Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

ایک بہترین مقوی ناشتہ

ایک بہترین مقوی ناشتہ

خالص بیسن (چنے کا آٹا) 50 گرام‘ دیسی یا فارمی انڈے 3 عدد‘ چینی اور دیسی گھی حسب ضرورت۔

ترکیب
بیسن کو گھی میں بریاں کرکے یعنی جب بیسن ہلکا سرخ ہوجائے اور اس کی خوشبو آنے لگے تو چولہے سے اتار کر اس میں انڈے توڑ کر ڈال دیں اور مرک کو اچھی طرح یکجا کرلیں اور پھر دوبارہ چولہے پر رکھ دیں اور چمچ ہلاتے رہیں اور ساتھ ہی حسب ضرورت چینی بھی ڈال دیں یہ مرکب آہستہ آہستہ گاڑھا ہونا شروع ہوجائے گا جب دیکھیں حلوے کے قوام جیسا گاڑھا ہوگیا ہے تو اسے اتار لیں مزید گاڑھا کرنا چاہیں تو کچھ دیر اور چولہے پر رہنے دیں اور تیار ہوجانے پر چولہے سے اتار کر اس میں مغز پستہ 20 گرم‘ مغز اخروٹ 20 گرام مغز چلغوزہ 10 گرام مغز بادام 10 گرام ملادیں مگر یہ یاد رہے کہ ان مغزیات کا استعمال لازمی ہے ۔ دیسی گھی اور دیسی انڈے نہ ملنے کی صورت میں فارمی انڈے اور عام گھی بھی استعمال کرسکتے ہیں اور مرکب کو ہلاتے وقت اس بات کاخاص خیال رکھیں تاکہ جل نہ جائے۔ بہترین مقوی ناشتہ تیار ہے اور ناشتے کے بعد حسب ضرورت چائے یا نیم گرم دودھ پی لیں

سونف ایک جانی پہچانی کارآمد چیز

 
سونف ایک جانی پہچانی کارآمد چیز
سونف ایک جانی پہچانی کارآمد چیز ہے۔ پیٹ کی تکالیف‘ ہاضمے کی خرابیوں وغیرہ میں اسے بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے اس مقصد کے لیے اکثر لوگ پان میں ڈال کر کھاتے ہیں۔ اس سے فائدہ کے لیے ضروری ہے کہ اچھی طرح چباکر اس کا لعاب اور پیک نکل لیا جائے۔ سونف کا سائنسی نام Foeniculum ہے‘ انگریزی میں اسے fennel اور Aniseed بھی کہتے ہیں۔ اس کو فارسی میں بادیان کہتے ہیں۔ سونف کی کاشت کئی ملکوں میں ہوتی ہے۔ قدیم یونانی اس کی بڑی قدر کرتے تھے اور اسے مٹاپے کے علاوہ بیس سے زیادہ مختلف امراض کے لیے مفید قرار دیتے تھے۔ روم کے باشندے بھی اسے خاص طور پر کھانوں کی تیاری اور انہیں زودہضم بنانے کے لیے بہت استعمال کرتے تھے۔ اس کے پتے‘ جڑ اور بیج روٹیوں اور کیک وغیرہ کی تیاری میں شامل کیے جاتے تھے۔ ہمارے ہاں خاص طور پر میٹھی روٹی کی تیاری میں سونف شامل کی جاتی ہے۔ جنگجو اور فوجی اسے بہتر صحت کے لیے زیادہ استعمال کرتے تھے۔ روم میں بھی خواتین اسے موٹاپا کم کرنے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ قدیم رومی اسے بھوک کا احساس کم کرنے کے لیے مفید قرار دیتے تھے۔ قرون وسطیٰ میں سونف کو کھانوں کو خوشبودار بنانے اور کیڑوں وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا تھا۔ خیال تھا کہ اسے شامل کرنے سے باسی کھانے خراب اور مضر ثابت نہیں ہوتے۔ 16 ویں صدی کا ماہر عقاقیر جیرارڈ اسے بینائی بڑھانے کے لیے بہت مفید قرار دیتا تھا، جب کہ دوسرا ماہر عقاقیر کلپیپر سونف کو سانپ یا کھمبی کے زہریلے اثرات دور کرنے کے لیے موثر قرار دیتا تھا۔ سونف (تخم بادیان) جسم کے نرم عضلات کے لیے آرام دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے ہضم کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ سونف خاص طور پر غذا کے روغنی یا چربیلے اجزاءہضم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ چینی معالج لی شین چن (1578) نے اپنی کتاب پین لساﺅ میں اسے خاص طور پر بچوں کے نظام ہضم کے لیے مفید لکھا ہے۔ اس کے مطابق سونف پیٹھ اور دانت کے درد کے لیے بھی مفید ہوتی ہے۔ یورپی ملکوں میں لوگ سونف‘ بابونہ‘ سویا‘ دھنیا اور سنترے کے پوست کے جوشاندے کو ہاضمے کے لیے بہت مفید قرار دیتے ہیں۔ عظیم محقق دیوسقریدوس سونف کی پیشاب آور صلاحیت کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سونف گردے‘ مثانے کا ورم دور کرنے کے لیے بہت موثر ہوتی ہے۔ اسے باقاعدہ استعمال کرتے رہنے سے گردے‘ مثانے میں پتھری نہیں بنتی اور اگر بن بھی گئی ہو تو اس کے استعمال سے خارج ہوجاتی ہے۔ سونف دودھ پلانے والی ماﺅں کے لیے بھی بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے استعمال سے دودھ کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ سونف میں زنانہ ہارمون ایسٹروجن جیسی خاصیت بھی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ خواتین کے لیے بہت موثر ثابت ہوتی ہے۔ س یاس کی تکالیف سے نجات کے لیے اطباءدیگر پیشاب آور دواﺅں کے ساتھ سونف استعمال کراتے ہیں۔ طب یونانی کی مشہور دوا شربت بزوری میں سونف کے بیج اور اس کی جڑ بھی شامل کی جاتی ہے۔ ایک یورپی معالج جان اویلن (1680) نے اپنی کتاب ایسی تاریا میں سونف کی ٹہنیوں کے گودے کو موثر‘ مسکن اور خواب آور قرار دیا ہے۔ طب ہندی کے معالجین کے مطابق سونف کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے اور یہ ہاضمے کے لیے بہت موثر ثابت ہوتی ہے۔ سونف کے چبانے سے ثقیل کھانے آسانی سے ہضم ہوجاتے ہیں۔ سونف معدے کے علاوہ جگر کے لیے بھی مفید ہوتی ہے۔ سینے اور معدے کی جلن کے لیے بھی اس کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے۔ سونف پیشاب آور ہوتی ہے۔ ہم وزن سونف اور گڑ کو پانی میں جوش دے کر نیم گرم پینے سے حیض کی بے قاعدگی دور ہوجاتی ہے۔ دوائی مقاصد کے لیے 5 سے 7 گرام سونف استعمال کرنا چاہیے۔ پیٹ کی ہر قسم کی تکلیف کے لیے پانی کے ساتھ چائے کا ایک چمچہ پسی ہوئی سونف کا استعمال بہت موثر ثابت ہوتا ہے۔ عرق بادیان بچوں کے لیے موثر گرائپ واٹر ثابت ہوتا ہے۔ سونف 100 گرام‘ گاجر کے بیج 50 گرام‘ بادام 50 گرام‘ کالی مرچ 5 گرام اور مصری یا چینی 50 گرام باریک پیس کر صبح و شام ایک ایک چائے کا چمچہ دودھ کے ساتھ کھانے سے آنکھوں کو بڑی تقویت ملتی ہے۔

