Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

گوشت میں ایک مکمل مفید اور مقوی غذا ہے

گوشت میں ایک مکمل مفید اور مقوی غذا ہے
گوشت میں ایک مکمل مفید اور مقوی غذا ہے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے گوشت کو دنیا اور آخرت کا بہترین سالن قرار دیا ہے۔ پشت کا گوشت لحمیات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ خون کی کمی کا موثر علاج بھی ہے۔ امام زہری کے مطابق “گوشت کھانے سے جسم کو 70 قسم کی قوتیں حاصل ہوتی ہیں“ گوشت کے استعمال سے بصارت تیز ہوتی ہے۔ گردوں اور پشت کے گوشت کی یخنی بے حد مفید ہے بکرے کا گوشت صالح خون پیدا کرکے جسم کو توانائی دیتا ہے اونٹ کا گوشت گھٹیا کے مرض میں مفید ہے مرغ کا گوشت یرقان کیلئے مفید ہے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے گوشت میں دستی کے گوشت کو ترجیحاً اس لئے پسند فرمایا کہ اس میں بیشمار بیماریوں سے شفاء ہے گوشت کے استعمال سے رنگت بکھرتی ہے۔

انسانی صحت کیلئے مچھلی کی اہمیت

انسانی صحت کیلئے مچھلی کی اہمیت

انسانی صحت کیلئے مچھلی کی اہمیت مسلم ہے حالیہ تحقیق سے ثابت ہو گیا ہے کہ مچھلی میں پائے جانے والے تین اجزاء یعنی فلیسٹی ایسڈ ذہنی امراض کی روک تھام میں معاون ثابت ہوتے ہیں  اس سے ڈپریشن دور ہوتا ہے۔ اور دل کی دھڑکن معتدل ہوتی ہے کینسر کی بعض اقسام اور پیٹ کے ورم سے متعلق بیماریوں کا تدارک مچھلی سے ہوتا ہے۔ ہفتے میں ایک بار مچھلی کھانے سے دل کے حملے کا خطرہ 50 فیصد رہ جاتا ہے۔ بعض مچھلیاں کھانے سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اور فالج کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔مچھلی کی چربی پگھلا کر شہد میں ملا کر کھانے سے بینائی میں اضافہ ہوتا ہے موتیا کے آغاز میں لگا لینا مفید ہے مچھلی کے گوشت میں پروٹین کی کثیر مقدار جسم کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جسم کی قوت مدافعت بڑھاتی ہے۔ مچھلی اور مچھلی کے شوربے سے زہریلے جانوروں کے ڈنک کا اثر ختم ہوتا حساسیت سے پیدا ہونے والے جلدی امراض میں یہ تیل بڑا مفید ہے۔

انجیر

انجیر کو زمین کا پہلا پھل کہا جاتا ہے بظاہر یہ بہت نازک پھل پوتا ہے۔ لیکن اثر کے لحاظ سے دیگر پھلوں سے زیادہ غذائیت بخش ہوتا ہے۔ یونانی حکما اپنے نسخوں میں انجیر ضرور استعمال کرتے ہیں۔ اطباء چہرے کے نکھار کیلئے انجیر کھانے کی تاکید کرتے ہیں انجیر کے استعمال سے حواس خمسہ کو تقویت ملتی ہے انجیر میں خوراک کو مکمل ہضم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے انجیر جسم سے چربی گھلا دیتی ہے۔ اسی لئے بلند فشار خون کیلئے اکسیر ہے خشک انجیر کو پانی میں پیس کر پٹھوں کی اکڑن کے مقام پر لیپ کرنے سے اکڑن ختم ہو جاتی ہے۔ گردوں کو فیل ہونے سے بچانے کیلئے انجیر کا مسلسل استعمال مفید ہے۔

کھجور ایک طاقتور غذا ہے

کھجور ایک طاقتور غذا ہے اور کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل بھی سورۃ مریم میں کھجور کا تذکرہ ملتا ہے اس ضمن میں ڈاکٹر خالد غنزوی لکھتے ہیں۔
“قرآن مجید نے تاریخ طب میں پہلی مرتبہ valid food کا تصور کھجور کی صورت میں پیش کیا ہے۔“
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پکی ہوئی کھجور سے روزہ افطار فرماتے وہ نہ ہوتی تو پرانی کھجور سے۔ اقبال احمد مدنی اس حکمت کی وضاحت یوں پیش کرتے ہیں۔ “روزے کی وجہ سے معدہ غذا سے خالی ہوتا ہے شیریں چیز جگر کو بہت زیادہ مرغوب ہے مگر تازہ کھجور کو جگر اور بھی زیادہ نرم کرکے قبول کرتا ہے چنانچہ اس سے قوی اور جگر دونوں کو ہی تقویت ملتی ہے۔
Read More

