More

Copy Protected by Tech Tips's CopyProtect Wordpress Blogs.