دواء خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

باجرہ ایک ایسا اناج ہے

باجرہ

 
باجرہ ایک ایسا اناج ہے
باجرہ ایک ایسا اناج ہے ? صحت مندوں کے لیے غذا، بیماروں کے لیے دواقدرت نے اس میں جسمانی قوت کا بیش بہا خزانہ چھپا کر ہمیں بخشا ہے
اللہ تعالیٰ کی بے پناہ نعمتوں میں سے اناج ایک بہت اہم نعمت ہے۔ مختلف اناج ہماری روزمرہ غذا کا ایک اہم حصہ ہیں۔ خدا نے اناج میں ایسی قوت اور صحت بخش اجزاءشامل کئے ہیں کہ انسان کوعام اور سستی غذائوں میں طاقت کا خزانہ مل جاتا ہے۔ یہاں ہم چند طاقتور غذائوں کا ذکر کررہے ہیں جو بظاہر معمولی نوعیت کی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انتہائی طاقتور غذائیں ہیں۔باجرہ -:باجرہ ایک ایسا اناج ہے جو بدن کو بھرپور غذائیت دینے کے ساتھ ساتھ نزلہ زکام بھی دور کردیتا ہے۔ اطباءکی تحقیق کے مطابق اس میں جسم کی چربی کم کرنے اور اعصاب کو طاقت پہنچانے کی خصوصیت موجود ہے۔ عام طور پر اسے غریبوں کا اناج کہا جاتا ہے۔ راجستھان اور خشک علاقوں کا مزدور طبقہ باجرے کی روٹی کھا کر 15سے 16 گھنٹے تک محنت کرتا ہے اور تھکن محسوس نہیں کرتا۔ عام طور پر لوگ بھوک کی کمی، گیس، ضعفِ معدہ جیسے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ کم لیسدار اجزاءوالے اس موٹے اناج کو استعمال کریں تو بدہضمی اور گیس جیسے امراض سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔
باجرے کو مستقل استعمال میں رکھنے سے بدن ہلکا پھلکا رہتا ہے۔ برس ہا برس سے حکیم صاحبان یہ مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ باجرہ کو گڑ، شکر، گھی یا دیگر کھانے کے تیلوں میں ملا کر کھانے سے کمر مضبوط، خون عمدہ، ہاضمہ درست رہتا ہے اور پیٹ کی چربی میں کمی کے ساتھ گیس بھی نہیں بنتی۔
چنا -: اس مشہور غلے میں جسمانی نشوونما کے لیے درکار تمام اجزاءپائے جاتے ہیں۔ اس کا مزاج گرم اور خشک تر ہے۔ چنے کے چھلکوں میں پیشاب لانے کی قدرتی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ بھنے ہوئے چنوں کو چھلکوں سمیت کھانا نزلہ، زکام کے مستقل مریضوں کے لیے بہترین ٹانک ہے۔ گرم خشک تاثیر کی وجہ سے بلغم اور سینے و معدہ کی فاضل رطوبت کو خشک کرتا ہے۔ اسی لیے حکیم بقراط نے چنے کو پھیپھڑوں کے لیے نہایت مفید قرار دیا ہے۔ چنے کو 24گھنٹے بھگونے کے بعد نہار منہ اس کا پانی نتھار کر پی لیا جائے تو یہ جلدی امراض کے لیے مفید ہے۔
خارش اور جلد کی رطوبت کی بیماریوں میں یہ نہایت فائدہ مند ہے۔ بھیگے ہوئے چنے خوب اچھی طرح چبا کر استعمال کرنے سے وزن بڑھتا ہے،یہ خون کو صاف کرتا اور سدھوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ جن جانوروں کی غذا میں چنا شامل ہوتا ہے وہ اچھا دودھ اور بہتر گوشت فراہم کرتے ہیں۔ اس میں موجود نائٹروجن اور ہائیڈروجن کاربن کی خفیف مقدار جانوروں میں چربی پیدا کرکے جسم کی قوت اور حرارت کو مجتمع رکھتی ہے۔
یورپ اور دیگر مغربی و ایشیائی ممالک میں اسے گوشت کا بہترین نعم البدل سمجھا جاتا ہے۔ کچا چنا ”اولہ“ جسے بچے بڑے سبھی شوق سے کھاتے ہیں، وٹامن ”ای“ کی فراہمی اعضائے رئیسہ کی پروداخت اور نسل انسانی کی زرخیزی و توانائی میں معاون ہے۔ یہ وٹامن تازہ دانہ دار گندم، بادام، پستہ، چنے، مٹر اور دیگر پھلوں کے سبز چھلکوں میں پایا جاتا ہے۔
چنے میں موجود وٹامن ”بی“ دل کی کارکردگی بڑھاتا ہے۔ دماغ، جگر، دانتوں اور ہڈیوں کے لیے مفیدہے اور اعصاب گردہ و ہاضمہ کے عمل میں مددگار ہے۔ وٹامن ”بی“ تمام تازہ اناجوں کے چھلکوں اور بیجوں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ چنے کو چھلکوں سمیت استعمال کرنے سے امراض گردہ اور پتھری بننے کے عمل سے نجات مل سکتی ہے۔
مکئی -: مکئی مکو، مکا ایک ہی غذائی جنس کے مختلف نام ہیں جو پاکستان میں سردیوں کے موسم میں عام طور پر پیدا ہوتی ہے۔ نیم پختہ بھٹہ کوئلوں پر بھون کر کھایا جاتا ہے جو نہایت لذیذ اور بھوک کو تسکین دیتا ہے لیکن یہ سیاہ مرچ، نمک، لیموں کے بغیر کھانے سے ذرا دیر میں ہضم ہوتا ہے اور معدہ میں فاسد مادے پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔
پختہ دانہ کی روٹی مہین اور مقوی دماغ ہے۔ اس کی روٹی اس قدر مصفی خون ہے کہ اگر چھ ماہ مسلسل کھائی جائے تو پرانے جذام کا مریض تندرست ہوجاتا ہے۔ اس کا آٹا پانی میں گھول کر رخساروں پر ملنے سے کیل، مہاسے دور ہوجاتے ہیں۔ ہاتھوں میں لگانے سے ہاتھوں کی خشکی اور ہر قسم کی بدبو زائل ہوجاتی ہے لیکن عام طور پر اس کا آٹا انسانی جسم کے تمام اعضاءکے لیے مفید نہیں ہے۔ یہ معدہ میں دیر تک رہتا ہے، جس کی وجہ سے تبخیر کا باعث بنتا ہے۔ اس کی روٹی دودھ، گھی، شکر اور گندم کے آٹے کو ملا کر پکائی جائے تو انسانی جسم کو بہت فائدہ دیتی ہے۔
مکئی کے دانوں کو گھی یا تیل میں بھون کر پاپ کارن کی شکل میں بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ سردیوں میںمکئی کے دانوں یا بھٹے کا استعمال خوب مزہ دیتا ہے۔
جو -: قدیم زمانے سے جو کا استعمال بطور علاج اور قوت بخش غذا میں ہوتا چلا آرہا ہے۔ زمانہ قدیم کے یونانی کھیلوں اور زور آوری کے مقابلوں کی تیاری کے سلسلے میں کھلاڑیوں اور پہلوانوں کو زور آور اور قوی تر بنانے کے لیے ان کی خوراک میں جو کو ایک ضروری جز کے طور پر شامل کیا جاتا تھا۔ جو میں جسم کو توانائی بخشنے والے اجزاءکی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس میں 80فیصد نشاستہ، لحمیات اور فاسفورس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ مغربی ممالک کے اکثر گھرانوں میں بچوں کو دودھ کے ساتھ جو ملا کر دیا جاتا ہے اس طرح بچوں کو اضافی غذائیت کے ساتھ ساتھ توانائی بھی ملتی ہے اور وہ پیٹ کے درد سے محفوظ رہتے ہیں۔ دودھ کو آسانی سے ہضم بھی کرلیتے ہیں۔
جو کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سو بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ خون کے جوش کو کم کرتا ہے۔ بلڈ پریشر کو فائدہ پہنچاتا ہے حدت کوکم کرتا ہے، پیاس بجھاتا ہے، جوڑوں کے درد کو فائدہ پہنچاتا ہے چونکہ زہریلے مادوں کو اخراج کرتا ہے اس لیے مہاسے، چہرے کے دانوں اور اس سلسلے میں دوسری جلدی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ جو گرمی سے نجات دلاتا ہے جسم میں زہریلے مادوں کو خارج کرکے جلد کو نکھارتا ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کو گرمیوں میں کھانے سے قبل یا کھانے کے بعد جو کا ایک گلاس پینے سے بہت حد تک چہرے کے دانوں اور داغوں سے نجات ملنا ممکن ہوسکتی ہے۔
احادیث نبوی سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم کی مرغوب غذائوں میں جو بھی شامل ہے۔ آپ نہ صرف جو کو روٹی، دلیے اور ستو کے طور پر استعمال فرماتے تھے بلکہ بطور علاج بھی جو کے استعمال کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق اہل خانہ میں سے جب کوئی بیمار پڑتا تھا۔ آپ اس کو جو کا دلیہ کھلانے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ ”جو کا استعمال غم اور کمزوری کو اس طرح نکال پھینکتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر میل کچیل صاف کردیتا ہے۔“ جدید تجربات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بیماروں کے لیے سرکار دوعالم کا تجویز کردہ جو کا دلیہ، ستو یا روٹی وغیرہ معدہ،آنتوں اور السر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔
یہ تھا چند اناج کا ذکر جو اپنے اندر قوت کے خزانے سمیٹے ہوئے ہیں اور جنہیں ہم معمولی اور سستے جان کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہماری جسمانی صحت کے لیے ٹانک کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہیں اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل رکھیں اور صحت مند رہیں۔

