Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

حفظان صحت ہدایات نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

حفظان صحت ہدایات نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

چونکہ صحت و عافیت اللہ تعالٰی کی اپنے بندے پر سب سے بڑی اور اہم نعمت ہے اور اس کے عطیات و انعامات میں سب سے عمدہ ترین اور کامل ترین ہے، لٰہذا ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت و عافیت کی حفاظت و مراعات اور اس کی نگہبانی اور نگرانی ان تمام چیزوں سے کرے جو صحت کے منافی ہیں اور جس سے صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔چنانچہ حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ “تمہارے جسم کا بھی تمہارے اوپر حق ہے اور وہ یہی حق ہے کہ انسان اپنے جسم کی حفاظت کرے اور ایسے اسباب پیدا نہ ہونے دئیے جائیں کہ بدن کو بیماریوں کی حد تک پہنچا دیا جائے۔“ آج کی تحقیقات نے تندرستی کے لئے یہ باتیں ضروری قرار دی ہیں۔ مثلاً بدن اور لباس صاف ستھرا رکھنا۔ پانچ وقت اعضائے ظاہری کو پاک صاف رکھنا یعنی وضو، غسل اور نماز کو قائم کرنا صحت و توانائی کے ضامن ہیں۔

Read More

انسانی اعضاء پر نشہ کے اثرات

انسانی اعضاء پر نشہ کے اثرات
امراض تنفس
نشی کرنے والوں کی اکثریت امراض تنفنس کا شکار ہو جاتی ہے سگریٹ کے ساتھ ہیروئن کے کش لگانا سونے پر سہاگہ کا کام کرتے ہیں پھیپھڑوں میں زخم اور سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں افیون چرس اور بھنگ کے عادی افراد کے پھیپھڑوں میں بلغم جم جاتی ہے۔ نالیاں اور پھیپھڑے خشک ہو جاتے ہیں ڈاکٹری ادویہ بھی یہی کام انجام دیتی ہیں۔ ان سے مراد وہ ادویہ ہیں جو بطور نشہ استعمال ہوتی ہیں پھیپھڑوں کی حرکات سست اور لمبے لمبے سانس لینے پڑتے ہیں جسم کو آکسیجن کم ملتی ہے۔ان منشیات کا استعمال کرنے والے تپ دق، دمہ، برونکائی ٹس اور سانس لینے میں دقت کا سامنا کرتے ہیں ان کے اعضاء تنفس میں زخم ورم اور سوراخ ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے خون منہ یا ناک کے راستے جاری ہو سکتا ہے اور موت چند قدم دور ہو جاتی ہے۔
امراض معدہ اور منشیات
تمام منشی اشیاء معدہ کے گیسٹرک جوس پر برا اثر ڈالتی ہیں اور کچھ منشیات گیسٹرک جوس کی پیداوار کم کرتی ہیں۔ کچھ ایسی ہیں جن سے گیسٹرک جوس کی پیداوار بڑھ جاتی ہے جن سے بدہضمی، سوزش معدہ، زخم معدہ، معدہ کا سرطان، بھوک میں کمی، متلی اور خونی قے کی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں بعض نشے قبض اور بعض پیچس لگا دیتے ہیں ہر نشہ کرنے والا معدہ کے ان امراض میں ضرور مبتلا ہوتا ہے۔ وہ لوگ احمقوں کی سوچ رکھتے ہیں جو نشہ کرتے اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم آج ان امراض کا شکار نہیں ہوئے کل بھی بچے رہیں گے انھیں یاد رکھنا چاہئیے کہ اگر کسی درخت کے تنے پر روزانہ آری چلائی جائے تو وہ ٹوٹ کر ضرور گرے گی۔ میں نے یہاں نشہ کے ذریعے لاحق ہونے والے جو امراض بتائے ہیں وہ ہر نشہ کرنے والے کو ضرور ہوتے ہیں یہ میرا تجربہ ہے میں نے اپنی آنکھوں سے انھیں ان امراض کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔دماغی امراض اور منشیات
سب سے زیادہ مضر اثرات دماغ پر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ پہلی سٹیج میں نشہ کرنے والا دماغی امراض میں مبتلا ہوتا ہے دماغ کی کارکردگی سب سے پہلے سست ہوتی ہے جس سے جسم کے ہر نظام کا فعل سست پڑ جاتا ہے۔ وہ دماغی امراض جو نشہ سے لاحق ہوتے ہیں ان میں نسیان، مرگی، سر چکرانا، نیند میں کمی، مالیخولیا، پاگل پن، سوچنے اور قوت فیصلہ میں کمی قابل ذکر ہیں۔اعصابی امراض اور منشیات
جسم میں خشکی اور زہریلے مادوں کی کثرت کی وجہ سے، رعشہ، فالج، لڑکھڑاتی چال، حرکت میں سستی اور اعصابی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔امراض جگر اور منشیات
جگر خون بنانے سے قاصر ہو جاتا ہے بہت کم خون پیدا ہوتا ہے۔ خون کی کمی چہرہ کی زردی، یرقان، جگر کا سکڑ جانا یا متورم ہو جانا جیسے امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔

منشیات اور جسمانی کمزوری
مریض دن بدن سوکھتا چلا جاتا ہے سردی گرمی برداشت نہیں ہوتی کیونکہ جس آدمی کے پھیپھڑے، دماغ، معدہ اور جگر تباہ ہو چکے ہوں وہ سوکھ کر کانٹا نہیں بنے گا تو کیا ہو گا۔

قوت مدافعت میں کمی
جسم میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔ ایسا مریض بیماریوں کا بہت جلد شکار ہوتا ہے۔ اگر کوئی وبائی مرض پھیلے تو سب سے پہلے نشہ کرنے والے اس کا شکار ہو کر لقمہ اجل بنتے ہیں۔


