Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

قوت مردمی کے لئے نقصان دہ غذائیں

 قوت مردمی کے لئے نقصان دہ غذائیں

قوت مردمی کے لئے نقصان دہ غذائیں۔ جو قبض پیدا کریں۔ قبض سے معدہ کا فعل تباہ وبرباد ہو جاتا ہے۔ قبض کی وجہ سے معدے کے بخارات دماغ کو چڑھتے ہیں تو اس سے وہ احساس شہوت مضمحل ہو جاتا ہے۔ جس سے باہ میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے متعلق کوئی اصول مقرر نہیں کیا جا سکتا کہ فلاں غذا یقینا قابض ہے اور فلاں نہیں۔ مختلف انسانوں کے مزاج اور قوت ہاضمہ کی قوتیں مختلف ہیں۔ جو چیزیں طبی اصول کے مطابق قابض شمار کی جاتی ہیں، تجربہ ثابت کرتا ہے کہ بعض لوگوں پر ان کا کوئی قابض اثر نہیں ہوتا پھر ان تمام چیزوں کی تشریح کے لئے ان صفحات میں کوئی گنجائش بھی نہیں ہے جو طبی طور پر قبض پیدا کرنے کی ذمہ دار ٹھہرائی گئی ہیں۔ اس لئے مختصر طور پر اتنا ذہن نشین کر لیجئے کہ کوئی غذا بھی جو کسی انسان کے لئے قابض ثابت ہوتی ہے۔ وہ قابل ترک ہے خواہ وہ کتنے ہی مقوی اثرات کی حامل بتائی جاتی ہو۔ طبی
طور پر چنا اور ارد بہترین مقوی باہ دالیں ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو یہ قبض میں مبتلا کر دیتی ہوں۔ ان کو یہ باوجودمقوی باہ ہونے کے بھی سخت نقصان پہنچائیں گی۔ اس لئے ان کے مقوی باہ فوائد کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی قوت کو برقرار رکھنے کے شائقین کو ان سے نسبتاً کمزور دالیں کھا لینا زیادہ بہتر ہو گا۔

گرم مصالحہ جات
آج کل ہر خواص وعوام کا رجحان طبع چٹپٹی اور مصالحہ دار چیزوں کی طرف بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ اس لئے یہ واضح کر دینا نہایت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ بعض تیز اور مصالحہ دار چیزیں محرک باہ ہوتی ہیں لیکن اصولی طور پر ہر ایک تیز محرک باہ چیز قوت باہ کو نقصان پہنچاتی ہے۔اس اصول کے ماتحت یہ احتیاط رکھنی چاہئے کہ حتی الوسع بہت زیادہ مصالحہ دار اور چٹپٹی چیزوں سے احترازکیا جائے لیکن جہاں باہ کو تحریک دینے کی ضرورت ہو اور کوئی سخت گرم دوانہ کھلائی جا رہی ہو۔ مریض کا مزاج بادی ہو یا بلغمی ہو وہاں گرم مصالحہ نہایت مفید ثابت ہو گا۔

زیرہ باہ کو کمزور کرتا ہے
زیرہ سیاہ وسفید اگرچہ قوت ہاضمہ کے لئے نہایت مفید ہیں لیکن اسکا زیادہ استعمال باہ کےلئے نقصان دہ ہے۔ قوی الباہ شخص اگر زیرہ کو دو تین تولہ کی مقدار میں روزانہ صبح گھوٹ کر پیئے تو دو تین ہفتوں کے بعد ہی کمزوری محسوس کریگالیکن اسکا اثر طبیعت کے مطابق ہوتا ہے۔

دھنیاکا زیادہ استعمال نقصان دہ
خشک دھنیا گرم مصالحہ کا ایک بہت بڑا جزو ہے۔ سبز دھنیا بھی چھونک وغیرہ لگانے کے لئے بہت کثرت سے استعمال میں لایا جاتا ہے لیکن بہت کم لوگ اس راز سے واقف ہیں کہ دھنیا باہ کے لئے از حد مضر ہے۔ سبز دھنیا خشک دھنیے سے بھی زیادہ غیر مفید ہے۔ اگر سبز یا خشک دھنیا ایک یا دو تولہ کی مقدار میں گھوٹ کر پلایا جائے تو اچھے خاصے قوی پیکر مرد کو دو تین ہفتوں میں نامرد بنا دیتا ہے۔

