Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

Use yogurt good health,دہی کا استعمال اچھی صحت

Use yogurt good health,دہی کا  استعمال اچھی صحت

د ہی کو عربی میں ”لبن“ فارسی میں ”ماست“ اور انگریزی میں یوگرٹ (yogurt) کہتے ہیں ۔ صدیوں سے یہ انسانی خوراک کا حصہ رہا ہے۔ زمانہ قبل از تاریخ کا انسان بھی گائے‘ بکری‘ بھینس‘ اونٹ اور بھیڑ کے دودھ کو بطور غذا استعمال کیا کرتا تھا۔ ان کے مویشیوں کے دودھ کی مقدار کم ہوتی تھی اس لیے وہ اسے جانوروں کی کھالوں یا کھردرے مٹی کے برتنوں میں جمع کرلیتے تھے تاکہ بہ وقت ضرورت آسانی سے استعمال میں آجائے۔
شروع شروع میں اسے جانوروں سے حاصل کرنے کے بعد اسی طرح کچی حالت میں رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن کچے دودھ کو محفوظ حالت میں رکھنا‘ وہ بھی اس طرح کہ اس کی غذائیت بھی برقرار رہے ناممکن سی بات ثابت ہوئی۔ اس مسئلے کا حل اتفاقی طور پر دریافت ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ جنوب مغربی ایشیا کے وسیع علاقوں میں سفر کرنے والے ”نوماد“ قبیلے والے دودھ کی شکل میں اپنی رسد کو بھیڑ کی کھال سے بنے ہوئے تھیلے میں رکھا کرتے اور اسے اپنے جانوروں کی پیٹھ پر باندھ دیا کرتے تھے۔ ایام سفر میں وہ تھیلے مسلسل ہلتے رہتے اس پر سورج کی تپش بھی اپنا اثر دکھاتی رہتی نتیجتاً ہ دودھ خمیر بن کر نیم ٹھوس شکل اختیار کرلیتا۔ وہ اس بات سے ناواقف تھے کہ بھیڑ کی کھال کے اندرونی حصے میں چھپے ہوئے بیکٹریا نے دودھ کو خمیر کرکے دہی کی شکل دے دی ہے۔
ابتداءمیں دودھ کی اس شکل کو بہت کم مقدار میں استعمال کیا جاتا تھا کیوں کہ نوماد قبیلے والے اسے زہریلا سمجھتے تھے پھر آہستہ آہستہ تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ دودھ کی یہ نئی شکل مضر صحت نہیں معجزاتی غذا ہے۔ جب اس کی افادیت سامنے آئی تو اسے بنانے کا طریقہ دریافت کیا گیا۔ دودھ کو جمانے کے لیے انہوں نے اس میں تھوڑا سا دہی ملالیا۔ اس تجربے نے کامیابی عطا کی اور پھر دھیرے دھیرے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ کھٹا اور خمیر کیا ہوا دودھ تازہ دودھ سے بہت زیادہ فائدے مند ہے۔ یہ نہ صرف زیادہ عرصے تک اچھی حالت میں رہتا ہے بلکہ اس کا ذائقہ بھی مزیدار ہوجاتا ہے۔

بلغاریہ کے لوگوں کی طبعی عمر دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ سائنسدانوں نے مسلسل تجربوں اور تجزیہ کے بعد پتا چلایا کہ اس کی ایک وجہ دہی بھی ہے۔ وہاں کے لوگ دہی کا استعمال بہت زیادہ کرتے ہیں۔

فرانس میں اسے ”حیات جاوداں“ کا نام دیا گیا ہے۔ 1700ءمیں فرانس کا کنگ فرسٹ کسی بیماری میں ایسا مبتلا ہوا کہ کوئی علاج کارگر نہیں ہوتا تھا۔ بادشاہ سوکھ کا کانٹا ہوگیا تھا۔ نقاہت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہ بیٹھنے کی قوت بھی کھو چکا تھا۔ اس کے علاج کے لیے مشرق بعید کے ایک معالج کو بلایا گیا۔ اس نے بادشاہ کو صرف دہی کا استعمال کرایا اور کنگ فرسٹ صحت یاب ہوگیا۔

فرانس ہی کے ایک ماہر جراثیم پروفیسر میچسنٹکو لکھتے ہیں کہ دہی درازی عمر کی چابی ہے۔ اس کے استعمال سے نہ صرف انسان بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے بلکہ عمر بھی طویل پاتا ہے۔