Read More

لوگ نشے کے عادی کیوں بنتے ہیں ؟

لوگ نشے کے عادی کیوں بنتے ہیں ؟
اس کی چند ایک وجویات درج ذیل ہیں۔کاروباری پریشانیاں
جن لوگوں کے کاروبار میں نقصان ہو جائے تو ان حالات میں راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے اور ایسے لوگ سکون آور ادویہ کا استعمال شروع کر دیتے ہیں یا کسی عزیز کا انتقال یا محبت میں ناکامی پر غم کو دور کرنے کیلئے بعض افراد سکون آور ادویہ کا استعمال کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ عادی ہو جاتے ہیں۔
صدمہ کا نفسیاتی علاج جو اسلام نے بتایا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو دل کو سکون اور تسلی آ جاتی ہے سرکاردوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رنج یا دکھ پہنچے تو کہو اناللہ وانا الیہ راجعون، ان الفاظ میں اس زخم کا مرہم ہے جو صدمہ سے لگا ہو نیز اور بھی ایسی دعائیں کتابوں میں مذکور ہیں۔ کئی ناکام سیاستدان بھی نشے کے میدان میں اتر آتے ہیں۔بری سو سائٹی نشہ کے پھیلانے میں برے دوست سب سے بڑا سبب ہیں، جو شخص تمباکونوشی کرتا ہو فضول خرچ اور آوارہ ہو ایسا شخص دوستی کے قابل نہیں۔ اس سے تو کوسوں دور بھاگنا چاہئیے۔ سکولوں اور کالجوں کے علاوہ ہر محلے اور گلی میں بدقسمتی سے ایسے چند نشئی ہوتے ہیں جن کو نشہ کی لت ہوتی ہے یہ اپنے سے کم عمر کے لوگوں کو دوست بنا کر انھیں بھی اس کی رغبت دلاتے ہیں شروع میں اپنے پاس سے یہ مفت نشہ فراہم کرتے ہیں لیکن بعد میں جب دیکھتے ہیں کہ یہ عادی ہو چکا ہے پھر اپنے اخراجات بھی اس کی جیب سے پورے کرتے ہیں۔جنسی وجوہات
جنسی عیاشی کیلئے نشہ کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔ نشہ آور اشیاء چونکہ بےحس کر دیتی ہیں اور ان سے وقتی طور پر امساک بڑھ جاتا ہے اس لئے بعض لوگ ایسی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں نیز بعض حکیم بھی جنسی مریضوں کو ایسی ادویات دیتے ہیں ان ادویہ سے ان کے اعضائے جنسی دن بدن نیم مردہ ہو جاتے ہیں اور ان کی جنسی طاقت بالکل ختم ہو جاتی ہے نشہ کے عادی افراد میں ہیجڑے پیدا ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ناسازگار حالات اور ذہنی پریشانیاں
بعض لوگ اتنے حساس ہوتے ہیں کہ ذرا سی بات بھی انھیں بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے معمولی پریشانی سے عہدہ برآ نہیں ہو پاتے۔ ہر شخص کو زندگی کے سفر میں قدم قدم پر کسی نہ کسی پریشانی اور الجھن سے واسطہ پڑتا ہے۔ جن لوگوں کی قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے وہ بڑے حوصلے کے ساتھ ناسازگار حالات سے عہدہ برآ ہوتے ہیں لیکن نازک طبیعت کے مالک ان پریشانیوں کو ذہن پر سوار کر لیتے ہیں ہر وقت سوچ بچار میں کھوئے رہتے ہیں تنہائی پسند ہو جاتے ہیں اور نشہ آور ادویات میں سکون تلاش کرتے ہیں زندگی سے بیزاری اور موت کی خواہش ان میں پیدا ہو جاتی ہے عملی کام کرنے سے کتراتے ہیں اور نشہ کی دنیا میں اپنا جہاں آباد کر لیتے ہیں جن تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت نہیں ملتی وہ بھی اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔بطور فیشن یا شوقیہ
بعض لوگ دوسروں کو دیکھا دیکھی بطور فیشن نشہ پینا شروع کر دیتے ہیں اور بڑے خاص انداز سے کش لگاتے ہیں اور بڑے فخر سے اپنے ہمنواؤں سے کہتے ہیں کہ آج میں نے اتنی پی ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ نشہ کا مریض عام آدمی سے اتنے فوائد بیان کرتا ہے کہ دوسرا آدمی بطور تجربہ وہی نشہ استعمال کرنے لگ جاتا ہے۔

تجسس
یہ فطرت انسانی ہے کہ جس چیز سے اسے روکا جائے اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کام ضرور کرکے دکھائے ٹی وی پر اشتہارات اور اخبارات کے صفحات پر ہیروئن اور منشیات کا ہر روز تذکرہ سننے سے بعض لوگ اس کے منفی اثرات لیتے ہیں۔ بس یہی سوچ انھیں لے ڈوبتی ہے آج کل چھوٹے بچے بھی نشہ آور چیزوں کے ناموں سے واقف ہیں بعض غیر ملکی فلمیں اس رجحان کو فروغ دیتی ہیں اس لئے بہت سے لوگ محض تجسس کی بناء پر اس کے عادی ہو رہے ہیں۔

والدین کی غفلت
جو والدین اپنی اولاد پر کڑی نظر نہیں رکھتے اپنی اولاد کی مناسب نگرانی نہیں کرتے اولاد کو شتر بےمہار کی طرح چھوڑ دیتے ہیں ان کی اولاد سگریٹ نوشی سے ابتداء کرکے ہیروئن کے سٹیج پر جا پہنچتی ہے بعض لوگ اپنی نشہ کی چیزیں اولاد کے ذریعے منگواتے ہیں جس سے اولاد بھی اس راہ پر چل نکلتی ہے اگر آپ کو اولاد کی زندگی کی فکر ہے تو ان سے سگریٹ بھی نہیں منگوانے چاہئیں وگر نہ کل کو اگر وہ سگریٹ پئے گا تو آپ اسے روک نہیں سکیں گے کیونکہ آپ کا کردار اس کے سامنے ہوگا۔
والدین کا کام جہاں اولاد کیلئے خوارک، لباس اور ان کی دیگر ضروریات پوری کرنا ہے وہاں یہ بھی آپ پر فرض ہے کہ ان کی اخلاقی تربیت بھی کریں وگر نہ وہی اولاد بد اخلاقی اور نشہ کی ذلت میں ڈوب کر ایک دن آپ کے گریبان میں ہاتھ ڈالے گی۔

اسلام میں نشے کی مذمت

اسلام میں نشے کی مذمت
اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ “اے ایمان والو! بیشک شراب اور جوا اور بت اور پانسے یہ سب گندے کام ہیں شیطان کے سوان سے بشتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدہ 90)
جب بھی قرآن و حدیث کے حوالے سے نشے کی بات آتی ہے تو نشے سے مراد شراب لی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن مندرجہ بالاحکم صرف شراب سے متعلق نہیں اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو نشہ طاری کرتی ہے ذیل کی حدیث نشے کی وسعت واضح کرتی ہے۔
چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہے ہر وہ چیز خمر کے زمرے میں آتی ہے جو نشہ آور ہو اور وہ حرام ہے ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو۔ (جامع صغیر)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک جمعہ کے خطبے میں خمر کے معنی کسی چیز کو ڈھانپ دینا یا پردہ ڈال دینا، اور خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈالتی ہے۔ یہی تو نشہ ہوتا ہے کہ عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور نیک و بد کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ان دو آیات (سورۃ المائدہ 91/90) میں شراب اور جوئے سے متعلق حتمی حکم آیا ہے کہ یہ حرام ہیں اور شیطانی کام ہیں ان دو آیات کے علاوہ اور بھی احکام آئے ہیں یہاں تک تو بات ہوئی شراب کی، جب بات ہوتی ہے نشے کی تو اس میں بھنگ، چرس، افیون، ہیروئن اور ہر وہ چیز جو نشے کی خاطر کھائی یا پی لی جاتی ہے۔