گرم مصالحہ کے اجزا
گرم مصالحہ میں دار چینی، سونٹھ، تیزپات اور بڑی الائچی بہت مفید اجزاہیں۔ دار چینی دماغ کے لئے نہایت اکسیری فوائد رکھتی ہے اور باہ کو ہیجان میں لاتی ہے۔ سونٹھ بھی مرکز تناسل میں تحریک پیدا کرنے کے لئے بے نظیر چیز ہے۔ تیز پات اور بڑی الائچی بھی مقوی باہ اثر رکھتی ہیں۔ ان چیزوں کے دیگر فوائد دانستہ نظر انداز کر دیئے گئے ہیں۔ بعض لوگ گرم مصالحہ میں لونگ بھی شامل کرتے ہیں۔ کوئی شبہ نہیں کہ لونگ ایک مفید جزو ہے لیکن دار چینی، سونٹھ وغیرہ کے ہوتے ہوئے اس بات کی ضرورت نہیں کہ لونگ گرم مصالحہ میں شامل کر کے اس کی تاثیر کو اور بھی زیادہ گرم اور ایک حد تک مضر بنا دیا جائے۔ لونگ کے ایک دو دانے بھی صبح وشام استعمال کرنا گرمی پیدا کر سکتے ہیں لہٰذا میری رائے میں لونگ گرم مصالحہ میں کبھی استعمال نہ کیا جائے۔

لہسن اور پیاز
ہندوئوں کے معزز اور قدیم روش کے پابند گھرانوں میں لہسن اور پیاز کو سخت قابل نفرت سمجھا جاتا ہے۔ یوپی کے بعض برہمن، کھشتری اور بنئے تو ان کے نام سے بھی گھبراتے ہیں بعض گھرانوں میں پیاز استعمال ہوتا ہے لیکن لہسن کو تو چھونا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ ایک سخت غلط فہمی اور طبی اصولوں سے ناواقفیت کا ایک افسوسناک مظاہرہ ہے۔ ہندوئوں کے رشیوں اور منیوں کے بنائے ہوئے آیورویدک گرنتھوں میں لہسن کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لہسن اور پیاز دونوں چیزیں ازحد محرک اور مقوی باہ ہیں۔ کچا پیاز کھانا شائد باہ کے لئے زیادہ مفید ہو لیکن اس کا چھونک لگانا صحت بخش بھی ہے۔ کچے پیاز میں چند ایک تیزابی مادے ایسے ہوتے ہیں جو مضر صحت ہوتے ہیں لیکن پکانے سے ان کی پورے طور پر اصلاح ہوجاتی ہے۔ پیاز کے صحت بخش اور مقوی باہ اثرات زمانہ قدیم سے تسلیم ہوتے چلے آئے ہیں۔ مصر قدیم تہذیب کا گہوارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے اہرام بناتے وقت کارکن کثیر مقدار میں پیاز استعمال کرتے تھے اور اسے جسمانی قوت اور صحت کے لئے نہایت مفید مانتے تھے۔ لہسن پیاز سے بھی زیادہ مقوی باہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے مقوی باہ اثرات نہایت ہی نمایاں اور قابل محسوس ہیں۔ اگر سالم نخود کی دال کو موسم سرما میں چھ ماشہ سے ایک تولہ تک لہسن کا چھونک لگا کر کوئی بلغمی مزاج کا شخص دو تین ہفتے لگاتار استعمال کرتا رہے تو باہ کو اس قدر غیر معمولی تقویت حاصل ہوتی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ آیورویدک فن طب میں ایسے بیسیوں مقوی باہ نسخے درج ہیں۔ جن کا جزو اعظم لہسن ہے۔ لہسن پٹھوں کو از حد قوت دیتا ہے۔ بادی اور بلغمی امراض کا قلع قمع کرتا ہے۔ اس کے اس قدر فوائد ہیں کہ اگر ان کا تفصیل سے بیان کیا جائے تو کئی صفحے درکار ہیں۔ اس لئے صرف اسی قدر لکھنے پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ لہسن اور پیاز کے استعمال کرنے سے منہ سے ناگوار سی بو آتی ہے مگر اس کا علاج نہایت آسان ہے۔ تھوڑا سا قند سیاہ (گڑ) سونف یا ایک الائچی منہ میں رکھ لینے سے بدبو رفع ہو جاتی ہے۔