Live longer look younger نامی کتاب میں مصنف نے اسے معجزاتی غذا کہا ہے۔

ء1908

کے نوبل انعام یافتہ ایلی میٹ ٹنگوف وہ پہلا ماہر تھا جس نے برسوں کی تحقیق کے بعد اس کے خواص پر تحقیق کی اور بتایا کہ یہی وہ غذا ہے جو انسان کو طویل عمرگزارنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

آنتوں کے نظام کے اندر ایک خاص تعداد میں بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جنہیں فلورا کہا جاتا ہے۔ دہی فلورا کی پرورش میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ انٹی بایوٹک ادویات فلورا کو ختم کردیتی ہیں اسی لیے بعض ڈاکٹر صاحبان اینٹی بائیوٹک ادویات کے ساتھ دہی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دہی بیکٹیریا کے انفیکشن کو بھی روکتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق دہی میں پروٹین‘ کیلشیم اور وٹامن بی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ البتہ آئرن اور وٹامن سی اس میں بالکل نہیں ہوتا۔ گائے کے دودھ کے مقابلے میں بھینس کے دودھ سے بنا ہوا دہی زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اس میں چکنائی پروٹین اور دوسرے غذائی اجزاءزیادہ پائے جاتے ہیں۔ دہی کے اوپر جو پانی ہوتا ہے اس میں وٹامن اورمنرلز وغیرہ اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتی ہیں کیوں کہ وہ دودھ کا ہی پانی ہوتا ہے۔ جب دودھ جمتا ہے تو پانی اس کے اوپر آجاتا ہے جسے دہی میں ملالیا جاتا ہے۔

دہی نہ صرف کھانوں کو لذت بخشتا ہے بلکہ غذائیت بھی فراہم کرتا ہے۔ جسم کی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ نہ صرف بہ آسانی ہضم ہوجاتا ہے بلکہ آنتوں کے نظام پر بھی خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔ اسے صحت مند بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس میں چکنائی اور حرارے انتہائی کم مقدار میں ہوتے ہیں۔ ایک کپ دہی کے اندر صرف 120حرارے (کلوریز) پائے جاتے ہیں۔ اتنی کم مقدار میں کلوریز کے حامل دہی میںایسے کئی اقسام کے غذائی اجزاءہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ مثلاً پروٹین‘ مکھن نکلے دودھ سے بنے دہی کے ایک کپ میں 8 گرام پروٹین ہوتی ہے۔ جب کہ خالص دودھ سے بنے دہی کے ایک کپ میں 7 گرام۔ دہی کی اتنی ہی مقدار میں (مکھن نکلے ہوئے دودھ سے بنائے گئے دہی میں) ایک ملی گرام آئرن‘ 294 ملی گرام کیلشیم‘ 270 گرام فاسفورس‘ 50 ملی گرام پوٹاشیم اور 19 ملی گرام سوڈیم پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن اے (A) 170 انٹرنیشنل یونٹ۔ وٹامن بی (B) ایک ملی گرام۔ تھیا مین 44 ملی گرام۔ وٹامن بی (ریبوفلاوین) 2 ملی گرام اور وٹامن سی (ایسکور بک ایسڈ) بھی 2 ملی گرام پایا جاتا ہے۔

ڈائٹنگ کرنے اور وزن کرنے والوں کے لیے دہی ایک آئیڈیل خوراک ہے کیوں کہ اس کے اندر حراروں کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے جس کی مقدار اوپر لکھی جاچکی ہے۔ مندرجہ بالا مقدار میں 13 گرام کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح چکنائی کی مقدار بھی بہت کم ہوتی ہے۔ دہی کے ایک کپ میں 4 گرام چکنائی پائی جاتی ہے۔ جب کہ خالص دودھ سے بنے دہی میں یہ مقدار بڑھ کر 8 گرام ہوجاتی ہے۔

دہی میں ایک خاص قسم کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا ایک خاص درجہ حرارت پر رکھے جانے والے دودھ کے اندر بڑی تیزی سے پیدا ہوکر بڑھتے چلے جاتے اور دودھ کو نصف ٹھوس حالت میں لادیتے ہیں جسے دہی کہا جاتا ہے۔ یہ بیکٹیریا بہت بڑی مقدار میں وٹامن بی مہیا کرتے ہیں جو آنتوں کے نظام کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

 