Read More

منشیات کے نقصانات

یہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کا اپنا پیدا کردہ ہے اس میں کچھ دخل ہمارے معاشرے کی ناہمواریوں کا بھی ہے۔ نشہ بیچنے والے وہ زہریلے ناگ ہیں جو قوم کے بچوں کا خون پی رہے ہیں کوئی متعدی مرض اتنی تیزی سے نہیں پھیلتا جس تیز رفتاری سے نشہ ہمارے ملک میں پھیل رہا ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو بجھانے سے نہ بجھے۔
نشہ سے انسان کی کارکردگی اور صحت دونوں متاثر ہوتے ہیں رنگ پیلا یا نیلا، آنکھیں خمار آلودہ اور اندر دھنسی ہوئیں، پاؤں میں لڑکھڑاہٹ، بھوک کی کمی، جگر کی خرابی اور اعصابی و دماغی امراض لاحق ہو جاتے ہیں اگر کوئی ہارٹ اٹیک، بلڈ پریشر، دق وسل، ذیا بیطس وغیرہ کا مریض ہو گا تو اس کی خواہش ہو گی کہ میں اچھے سے اچھا علاج کراؤں تاکہ مجھے شفاء حاصل ہو ان بیماریوں میں مبتلا افراد کو صحت کی فکر ہوتی ہے اور یہ علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن نشہ کرنے والا کبھی نہیں چاہے گا کہ میں نشہ چھوڑ دوں یا اس کا مناسب علاج کراؤں بلکہ یہ لوگ اپنی اس مرض کو دوسروں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور والدین اور دیگر عزیز و اقارب کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب ان کا بچہ نشہ کے میدان میں اتنا آگے نکل چکا ہوتا ہے کہ جہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے۔

منشیات کے عادی افراد شروع میں نشہ کی حالت میں بےحال ہو جاتے ہیں لیکن بعد میں جب انھیں نشہ نہ ملے تو ان کی حالت غیر ہونے لگتی ہے۔ سر میں درد اور جسم میں شدید دردوں کا احساس ہوتا ہے جسم کپکپاتا ہے۔ زبان بھاری محسوس ہوتی ہے نیند نہیں آتی اور اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔ نشہ کی حالت میں یہ لوگ بےتاج بادشاہ بنے ہوتے ہیں خیالی پلاؤ پکاتے ہیں خود کو سب سے اعلٰی سمجھتے ہیں ان کا دماغ اتنا چکرایا ہوتا ہے کہ چھوٹی سی نالی بھی نہر نظر آتی ہے اور نالی کو نہر سمجھ کر پار کرتے ہیں اسی میں گر جاتے ہیں منہ ڈھیلا کرکے بولتے ہیں آواز بدل جاتی ہے اور چال لڑکھڑانے لگتی ہے جب گر جاتے ہیں تو کتے ان کا منہ صاف کرتے ہیں۔
ایسے ہی ایک نشئی گندی نالی میں گرا پڑا تھا کتا اس کا منہ چاٹنے لگا لیکن وہ کہہ رہا تھا۔ “تم بھی سائیں میں بھی سائیں“، “یاری نبھائیں، جب کتے نے اس پر پیشاب کیا تو کہنے لگا رحمت دا مہینہ پائیں مینوں چھڈ کے نہ جائیں۔“ یعنی رحمت کا مہینہ پانا مجھے چھوڑ کر نہ جانا۔ اس قسم کی کئی مثالیں آپ نے بھی دیکھی اور سنی ہوں گی اور اندازہ ہوگا کہ نشہ کرنے سے انسان، انسان نہیں رہتا پاگلوں جیسی حرکات کرتا ہے۔ معاشرہ اس کا مذاق اڑاتا ہے جب نشہ اتنی بری حالت کر دیتا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے ایسے لوگ جانتے ہوئے بھی ہماری حالت ابتر ہو جاتی ہے نشہ کیوں کرتے ہیں اس سوال کا جواب ذرا طویل ہے۔

ادرک، بدلتے موسم کا ابتدائی ٹانک

حکماء کئی ہزار برس سے ادرک کے ذریعے مختلف بیماریوں کا علاج کر رہے ہیں۔ اسے اردو میں ادرک، ہندی میں سونٹھ اور انگریزی میں جنجر کہتے ہیں
 یہ وہ مبارک غذا ہے جس کا تذکرہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے۔ قرآن پاک میں اسے زنجبیل کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت میں ائی جانے والی نعمتوں کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ ”وہاں انہیں (مسلمانوں کو) ایسا مشروب پلایا جائے گا جس میں ادرک بھی ملا ہوا ہو گا۔ اس طرح حضرت ابوسعید خذری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ”شہنشاہ روم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ادرک کا ایک بڑا ٹکرا بطورِ تحفہ پیش کیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ٹکڑے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے درمیان تقسیم کر دیا۔ یہ سوغات مجھے بھی ملی جسے میں نے فوراً کھا لیا۔“
درج بالا واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ادرک بڑی فضیلت اور اہمیت رکھتی ہے۔ آئیے پڑھتے ہیں کہ یہ خدائی تحفہ کئی امراض میں انسان کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ یونانی اطباءنے اپنی کتاب میں کئی جگہ اس کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً حکیم جالینوس نے اسے فالج میں مفید بتایا ہے۔ کئی حکماءکا خیال ہے کہ چین کی مشہور بوٹی ”جن سنگ“ دراصل ادرک ہی کی ایک قسم ہے۔نظامِ ہضم
معدے کے جملہ امراض میں ادرک مفید ہے ۔ یہ دست آور بھی ہے اور قابض بھی ۔تازہ ادرک پسی ہوئی آد ھی چمچ لیجئے اس میں ایک چمچ پانی، ایک چمچ لیموں کا رس، ایک چمچ پودینے کا رس اور ایک چمچ شہد ملائیے۔ یہ مرکب وہ لوگ دن میں تین بار چاٹ لیں جن کو متلی‘ قے‘ بدہضمی‘ یرقان یا بواسیر کی شکایت ہو۔ یہ نسخہ اِن بیماریوں کا شافی علاج ہے۔ ادرک ریاح کو تحلیل کرتی ہے۔ بھوک کم لگنے کی صورت میں بھی ادرک استعمال کیجئے۔ پیٹ کا درد اور اپھارہ دور کرنے کیلئے بھی ادرک کھائی جاتی ہے۔
اگر اپنا ہاضمہ درست رکھنا چاہتے ہیں تو کھانے کے بعد تازہ ادرک کا چھوٹا سا ٹکرا چبالیں۔ اس نسخے سے زبان کی میل بھی اترتی ہے نیز معدہ کئی بیماریوں سے پاک رہتا ہے۔ اگر جگر کی خرابی کے باعث پیٹ میں پانی جمع ہو جائے تو مریض کو ادرک کا پانی پلائیں۔ یہ پانی پیشاب آور ہے اور پیٹ کا سارپانی نکال دیتا ہے۔ ادرک انتڑیوں کی سوزش بھی ختم کرتی ہے۔