شہد

شہد دنیا کی قدیم ترین دواؤں اور غذاؤں میں سے ایک ہے۔
اللہ تعالٰی نے شہد کو “شفاء کا مظہر“ قرار دیا ہے۔ عرصے سے روایت چلی آ رہی ہے کہ دنیا میں اولین سانس لینے کے بعد (مسلمان) بچے کی زبان پہلی بار جس ذائقے سے آشنا ہوتی ہے۔ وہ شہد ہے۔ طبیب بھی نوازئیدہ بچوں کو دودھ کے ساتھ شہد دینے کی تاکید کرتے ہیں۔ تمام اطباء شہد کو بہترعین دوا اور ٹانک تسلیم کرنے پر متفق ہیں گویا شہد کئی بیماریوں کا موثر علاج ہے شوگر کی کمی اور حرکت قلب بند ہو جانے سے روکنے کیلئے شہد اکسیر ہے “برٹش فارما کوبیا“ کے مطابق کھانسی کے بعض شربت شہد سے بنائے جاتے ہیں۔ نہار منہ شہد کھانا یا پینا معدے، جگر، گردوں کی اصلاح کیلئے مفید ہے۔
Read More

دودھ لطیف اور زود ہضم غذا ہے

دودھ لطیف اور زود ہضم غذا ہے جو بہترین غذائیت مہیا کرتا ہے۔ عمدہ خون پیدا کرتا ہے پیٹ کی تیزابیت دودھ پینے سے کم ہوتی ہے السر میں دودھ مفید ہے دماغی قوت میں اضافہ کرتا ہے شوگر اور تپ دق جیسے مہلک امراض میں دودھ کا استعمال بے حد مفید ہے کسی بھی نوعیت کے زہریلے مرض میں دودھ تریاق کا کام کرتا ہے آشوب چشم میں دودھ کے قطرے ٹپکانے سے تسکین ہوتی ہے دودھ کی ایک بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہ اس سے بعض ایسی اشیاء بھی بنائی جاتی ہیں جن کا استعمال بھی عام ہوتا ہے اور جو صحت کیلئے بھی مفید ہیں مثلاً دہی، ربڑی، مکھن، گھی، پنیر وغیرہ۔ پنیر کے استعمال سے گردوں، معدے اور دانتوں کو تقویت ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
Read More

کھانسی اور حلق کی بیماریوں کا علاج

کھانسی اور حلق کی بیماریوں کا علاج
خالص شہد کھانسی کا علاج ہے، گلے کی بیماریوں کا مداوا اور جراثیم کے خلاف جسم کو قوت مدافعت مہیا کرتا ہے۔
  کھانسی اور کالی کھانسی کے مریض دن میں کئی بار شہد چاٹیں۔
  قرآن مجید نے جنت میں پائی جانے والی بہترین چیزوں کے تذکرہ میں انار، سونٹھ، ادرک اور شہد کا ذکر فرمایا ہے ان میں سے ہر چیز کالی کھانسی کو شفاء دیتی ہے۔
  خشک ادرک کو پیس کر اسے شہد میں چھڑک دیا جائے یہ کھانسی کی ہر قسم کیلئے شفاء ہے۔ اس مرکب کو روزانہ سات دن تک صبح و شام چاٹیں۔ میٹھے انار کا پانی نکال کر اسے چولھے پر پکائیں جب وہ گاڑھا ہو جائے تو مریض کو بار بار چٹایا جائے۔
  کیلے کے درخت کا پتا سکھا کر توے پر رکھ کر جلایا جائے اس راکھ کو شہد میں ملا کر بار بار چٹایا جائے۔

سر کے گنج کا علاج

سر کے گنج کا علاج
کلونجی اور مہندی پیس کر سرکہ میں حل کرکے سر پر ہر تیسرے دن ایک گھنٹہ کیلئے لگانا گنج کیلئے مفید تر ہے۔ اگر اس عمل کو کچھ عرصہ تک مستقل کیا جائے گا تو تسلی بخش حالات کا مشاہدہ ہوتا ہے اور کئی مریض تندرست ہو چکے ہیں دراصل کلونجی کے اثرات جلد، جلد کے مسامات اور بالوں کی جڑوں تک بآسانی پہنچ جاتے ہیں اس لئے یہ نسخہ مریضوں کیلئے نوید مسرت ہے۔

حفظان صحت ہدایات نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

حفظان صحت ہدایات نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

چونکہ صحت و عافیت اللہ تعالٰی کی اپنے بندے پر سب سے بڑی اور اہم نعمت ہے اور اس کے عطیات و انعامات میں سب سے عمدہ ترین اور کامل ترین ہے، لٰہذا ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت و عافیت کی حفاظت و مراعات اور اس کی نگہبانی اور نگرانی ان تمام چیزوں سے کرے جو صحت کے منافی ہیں اور جس سے صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔چنانچہ حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ “تمہارے جسم کا بھی تمہارے اوپر حق ہے اور وہ یہی حق ہے کہ انسان اپنے جسم کی حفاظت کرے اور ایسے اسباب پیدا نہ ہونے دئیے جائیں کہ بدن کو بیماریوں کی حد تک پہنچا دیا جائے۔“ آج کی تحقیقات نے تندرستی کے لئے یہ باتیں ضروری قرار دی ہیں۔ مثلاً بدن اور لباس صاف ستھرا رکھنا۔ پانچ وقت اعضائے ظاہری کو پاک صاف رکھنا یعنی وضو، غسل اور نماز کو قائم کرنا صحت و توانائی کے ضامن ہیں۔