Read More

خواتین ومردوں کیلئے لازوال حسن قدرتی اشیاءکا استعمال

beautiful girls خواتین ومردوں کیلئے لازوال حسن  قدرتی اشیاءکا استعمال
کہا جاتا ہے انسان کے چہرے کا حسن اللہ تعالیٰ کی عمدہ عنایت ہے۔ تبھی اکثر خواتین اپنی خوبصورتی کی حفاظت کے لئے دن رات ایک کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ نت نئی کریمیں آزمائی جارہی ہیں، معروف اداکاراﺅں کے حسن کے راز معلوم کئے جارہے ہیں، مہنگے مہنگے بیوٹی پارلرز سے رجوع بھی ہورہا ہے اور امپورٹڈ کاسمیٹکس بھی ڈریسنگ ٹیبل کی زینت ہیں مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت ساری خواتین بالخصوص لڑکیوں کی سکن ان ساری کوششوں کے باوجود بے جان، مردہ اور بے رونق نظر آتی ہے۔ تب وہ اچانک سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دیسی طریقے آزمانے پر غور کرتی ہیں تاکہ ان کی صرف اصل خوبصورتی ہی واپس آجائے کیونکہ اتنے سارے تجربات نے ان کے چہرے کو خوبصورت بنانے کی بجائے جھریوں نما لکیروں یا چھائیوں اور داغ دھبوں کا تحفہ بھی عنایت کردیا ہے۔
بات جب قدرتی اشیاءجڑی بوٹیوں اور دیسی نسخوں کی ہوتی ہے تو علم ہوتا ہے کہ ان کے اندر قدرت نے صحت و خوبصورتی کے انمول خزانے چھپا رکھے ہیں۔ جڑی بوٹیوں سے حسن کا نکھار مصروفیات، موسمی تبد یلیوں اور مختلف صدمات کے اثرات کے باعث ماند پڑجانے والا حسن اصل حالت میں واپس آسکتا ہے
بہت سی خواتین اپنے بالوں، چہرے اور ہاتھوں پاﺅں کی جلد کی خوبصورتی کیلئے کیمیکل سے بنی ہوئی ادو یا ت ، شیمپوز اور کریمیں استعمال کرتی ہیں جن سے صرف وقتی خوبصورتی حاصل ہوتی ہے۔ منیرہ خانم ایک با ہمت خاتون ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے خواتین کو چہرے، آنکھوں، بالوں اور ہاتھوں، پیروں کے حسن کی حفاظت کے طریقے بتارہی ہیں۔اپنے شوہر کی وفات کے بعد انہوں نے ہربل طریقہ علاج سے خواتین کی خوبصورتی کے مسائل دور کرنے کیلئے ایک ادارہ قائم کیا جہاں پر خواتین کی کنسلٹیشن کے بعد پراڈکٹ تیار کی جاتی ہیں۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عورت کی کمزوری اس کے حسن کی تعریف ہے لیکن میں نے دیکھا کہ عورتیں خو بصورتی کی حفاظت کے عام مروجہ طریقوں پر عمل کے باوجود اس میں بہت کم ہی کامیاب ہوتی ہیں جبکہ وہ اپنی خوبصورتی کی تعریف ہمیشہ سننا پسند کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرت نے اس کی حفاظت کیلئے انسان کو بے شمار قدرتی ذرائع عطاءکئے ہیں جس سے اس کی جلد تروتازہ رہ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین اگر اپنے چہرے پر خوشی، اطمینان کے جذبات رکھیں اور پریشانی، مایوسی کو چہرے پر نہ آنے دیں تو اس سے بھی کافی مدد ملتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ 16 سال کی عمر کے بعد تقریباً ہر لڑکی کو کیل مہاسے، گرتے با لوں، دانوں، چھائیوں اور داغ دھبوں جیسے مسائل سے واسطہ پڑتا ہے اس کا بہترین حل سادہ گھریلو ٹو ٹکے  ہیں سیب اور گاجر کا جوس آنکھوں اور سکن کیلئے بہت اچھا ہے۔ گاجر کا جوس تھوڑا سا چہرے پر لگالیں اور پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں درمیان میں خشک ہونے پر دو تین مرتبہ کوٹنگ کریں اس سے چہرے کی چمک میں اضافہ ہوگا۔