گلے کے امراض
اگربلغمی کھانسی چمٹی ہوئی ہو یا آپ دمے کا شکار ہوں تو یہ نسخہ استعمال کریں۔ ادرک کا رس 3ماشہ، ایک تولہ شہد میں ملا کر چاٹ لیں۔ یہ معمولی سا نسخہ عموماً کھانسی اور دمے سے نجات دلا دیتا ہے۔ اگر نزلے میں گرفتار ہوں تو ادرک کا رس 3ماشہ، کالی مرچ ایک ماشہ،لہسن 6ماشہ اور شہد 2تولہ ملا کر چٹنی بنا لیں اور اسے تھوڑا تھوڑا چاٹتے رہیں۔ سردی سے ہونے والے نزلے میں بطورِ خاص یہ چٹنی مفید ہے۔ ادرک چبانے سے گلا صاف ہوتا ہے، گلے کی خراش یا زخم دور کرنے کیلئے ادرک کا چھوٹا سا ٹکرا منہ میں رکھ کر چباتے رہیے۔

سردی کا بہترین علاج
ادرک گرم مزاج رکھتی ہے۔ موسم سرما کی بیماریوں میں فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس کے کھانے سے سردی کم لگتی ہے۔ بعض لوگ ٹھنڈے یا نیم گرم پانی سے نہانے کے بعد جسم میں کپکپی یا درد محسوس کرتے ہیں۔ اگر وہ نہانے کے بعد 3سے 6ماشے ادرک کھا لیں تو انہیں اس سردی سے نجات مل جائے گی۔ مزید براں مضمون کے آغاز میں جو نسخہ بتایا گیا ہے وہ زکام کے علاج میں موثر ہے۔ سردی زکام کی شکایت میں ادرک کی چائے بھی مفید ہے۔ ادرک کی چائے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اُبلتے ہوئے پانی میں چائے کی پتی ڈالنے سے پہلے ادرک کے چھوٹے ٹکڑے ڈال دیں۔ سردی زکام اور بخار کی صورت میں یہ چائے زیادہ مفید ہو گی۔

دمہ اور نظام تنفس
ادرک اور کالی ہریڑ6,6ماشہ کی تعداد میں معمولی ساکوٹ لیں۔ اس کے بعد انہیں پیالی بھر پانی میں اُبال لیں۔ بعد ازاں پانی میں شہد یا چینی ملا لیں۔ جس کسی کو پرانی کھانسی یا دمہ ہو، وہ یہ پانی پیئے انشاءاللہ افاقہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ادرک کا رس شہد کے ساتھ چاٹا جائے تو حلق صاف ہو جاتا ہے اورسینے میں جمع بلغم نکل جاتا ہے۔ ایک نسخہ اور ہے۔ میتھی کا جوشاندہ ایک پیالی لیجئے اس میں ایک چمچی تازہ ادرک کا رس اور ایک چمچی شہد ملائیے۔ جو مرد و خواتین کالی کھانسی، دمہ اور پھیپھڑوں کی تپ دق میں مبتلا ہوں وہ یہ نسخہ استعمال کریں، موثر پائیں گے۔ جن افراد کے منہ سے بو آتی ہے، وہ ادرک کھائیں۔ یہ بدبو دور کرکے منہ کا خراب ذائقہ بھی درست کرتی ہے۔

خواتین کے امراض
تازہ ادرک کا درمیانہ ٹکڑا لیں۔ اُسے کچل کر ایک پیالی پانی میں چند منٹ کیلئے اُبال لیں۔ بعد میں پانی میں چینی ملائیے اوراسے دن میں 3بار استعمال کریں۔ ادرک بھی کھا لینی ہے۔ یہ گھریلو ٹوٹکہ نہ صرف ایام کی بے قاعدگی دور کرتا ہے بلکہ اس سے متعلق تمام تکالیف دور ہو جاتی ہیں۔

ذہنی دباﺅ
ہیجان، بے چینی اور ذہنی دباﺅ کی کیفیت میں ادرک طبیعت کو پُرسکون کرتی ہے ۔حتیٰ کہ ڈاکٹر بھی ادرک کی اس خاصیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اسے ڈپریشن دور کرنے والی دوا سمجھتے ہیں۔ ادرک کا 2تولہ رس لیں اور اسے گائے کے 7تولہ دودھ میں اتنا پکائیں کہ آمیزے کی مقدار نصف رہ جائے۔ اس میں حسب ذائقہ شکر ملا کر سوتے وقت پی لیں۔ یہ آمیزہ ذہنی بوجھ اورپریشانی دور کرکے انسان کوپرسکون نیند کا تحفہ عطا کرتا ہے۔ اگر کسی کو ہسٹریا کا دورہ پڑے تو ادرک اور کالی مرچ ہم وزن ملا لیں۔ مریض کو یہ آمیزہ نسوارکی طرح دیں۔ دورہ ختم ہو جائے گا۔ ادرک کا استعمال یادد ا شت بڑھاتا ہے۔ 5تولہ ادرک کو پیس کر 10تولہ شہد میں ملا لیں۔ کمزور دماغ والے یہ آمیزہ 3,3ماشہ صبح و شام کھائیں۔دماغ کو تقویت ملے گی اور بھولنے کی بیماری ختم ہو جائے گی۔(ان شا ءاللہ )

گٹھیا اور دیگر تکالیف
ادرک کا تیل گٹھیا اور بادی کے درد میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ ادرک کا آدھ پاﺅ رس لیں۔ اس میں تل کا تیل ایک چھٹانک ملا لیں۔ آمیزے کو ہلکی آنچ پر اتنا پکائیں کہ سارا مائع اُڑ جائے۔ صرف تیل رہ جائے۔ درد ہو تو اس تیل کی مالش کریں۔سخت سردی کے باعث کئی لوگوں کے سر میں درد رہتا ہے وہ درد سے نجات کیلئے یہ تیل ماتھے پر ملیں۔ بچوں کا سینہ گرم رکھنے کیلئے بھی اس تیل کی مالش مفید ہے۔ سردی کے باعث جسم میں درد ہو تو اس تیل سے اسے بھگائیں۔ مالش کرنے کے علاوہ تھوڑی سی ادرک گڑ کے ساتھ کھا لی جائے تو علاج مزید موثر وہ جاتا ہے۔ دانتوں کا درد بھگانے کیلئے بھی ادرک استعمال ہوتی ہے۔ ایک بار علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کو رات کے وقت دانت میں شدید رد ہوا تو شفاءالملک حکیم اجمل خان رحمتہ اللہ علیہ نے انہیں مشورہ دیا کہ دانت کے نیچے ادرک کا ٹکڑا دبا کر رکھیں۔ چند دن میں شاعر مشرق کا دانت درد جاتا رہا۔ درد شقیقہ میں بھی ادرک مفید ہے۔ کان میں درد ہو تو ادرک کا رس چند قطرے کان میں ڈالیے درد کافور ہو جائیگا۔ کمر اور جوڑوں کی تکلیف سے نجات پانے کیلئے کئی صدیوں سے ادرک بھون کر کھائی جارہی ہے۔ ملٹھی اور ادرک 6,6ماشے 3چھٹانک پانی میں ڈالیے اور پانی کو جوش دیں بعد ازاں چینی ملا کر پانی پی لیں۔ یہ نسخہ سینے‘ کمر اور جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔ اگر ادرک کو سیاہ نمک کے ساتھ پیس کر سونگھیںتو سردرد ختم ہو جاتا ہے۔