dry fruit benefits-خشک میوہ جات سردیوں کی خاص غذائیں

 dry fruit benefits-خشک میوہ جات سردیوں کی خاص غذائیں

 dry fruit benefits-خشک میوہ جات سردیوں کی خاص غذائیںخشک میوہ جات سردیوں کی خاص غذائیں سردی کا موسم آتے ہی صندوقوں میں سے سوئٹر  جرسیاں اور گرم گرم لحاف نکلنے شروع ہوجاتے ہیں گرمی کے برعکس سردی کیلئے خاصا اہتمام کیا جاتا ہے، سردی کا موسم بھی بڑا عجیب ہوتا ہے کپکپاتی ٹھنڈی راتوں میں روئی کے موٹے موٹے گدوں میں لیٹ کر چلغوزے اور مونگ پھلیاں ٹھونگنا‘ صبح صبح دانت کٹکٹاتے ہوئے اٹھنا اور ہاتھ منہ دھو کر لرزتے ہوئے ہاتھوں سے ناشتا کرنا وغیرہ ایسے معمولات ہیں جو صرف سردیوں کیلئے ہی مخصوص ہیں۔ گرمی اور سردی کے اثرات ہمارے جسم پر بھی مر تب ہوتے ہیں، فطری ماحول دراصل دو متضاد چیزوں کے خوبصورت امتزاج اور ہم آہنگی سے وجود میں آتا ہے، یہ فطری تضاد اور اس کا بہترین امتزاج ہمارے جسم میں بھی موجود ہے۔ ہمارا جسم واضح طور پر دو حصوں میں منقسم ہے۔ ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں دل کے دو حصے ہیں‘ دو پھیپھڑے دو گردے‘ دو ٹانگیں وغیرہ‘ اسی طرح رات اور دن‘ گرمی اور سر دی بھی اس تضاد کی مثالیں ہیں یہ قدرت کا ایسا فارمولا ہے جس کی مسلسل کشمکش اور ملاپ سے قدرتی ماحول میں رنگینی اور رعنائی پائی جاتی ہے، گرمیوں میں ہمارا نظام ہضم کمزور ہوجاتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دوران خون ہمارے جسم کے بیرونی حصوں کی جانب مائل رہتا ہے یعنی ہاتھ پیروں کی رگوں میں خون زیادہ مقدار میں گردش کرتا ہے تاکہ پسینہ وافر مقدار میں جلد سے خارج ہوتا رہے اور جسم کا اندرونی حصہ ٹھنڈا رہے لیکن جب سردیوں میں جسم بیرونی سرد ماحول سے خودبخود ٹھنڈا رہتا ہے تو ایسی صورت میں جسم کی حرارت کو زیادہ سے زیادہ مقدار میں محفوظ رکھنے کیلئے دوران خون اندرونی اعضا کا رخ کرلیتا ہے اندرونی اعضاءمیں نظام ہضم بنیادی اہمیت کا حامل ہے معدہ‘ آنتیں‘ جگر وغیرہ نظام ہضم کا لازمی حصہ ہیں اندرونی اعضاءمیں دوران خون زیادہ ہوجانے کی وجہ سے نظام ہضم طاقتور ہوجاتا ہے جس کی بدولت ثقیل سے ثقیل چیزیں بھی بخوبی ہضم ہونے لگتی ہیں اور بدن کو طاقت اور توانائی فراہم کرنے لگتی ہیں۔

نظام ہضم کی بیداری
سردی نظام ہضم کی بیداری کا موسم ہے اس موسم میں آپ زیادہ کام کرسکتے ہیں کیونکہ نظام ہضم ہمیں بھرپور توانائی فراہم کرتا ہے جب آپ ہمت کرکے جسم کو حرکت دیتے ہیں تو گرمی کے مقابلے میں زیادہ مستعدی سے کام کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اس موسم میں کی گئی ورزشوں کے اثرات سارا سال جسم کو صحت مند اور توانا رکھتے ہیں اور جسم ٹھوس ہوجاتا ہے جب کہ گرمی کے موسم میں نظام ہضم کمزور ہوجاتا ہے اور جسم ڈھیلا پڑجاتا ہے جب آپ یہ جانتے ہیں کہ سردی کے موسم میں زیادہ محنت مشقت اور دوڑ دھوپ کی جاسکتی ہے تو پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کیسی غذا استعمال کی جائے جوجسم کو مسلسل توانائی فراہم کرتی رہے۔
قدرت آپ کو ہر موسم کے مطابق استعمال کی غذائیں‘ سبزیاں اور پھل خود فراہم کرتی ہے۔ سردی کے موسم میں جتنے پھل بازار میں دستیاب ہوتے ہیں وہ سب ہمارے جسم اور ماحول کی ضروریات کے مطابق ہوتے ہیں۔