موسم کے اثرات سے بچنے کے لئے تھوڑی سی دہی، بالائی یا دودھ میں دو قطرے شہد ملاکر دن یا رات میں دس پندرہ منٹ کیلئے چہرے پر لگائیں ۔ ہفتے میں تین سے چار مرتبہ یہ عمل دھرائیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک کیلے کو اچھی طرح میش کرکے ایک چمچ دہی، دو قطرے بادام روغن اچھی طرح مکس کرکے پورے چہرے اور گردن پر پندرہ سے بیس منٹ کیلئے لگائیں۔ اس سے بھی اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔
جلد کیلئے بادام کی پیسٹ بھی اچھے نتائج دیتی ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ رات کو بادام بھگودیں صبح چھلکا اتار کر میش کریں اور اس کے اندر تھوڑی سی ہلدی اور دہی یا دودھ ملاکر پندرہ سے بیس منٹ کیلئے چہرے پر لگا ئیں۔ ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی گانٹھوں پر پڑنے والے کالے دھبوں کے علاج کیلئے رات کو روغن بادام روغن زیتون یا ناریل کے تیل کا پندرہ منٹ تک مساج کریں اس کے علاوہ ایک ابلے ہوئے آلو کی پیسٹ بنالیں اسمیں دو قطرے لیموں، آدھا چمچ شہد، تھوڑا سا دودھ یا دہی دو چٹکی ہلدی اور ایک چمچ روغن بادام ملاکر ہاتھوں اور پیروں پر لگائیں۔ پندرہ سے بیس منٹ تک مرکب لگارہنے دیں۔ پھر مل مل کر اتار یں دھونے کے بعد نیم گرم پانی میں تھوڑا سا نمک ڈال کر پانچ سے سات منٹ تک پاﺅں اس کے اندر ر کھیں اور سنگ یعنی جھانویں کے ساتھ صاف کرلیں اس سے انگلیوں کے کالے دھبے ختم ہوجاتے ہیں لیکن مسلسل یہ عمل دہراتے رہنا چاہئے۔
پھٹی ایڑیاں بعض خواتین کا ایسا مسئلہ ہیں جس کی وجہ سے خوبصورت سینڈلز بھی سوٹ نہیں کرتے؟ پھٹی ایڑیوں کیلئے خالص سرسوں کے ایک ٹیبل سپون میں تھوڑا سا کپڑے دھونے کا صابن ڈال کر پکالیں۔ رات کو اپنی پھٹی ایڑیوں پر لگالیں۔ پندرہ منٹ کے بعد کاٹن کی جراب پہن لیں صبح گرم پانی میں نمک ڈال کر دھوئیں اور جھانویں سے ہلکا ہلکا رگڑیں۔
چہرے کے دانوں کیلئے منڈی بوٹی 6 دانے‘ عناب 6 دانے‘ خشک لسوڑے 6 دانے‘ برادہ صندل 2 ما شے لے کر رات کو ساری چیزیں ایک گلاس میں بھگودیں۔ صبح اٹھ کر چھان کر پانی پی لیں ایک ماہ تک استعمال کرنے سے افاقہ ہوگا۔ اسکے علاوہ پھل سبزیاں ‘جوس‘ سیب‘ بند گوبھی اور ہرے رنگ کی تمام سبزیاں چہرے کے داغ دھبے ختم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ قندھاری انار اور عام انار کو ملا کر جوس استعما ل کریں۔ کھیرا اور مولی کھانے میں سلاد کے طور پر استعمال کریں۔
موٹاپا کنٹرول کرنے کیلئے ناشتہ میں ابلا ہوا انڈا‘ دو رس‘ ایک کپ بغیر چینی کے چائے جبکہ دوپہر کے کھانے میں سبزیوں کی سلاد استعمال کریں۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کھیرا تھوڑے سے ابلے ہوئے چنے یا لوبیہ تھوڑا سا چکن یا مٹن بند گوبھی‘ روغن زیتون ایک چمچ‘ سرکہ دو قطرے‘ کالی مرچ‘ نمک حسب ضرورت دوپہر کو روزانہ استعمال کریں۔ شام کو آدھی روٹی کے ساتھ گھر کا پکا ہوا کوئی سالن لے لی