شہد کے فوائدقرآن وحدیث کے حوالے سے

شہد کے فوائدقرآن وحدیث کے حوالے سے

شہد کا ایک چمچ کھانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لاکھوں پھولوں ،پھلوں ،جڑی بوٹیوں ،معدنیات ،مرکبات،سالٹس اور عناصر کو شہد کے ایک ہی چمچ کے ساتھ اپنے جسم کے اندر انڈیل لیا

اورجب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ( اللہ ) مجھے شفا دیتا ہے

اللہ  فرماتا ہے: اور آپ کے رب نے وحی کی شہد کی مکھی پر کہ توُ پہاڑوں میں گھر بنا لے اور درختوں میں اور عمارتوں میں ،پھر کھا ہر طرح کے پھلوں میں سے ،پھر چل اپنے رب کی راہوں میں جوروشن ہیں ۔ان کے پیٹ میں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کے مختلف قسم کے ﴿بیشمار﴾ رنگ ہیں،جس میں انسانوں کے لئے شفا ہے۔اس میں بہت ساری نشانیاں ﴿فوائد﴾ ہیں ان لوگوں کے لئے جو تفکر ﴿یعنی ریسرچ﴾ کرتے ہیں ،سورۂ نحل 69
شہد کی مکھی کے پیٹ سے مختلف اقسام کی رطوبتیں  اینزائمز نکلتے ہیں ،یہ جوہر بیشمار امراض میں انتہائی مفید ہے۔ انسان سے لاکھوں سال پہلے سے ہی شہد کی مکھی ،شہد بنا رہی ہے۔یہ دنیا کی سب سے قدیم ترین دوااورغذائ ہے۔ اندازہ ہے کہ شہد کی ر یسرچ پر، دنیا کی ہر زبان میں تقریباً دس لاکھ سے زائد کتابیں تحریر ہو چکی ہیں.سائنسدان ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شہد سب سے زیادہ حیرت انگیز اور پُر اسرار چیز ہے،جو لامحدود فوائد کی حامل ہے. شہد کے چھتے میں’’

پولن،رائل جیلی، موم  اور شہد اہم
اجزاء ہوتے ہیں .آسٹریا ،جرمنی ،روس، نیوزی لینڈ، امریکہ،سویڈن ، ناروے کے سائنسدان اب تک دو ہزار ایسے افراد پر ریسرچ کر چکے ہیں جو مکھیاں پالتے تھے یا شہد کے فارموں پر ملازمت کرتے تھے. ریسرچ رپورٹوں کے مطابق کسی کے اندرجوڑوں کے درد، فالج، دل کا مرض،ٹی بی،دمہ،کینسر، بلڈ پریشر، گنٹھیا،اعصاب کی سوزش،اعصابی درد، خون کی کمی ،نظر کی کمزوری، آنتوں کے امراض کے اثرات نہیں پائے گئے . قرآنِ پاک کی ایک سورہ کا نام ’’نحل‘‘ یعنی’’ شہد کی مکھی‘‘ ہے، وحی کی شہد کی مکھی پر، کے مطابق شہد کے اندر  وحی کی نورانیت موجود ہے۔اسی لئے شہد سے نورانیت پیدا ہوتی ہے،ہر قسم کی بیماریاں دورہو جاتی ہے .شہد کی مکھی کی پانچ آنکھیں ہوتی ہیں۔دو کمپاؤنڈ اور تین سادہ۔کمپاؤنڈ آ نکھوںمیں ہر ایک میں چھ ہزار مائکروسکوپک لینز ہوتے ہیں۔ شہد کی مکھی الٹرا وائلٹ روشنیوں کو بھی دیکھ لیتی ہے۔شہد مکھی ہر رنگ اور ہر قسم کے پودوں ،پھولوں اورپھلوں کے رس چوستی ہے اور چھتے میں لاکر جمع کرتی ہے۔ایک مکھی ایک چھتے میں کم و بیش دس ہزار سے زائد پھولوں کے ’’پولن‘‘لاتی ہے۔ایک چھتے میں دس ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک مکھیاں ہوتی ہیں۔اس طرح شہد بنانے کے لئے لاکھوں پھولوں کے پولن ایک ہی چھتے میں جمع ہو جاتے ہیں۔ شہد مکھی الٰہی حکم کے تحت ہر قسم کے پودوں، پھلوں اور پھولوں پر بیٹھتی ہے اور ان کا رس چوس کر لاتی ہے۔اس کی ’’سینسز‘‘ اتنی تیز ہوتی ہیں کہ آدھ کلو میٹر دور سے ہی تندرست اور بیمار زردانوں‘‘ کی خوشبو کوسونگھ لیتی ہے اور ہمیشہ تندرست زردانہ ہی اٹھاتی ہے۔سب سے مشہور  ڈومنا مکھی ہے جو پھولوں کا رس چو سنے کے لئے ستر کلومیٹر دور تک چلی جاتی ہے۔یہ آٹھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ سے اُڑ سکتی ہے۔ فرانسیسی ڈاکٹر  پی۔لیوائی، نے شہد کی مکھیوں کو مار کر ایک سادہ محلول میں ڈالا تومہینوں بعد بھی کسی قسم کی بیماری کا جرثومہ یا تعفن پیدا نہ ہوا۔اس کا مردہ جسم مرنے کے بعد بھی بیماریوں اور جراثیم کو پاس پھٹکنے نہیں دیتا. ایک اور فرانسیسی ’’ڈاکٹربیٹارن، نے بوڑھے لوگوں پر ، رائل جیلی کے انجیکشن استعمال کرائے تو سب کی کمزوری ختم ہوگئی.روسی ڈاکٹر ، کیڈ سیوا، تین سو مریضوں پر تجربات اور ریسرچ کے بعد اس فیصلہ پر پہنچے کہ شہد ہائی اور لو بلڈ پریشر ،دونوں کو نارمل کر دیتا ہے.ڈنمارک میں شہد پر ریسرچ کرنے والے ڈاکٹروں نے جب ’’ٹی بی‘‘ کے جرثوموں کو شہد میں ڈا لا تو کوئی بھی جرثومہ زندہ نہ رہا . یوگوسلاویہ میں کئی برس پہلے ایک ریسرچر ڈاکٹر عثمانیجک نے ریسرچ پیپر میں لکھا تھا کہ انہوں نے شہد کو ہر قسم کے تمام امراض میں سو فیصد نتائج کا حامل پایا ہے، فلیمنگ انسٹی ٹیوٹ فار پنسلین ریسرچ، انگلینڈ کے ’’ڈاکٹر مچل لیکار کے مطابق انسان نے آج تک جتنے بھی اینٹی بائیوٹک اور میڈیسنز دریافت کی ہیں ان میں سے سب سے بہترین پروپولیس ،پولن اور شہد ہے. جبکہ ڈاکٹر عزت عثمانیجک پہلے ہی اسے دنیا کا سب سے بہترین اینٹی بائیوٹک قرار دے چکے تھے. آسٹریا کے ٹاپ ریسرچروں کی بھی یہی متفقہ رائے ہے .ڈھائی ہزار سال قبل جالینوس، پلائینی اور بقراط جیسے بلند پایہ یونانی حکمائ بھی شہد کی افادیت کے قائل تھے۔قدیم چینی اورمصری اقوام لاشوں اور ممیوں کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھنے کے لئے جو مسالہ تیار کی کرتی تھیں وہ شہد اور پروپولیس کا مرکب تھا.یوگو سلاویہ کے  ڈاکٹر میکس کیرن‘‘ کا کہنا ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ شہد سے اچھے نتائج نہ ملے ہوں.ترقی یافتہ ممالک امریکہ، روس،جرمنی ، انگلینڈ، نیوزی لینڈ،بیلجئم،فرانس اور آسٹریا میں شہد سے علاج کی ایک نئی شاخ بھی متعاف کرائی گئی ہے ،جس کو ’’ایپائرن تھراپی‘‘ کا نام دیاگیا ہے روسی ڈاکٹروں نے جب شہد مکھی کے ’’ڈنک ‘‘ پر ریسرچ کی تو معلوم ہوا کہ اس کا ڈ نک بھی زبردست شفائی اثرات رکھتا ہے، بیکٹیریالوجسٹوں نے جب بیماریوں کے جرا ثیم کو شہد میں ڈال کر تجربہ کیا توتمام بیماریوں کے جراثیم نیست و نابود ہوتے دیکھے گئے. ایک جرمن ڈاکٹر ’’زائس‘‘نے بھی سالہاسال کی ریسرچ کے بعد رپورٹ لکھی کہ شہد سب سے اعلیٰ میڈیسن ہے. امریکی ڈاکٹر ’’ ڈی سی جار وِس ‘‘ اپنی کتاب ’’فوک میڈ یسن ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شہد سے بہتر ، کوئی میڈیسن میرے علم میں نہیں ہے۔سابق ہیوی ویٹ ورلڈ چیمپئین باکسرمحمد علی اورماضی کے برطانوی طاقتور انسان ’’جیف سمپسن‘‘ ایک سپیشل طاقتور خوراک پولن اور شہدکھایا کرتے تھے۔ریسرچر اس بات سے بھی متفق ہیں کہ شہد سب سے بہترین سپورٹس میڈیسن بھی ہے۔