دیگر استعمال
(1)مچھلی کھاتے ہوئے ادرک کا استعمال کریں تو پیاس نہیں لگتی۔(2)خون کی نالیوں پر جمی ہوئی چربی کی تہیں اُتارنے میں ادرک کام آتی ہے۔ یہ دل کا فعل اور سست دورانِ خون درست کرتی ہے۔(3) جگر کی ابتدائی خرابی ادرک کے استعمال سے دور ہو جاتی ہے۔ (4)ذیابیطس کی دونوں اقسام میں اگر شہد کے ساتھ ادرک کا رس دن میں کئی بار چاٹا جائے تو فائدہ ہوتا ہے۔ (5)ادرک کا مربہ کھانا اور جائفل کو منہ میں رکھنا فالج سے نجات دلاتا ہے۔ (6)امراضِ چشم میں بھی ادرک مفید ہے۔ ادرک‘ سفید سرمہ‘ قلمی شورہ اور سفید پھٹکڑی ہم وزن ملا کر سُرمہ تیار کریں۔ یہ اکثر امراض چشم دور کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اشیاءخالص ہونی چاہئیں۔

پانی کے ذریعے علاج

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ

بقول اطباء پانی سے ان بیماریوں کا کامیاب علاج کیا گیا ہے (1) درد سر (2) بلڈ پریشر (3) لقوہ (4) بیہوشی (5) بلڈ کولیسٹرول (6) بلغم (7) کھانسی ( 8 ) دمہ (9) ٹی بی (10) مینن جائنٹس (11) جگر کے امراض (12) پیشاب کی بیماریاں (13) تیزابیت (14) گیس ٹربل (15) مروڑ (16) قبض (17) ذیا بیطس ( 18 ) بواسیر (19) آنکھ کے امراض (20) استحاضہ ( حیض کی بیماریاں ) (21) بچی دانی کا کینسر (22) ناک اور گلے کے امراض

پانی پینے کا طریقہ

بغیر منہ دھوئے اور کلی کئے نہار منہایک لیٹر یعنی چار بڑے گلاس پانی ایک ساتھ پی جائیں۔ اب 45 منٹ تک کچھ بھی نہ کھائیں پئیں۔ ہاں اب منجن، کلی وغیرہ میں حرج نہیں۔ یہ علاج شروع کرنے کے بعد کھانا کھانے کے دو گھٹنے بعد ہی پانی پئیں اور سونے کے آدھے گھٹنے قبل کچھ نہ کھائیں۔ اگر ابتداً چار گلاس نہیں پی سکتے تو ایک یا دو گلاس سے شروع کریں۔ آہستہ آہستہ بڑھا کر چار گلاس کر دیں۔ مریض تندرست ہونے کے لئے اور غیر مریض تندرست رہنے کے لئے یہ طریق علاج اپنائیں۔

اطباء کے بقول اس علاج سے مندرجہ امراض بتائی ہوئی مدت میں ٹھیک ہو سکتے ہیں۔
مرض: قبض
مدت شفاء: دو دن
مرض: گیس کے امراض
مدت شفاء: دو دن
مرض: ہائی بلڈ پریشر
مدت شفاء: ایک ماہ
مرض: کینسر
مدت شفاء: ایک ماہ

نوٹ: چار بڑے گلاس پانی ایک ساتھ پی جانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ ہاں شکم سیری ہو جائے گی۔ اور انشاءاللہ عزوجل تقریباً پون گھنٹے کے بعد بھوک لگ جائے گی۔ ابتداً تین روز ہو سکتا ہے چند بار پیشاب آئے اس کے بعد انشاءاللہ عزوجل حسب معمول آئے گا۔
مدنی پھول: علاج کرنا بھی سنت ہے اور دوسروں کو علاج تجویز کرنا بھی سنت ہے۔
دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے میں سفر کرکے اپنی پریشانی کے حل کے لئے دعا مانگئیے۔ انشاءاللہ عزوجل مایوسی نہیں ہو گی۔

کلونجی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ
(کلونجی) میں موت کے سوا ہر بیماری کی شفاء ہے۔ ( مراۃ شرح مشکوٰۃ ص 217 )
کلونجی شہد کے ساتھ کھانے سے ( گردے، مثانے کی ) پتھری نکل جاتی ہے۔
کلونجی کو جلا کر کھانے سے بواسیر دور ہوتا ہے۔
کلونجی کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔کلونجی کو تیل میں جوش دے کر سر میں تیل لگانے سے درد سر، نزلہ اور زکام میں فائدہ ہوتا ہے۔اگر خشکی کی وجہ سے جسم پر پپڑیاں سی بن گئی ہوں تو کلونجی کھانے سے ختم ہو جاتی ہیں۔
کلونجی کو پانی میں جوش دے کر غرارے کرنے سے دانتوں کا درد دور ہوتا ہے۔
پیشاب نہ آنے کی صورت میں کلونجی کے کھانے سے پیشاب کھل جاتا ہے۔کلونجی میں سرکہ ملا کر کھانے سے بلغمی ورم دور ہوتا ہے۔

زیتون کے تیل میں کلونجی ڈال کر سونگھنے سے آنکھوں کا درد جاتا رہتا ہے۔
کلونجی بلغمی بخار کیلئے مفید ہے۔
کلونجی حیض کی رکاوٹ کو دور کرتی ہے۔

کلونجی سرکہ میں ملا کر برص کوڑھ پر لگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
کلونجی پیس کر مہندی میں ملا کر سر میں لگانے سے سر کے بال جھڑنا بند ہوتے ہیں۔
کلونجی کا استعمال سینے کے درد اور کھانسی میں مفید ہے۔
دماغ کی بیماری ہو تو کلونجی کے اکیس دانے کپڑے کی پوٹلی میں باندھ کر پانی میں ابالیں۔ پہلے دن سیدھے نتھنے میں دو قطرے اور الٹے نتھنے میں ایک قطرہ۔ دوسرے دن الٹے نتھنے میں دو قطرے اور سیدھے نتھنے میں ایک قطرہ ڈالیں۔ انشاءاللہ عزوجل تین دن میں شفاء حاصل ہو جائے گی۔
ہر صبح چٹکی بھر کلونجی 12 قطرے اصلی شہد میں ملا کر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر شہادت کی انگلی سے چاٹیں تو انشاءاللہ عزوجل بہت سی بیماریاں ختم ہو جائیں گی۔
شوگر کا علاجبڑی الائچی کے اندر سے دانے نکال کر روازنہ صبح و شام پانچ پانچ دانے چبا لیا کریں۔ انشاءاللہ عزوجل شفاء حاصل ہو گی۔

شوگر کا علاج
بڑی الائچی کے اندر سے دانے نکال کر روزانہ صبح و شام پانچ پانچ دانے چپا لیا کریں۔ انشآءاللہ عزوجل شفاء حاصل ہو گی۔