منشّیات کا استعمال, منشّیات کے نقصانات

منشّیات کا استعمال

نشوونما کے دور میں نئی چیزوں کے بارے میں تجسّس ہونا فطری بات ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ہر فرد بشمول ہمارے بہترین دوستوں کے یہ کام کر رہے ہیں۔دوستوں کے علاوہ ذرائع ابلاغ بھی ہمیں متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔سگریٹ ، منشّیات ،شِیشہ یا شراب وغیرہ ہر چیز اچھی معلوم ہوتی ہے اور اپنے انداز کے لحاظ سے بالغوں کی سرگرمی معلوم ہوتی ہے۔ذرا غور کیجئے کہ اِن چیزوںکی فلموں اور اشتہارات میں کس طرح منظر کشی کی جاتی ہے۔

تمباکو کی مصنوعات بناے والی کمپنیاں لاکھوں ڈالر پُر کشش اشتہارات پر خرچ کرتی ہیں اور تمباکو نوشی کو ایک شاندار کام کے طور پر پیش کرتی ہیں وہ لوگوں کے نشے کی عادت سے منافع کماتی ہیں ۔لہٰذا اگر آپ اپنے دوستوں سے متاثر نہیں ہوتے تب بھی اِن فنکارانہ اشتہارا ت سے محتاط رہئے،جن کا مقصد آپ کو اِن تمام چیزوںکی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔

اِس کے علاوہ ،ذہنی دباؤ ،بوریت اور کافی رقم دستیاب ہونے کی صورت میں ،تمباکو نوشی، شراب نوشی،مدہوشی اور غیر قانونی منشّیات استعمال کرنے کا اِمکان بہت بڑھ جاتا ہے۔تجسّس کی وجہ سے ایک چھوٹے تجربے کی صورت میں شروع ہونے والا کام ،جلد ہی عادت بن جاتا ہے۔دُرست فیصلے کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔
Read More

جنسی اعضاء کے ساتھ منہ کا استعمال

جنسی اعضاء کے ساتھ منہ کا استعمال
بیوی کے منہ میں عضو تناسل ڈالنا یا اس کی فرج میں اپنی زبان داخل کرنا اور اسے اندرونی طرف سے چاٹنا وغیرہ بھی مذموم جنسی اعمال میں سے ہیں۔ اسلام کی پیش کردہ مثبت جنسی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے نوجوان طبقہ نے مغربی ذرائع سے جنسی معلومات حاصل کرنے پر اکتفاء کیا اور ایسی جنسی خرافات ہمارے معاشرے میں بھی رائج ہونے لگیں۔فطرت سلیمہ ایسے سفلی عمل کو ناگوار گردانتی ہے اور ایک عام عقلمند شخص بھی ایسی حرکتوں‌ کو مہذب قرار نہیں‌ دے سکتا۔
مباشرت کے دوران میاں‌ بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو زبان لگانا یا چاٹنا مکروہ عمل ہے اور اگر اس دوران میں‌ ایک دوسرے کی جنسی رطوبتیں (منی وغیرہ) منہ میں چلی جائیں‌ تو یہ عمل حرام کے زمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔

کسی قسم کی جنسی بیماری کی صورت میں جنسی اعضاء کے ساتھ منہ کے استعمال سے جنسی انفکشن کا بھی خطرہ ہوتا ہے، اگرچہ یہ خطرہ جنسی ملاپ کی صورت میں ممکنہ خطرے کی نسبت کم ہوتا ہے۔

جنسی اعضاء کے ساتھ منہ کے استعمال سے ممکنہ طور پر لاحق ہونے والے چند انفکشن یہ ہیں
 کلیمائیڈیا
 سوزاک (گنوریا)
آتشک
 ایچ آئی وی
 ہیپاٹائیٹس اے،بی اور سی
 جنسی اعضاء پر پھوڑے/پھنسیاں
جنسی اعضاء پر جوئیں

Read More

ادرک اور پیاز کا استعمال سرطان سے بچاتا ہے۔ تحقیق

 طبی ماہرین نے کہا ہے کہ ادرک اور پیاز کا روزمرہ کی خوراک میں استعمال کینسر کی مختلف اقسام کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ میرائیونیگری انسٹی ٹیوٹ آف فارما کالوجی کے زیر اہتمام ہونے والی اس تحقیق کو سوئیزر لینڈ میں جب دوبارہ تجزیہ کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ادرک اور پیاز کینسر کے مرض کی شدت کو قابو میں رکھنے میں مددگارثابت ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں مریضوں کی طرز زندگی، جسمانی سرگرمیوں، کھانے پینے کی عادات کو بھی شامل کیاگیا تھا۔ مشرقی ممالک میں ادرک اور پیاز کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اس تحقیق میں مشرقی غذاؤں کا بھی تجزیہ کیا گیا تھا۔طبی ماہرین نے ان دونوں سبزیوں میں پائے جانے والے کیمیکل اجزاء ”سلفرکمپاؤنڈ“ کو بعد ازاں جانوروں پر ایک تجربے کے دوران بھی چیک کیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ کیمیکل اجزاء کینسر کو پھیلنے سے روکنے میں مفید ہیں۔ ماہرین نے دونوں سبزیوں کی افادیت کے باعث ان سے سرطان کی نئی ادویات تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسپرین کا استعمال دماغ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، نئی طبی تحقیق