وٹامن ای کی اہمیت
موسم سرما میں سردی کی وجہ سے ایسی غذائیں استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جن سے جسم میں حرارت زیادہ مقدار میں پیدا ہو اور اسی کے ساتھ ساتھ مطلوبہ نمکیات اور حیاتین بھی حاصل ہوتے رہیں۔ نمکیات اور حیاتین حاصل کرنے کیلئے دالیں‘ سبزیاں اور گوشت انڈا وغیرہ تو روزمرہ کی غذائیں ہیں لیکن جسم کو اضافی حرارت اور توانائی پہنچانے کیلئے قدرت نے خاص طور پر خشک میوے بھی پیدا کیے ہیں۔ ان میووں میں ہر قسم کی غذائی افادیت موجود ہوتی ہے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان میووں میں اگرچہ تیل وافر مقدار میں ہوتا ہے لیکن یہ جسم میں چربی پیدا نہیں کرتا بلکہ جسم کو ٹھوس رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ان میں ریشے دار اجزا بھی موجود ہوتے ہیں جو آنتوں سے فضلہ خارج کرنے کی تحریک پیدا کرتے ہیں اور قبض ختم کردیتے ہیں۔ یہ حیاتین بڑھاپے کو روکنے کے علاوہ جلد کو ملائم اور خوبصورت رکھتی ہے، ان حیاتین کے قدرتی ذرائع یہ ہیں۔ گندم‘ سلاد‘ آلو‘ بندگوبھی‘ چقندر‘ گاجر‘ بادام‘ اخروٹ‘ پستہ‘ تل‘ خوبانی‘ ناریل‘ مونگ پھلی‘ انڈا‘ مچھلی‘ دودھ، مکھن وغیرہ
مچھلی
مچھلی اگرچہ ایک حیوانی غذا ہے لیکن حیوانی غذاوں کے بالکل برعکس اس میں موجود تیل جسم میں چربی پیدا نہیں کرتا۔پروٹین حاصل کرنے کیلئے مچھلی سے بہترین غذا نہیں ہوسکتی۔ مچھلی مرض سل اور کھانسی نزلے میں مفید ہے۔ کمزور بچے کیلئے مچھلی کا استعمال بہت ضروری ہے۔ سردیوں میں مچھلی ہفتے میں ایک بار ضرور کھانی چاہیے۔

انڈا
دودھ کے بعد انڈا ایک حد تک مکمل غذا ہے، انڈا دراصل پیدا ہونے والے بچے اور اس کی غذا پر مشتمل ہوتا ہے انڈے میں پروٹین کے علاوہ البیومن‘فولاد‘ کیلشیم‘ فاسفورس اور گندھک کے اجزا بھی پائے جاتے ہیں تلا ہوا انڈا دیر میں ہضم ہوتا ہے زیادہ ابالے ہوئے انڈے میں غذائیت بہت کم رہ جاتی ہے‘ اس کے استعمال سے قبض کی شکایت پیدا ہوتی ہے اور آنتوں میں سدے بن جاتے ہیں۔ ہمیشہ ادھ ابلا (ہاف بوائلڈ) انڈا استعمال کریں کیونکہ اس میں زیادہ غذائیت ہوتی ہے۔

اخروٹ
اخروٹ خشک میووں میں نہایت غذائیت بخش میوہ شمار ہوتا ہے، اس کی بھنی ہوئی گری جاڑوں کی کھانسی میں خاص طور پر مفید ہے۔ اس کے استعمال سے دماغ طاقتور ہوجاتا ہے، اخروٹ کو اعتدال سے زیادہ کھانے سے منہ میںچھالے اور حلق میں خراش پیدا ہوجاتی ہے۔

بادام
بادام قوت حافظہ‘ دماغ اور بینائی کیلئے بے حد مفید ہے اس میں حیاتین الف اور ب کے علاوہ روغن اور نشاستہ موجود ہوتا ہے۔ اعصاب کو طاقتور کرتا ہے اور قبض کو ختم کرتا ہے۔