زیتون کا تیل کے فوائد

زیتون کا درخت تین میٹر کے قریب اونچا ہوتا ہے،   چمکدار پتوں کے علاوہ اس میں بیر کی شکل کا ایک پھل لگتا ہے  جس کا رنگ اودا اور جامنی ذائقہ بظاہر کسیلا اور چمکدار ہوتا ہے، مفسرین کی تحقیقات کے مطابق زیتون کا درخت تاریخ کا قدیم ترین پودا ہے،  طوفان نوح کے اختتام پر پانی اترنے کے بعد زمین پر سب سے پہلی چیز نمایاں ہوئی، وہ زیتون کا درخت تھا،  اس پس منظر کی بدولت زیتون کا درخت سیاست میں امن اور سلامتی کا نشان بن گیا ہے
زیتون کا پھل غذائیت سے بھرپور ہے مگر اپنے ذائقہ کی وجہ سے پھل کی صورت میں زیادہ مقبول نہیں۔ اس کے باوجود مشرق و سطٰی، اٹلی، یونان اور ترکی میں بہت لوگ یہ پھل خالص صورت میں اور یورپ میں اس کا اچار بڑے شوق سے کھاتے ہیں،  یونان سے زیتون کا اچار سرکہ میں آتا ہے اور مغربی ممالک میں بڑی مقبولیت رکھتا ہے،  یہ درخت یورپی ممالک، اٹلی، کیلیفورنیا اور آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک سے درآمد ہوتا ہے
قرآن مجید نے زیتون اور اس کے تیل کا بار بار ذکر کرکے شہرت دوام عطا کر دی ہے
سورہ الانعام، سورہ النحل، سورہ النور، سورہ المومنون، سورہ التین، ان سورتوں میں اللہ تعالٰی نے زیتون کے درخت کو ایک مبارک یعنی برکت والا درخت قرار دیا۔ اس کے پھل کو اہمیت عطا فرمائی،  پھر لوگوں کو متوجہ کیا کہ زیتون، کھجور، انار اور انگور میں فوائد کے خزانے بھرے پڑے ہیں،  بشرطیکہ تم ان کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرو حدیث پاک میں اس کی افادیت و اہمیت

حضرت اسیدالانصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، زیتون کے تیل کو کھاؤ اور اس سے جسم کی مالش کرو کہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ کیونکہ یہ پاک اور مبارک ہے۔ (ابن ماجہ۔ حاکم)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ذات الجنب کا علاج قسبط البحری اور زیتون کے تیل سے کریں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا“زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ کیونکہ اس میں ستر بیماریوں سے شفا ہے جن میں ایک کوڑھ بھی ہے

زیتون کے تیل کو سر پر لگانے کا فائدہ
جو لوگ باقاعدگی سے یہ تیل سر پر لگاتے ہیں، نہ تو ان کے بال گرتے ہیں اور نہ ہی جلد سفید ہوتے ہیں۔ اس کی مالش سے داد اور بھوسی زائل ہو جاتے ہیں۔ کان میں پانی پڑا ہو تو زیتون کا تیل ڈالنے سے یہ پانی نکل جاتا ہے۔ اطباء نے لکھا ہے کہ اس کی سلائی باقاعدہ آنکھ میں لگانے سے آنکھ کی سرخی کٹ جاتی ہے اور موتیا بند کو کم کرنے میں مفید ہے

جسم پر مالش کے اثرات اور فوائد
زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے اعضاء کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ پھٹوں کا درد جاتا رہتا ہے۔ بعض طبیب اس کی مالش کو مرگی کے لئے بھی مفید قرار دیتے ہیں۔ وجع المفاصل اور عرق النساء کو دور کرتا ہے، چہرے کو بشاشت دیتا ہے، اسے مرہم میں شامل کرنے سے زخم بہت جلد بھرتے ہیں، ناسور کو مندمل کرنے میں کوئی دوائی زیتون سے بہتر نہیں

زیتون کے تیل سے قبض کا علاج
اکیس تولہ جو کے پانی میں روغن زیتون ملا کر پینے سے پرانی قبض جاتی رہے، تیل پینے سے معدہ اور آنتوں کے اکثر امراض جاتے رہتے ہیں، پیٹ کے کیڑے مارتا ہے، گردہ کی پتھری توڑ کر نکال سکتا ہے، استسقاء میں بھی مفید ہے جسمانی کمزوری کو رفع کرتا اور پیشاب آور ہے

پتہ کی سوزش اور پتھری کا علاج
اطباء نے اسے مرارہ (پتہ) کی پتھری میں مفید قرار دیا ہے، پتہ کی سوزش اور پتھری کے مریضوں کو بنیادی طور پر چکنائی سے پرہیز کرایا جاتا ہے مگر روغن زیتون ان کے لئے بھی مفید ہے بلکہ پرانے اطباء نے مریضوں کو 2/1 1 پاؤ تک مریضوں کو روزانہ تیل پلا کر صفراوی نالیوں سے سرے نکالنے کا کام لیا ہے، بعض اوقات اسی عمل کے دوران پتھریاں بھی نکل جاتی ہیں

امراض تنفس اور زیتون کا تیل
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ذات الجنب میں زیتون کا تیل ارشاد فرمایا۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر سانس کی ہر بیماری کے مبتلا کو زیتون کا تیل ضرور دیا گیا۔ دمہ کے مریضوں کی بیماری میں جب کمی آ جائے تو آئندہ اس قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے زیتون کے تیل سے بہتر دوا میسر نہ آ سکی
انفلوئنز اور زکام والوں کو باقاعدہ زیتون کا تیل پینے سے نہ ہی ان کو زکام لگتا ہے اور نہ ہی نمونیا ہوتا ہے۔ اگر ان کو کبھی انفلوئنزا ہو بھی جائے تو ان کا حملہ بڑا معمولی ہوتا ہے۔ زکام اور دمہ کے دوران اضافی فائدے کے لئے ابلے ہوئے پانی میں شہد بھی مفید ہے

تپ دق اور زیتون کا تیل

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی دونوں روایات میں ذات الجنب میں زیتون کا تیل تجویز ہوا۔ اس کے ساتھ ہی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت میں زیتون کا تیل جذام میں مفید ہے۔ علم الجراثیم اور علم الامراض کے اعتبار سے کوڑھ اور تپ دق کی توعیت ایک ہے دونوں کے جراثیم Acid Fast ہوتے ہیں اس لئے وہ ادویہ جو تپ دق پر مؤثر ہوتی ہیں، جذام میں بھی مفید ہیں اور اس کے برعکس بھی درست ہے اس لئے تپ دق کے مریضوں کو اس فائدہ ہوتا ہے

زیتون کے تیل سے پرانے زکام اور نکسیر کا علاج

ابن قیم نے زکام کے علاج میں قسط البحری کو مفید قرار دیا ہے، ذہبی کے مشاہدہ میں قسط کو سونگھنا بھی زکام میں مفید ہے جبکہ ایک روایت کے مطابق مرزنجوش سونگھنے سے زکام ٹھیک ہو جاتا ہے، پرانے زکام میں یا ان مریضوں کو جن کو بار بار زکام ہو جاتا ہے۔ زیتون کا تیل آئندہ کے لئے محفوظ کر دیتا ہے۔ بخاری اور ابن ماجہ میں خالد بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ والی روایت کے مطابق ایک چمچ کلونجی کو پیس کر بارہ چمچ زیتون کے تیل میں حل کرکے اس مرکب کو پانچ منٹ ابالنے کے بعد چھان لیا گیا۔ صبح شام ناک میں ڈالنے سے نہ صرف یہ کہ پرانا زکام ٹھیک ہوا بلکہ نکسیر میں بھی از حد مفید رہا