روزانہ اسپرین استعمال کرنے والوں کے دماغ میں جریان خون ہوسکتا ہے، تازہ ترین تحقیق کے حوالے سے روزنامہ ایکسپریس لندن نے یہ خبر دی ہے۔ اخبار کے مطابق ایک ہزار افراد کے دماغ کی سکیننگ سے یہ ظاہر ہوا کہ سپرین استعمال کرنے والوں کے دماغ میں خون رسنے کے واقعات دوسروں کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تھے،اخبار کے مطابق یہ نئی تحقیق دل کے جان لیوا دورے سے محفوظ رہنے کیلئے اسپرین استعمال کرنے والے ہزاروں برطانوی شہریوں کیلئے ایک تشویشناک خبر ہے۔ اسپرین عام طور پرخون کو پتلا رکھنے اور اس میں لوتھڑے بننے سے روکنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ اس سے قبل کی تحقیق میں بتایا گیا تھا خون کے لوتھڑے توڑنے والی دوائیں آنتوں میں جریان خون کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

کسی کا ٹوتھ برش استعمال کرنے سےہیپاٹائٹس سی

جرمنی کی یونیورسٹی آف ریجنس برگ نے کہا ہے کہ ایسا ٹوتھ برش جو دو لوگ استعمال کرتے ہوں اس سے ہیپاٹائٹس سی جیسا موذی مرض لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ بیماری گھر مین ایک دوسرے کا برش استعمال کرنے سے بھی ہو سکتی ہے اس لیے اس سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ جناح ہسپتال کے مشہور ڈینٹل سرجری کے سربراہ ڈاکٹر خالد محمود بٹ نے اتوار کے روز بتایا
کہ جرمنی ریسرچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک دوسرے کا ٹوتھ برش استعمال کرنے سے ہیپاٹائٹس سی کے خطرات بہت حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی لوگوں کے مطابق گھر میں کسی کو ایسی کوئی بیماری نہیں اس لیے ایک دوسرے کا ٹوتھ برش استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے انہوں نے لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ کسی کے زیر استعمال برش کو استعمال کرنے سے گریز کریں جبکہ گھر کے بڑے افراد اور بچے ایک دوسرے کے ٹوتھ برش کو استعمال میں نہ لائیں۔

کاسمیٹکس کا استعمال سرطان کا باعث

ماہر ڈاکٹروں نے سرطان سے متاثرہ خواتین کی بافتوں کا مطالعہ کے بعد پہلی بار پیرابنس کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے اور کینسر کا سبب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حسن و زیبائش کے لیے کاسمیٹکس کا مسلسل استعمال چھاتی کا سرطان پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اور دنیا بھر میں بے شمار خوتین اس میں مبتلا ہو چکی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق مصنوعات کاسمیٹکس کے دیر تک محفوظ کرنے والا کیمیائی مادہ پیرا بنس چھاتی کے سرطان کا سبب بن رہا ہے۔ انٹرنیشنل ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا بھر میں سیمپو ، ماسک، بال بڑھانے والی مصنوعات،
ناخنوں کی کریمیں ، و دیگر مصنوعات میں پیرابنس نامی کیمیکل کے استعمال سے یہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے مزید کہا کہ ہم پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ یہ مادہ جسم میں جذب نہیں ہوتا لیکن طویل تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ناخنوں تک میں جذب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ طبی ماہرین نے یہ پتہ چلایا ہے کہ پیرابنس نامی مادہ 31 ہزار 2 سو سے زائد مختلف کا کاسمیٹکس میں استعمال ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بھی اپنی تحقیق کا رخ اسی سمیت موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بریسٹ کے ساتھ ساتھ جسم انسانی کی دیگر بافتوں اور اعضا کا مطالعہ بھی بہت ضروری ہے ہو سکتا ہے کہ اس مادہ سے بریسٹ کے ساتھ ساتھ دیگر انسانی اعضا کو بھی نقصان پہنچتا ہو۔