شہد کا ایک چمچ کھانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لاکھوں پھولوں ،پھلوں ،جڑی بوٹیوں ،معدنیات ،مرکبات،سالٹس اور عناصر کو شہد کے ایک ہی چمچ کے ساتھ اپنے جسم کے اندر انڈیل لیا،اور یہ کہ تمام طریقہ ہائے علاج کی تمام ادویات سے استفادہ کریں

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

زنابالجبر ایک جُرم ہے

زنابالجبر ایک جُرم ہے
زنا بالجبر کی تعریف

پاکستابن کے قوانین کے مطابق زنا بالجبر کی تعریف یہ ہے: متعلقہ دَو افرداکے درمیان قانونی شادی نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ فرد کی مرضی کے خلاف یا اُس کی رضامندی کے بغیر جنسی ملاپ کرنا؛ یا 16سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ اُس کی رضامندی یا بغیر رضا مندی کی صورت میں جنسی ملاپ کرنا؛ پاکستان میں دَو شادی شُدہ افراد کے درمیان جبری جنسی ملاپ کو زنا بالجبر قرار نہیں دِیا جاتا ہے۔
زنابالجبر جنسی خواہش کی وجہ سے نہیں کیا جاتا بلکہ یہ عمل دُوسرے فرد پر غالب آنے یا اُس پر کنٹرول حاصل کرنے یا ظاہر کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ زنابالجبر کی صورت میں ،جنسی ملاپ کو دُوسرے فرد پر قُوّت اور غلبہ حاصل کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ زنابالجبر ایک جُرم ہے۔یہ کسی بھی صورت میں متاثرہ فرد کا قصور نہیں ہوتا۔ زنابالجبر سے متاثرہ فرد کو شدید ذہنی صدمہ ہوتا ہے اور اُسے اس مشکل وقت میں اپنے عزیزوں کی جانب سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
زنا بالجبر کی صورت میں متاثرہ فرد کو کیا کرنا چاہئے
* فوری طور پر طبّی مدد حاصل کی جائے خاص طور پر جب مقدّمہ دائر کرنے کااِرادہ ہو۔معائنے میں تاخیر کرنے کی صورت میں زخم ،خراشیں اور کٹاؤ وغیرہ بَھر جاتے ہیں اورمقدّمہ کے لئے مطلوبہ جسمانی ثبوت کمزور ہوجاتے ہیں ۔
* متاثرہ فرد کو معائنے سے پہلے اپنے جسم کی صفائی،غسل،پیشاب یا پاخانے کی حاجت سے فراغت یا اپنے کپڑے تبدیل نہیں کرنا چاہئیں،کیوں کہ مطلوبہ شواہد ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر عدالت میں مقدّمہ چلتا ہے۔
* جُرم کی تفتیش کے لئے ایف آئی آر کامقامی پولیس اِسٹیشن پر اندراج ضروری ہوتا ہے ۔کراچی میںرہنے والے افراد اگر ایف آئی آر کے اندراج میں کوئی دِقّت پائیں تو وہ سی پی ایل سی سے رجوع کر سکتے ہیں جس کا دفتر گورنرسندھ کے سیکریٹریٹ میں واقع ہے ۔اُن کا ٹیلیفون نمبر یہ ہے: 345-222-111
* اگر کوئی اشیاء (مثلأٔ کپڑے )پولیس کو دی جائیں تو ان کی رسید ضرور حاصل کی جائے۔

کس قِسم کا علاج حاصل کیا جائے؟

زنا بالجبر کی صورت میں درجِ ذیل اُمور کو یقینی بنایا جائے:

* حمل سے بچاؤ کے اقدامات: ایمر جنسی کی مانع حمل گولیاں جلد از جلد لینا اہم بات ہے۔ یہ گولیاں جنسی ملاپ ہونے کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر لی جاسکتی ہیںتاہم انہیں ابتدئی چند گھنٹوں کے اندر لے لینا بہتر ہوتا ہے۔ زیادہ تر میڈیکل اِسٹورز پر ،Emkit، Estinor، ECP اور EC جیسی مانع حمل گولیاں دستیاب ہوتی ہیں۔
 حمل کا ٹیسٹ: تولیدی عمر والی تمام خواتین کے لئے حمل کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہوتاہے۔
* جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفکشنز کا ٹیسٹ: اِس بات کا امکان ہوتا ہے کہ زنا بالجبر کے دوران جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفکشنز ہوجائیں۔مثلأٔ کلیمائیڈیا، سوزاک (گنوریا)، ایچ آئی وی اور ہِیپاٹائیٹس وغیرہ۔اِن انفکشنز کے لئے مطلوبہ ٹیسٹ بڑے سرکاری ہسپتالوں پر دستیاب ہیں۔

میڈیکو لیگل معائنے کے لئے کہاں رجوع کیا جائے؟

زنا بالجبر کی صورت میں، مقدّمہ دائر کرنے کا اِرادہ رکھنے والے فرد کو حکومت کے مقرّر کردہ ڈاکٹر سے، جو مقرّرہ سرکاری ہسپتال میں تعینات ہو، اپنا طبّی معائنہ کروانا ہوتا ہے۔ ایسے متاثرہ افرادکا معائنہ کرنے والے شُعبے کو میڈیکو لیگل شُعبہ کہا جاتا ہے۔ میڈیکو لیگل معائنے کے دَو مقاصد ہیں: متاثرہ افراد کو فوری اور بنیادی طبّی سہولت فراہم کرنا اور طبّی شواہد جمع کرنا جن کااستعمال قانونی کارروائی کے دوران کیا جاتا ہے۔