تل
موسم سرما میں بوڑھوں اور بچوں کے مثانے کمزور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بستر پر پیشاب کردیتے ہیں اس شکا یت سے نجات کیلئے تل کے لڈو بہترین غذا اور دوا ہیں۔

چلغوزے
چلغوزے گردے‘ مثانے اور جگر کو طاقت دیتے ہیں‘ اس کے کھانے سے جسم میں گرمی محسوس ہوتی ہے۔

کشمش
کشمش دراصل خشک کیے ہوئے انگور ہیں، چھوٹے انگوروں کو خشک کرکے کشمش تیار کی جاتی ہے جبکہ بڑے انگوروں کو خشک کرکے منقیٰ تیار کیا جاتا ہے،کشمش اور منقیٰ قبض کا بہترین علاج ہے۔ بہت طاقت بخش میوہ ہے۔

مونگ پھلی
مونگ پھلی سستا اور لذیز میوہ ہے، اس میں تیل کافی مقدار میں ہوتا ہے لیکن آپ خواہ کتنی بھی مونگ پھلی کھا جائیں اس کے تیل سے آپ کا وزن نہیں بڑھے گا، اسے خالی پیٹ نہ کھائیں ورنہ بھوک ختم ہوجائیگی، سرما کا موسم صحت بحال کرنے اور جسم کو طاقتور بنانے کا موسم ہوتا ہے میوے جسم کو حرارت اور توناائی فراہم کرتے ہیں انہیں ہر حالت میں اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے، سبزیاں‘ دالیں وغیرہ اپنی روز مرہ خوراک میں شامل رکھیں البتہ حرارت اور توانائی کیلئے یہ میوے ضرور استعمال کریں، اپنے ناشتے میں خشک میوے بھی شامل کریں، سردیوں کے موسم میں دودھ میں شکرڈال کر یا خالص شہد ملا کر پئیں اس معمولی غذائی نسخے کے استعمال سے بہت فائدہ پہنچے گا

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

گرمی کی غذائیں

گرمی کے موسم میں زیادہ پیاس لگتی ہے۔ پسینے کی شکل میں پانی خارج ہوکر جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے مگر جسم کے اندر گرمی کی وجہ سے خون کے دوران میں کمی ہوکر سستی اور کاہلی محسوس ہوتی ہے۔ پانی اور نمک کی جسم کو ضرورت ہے۔ ان کی کمی سے بچے‘ بڑے بوڑھے پریشان ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موسم میں کھیرا‘ ککڑی‘ خربوزہ‘ تربوز‘ ٹماٹر‘ ٹینڈے‘ گھیا‘ بھنڈی‘ تری‘ اروی‘ پالک‘ کچے آم‘ پودینہ اور دھنیا وغیرہ پیدا کرکے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ چھاچھ‘ نمک کی پتلی لسی اور جو کے ستو بھی گرمی سے بچاتے ہیں۔
بھنے ہوئے جو کے ستو گرمی کی شدت کو ختم کرتے ہیں۔ یہ مروجہ مشروبات کا بہتر نعم البدل ہیں۔ ستو پینے سے بھوک بھی نہیں لگے گی اور بار بار پیاس لگنے کی شکایت بھی ختم ہوگی۔ بازار سے جو نہ ملیں تو پرل بار لے کا ڈبہ خریدیئے۔ چھٹانک بھر جو پانی میں ہلکی آنچ پر تقریباً تین پیالی پانی میں پکایئے۔ جو پھٹ جائیں تو اتار کر ٹھنڈا کر لیجیے۔ ایک گلاس جو کا پانی حسب ذائقہ چینی اور تھوڑا سا ٹھنڈا دودھ ملا کر صبح شام پیجئے۔ جو کے دانے چمچے سے کھا لیجیے۔ اس سے آپ کا معدہ ٹھیک رہے گا۔ سینے کی جلن‘ سر کے چکر اور دماغ کی خشکی دور ہوگی۔ پیشاب کی جلن ختم ہوگی۔ یہ ایک بہترین مشروب ہے جو آپ کو گرمی کی شدت سے محفوظ رکھے گا۔ بھنے ہوئے جو کے ستو شکر ملا کر پینے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔کھانے میں آپ روزانہ رائتہ بنایئے۔ ایک پائو گھئے کا چھلکا اتار کر کددوش کر لیجیے۔ اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر ابالیے۔ ٹھنڈا ہونے پر آدھ کلو دہی پھینٹ کر اس میں گھیا ڈالیے۔ نمک‘ مرچ‘ سفید زیرہ اور تھوڑا سا خشک پودینہ ملایئے۔ رائتہ دسترخوان کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح آپ کچی ککڑی اور کھیرے کا رائتہ بھی بنا سکتی ہیں۔ انہیں ابالنے کی ضرورت نہیں۔ ابلے ہوئے بینگن چھلکا اتارنے کے بعد ہاتھ سے مسل کر دہی میں ڈالیں تو بیگن کا رائتہ بن جاتا ہے جو مزیدار ہوتا ہے۔ آپ کے شوہر کو پیاز پسند ہو تو وہ بھی کاٹ کر ڈال سکتی ہیں۔