دہی کا باقاعدہ استعمال اچھی صحت اور درازی عمر کا سبب بنتا ہے

دہی کو عربی میں ”لبن“ فارسی میں ”ماست“ اور انگریزی میں یوگرٹ  کہتے ہیں ۔ صدیوں سے یہ انسانی خوراک کا حصہ رہا ہے ۔ زمانہ قبل از تاریخ کا انسان بھی گائے‘ بکری‘ بھینس‘ اونٹ اور بھیڑ کے دودھ کو بطور غذا استعمال کیا کرتا تھا۔ ان کے مویشیوں کے دودھ کی مقدار کم ہوتی تھی اس لیے وہ اسے جانوروں کی کھالوں یا کھردرے مٹی کے برتنوں میں جمع کرلیتے تھے تاکہ بہ وقت ضرورت آسانی سے استعمال میں آجائے۔
شروع شروع میں اسے جانوروں سے حاصل کرنے کے بعد اسی طرح کچی حالت میں رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن کچے دودھ کو محفوظ حالت میں رکھنا‘ وہ بھی اس طرح کہ اس کی غذائیت بھی برقرار رہے ناممکن سی بات ثابت ہوئی۔ اس مسئلے کا حل اتفاقی طور پر دریافت ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ جنوب مغربی ایشیا کے وسیع علاقوں میں سفر کرنے والے ”نوماد“ قبیلے والے دودھ کی شکل میں اپنی رسد کو بھیڑ کی کھال سے بنے ہوئے تھیلے میں رکھا کرتے اور اسے اپنے جانوروں کی پیٹھ پر باندھ دیا کرتے تھے۔ ایام سفر میں وہ تھیلے مسلسل ہلتے رہتے اس پر سورج کی تپش بھی اپنا اثر دکھاتی رہتی۔ نتیجتاً ہ دودھ خمیر بن کر نیم ٹھوس شکل اختیار کرلیتا۔ وہ اس بات سے ناواقف تھے کہ بھیڑ کی کھال کے اندرونی حصے میں چھپے ہوئے بیکٹریا نے دودھ کو خمیر کرکے دہی کی شکل دے دی ہے۔

ابتداء میں دودھ کی اس شکل کو بہت کم مقدار میں استعمال کیا جاتا تھا کیوں کہ نو ماد قبیلے والے اسے زہریلا سمجھتے تھے پھر آہستہ آہستہ تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ دودھ کی یہ نئی شکل مضر صحت نہیں معجزاتی غذا ہے ۔ جب اس کی افادیت سامنے آئی تو اسے بنانے کا طریقہ دریافت کیا گیا۔ دودھ کو جمانے کے لیے انہوں نے اس میں تھوڑا سا دہی ملالیا ۔ اس تجربے نے کامیابی عطا کی اور پھر دھیرے دھیرے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ کھٹا اور خمیر کیا ہوا دودھ تازہ دودھ سے بہت زیادہ فائدے مند ہے ۔ یہ نہ صرف زیادہ عرصے تک اچھی حالت میں رہتا ہے بلکہ اس کا ذائقہ بھی مزیدار ہوجاتا ہے۔

بلغاریہ کے لوگوں کی طبعی عمر دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ سائنسدانوں نے مسلسل تجربوں اور تجزیہ کے بعد پتا چلایا کہ اس کی ایک وجہ دہی بھی ہے۔ وہاں کے لوگ دہی کا استعمال بہت زیادہ کرتے ہیں۔

فرانس میں اسے ”حیات جاوداں“ کا نام دیا گیا ہے۔ 1700ء میں فرانس کا کنگ فرسٹ کسی بیماری میں ایسا مبتلا ہوا کہ کوئی علاج کارگر نہیں ہوتا تھا۔ بادشاہ سوکھ کا کانٹا ہوگیا تھا۔ نقاہت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہ بیٹھنے کی قوت بھی کھو چکا تھا۔ اس کے علاج کے لیے مشرق بعید کے ایک معالج کو بلایا گیا۔ اس نے بادشاہ کو صرف دہی کا استعمال کرایا اور کنگ فرسٹ صحت یاب ہوگیا۔

فرانس ہی کے ایک ماہر جراثیم پروفیسر میچسنٹکو لکھتے ہیں کہ دہی درازی عمر کی چابی ہے۔ اس کے استعمال سے نہ صرف انسان بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے بلکہ عمر بھی طویل پاتا ہے۔

Live longer look younger نامی کتاب میں مصنف نے اسے معجزاتی غذا کہا ہے۔

1908ءکے نوبل انعام یافتہ ایلی میٹ ٹنگوف وہ پہلا ماہر تھا جس نے برسوں کی تحقیق کے بعد اس کے خواص پر تحقیق کی اور بتایا کہ یہی وہ غذا ہے جو انسان کو طویل عمرگزارنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