شہر کے بڑے سِول ہسپتالوں میں خاتون میڈیکو لیگل افسر بھی دستیاب ہوتی ہیں۔اگر وہ دستیاب نہ ہوں تو انہیں بُلائے جانے کی درخواست کی جاسکتی ہے تا کہ مطلوبہ معائنہ کیا جا سکے۔

میڈیکو لیگل معائنے کے لئے کسی خط، حوالے یا ایف آئی آر کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ قانون یہ ہے کہ کسی قِسم کے خط یا آیف آئی آرکے بغیر بھی متاثرہ فرد کا میڈیکو لیگل معائنہ کیا جائے۔ درحقیقت میڈیکو لیگل افسراس بات کا پابند ہے کہ قریبی پولیس اِسٹیشن کو اطلاع دے کر ہر قِسم کی معاونت کی جائے۔
معائنے کے دوران کیا ہوتا ہے؟

میڈیکو لیگل افسر ،زنابالجبر کی تصدیق کے لئے ،فُرج یا مقعد کا معائنہ کرتا/کرتی ہے۔متاثرہ فرد کی بیرونی(کٹاؤ ،خراشیں وغیرہ) اور اندرونی (ہڈّی کا ٹُوٹ جانا،خون آنا وغیرہ)چوٹوں اور زخموں کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے، شواہد جمع کئے جاتے ہیں اور ان کا ریکارڈ میں اندراج کیا جاتا ہے۔ زنابالجبر کے واقعے کو کچھ عرصہ گزرنے جانے کی صورت میں ،میڈیکو لیگل مرکز پر حمل کاٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ زنابالجبر کے واقعے کے فوری بعدمیڈیکو لیگل مرکز سے رجوع کرنے کی صورت میں ،حمل کے ٹیسٹ کے لئے چند ہفتوں بعد اسی ہسپتال دُوبارہ جانا ہوتا ہے۔متاثرہ فرد کے خون کا گروپ معلوم کرنے کے لئے مطلوبہ ٹیسٹ کے لئے بھی کہا جا سکتا ہے۔
میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ کیا ہوتا ہے؟

میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ میں معائنے کی تفصیلات کا اندراج ہوتا ہے۔یہ سرٹیفیکیٹ عدالت میں ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لہٰذا ،اِس پر دستخط کرنے سے پہلے اس کی تفصیلات کو غور سے پڑھ لینا چاہئے۔

جِرح کے لئے جمع کئے جانے والے حقائق کی صورت میں ،ان حقائق کے تجزیے سے پہلے حتمی میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیاجاسکتا ۔اس عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔دستیاب ہونے کی صورت میں میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ کی نقل ضرور حاصل کی جائے۔
میڈیکو لیگل معائنہ کروانے میں کیا خرچ آتا ہے؟

یہ معائنہ بِلا معاوضہ کیا جاتا ہے۔البتّہ معائنے کے لئے مطلوبہ اشیاء مثلأٔ دستانے ،کاٹن ،شیشے کی بوتلیں وغیرہ خریدنے کے لئے کہا جاسکتا ہے۔ درجِ ذیل اداروں سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے

War Against Rape (WAR)
Pakistan Women Lawyers’ Association (PAWLA)
Lawyers for Human Rights and Legal Aid (LHRLA)
Marie Stopes Society (MSS)
Sindh AIDS Control Programme Clinic
حوالہ جات

http://www.war.org.pk/rape_event.htm

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘کا ایک پیچیدہ پہلو ہے

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘کا ایک پیچیدہ پہلو ہے

جنسیت

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘کا ایک پیچیدہ پہلو ہے ۔بہت سی صورتوں میں جنسیت ہمیں دُوسرے فرد کے لئے اپنے جذبات کو بھرپور طریقے سے ظاہر کرنے کی قوّت یا ہمّت فراہم کرتی ہے اور یہ ہماری نسل کو جاری رکھنے کے لئے ایک قدرتی محرّک بھی ہے۔ممکن ہے کہ کسی فرد کے لئے محسوس کی جانے والی کشش ہمیشہ جنسی نوعیت کی نہ ہو۔اِس کی وجہ حِس مزاح،شخصیت،’پسند‘، مطابقت، ذہانت بھی ہو سکتی ہے۔ اور جنس اور جنسیت کی حیثیت محض ثانوی ہو۔لہٰذا جنسیت صِرف جنسی ملاپ تک محدود نہیں ہوتی۔اِس کا تعلق ہماری ذات،ہماری اپنے اور دُوسروں کے بارے میں سوچ،ہمارے جسم اور دُوسروں سے ہمارے تعلقات سے ہے۔ ہر فرد کی جنسیت منفرد اور ذاتی ہوتی ہے جو ثقافت،روایات ،معاشرتی تجربات اورذاتی عقائد سے مِل کر تشکیل پاتی ہے۔

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘ کا ایک پیچیدہ پہلو ہے ۔کئی لحاظ سے جنسیت ہمارے لئے اپنے جذبات کا شدّت سے اظہار کرنے کا ایک قوی ذریعہ ہوتی ہے اور یہ نسل کو جاری رکھنے کا ایک قدرتی مُحرّک بھی ہے۔کسی فرد کے لئے کشش محسوس کرنا ہمیشہ جنسی نوعیت پر مبنی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ بلکہ اِس کا سبب حِس مزاح ، شخصیت ، ’پسندیدگی‘ ،ہم آہنگی یا ذہانت بھی ہو سکتی ہے۔جنس یا جنسیت کی اہمیت محض ثانوی ہوسکتی ہے۔
جنسیت بطور انسان ہماری شناخت ہوتی ہے۔ یہ ہمارے جسمانی ،نفسیاتی، معاشرتی جذباتی،رُوحانی پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے۔جوڑوں کے درمیان اُن کے تعلق کی مجموعی بہتری‘‘ میں جنسیت ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔یہ آپس میںپیار کرنے والے جوڑوںکے درمیان ، باہمی تسکین، قُربت اور گرم جوشی حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
جنسی تعلقات کے بارے میں دُرست معلومات حاصل کرنے کے لئے مجھے کیا جاننے کی ضرورت ہے؟

جنسی ملاپ کے بارے میں کچھ معلومات توہمارے ماحول سے آسانی سے حاصل ہوجاتی ہیں۔ بطور نوبالغ جنس سے متعلق سوالات اور اس کے بارے میں غیر واضح خیالات آپ کے ذہن میں اکثر اوقات گردش کرتے رہتے ہیں ،لیکن دُرست معلومات،محفوظ جنسی ملاپ اور بنیادی جنسی حقوق کے بارے میں معلومات ضرورحاصل کی جائیں۔

جنس کے بارے فیصلوں سے آپ کی تعلیم ،طرزِ زندگی، دُوسروں سے تعلقات اور آپ کا خاندان وغیرہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ایسے جنسی فیصلے کیجئے جن سے آپ کو خوشی، اعتماد اور سکون حاصل ہو۔یہ بات جاننا ضروری ہے کہ بطور نوبالغ جنسی تعلقات کے ساتھ خود کے لئے اور اپنے ساتھی کے لئے ذمّہ داری بھی آتی ہے تا کہ انفکشن، غیر مطلوبہ حمل اور جبر سے بچا جا سکے۔

جنسی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ ذاتی فیصلہ ہوتا ہے اور اِس سے متعلق تمام فوائد اور نقصانات پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے۔پاکستان کی ثقافت اور روایات کے مطابق متعلقہ مَرد اور عورت ایک دُوسرے سے شادی کرنے کے بعد ہی جنسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔
کیا جنسی خواہش اور محبت میں کوئی فرق ہوتا ہے؟