معدہ اور آنتوں کے سرطان کا علاج
جاپان کے بعض طبی جرائد نے آنتوں کے سرطان میں روغن زیتون کو مفید قرار دیا ہے مگر وہ اپنے اس بیان میں واضح نہ تھے۔ اس ضمن میں مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں طبی خدمت بجا لانے والے سینکڑوں ڈاکٹروں سے معلومات حاصل کی گئی۔ ان سب کا متفقہ جواب یہ تھا کہ انھوں نے زیتون کا تیل پینے والے کسی شخص کو بھی پیٹ کے سرطان میں مبتلا نہیں دیکھا۔ جاپانی ماہرین کا خیال ہے کہ لمبے عرصے تک زیتون کا تیل پینے سے معدہ اور آنتوں کے سرطان ٹھیک ہو سکتے ہیں۔

زیتون کا تیل بہتر ٹانک ہے

یہ طبیعت کو بحال اور چہرے کے رنگ کو نکھارتا ہے۔ پیٹ کے فعل کو اعتدال پر لاتا ہے۔ ذہبی کی تحقیقات کے مطابق بالوں اور جسم کو مضبوط کرکے بڑھاپے کے آثار کم کرتا ہے۔ کسی بھی چکنائی اور تیل کے پینے سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے مگر زیتون کا تیل اس سے مستثنٰی ہے کیونکہ یہ تیل ہونے کے باوجود پیٹ کی بہت سی بیماریوں کے لئے مصلح ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ زیتون کا تیل غرباء کے لئے بہترین ٹانک ہے مگر زیتون کا وہ تیل جو سبز اور سنہری ہو، وہی مفید ہے۔ سیاہی مائل رنگ کا تیل مضر صحت ہے۔ صحیح تیل مقوی باہ، مقوی معدہ اور سینے کی بیماریوں سے تحفظ مہیا کرتا ہے۔ زیتون کا تیل آگ سے ہونے والے زخموں کے لئے اکسیر ہے
زیتون کے تیل میں نمک ملا کر اگر مسوڑھوں پر ملا جائے تو یہ ان کو تقویت دیتا ہے
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس ایک مہمان آیا۔ انھوں نے رات کے کھانے میں اسے اونٹ کی سری اور زیتون کا تیل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ “میں یہ تمھیں اس لئے کھلا رہا ہوں کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس درخت کو مبارک درخر قرار دیا ہے۔“

زیتون کے تیل کے فوائد ایک نظر میں

زیتون کا تیل زیادہ تر قروح معدہ میں 10 گرام پلاتے ہیں، خصوصاً سوتے وقت دودھ کے ساتھ  درد گردہ اور پتہ کی پتھری میں بےحد فائدہ بخش ہے
 حکماء کا قول ہے کہ زیتون سنگ مثانہ کو گلاتا، بلغم کو دور کرتا، پٹھوں کو مضبوط کرتا، تھکن کو دور کرتا اور منہ میں خوشبو پیدا کرتا ہے یہ نیک لوگوں کی غذا اور سر کا تیل بھی ہے یہ  50 گرام کی مقدار میں ملین ہے جو متورم بواسیر، قروح معدہ، خونی بواسیر اور قبض میں ایک مفید دوا ہے
 تیل مقوی ہے اور امراض جلد میں شفا ہے
 پیٹ کی بیماریوں میں مفید ہے۔ تیل پرانا بھی ہو جائے تو مفید رہتا ہے
آنکھ میں لگانے سے آنکھ کی سرخی کٹ جاتی ہے
 موتیا کو کم کرنے میں مفید ہے
 زہر خوانی میں اس کا تیل دودھ میں ملا کر پلانے سے آرام ہو جاتا ہے اور اجن بچ سکتی ہے
اس کے تیل کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر چیونٹیاں نہیں آتیں اور جب اسے دئیے میں جلایا جائے تو یہ دیگر تیلیوں کی طرح دھواں نہیں دیتا
دست آور ہے، آنتوں کے کیڑوں کو نکالتا ہے
 جلد میں نرمی اور ملائمت پیدا کرتا ہے
بالوں کی سفیدی کو روکتا ہے
 ایگزیما اور چنبل میں قسط، سناہم وزن پیس کر روغن زیتون کا چار گنا میں پکا کر لگانا مفید ہے
 مسوڑھوں کا مضبوط بناتا ہے
 زیتون کا نمکین پانی آتش زدہ مقام پر آبلے نہیں آنے دیتا
 فالج اور اوجاع مفاصل میں بطور مالس استعمال سے فائدہ ہوتا ہے
 چنبل جیسے جلدی امراض، جلے ہوئے حصوں پر اور زخموں پر لگانے اور سخت جوڑوں کو نرم کرتا ہے
 رکٹس اور بچوں کے دق میں مالش سے کافی فائدہ ہوتا ہے
 بلا تکلیف صفراوی پتھریوں کو توڑتا ہے، کولیسٹرول جو صفراوی پتھریوں کا جزو اعظم ہے، اس کو روغن زیتون جسمانی حرارت 5۔98 پر تحلیل کرتا ہے اور چند دنوں میں پتے کی پتھری ایک ایسے رفیق محلول میں تبدیل ہو جاتی ہے جو اپنے مقررہ راستوں سے بآسانی گزر جاتی ہے۔ اس لئے درد جگر کے دورے ختم یو جاتے ہیں