گرمی کا موسم ہے‘ آپ بازار سے تخم ریحان خریدیے جنہیں عام طور پر تخم ملنگاں کہا جاتا ہے۔ ایک بڑا چمچ تخم ایک بڑے گلاس میں بھگو دیجیے۔ وہ دو تین گھنٹے میں پھول کر سفیدی مائل ہوجائیں گے۔ ان میں ایک گلاس دودھ ملایئے اور برف کوٹ کر ڈالیے۔ چینی ملا کر بچوں کو پلایئے اور خود بھی پیجیے۔ ان سے گرمی کی شدت دور ہوگی۔ ہفتے میں ایک آدھ بار یہ مشروب ضرور پیجیے۔ موسم گرم کی آمد پر گوشت زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ سبزیاں اور تازہ پھل غذا میں شامل کرنا ضروری ہے۔

نبوی صلی اللہ علیہ وسلم غذائیں نبوی صلی اللہ علیہ وسلم شفائیں

امام محمد بن ابوبکر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں ”علم طب ایک قیافہ ہے“ معالج گمان کرتا ہے کہ مریض کو فلاں بیماری ہے اور اس کے لئے فلاں دوا کامیاب ہو گی وہ ان میں سے کسی چیز کے بارے میں بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا جبکہ اس کے مقابلے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم طب اور ان کے معالجات قطعی اور یقینی ہیں کیونکہ ان کے علم کا دارومدار وحی الٰہی پر مبنی ہے جس میں کسی غلطی وناکامی کا کوئی امکان نہیں۔ موجودہ دور میں سائنس نے ترقی کی بے شمار منازل طے کی ہیں لیکن اس کے باوجود اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک مرض کا علاج کیا جائے تو اس دوا سے کئی دوسری بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور فائدے کے بجائے نقصان ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علاج تجویز فرمائے جن سے کسی قسم کے ری ایکشن کا کوئی خطرہ نہیں۔
شہد
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ تعریف شہد کی فرمائی۔ شہد کے متعلق قرآن کریم میں آیات آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہار منہ شہد کا شربت پیتے۔ سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پینے والی چیزوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد سب سے زیادہ پسند تھا“(بخاری)۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر مہینہ میں کم از کم تین دن شہد چاٹ لے اس کو اس مہینہ میں کوئی بڑی بیماری نہ ہو گی“ آیئے! دیکھتے ہیں کہ شہد کے طبی فوائد کیا ہیں؟ شہد جسم سے فاسد مادوں کو نکالتا ہے اور زہریلے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ شہد مثانہ اور گردہ کی پتھری کو توڑ کر نکالتا ہے۔ یرقان، فالج، لقوہ اور امراض سینہ میں مفید ہے۔ شہد جگر کے فعل کو بیدار کرتا ہے۔ عورتوں کیلئے شہد بہترین علاج ہے۔ شہد کو سرکے میں حل کر کے دانتوں پر لگایا جائے تو مسوڑھوں کے ورم دور کرنے کے علاوہ دانتوں کو چمکدار بھی بناتا ہے۔ عرق گلاب میں شہد کو حل کر کے لگانے سے جوئیں مر جاتی ہیں۔ دمہ کے مرض میں نالیوں کی گھٹن کو دور کرنے اور بلغم نکالنے کے لئے گرم پانی میں شہد سے بہتر کوئی دوا نہیں۔ گلے کی سوزش کے لئے گرم پانی میں شہد ملا کر غرارے کرنا مفید ہے۔ نہار منہ اور عصر کے وقت شہد گرم پانی میں ملا کر پینا توانائی مہیا کرتا ہے اور سانس کی نالیوں کے ورم بھی دور کرتا ہے ۔انجیر
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے انجیر سے بھرا تھال آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کھاﺅ“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں کہتا کہ جنت سے ایک کھانا آیا ہے تو میں کہتا یہ انجیر ہے“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجیر کے دو بڑے فائدے بتائے۔ فرمایا (1) یہ بواسیر کو ختم کرتی ہے (2) جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔ انجیر سے جگر اور تلی کو تقویت ملتی ہے۔ نہار منہ کھانے سے پتے اور خون کی نالیوں سے پتھریاں اور سدے باہر نکل جاتے ہیں۔ انجیر پتہ کی سوزش اور پتھری کا بہترین علاج ہے۔ اس سے بھوک بڑھتی ہے۔ سکون آور، دافع سوزش اور ورم ہے۔ ہاضمہ درست کرتی ہے پیٹ کو چھوٹا کرتی ہے۔ اس کا مسلسل استعمال جسم سے زائد چربی گلا کر خارج کر دیتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کا بہترین علاج ہے۔ خشک انجیر توے پر جلا کر اس کی راکھ سے دانتوں پر منجن کیا جائے تو دانتوں سے زنک اور میل کے داغ اتر جاتے ہیں اور مسوڑھوں کی سوزش ختم ہو جاتی ہے۔