محبت اور جنسی ملاپ ایک بات نہیں ۔محبت ایک جذبہ یا احساس ہے۔محبت کی کوئی ایک تعریف نہیں کیوں کہ لفظ ’’محبت‘‘ کے معنیٰ مختف لوگوں کے لئے مختلف ہوتے ہیں۔محبت میں رومانس اور کشش کے احساسات شامل ہوتے ہیں۔ جب کہ جنسی ملاپ کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔
جنسی احساسات کیا ہوتے ہیں؟

جنسی احساسات ، ذہنی خیال آرائی ، اور جنسی خواہش فطری ہوتے ہیں جو زندگی بھر جاری رہتے ہیں۔زندگی کے کسی مرحلے میں جنسی سرگرمی میں شروع کرنا بھی فطری بات ہے ،البتّہ محفوظ رہنا اور خود کے لئے اور اپنے ساتھی کے لئے سکون حاصل کرنااہمیت کی بات ہے ۔
جنسی سرگرمیوں میں درجِ ذیل شامل ہیں
بوسہ لینا (چُومنا)

ہم ایک دُوسرے سے ہر وقت قریب ہوتے رہتے ہیں ،خواہ یہ نانی یا دادی کو ہیلوکہنے کے لئے بوسہ ہو یاساتھی کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ مَس کئے جائیں۔ظاہر ہے ہر بوسہ جنسی نوعیت کا نہیں ہوتالیکن بوسہ جنسی نوعیت کا تجربہ بھی ہو سکتا ہے اور عام طور پرجنسی ساتھیوں کے درمیان بوسہ ہی پہلا عمل ہوتا ہے۔
جنسی مِلاپ:

جنسی مِلاپ دَو افراد کے درمیان قُربت کا سب سے بڑا ممکنہ عمل ہے اور بہت سے لوگوں کے لئے جنسی ملاپ ایک انتہائی پُر مسرّت اور جذباتی تسکین کا ذریعہ ہوتا ہے۔

جنسی مِلاپ مقعد کے راستے (عضو تناسل کو اپنے ساتھی کے پاخانے کی جگہ میںداخل کیا جاتاہے)یا فُرج کے راستے(عضو تناسل کو اپنے ساتھی کی فُرج میں داخل کیا جاتاہے) ۔

مزید یہ کہ جنسی ملاپ صِرف صنف مخالف ہی سے نہیں کیا جاتا بلکہ ہم صنف افراد کے درمیان عضو تناسل کو دُوسرے فرد کی مقعد میں داخل کرنے یا جنسی تحریک دینے کو بھی جنسی مِلاپ کہا جاتا ہے۔
مُنہ کے ذریعے جنسی تحریک

اِس صورت میں اپنے ساتھی کے جنسی اعضاء کو مُنہ کے ذریعے تحریک دی جاتی ہے۔اپنے مُنہ سے ساتھی کے عضوتناسل کو تحریک دینے کو بعض اوقات Fellatio بھی کہا جاتا ہے اوراپنے مُنہ سے ساتھی کے عضوتناسل کو تحریک دینے کو بعض اوقات Cunnilingus بھی کہا جاتا ہے۔

مُنہ کے ذریعے غیر محفوظ طور پر جنسی تحریک دینے میں،جنسی انفکشنزز کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اِس کے معنیٰ یہ ہیں کہ مُنہ کے ذریعے جنسی تحریک دینے میں بھی انفکشن کا خطرہ ہوتا ہے اگرچہ یہ خطرہ جنسی ملاپ کی صورت میں ممکنہ خطرے سے کم ہوتا ہے۔

مُنہ کے ذریعے تحریک دینے کے عمل سے ممکنہ طور پر لاحق ہونے والے چند انفکشنز یہ ہیں: کلیمائیڈیا، سوزاک(گنوریا)،جنسی اعضاء پر ہرپیزاور آتشک۔

مُنہ کے ذریعے تحریک دینے کے عمل میں نسبتأٔ کم لاحق ہونے والے انفکشنز یہ ہیں: ایچ آئی وی، ہیپاٹائیٹس اے،بی اور سی ،جنسی اعضاء پر پھوڑے/پھنسیاں ،اور جنسی اعضاء پرجُوئیں۔
فون کے ذریعے جنسی باتیں کرنا

اِس صورت میں دَو یا زائد افراد ،ٹیلی فون کے ذریعے ،جنسی لحاظ سے واضح بات چیت کرتے ہیں ،خاص طور پر جب ایک ساتھی خود لذّتی یا جنسی خیا ل آرائی کر رہاہو۔فون کے ذریعے جنسی باتیں دَو محبت کرنے والے افراد (جو ایک دُوسرے سے دُور ہوں)کے درمیان بھی ہوتی ہیںاور پیشہ ورانہ طور پر بھی ،ادائیگی کرنے والے کسٹمراور معاوضہ حاصل کرنے والے پیشہ ورکے درمیان۔
بہت سے نیم حکیموں کے اشتہارات نظر آتے ہیں جو جڑی بوٹیوں کے ذریعے جنسی خواہش بڑھانے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔اِس کی حقیقت کیا ہے؟

پاکستان میں بہت سے نیم حکیم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جڑی بوٹیوں کے ذریعے جنسی خواہش بڑھا سکتے ہیں۔ایسے دعووں کی صورت میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے ماہرین سے رجوع کرنا چاہئے یا اِن نسخوں کے بارے مزید مطالعہ کیجئے۔بعض اوقات اِن نسخوں سے جسم کو نقصان پہنچ جاتا ہے ۔
ہم جنسیت کیا ہے؟

ہم جنسیت میں ایک ہی صنف کے دَو افراد ایک دُوسرے کے لئے کشش محسوس کرتے ہیں ہم جنسیت پر عمل کرنے والے افراد کو صنفی شناخت کا مسئلہ نہیں ہوتا۔لہٰذا ایسے افراد ہیجڑوں سے مختلف ہوتے ہیں جو خود کو صنف مخالف کا فرد تصّور کرتے ہیں جب کہ اُن کا جسم اُن کے تصّور سے مختلف صنف کا ہوتا ہے۔

ہم جنسیت پر عمل کرنے والے افراد ،وضع قطع اور ظاہری روّیے کے لحاظ سے صنف مخالف سے جنسی تعلقت رکھنے والے افراد کی طرح ہی ہوتے ہیں۔
صنفی تبدّل کیا ہے؟
اِس صورت میں فرد خود کواپنی پیدائشی صنف کے لحاظ سے ، صنف مخالف کافردتصّور کرتا ہے۔بعض اوقات بچّے کے جنسی اعضاء نمایاں نہیں ہوتے اور اسے ایک صنف کا فرد قرار دے دِیا جاتا ہے اور بعد میں وہ خود کو صنف مخالف کا فرد تصّور کرتا ہے۔پاکستان میں ایسے ا فراد کو عام طور پر ہیجڑے کہا جاتا ہے اور اُن سے معاشرتی طور پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

پیاز ایک طاقت بخش اور ایک سستی سبزی ہے

پیاز ایک طاقت بخش اور ایک سستی سبزی ہے

پیاز کی تاریخ

پیاز
پیاز ایک طاقت بخش اور ایک سستی سبزی ہے اور سالن کے جزو کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ سالن کو گاڑھا کرتا ہے اور اسے ذائقہ دار اور خوشبودار بناتا ہے۔ اس میں وٹامن لوہا اور دیگر قیمتی دھاتیں باکثرت موجود ہیں جو ہمیں بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ پیاز کے متعلق مختلف ادوار میں مختلف آراء رہی ہیں ایک زمانہ ایسا بھی رہا ہے جب کوئی پیاز کو کھانا یا پکانا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ بلکہ اسے بدبودار سبزی سمجھ کر مکمل پرہیز کیا جاتا تھا۔ مگر سائنس دانوں کے تجربات اور اطباء کی کوششوں نے اس نظریہ کو بالکل تندیل کر دیا ہے۔

یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ پیاز میں ایک فرحت بخش خوشبو ہوتی ہے۔ جس سے باورچی خانے کی فضا میں ایک خوشگوار قسم کی مہک پیدا ہو جاتی ہے۔
ایک امریکی کیمیا گر نے دریافت کیا ہے کہ پیاز میں ایک چیز تھیال ڈی فائید پائی جاتی ہے جو جراثیم کش ہوتی ہے۔ اس کا استعمال کم خوابی کو دور کرتا ہے۔ اگر اس کا شوربا نوش کیا جائے تو نیند لانے کے لئے خواب آور گولیوں سے ذیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ حد درجہ فرحت بخش اور مصفی خون بھی ہے۔ اسی وجہ سے فرانس کے تمام ہوٹلوں میں پیاز کا شوربا با کثرت تیار کیا جاتا ہے۔ پیاز اور دودھ مرض استقاء کے لئے شافی علاج تسلیم کیا گیا ہے۔ ایک مرتبہ ایک طبیب نے استقاء کے مریض کو تین روز پیاز کھلوایا جس سے وہ بالکل صحت یاب ھو گیا۔
۱۹۱۲ میں ایک فرانسیسی ڈاکٹر نے” شفائے پیاز” کے نام سے ایک مضمون شائع کیا جس میں اس نے بتایا کہ پیاز استقاء، امراض گردہ اور پائیوریا کے لیے مجرعلاج ھے۔ دوسری جنگ عزیم میں روسی ڈاکٹروں نے محاز جنگ پر زخمی ھونے والے لوگوں کا علاج کچی پیاز سے کیا تھا۔ وہ زخم پر پیاز باندھ دیتے جس سے زخم جلد ہی خشک ھو جاتا تھا اور مریض کو آرام آ جاتا تھا ۔
ماہرین طب کے نزدیک پیاز کو بو سے بعض بیماریوں کے جراثیم ہلاک ھو جاتے ہیں انہوں نے ایک نیا طریق علاج” ٹیوب کلینک” دریافت کیا ھے۔ وہ پیاز اور لہسن کے ست سے بھری ھوئی نلکیاں وقفے وقفے سے مریض کی ناک سے لگا دیتےہیں تاکہ وہ ان سے سانس لے سکے۔ گلے کے غرود، کالی کھانسی، دمہ، پھیپھڑے اور حلق کی دق اور نزلہ وزکام کے لیے یہ طریقہ علاج بہت مفید ثابت ھوا ھے۔
برطانوی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کہا ھے کہ پیاز انجماد خون کے مریضوں کے لیے حیات نو کا پیغام ثابت ھو سکتی ھے اور اس دریافت سے اس جن لیوا بیماری کا علاج ممکن ھو گیا ھے۔ بریٹش ریویو میں شائع ھونے والی رپوٹ میں کہا گیا ھے کہ پیاز خواہ وہ ابلی ھوئی ھو یہ تلی ھوئی خون میں چکتوں کو تحلیل کرنے کی صلاحیت بڑھا دیتی ھے اس سلسلے میں مزید تجربات ھو رھے ہیں۔

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

Read More

ایک عجیب کرشمہ

ایک عجیب کرشمہ

قدرت نے جتنے بھی پھل عطا فرمائے ہیں یہ موسمی تقاضے پورا کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں ، اس طرح آم موسم گرما کا پھل ہے اور موسم گرما میں دھوپ میں باہر نکلنے سے لو لگ جاتی ہے ، لو لگنے کی صورت میں شدید بخار ہو جاتا ہے ، آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں ، لو کے اثر کو ختم کرنے کے لیے کچا آم گرم راکھ میں دبا دیں ، نرم ہونے پر نکال لیں ، اس کا رس لے کر ٹھنڈے پانی میں چینی کے ساتھ ملا کر استعمال کرائیں ، لو لگنے کی صورت میں تریاق کا کام دے گا ۔

* آم کے پتے ، چھال ، گوند ، پھل اور تخم سب دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ آم کا اچار جس قدر پرانا ہو اس کا تیل گنج کے مقام پر لگائیں بال چر میں بھی فائدہ ہو گا ۔

* آم کے درخت کی پتلی ڈالی کی لکڑی سے روزانہ بطور مسواک کرنے سے منہ کی بدبو جاتی رہے گی ۔
Read More

مباشرت ایک تکلیف دہ عمل ہے؟

مباشرت کوئی بری چیز نہیں ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے، جس کی بدولت انسان کی نسل آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

مباشرت کوئی تکلیف دہ چیز بھی نہیں ہے۔ بعض خواتین کو شروع شروع میں مباشرت سے معمولی تکلیف ہو سکتی ہے، مگر چند بار کے ملاپ کے بعد یہ عمل صرف راحت دیتا ہے اور تکلیف کا معمولی احساس بھی باقی نہیں رہتا۔

جن خواتین کو مباشرت تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے اس کی وجہ صرف اور صرف ان کا نفسیاتی طور پر اس عمل کے لئے تیار نہ ہونا ہے۔ کسی سہیلی کی آپ بیتی سن کر پریشان ہو جانا اور مباشرت کے وقت بدن کو ڈھیلا چھوڑنے کی بجائے شدت احساس اور گھبراہٹ میں بدن کا اکڑ جانا دخول میں مشکل پیدا کرتا ہے اور عورت کے لئے تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اگر عورت نارمل احساس کے ساتھ مباشرت کے لئے خود کو تیار رکھے اور دخول کے وقت بدن کو ڈھیلا چھوڑے رکھے تو معمولی تکلیف بھی باقی نہیں رہتی۔

واضح رہے کہ مباشرت کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ یہ نیکی اور صدقہ ہے اور میاں بیوی دونوں کے لئے نہایت تسکین کا باعث ہے