آنتوں کے نظام کے اندر ایک خاص تعداد میں بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جنہیں فلورا کہا جاتا ہے۔ دہی فلورا کی پرورش میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ انٹی بایوٹک ادویات فلورا کو ختم کردیتی ہیں اسی لیے بعض ڈاکٹر صاحبان اینٹی بائیوٹک ادویات کے ساتھ دہی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دہی بیکٹیریا کے انفیکشن کو بھی روکتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق دہی میں پروٹین‘ کیلشیم اور وٹامن بی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ البتہ آئرن اور وٹامن سی اس میں بالکل نہیں ہوتا۔ گائے کے دودھ کے مقابلے میں بھینس کے دودھ سے بنا ہوا دہی زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اس میں چکنائی پروٹین اور دوسرے غذائی اجزاءزیادہ پائے جاتے ہیں۔ دہی کے اوپر جو پانی ہوتا ہے اس میں وٹامن اورمنرلز وغیرہ اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتی ہیں کیوں کہ وہ دودھ کا ہی پانی ہوتا ہے۔ جب دودھ جمتا ہے تو پانی اس کے اوپر آجاتا ہے جسے دہی میں ملالیا جاتا ہے۔

دہی نہ صرف کھانوں کو لذت بخشتا ہے بلکہ غذائیت بھی فراہم کرتا ہے۔ جسم کی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ نہ صرف بہ آسانی ہضم ہوجاتا ہے بلکہ آنتوں کے نظام پر بھی خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔ اسے صحت مند بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس میں چکنائی اور حرارے انتہائی کم مقدار میں ہوتے ہیں۔ ایک کپ دہی کے اندر صرف 120حرارے (کلوریز) پائے جاتے ہیں۔ اتنی کم مقدار میں کلوریز کے حامل دہی میںایسے کئی اقسام کے غذائی اجزاءہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ مثلاً پروٹین‘ مکھن نکلے دودھ سے بنے دہی کے ایک کپ میں 8 گرام پروٹین ہوتی ہے۔ جب کہ خالص دودھ سے بنے دہی کے ایک کپ میں 7 گرام۔ دہی کی اتنی ہی مقدار میں (مکھن نکلے ہوئے دودھ سے بنائے گئے دہی میں) ایک ملی گرام آئرن‘ 294 ملی گرام کیلشیم‘ 270 گرام فاسفورس‘ 50 ملی گرام پوٹاشیم اور 19 ملی گرام سوڈیم پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن اے (A) 170 انٹرنیشنل یونٹ۔ وٹامن بی (B) ایک ملی گرام۔ تھیا مین 44 ملی گرام۔ وٹامن بی (ریبوفلاوین) 2 ملی گرام اور وٹامن سی (ایسکور بک ایسڈ) بھی 2 ملی گرام پایا جاتا ہے۔

ڈائٹنگ کرنے اور وزن کرنے والوں کے لیے دہی ایک آئیڈیل خوراک ہے کیوں کہ اس کے اندر حراروں کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے جس کی مقدار اوپر لکھی جاچکی ہے۔ مندرجہ بالا مقدار میں 13 گرام کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح چکنائی کی مقدار بھی بہت کم ہوتی ہے۔ دہی کے ایک کپ میں 4 گرام چکنائی پائی جاتی ہے۔ جب کہ خالص دودھ سے بنے دہی میں یہ مقدار بڑھ کر 8 گرام ہوجاتی ہے۔

دہی میں ایک خاص قسم کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا ایک خاص درجہ حرارت پر رکھے جانے والے دودھ کے اندر بڑی تیزی سے پیدا ہوکر بڑھتے چلے جاتے اور دودھ کو نصف ٹھوس حالت میں لادیتے ہیں جسے دہی کہا جاتا ہے۔ یہ بیکٹیریا بہت بڑی مقدار میں وٹامن بی مہیا کرتے ہیں جو آنتوں کے نظام کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دودھ کے کھٹا ہوتے ہی لیکٹوز خمیر ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک شفاف مایہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے جسے لیکٹک ایسڈ کہتے ہیں ۔ یہ نظام ہضم کو قوت فراہم کرنے کے علاوہ غذا کو ہضم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وزن کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ دہی کے بیکٹیریا کی زندگی کا انحصار لیکٹوز پر ہے۔ وہی اسے لیٹک ایسڈ میں تبدیل کرتی ہیں۔ لیکٹوز کی خاصیت ہے کہ وہ توانائی کی بڑی مقدار فراہم کرنے کے ساتھ آنتوں کی صحت کا بھی ضامن ہے۔

 

Read More