Read More

انسانی اعضاء پر نشہ کے اثرات

انسانی اعضاء پر نشہ کے اثرات
امراض تنفس
نشی کرنے والوں کی اکثریت امراض تنفنس کا شکار ہو جاتی ہے سگریٹ کے ساتھ ہیروئن کے کش لگانا سونے پر سہاگہ کا کام کرتے ہیں پھیپھڑوں میں زخم اور سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں افیون چرس اور بھنگ کے عادی افراد کے پھیپھڑوں میں بلغم جم جاتی ہے۔ نالیاں اور پھیپھڑے خشک ہو جاتے ہیں ڈاکٹری ادویہ بھی یہی کام انجام دیتی ہیں۔ ان سے مراد وہ ادویہ ہیں جو بطور نشہ استعمال ہوتی ہیں پھیپھڑوں کی حرکات سست اور لمبے لمبے سانس لینے پڑتے ہیں جسم کو آکسیجن کم ملتی ہے۔ان منشیات کا استعمال کرنے والے تپ دق، دمہ، برونکائی ٹس اور سانس لینے میں دقت کا سامنا کرتے ہیں ان کے اعضاء تنفس میں زخم ورم اور سوراخ ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے خون منہ یا ناک کے راستے جاری ہو سکتا ہے اور موت چند قدم دور ہو جاتی ہے۔
امراض معدہ اور منشیات
تمام منشی اشیاء معدہ کے گیسٹرک جوس پر برا اثر ڈالتی ہیں اور کچھ منشیات گیسٹرک جوس کی پیداوار کم کرتی ہیں۔ کچھ ایسی ہیں جن سے گیسٹرک جوس کی پیداوار بڑھ جاتی ہے جن سے بدہضمی، سوزش معدہ، زخم معدہ، معدہ کا سرطان، بھوک میں کمی، متلی اور خونی قے کی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں بعض نشے قبض اور بعض پیچس لگا دیتے ہیں ہر نشہ کرنے والا معدہ کے ان امراض میں ضرور مبتلا ہوتا ہے۔ وہ لوگ احمقوں کی سوچ رکھتے ہیں جو نشہ کرتے اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم آج ان امراض کا شکار نہیں ہوئے کل بھی بچے رہیں گے انھیں یاد رکھنا چاہئیے کہ اگر کسی درخت کے تنے پر روزانہ آری چلائی جائے تو وہ ٹوٹ کر ضرور گرے گی۔ میں نے یہاں نشہ کے ذریعے لاحق ہونے والے جو امراض بتائے ہیں وہ ہر نشہ کرنے والے کو ضرور ہوتے ہیں یہ میرا تجربہ ہے میں نے اپنی آنکھوں سے انھیں ان امراض کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔دماغی امراض اور منشیات
سب سے زیادہ مضر اثرات دماغ پر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ پہلی سٹیج میں نشہ کرنے والا دماغی امراض میں مبتلا ہوتا ہے دماغ کی کارکردگی سب سے پہلے سست ہوتی ہے جس سے جسم کے ہر نظام کا فعل سست پڑ جاتا ہے۔ وہ دماغی امراض جو نشہ سے لاحق ہوتے ہیں ان میں نسیان، مرگی، سر چکرانا، نیند میں کمی، مالیخولیا، پاگل پن، سوچنے اور قوت فیصلہ میں کمی قابل ذکر ہیں۔اعصابی امراض اور منشیات
جسم میں خشکی اور زہریلے مادوں کی کثرت کی وجہ سے، رعشہ، فالج، لڑکھڑاتی چال، حرکت میں سستی اور اعصابی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔امراض جگر اور منشیات
جگر خون بنانے سے قاصر ہو جاتا ہے بہت کم خون پیدا ہوتا ہے۔ خون کی کمی چہرہ کی زردی، یرقان، جگر کا سکڑ جانا یا متورم ہو جانا جیسے امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔

منشیات اور جسمانی کمزوری
مریض دن بدن سوکھتا چلا جاتا ہے سردی گرمی برداشت نہیں ہوتی کیونکہ جس آدمی کے پھیپھڑے، دماغ، معدہ اور جگر تباہ ہو چکے ہوں وہ سوکھ کر کانٹا نہیں بنے گا تو کیا ہو گا۔

قوت مدافعت میں کمی
جسم میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔ ایسا مریض بیماریوں کا بہت جلد شکار ہوتا ہے۔ اگر کوئی وبائی مرض پھیلے تو سب سے پہلے نشہ کرنے والے اس کا شکار ہو کر لقمہ اجل بنتے ہیں۔


Read More

Copy Protected by Tech Tips's CopyProtect Wordpress Blogs.