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

دودھ اور دہی، کے فوائد

صحت مند رہنے کے لیے دودھ کا استعمال ضروری ہےانسان ہوں یا دودھ پلانے والے دوسرے جاندار ان کے بچے ، بچے بھوکے پیدا ہوتے ہیں وہ اپنی پہلی ہی چیخ میں، دودھ، کا مطالبہ کرتے ہیں، جب تک قدرت کا یہ عطیہ، ایک مکمل غذا اورسب سے زیادہ زود اثر ٹانک ان کے حلق سے نہیں اترتا وہ بے قرار اور بے چین رہتے ہیں
دودھ میں غذائی اجزاء
اس مناسبت سے ہیں۔ دودھ میں پانی کا تناسب 89 فیصد‘ روغنی اجزأ 5 فیصد، شکر تین سے چار فیصد گوشت پیدا کرنے والے اجزأ 35 فیصد بھینس کے دودھ میں، روغنی اجزاء، زیادہ اور بکری کے دودھ میں معدنی نمکیات زیادہ ہوتے ہیں’ گائے کے دودھ میں چکنائی کم ہوتی ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ ایک لیٹر دودھ اپنی غذائیت میں ایک کلو گوشت کے برابر ہوتا ہے، حالانکہ دودھ کی فی لیٹر قیمت گوشت کی قیمت کا ایک چوتھائی ہوتی ہے۔
دودھ بچوں، جوانوں، دماغی کام کرنے والوں اور سخت محنت کرنے والوں کے لیے اکسیر ہے۔
بیماری سے صحت یاب ہونے والوں کے لیے مفید ٹانک ہے۔
حاملہ خواتین کے لیے ایک خوش ذائقہ اور زود ہضم غذا کا کام کرتا ہے۔
میعادی بخار، سل، دق کی روک تھام اور ہڈیوں میں کیلشیم پیدا کرتا ہے اور خون بڑھانے کے لیے کار آمد ہوتا ہے۔
دودھ کا مزاج گرم تر ہے،یہ قبض کشا‘ پسینہ آور پیشاب کے ذریعہ بدن کا زہر خارج کرتا ہے، دودھ پینے والوں کی عمر بڑھتی ہے اور بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ دودھ بدن میں رطوبت پیدا کرتا ہے، دودھ زود ہضم ہے اور دل جگر‘ معدہ آنتوں‘ چربی‘ غدود اور ہڈیوں کی گرمی اور خشکی دور کرتا ہے۔
تبخیر اور گیس
تبخیر اور گیس کے مریض جن کا پیٹ بڑھ جاتا ہے ہاتھ پیر سوجاتے ہیں اور کمزوری کی وجہ سے جلد تھکن پیدا ہوجاتی ہے اور پانی منہ میں بھر آتا ہے ان کا علاج یہ ہے کہ ایک پائو دودھ میں دو کھجوریں‘ چھ ماشہ بادیان (سونف) ایک عدد بڑی الائچی صبح کے وقت ناشتہ کے طور پر استعمال کریں اور شام کو چائے کی جگہ بھی یہ استعمال کریں۔
دودھ ہر وقت پیا جاسکتا ہے۔ دن کے کسی حصے میں اس کے پینے کی ممانعت نہیں، دودھ ہمیشہ گھونٹ گھونٹ کرکے پینا چاہیے۔ اس سے آکسیجن ملتی ہے اور دودھ جلد ہضم ہوجاتا ہے۔ جو لوگ سوتے وقت دودھ پیتے ہیں انہیں اس میں فرحت اور لذت حاصل ہوتی ہے۔ ایک تندرست جسم میں دودھ دو گھنٹوں کے اندر اندر ہضم ہوجاتا ہے۔
دودھ کی طرح دہی بھی جسم کی پرورش کرنے والے اجزاءسے بھرپور ایک مکمل غذا ہے‘ دودھ صدیوں سے ایک مکمل غذا تسلیم کیا جارہا ہے۔
دہی کا رواج
دودھ سے دہی بنانے کا رواج تین ہزار سال قبل مسیح قدیم مصریوں میں شروع ہوا تاریخ بتاتی ہے کہ فراعنہ مصر کے دستر خوان پردہی ایک عمدہ غذا کے طور پر رکھا جاتا تھا‘ پھر ایران، روس، عرب، بلقانی ریاستیں اور متحدہ ہندوستان میں صدیوں سے دہی غذا کا ایک اہم جزو تصور ہوتا آیا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ دہی میں خمیرا اٹھانے والے بیکٹریا دودھ میں بے حد تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں، دہی اور چھاچھ کی ترشی میں تیزابیت یعنی ٹیڑک ایسڈ برابر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو آنتوں کے مضر صحت جراثیم دور کرکے غذا کو ہضم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
چھاچھ جب ہضم ہونے لگتی ہے تو اس کی حرارت جسم کی حرارت سے ملنے کے بعد بدن کی پرورش کرنے والے جراثیم پیدا کرتی ہے‘ یہ غیر مرئی جراثیم غذائی نالی میں دو اقسام کی گیس بناتے ہیں‘ اس میں پہلی قسم کے گیس کے اثر سے معدہ غذا جذب کرکے اور زیادہ سرائیت کرنے کی طاقت حاصل کرتا ہے۔
دوسری گیس آنتوں کو جذب و ہضم غذا کے لیے آمادہ کرتی ہے اس سے جگر اور گردے ہلکے پھلکے رہتے ہیں۔ قبض دور ہوتا ہے اور بخارات اور گیس نہیں بن پاتے اس طرح دہی اور چھاچھ ایک ایسے ملین کا کام کرتے ہیں جس کے استعمال سے فضلات آنتوں سے باآسانی نکل جاتے ہیں‘ یونانی طب میں چھاچھ معدہ جگر اور خون کی بیماریوں میں دوا بن کر صحت عطا کرتی ہے‘ پیچش‘ بدہضمی اور دستوں کے علاج میں دہی بطور غذا تجویز کرکے عمدہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
دہی کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے بہت بڑی مقدار میں وٹامن بی حاصل ہوتا ہے۔ روزانہ چھاچھ کا استعمال حیاتین بی کی کمی اعصابی کمزوری‘ دل کی عادی بیماریوں اور قبض کا گھریلو علاج ہے، دہی کا تیزابی مادہ دماغ کو بھی جِلا دیتا ہے اور تازگی بڑھا کر غصہ کو روکتا ہے‘ اس کا فعل غذا کو ہضم کرکے بھوک لگاتا ہے۔
بچوں کے دانت
شیر خوار بچوں کے دانت نکالنے کے زمانے میں بدہضمی اور دست روکنے کے علاوہ کم ترش چھاچھ سے بچوں کو مطلوبہ کیلشیم کی مقدار بھی حاصل ہوتی ہے‘ غذائی مواد کم ہونے کی وجہ سے مکھن نکلی ہوئی چھاچھ موٹاپے کا عمدہ علاج ہے۔ نازک معدے والے افراد جن کو بھوک کی حالت میں درد محسوس ہونے لگتا ہے وہ لوگ اگر چھاچھ میں شکر یا شہد ملا کر پئیں تو افاقہ ہوتا ہے۔
کچی ترکاریاں
کچی ترکاری مثلا گاجر، مولی، چقندر، ٹماٹر، پیاز، دھنیا، پودینہ اور پھلوں میں کیلا، سیب اور امرود کاٹ کر چھاچھ میں ملا کر دستر خوان پر رکھیں ایک خوش ذائقہ ڈش کا کام دے گی۔ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ایک پائو دہی آدھ سیر گوشت کے برابر طاقت رکھتی ہے‘ کمزور لوگوں کو دہی کا استعمال آہستہ آہستہ بڑھانا چاہیے۔
نزلہ زکام
نزلہ زکام میں دہی میں شکر کھانڈ یا شہد ملا کر استعمال کرنا چاہیے، تبخیر اور گیس والے دہی میں نمک اور کالی مرچ ملا کر استعمال کریں تو زیادہ بہتر ہوگا، دائمی قبض والے چھے ماشے کشمش یا منقیٰ ملا کر استعمال کریں تو زیادہ بہتر ہے۔
جن لوگوں کو جلدی سردی لگ جاتی ہے انہیں دودھ میں 3 گرام، سے 6 گرام، ادرک یا پسی ہوئی سونٹھ ملا کر کھلائی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا

Copy Protected by Tech Tips's CopyProtect Wordpress Blogs.