پانچ روگ‘ ایک انوکھا کامیاب علاج مجرب فارمولا

اس ترقی یافتہ دور میں جب جسم کی رگ رگ کو آپ مشین پر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں ۔ آخر کیوں وہی جسم پھر بھی تندرست نہیں ہوتا۔ کتنے مریض ایسے ہیں جو کئی سال علاج کے بعد تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں یا پھر بڑے سے بڑا معالج یہ کہہ کر علاج ختم کر دیتا ہے کہ آپ کو دعا کی ضرورت ہے یا تشخیص میں غلطی ہو گئی تھی۔ زیر نظر ایک ایسے ٹوٹکے اور آسان عمل کی طرف قارئین کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں جو کرنے میں نہایت آسان اور نتیجے میں حیرت انگیز نتائج کا حامل ہے۔ آپ جب اس کی وضاحت اور تفصیلی فوائد پڑھیں گے تو احساس ہو گا واقعی یہ ایک لاجواب تجربہ اور اچھوتی تحقیق ہے۔
(1) ایک صاحب حیران اور پریشان ہیں کہ مجھے کالا یرقان یعنی ہیپا ٹائٹس ہو گیا ہے ‘ کئی رپورٹس کرائیں ہر جگہ کالایرقان ہی نکلا پھر انجکشن لگوائے‘ بڑے مہنگے اور قیمتی انجکشن لگوائے لیکن فائدہ نہ ہوا۔ موصوف کوئی آسان اور بہتر طریقہ کے ذریعے علاج چاہتے تھے کہ میرا علاج ہو جائے ۔ انہیں یہ گھوٹہ استعمال کرنے کو عرض کیا۔ چند ہفتے کے استعمال سے ایسے صحت مند اور گلاب کے پھول کی طرح ہوئے کہ جیسے پہلے کچھ تھا ہی نہیں۔ ہر رپورٹ بالکل نارمل آئی ۔ ملنے والوںمیں سے ایک انسان دوست شخص سے ملاقات ہوئی کہنے لگے میں نے اس گھوٹے والے نسخہ سے اب تک 88 ایسے کالے یرقان کے مریض تندرست ہوتے دیکھے ہیں جو ہر طرف سے بالکل مایوس ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ عام یرقان ہو یا وہ مریض جن کو یرقان معمولی تھا وہ تو بہت جلد تندرست ہو گئے۔ حتیٰ کہ دوسروں کو کہا کہ واقعی یہ نسخہ لاجواب ہے ہر اس مریض کیلئے جسے کالا یرقان ہو یا پھر اس کا کالا یرقان بگڑ گیا ہو‘ حتیٰ کہ تلی کے بڑھنے اور بگڑنے میں فائدہ مند ہے۔ پھر کالے یرقان کی وجہ سے جو جسمانی کمزوری ہو گئی تھی اس میں بھی خاطر خواہ نفع ہوا۔ مسلسل کچھ عرصہ اس کا استعمال ہی آپ
کو سو فیصد فائدہ دے سکتا ہے۔ بس ایک بار آزماکر دیکھیں ۔
(2) تھیلسیمیا یعنی وہ مریض جنہیں ہر ہفتے یا ہر ماہ خون کی بوتل لگتی ہے اور ان کا جسم خود خون بنانے کے قابل نہیں۔ اس مرض کاسوائے خون بنانے کے دنیا میں اور کہیں علاج نہیں ‘ خود مجھے بھی اس کا علم نہیں تھا کہ یہ گھوٹہ اس مرض میں فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ہوا یہ کہ ایک خاتون یہ گھوٹہ اس مرض کے لئے بتاتی تھی او رمیرے سننے میں 3 واقعات ایسے آئے جو بالکل تندرست ہو گئے اور کچھ واقعات ایسے آئے جنہیں فائدہ نہیں ہوا۔ بقول اس خاتون کے جنہیں فائدہ نہیں ہوا انہوں نے اعتماد‘ تسلی اور توجہ سے وہ دوائی یعنی گھوٹہ استعمال نہیں کیا۔ واقعی ایسا ہوا ان میں سے دو چار سے ملا تو انہیں بے یقینی اور بے توجہی کا شکار پایا ۔ پھر یہ گھوٹہ مستقل بے شمار لوگوں کو بتانا شروع کیا۔ جس نے بھی تھیلسیمیا میں اسے آزمایا اسے خوب سے خوب تر فائدہ ہوا اور چند ماہ کے متواتر استعمال سے مریض کو خوب نفع ہوا۔ آج بھی میرے نوٹس میں ایسے مریض ہیں جو ہر ماہ خون لینے کیلئے عاجز آ جاتے تھے ۔ جب انہیں یہ نسخہ یعنی گھوٹہ استعمال کرایا انہیں حیرت انگیز نفع ہوا ‘ بے شمار مائیں اپنے بچوں کی صحت یابی پر دعائیں دے رہی ہیں۔
(3) ٹائیفائیڈ ایک ایسا بخار ہے جو بظاہر ختم ہو جاتا ہے یعنی انٹی بائیوٹک سے دب جاتا ہے لیکن جاتا نہیں۔ پھر یہ کبھی کبھی جسم میں ظاہر ہو جاتا ہے یا ایسے مریض جنہیں کبھی ملیریا ہوا تو وہ بھی جسم میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ دن ڈوبتے ہی جسم میں توڑ پھوڑ شروع ہوکر بخار چڑھ جاتا ہے۔ صبح جسم بالکل تندرست ہوجاتا ہے۔ ایسے کئی نہیں بلکہ ہزاروں لوگ ملے جو پرانے بخار میں مبتلا تھے۔ انہیں گھوٹہ استعمال کرایا کوئی دنوں میں‘ کوئی ہفتوں میں ‘کوئی چند ماہ میں ہمیشہ کیلئے تندرست ہو گئے۔ ایک صاحب اس مرض سے اتنے عاجز آئے سارا دن بیٹھ کر ہائے ہائے کرتے گھر والے عاجز اور تنگ آ گئے۔ ایک بہو تھی وہ روٹھ گئی‘ بیوی پہلے ہی مر گئی تھی اب کوئی روٹی پکا کر دینے والا نہ تھا ۔ انہیں یہی گھوٹہ استعمال کرایا گھر میں سکون آ گیا۔
(4) ٹی بی جتنی پرانی تھی اور ایسے لوگ کہ ٹی بی کا باقاعدہ اٹھارہ ماہ علاج کرایا ‘ کوئٹہ کے قریب ایک جگہ بہت عرصہ داخل رہے لیکن ٹی بی پھر شروع ہو گئی ۔ پھر بیرون ملک چلے گئے۔ بیٹیاں اور دو بیٹے یورپ میں عرصہ دراز سے بلا رہے تھے۔ انہوں نے وہاں علاج کرایا بالکل تندرست ہو گئے چہرہ اور جسم سرخ و سفید ہو گئے لیکن پھر اپنے وطن جہلم پہنچے تو پھر ویسے ہو گئے اور پہلے سے زیادہ بیمار ہو گئے ‘ ہمارے ایک محبت کرنے والے معالج نے انہیں یہی گھوٹہ استعمال کرایا۔ چند ہفتوں کے استعمال سے ایسے صحت یاب ہو ئے کہ آج 6 سال ہو گئے ہیں پھر تکلیف نہیں ہوئی۔
(5)  اب تو ایسے رزلٹ ملے کہ میں خود حیران ہوا کہ اتنے فوائد اس عام سے ٹوٹکے کے ہو سکتے ہیں۔ اب یہی ٹوٹکہ ۔جس جس کو بھی بتایا اور اس نے اعتماد ‘ توجہ‘ دھیان اور خوب مستقل مزاجی سے استعمال کیا۔ خود کئی بڑے بڑے نامور ڈاکٹروں نے استعمال کیا۔ ایک ڈاکٹر کے بقول اس نسخے نے میرے دل کے والو کو کھول دیا۔ ایک پروفیسر ڈاکٹر کے بقول اس گھوٹے نے میرے گردوں کے نظام کو بحال کر دیا۔ میں عرصہ دراز سے گردوں کے فیل ہونے کے مرض میں مبتلا تھا۔ اس کے علاوہ یہ گھوٹہ جوڑوں کے درد‘ بواسیر‘ گیس بادی‘ تبخیر میں نہایت مفید پایا ۔ بس تسلی سے استعمال کریں ‘ تھوڑی محنت کر لیں ‘ زیادہ نفع پائیں۔

ترکیب اور فارمولہ
گلو سبز (ایک بیل جس کے پتے گول پان کی طرح ہوتے ہیں‘ رسے کی طرح درختوں اور دیواروں پر چڑھ جاتی ہے) ایک بالشت کے برابر لے کر اس کے باریک ٹکڑے کر لیں۔ کالی مرچ 21 عدد‘ اجوائن دیسی 10 گرام‘ مغز بادام 21 عدد‘ ریوند خطائی چنے کے برابر ۔ ان سب کو ½ کلو تیز گرم پانی میں رات کو بھگو دیں ۔ صبح باداموں کی سردائی کی طرح چاہیں تو مٹی کی کونڈی میں گھوٹ لیں ورنہ بلینڈر جس میں کیلے وغیرہ کا ملک شیک بناتے ہیں۔ خوب گھوٹ کر مل چھان کر اگر میٹھے کو طبیعت اور صحت اجازت دے تو ڈال کر بالکل چھوٹے چھوٹے گھونٹ پئیں۔ شیک کرتے ہوئے اگر مزید پانی کی ضرورت ہو تو ڈال سکتے ہیں۔ جن علاقوں میں تازہ گلو نہیں ملتی وہاں والے خشک گلو 2 بالشت استعمال کر سکتے ہیں۔ بہرحال فائدہ ضرورہوتا ہے۔ زیادہ فائدے کے حصول کیلئے شام کا بھگویا ہوا صبح گھوٹ کر استعمال کریں اور صبح کا بھگویا ہوا شام کو گھوٹ کر استعمال کریں ۔ اوپر جو ترکیب لکھی ہے یہ ایک وقت کے استعمال کا وزن ہے۔ آپ ایک وقت میں یہ گھوٹہ نہیں پی سکتے تو تھوڑا تھوڑا کر کے بھی سارے دن میں پی سکتے ہیں لیکن صبح نہار منہ جو پیا جائے اس کا نفع زیادہ ہے۔ گرمیوں میں تازہ گھوٹا اور سردیوں میں اس گھوٹے کو گھوٹ چھان کر نیم گرم کر لیں