زیتون
اللہ علیم وحکیم نے زیتون کے درخت کو مبارک یعنی برکت والا کہا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیتون کو بیشتر بیماریوں کا علاج قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیتون کی تعریف فرمائی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”زیتون کا تیل کھاﺅ اسے لگاﺅ کیونکہ یہ پاک صاف اور مبارک ہے“ زیتون کے بھی بیشمار طبی فوائد ہیں۔ زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے اعضاءکو قوت حاصل ہوتی ہے۔ پٹھوں کا درد جاتا رہتا ہے۔ عرق النساءکا بہترین علاج ہے۔ زیتون کے تیل کو مرہم میں شامل کر کے لگانے سے زخم بھر جاتے ہیں۔ ناسور (ہمیشہ رسنے والا پھوڑا) کو مند مل کرنے میں زیتون سے بڑھ کر کوئی دوا بہتر نہیں۔ زیتون کا تیل تیزابیت کو ختم کرتا ہے اور جھلیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ معدہ میں کینسر یا زخم کی صورت میں زیتون کا تیل شافی علاج ہے۔ خالی پیٹ زیتون کا تیل زخموں پر دوا کا کام کرتے ہوئے معدے کو درست کرتا ہے۔ بدن کی خشکی کو دو ر کرنے اور جلدی امراض مثلاً چنبل اور خشک گنج میں مفید ہے سانس کے ہر قسم کے امراض کا بہترین علاج ہے۔ دمہ کے مرض کا اس سے بہتر کوئی علاج نہیں۔ انفلوئزا اور نمونیہ کیخلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ زیتون کا تیل کلونجی میں ملا کر ناک میں ڈالنا نکسیر کے لئے مفید ہے۔ کھجور کا ذکر قرآن وحدیث میں متعدد بار آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی حضرت رافع بن عمر المزنی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”عجوہ کھجور اور بیت المقدس کی مسجد کے گنبد دونوں جنت سے آئے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوزائیدہ بچوں کے لئے کھجور کی گھٹی پسند فرماتے، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوا میں اسے لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور چبا کر اس کے منہ میں ڈالی، کھجور کے طبی فوائد درج ذیل ہیں۔ کمزوری کو دور کرنے والی قوت بخش غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ قولنج سے محفوظ رکھتی ہے۔ نہار منہ کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ جگر کو زہروں کے اثرات سے بچانے کے لئے اور شراب کے اثر کو زائل کرنے کے لئے کھجور ایک لاجواب تحفہ ہے۔ جگر کی بیماریوں کی بہترین دوا ہے، جگر کو تقویت دیتی ہے اور جگر کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اسہال کو دور کرتی ہے یرقان کا بہترین علاج ہے جسم کو فربہ کرتی ہے کھجور کی جڑیا پتوں کی راکھ سے منجن کرنا دانتوں کے درد میں مفید ہے۔ کھجور کی گٹھلی جلا کر دانتوں پر ملی جائے تو منہ کے تعفن کو دور کرتی ہے۔ دانتوں سے میل اتارتی ہے بہتے خون کو روک لیتی ہے زخم کو جلدی ختم کرتی ہے۔