Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

نبوی صلی اللہ علیہ وسلم غذائیں نبوی صلی اللہ علیہ وسلم شفائیں

امام محمد بن ابوبکر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں ”علم طب ایک قیافہ ہے“ معالج گمان کرتا ہے کہ مریض کو فلاں بیماری ہے اور اس کے لئے فلاں دوا کامیاب ہو گی وہ ان میں سے کسی چیز کے بارے میں بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا جبکہ اس کے مقابلے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم طب اور ان کے معالجات قطعی اور یقینی ہیں کیونکہ ان کے علم کا دارومدار وحی الٰہی پر مبنی ہے جس میں کسی غلطی وناکامی کا کوئی امکان نہیں۔ موجودہ دور میں سائنس نے ترقی کی بے شمار منازل طے کی ہیں لیکن اس کے باوجود اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک مرض کا علاج کیا جائے تو اس دوا سے کئی دوسری بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور فائدے کے بجائے نقصان ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علاج تجویز فرمائے جن سے کسی قسم کے ری ایکشن کا کوئی خطرہ نہیں۔
شہد
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ تعریف شہد کی فرمائی۔ شہد کے متعلق قرآن کریم میں آیات آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہار منہ شہد کا شربت پیتے۔ سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پینے والی چیزوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد سب سے زیادہ پسند تھا“(بخاری)۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر مہینہ میں کم از کم تین دن شہد چاٹ لے اس کو اس مہینہ میں کوئی بڑی بیماری نہ ہو گی“ آیئے! دیکھتے ہیں کہ شہد کے طبی فوائد کیا ہیں؟ شہد جسم سے فاسد مادوں کو نکالتا ہے اور زہریلے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ شہد مثانہ اور گردہ کی پتھری کو توڑ کر نکالتا ہے۔ یرقان، فالج، لقوہ اور امراض سینہ میں مفید ہے۔ شہد جگر کے فعل کو بیدار کرتا ہے۔ عورتوں کیلئے شہد بہترین علاج ہے۔ شہد کو سرکے میں حل کر کے دانتوں پر لگایا جائے تو مسوڑھوں کے ورم دور کرنے کے علاوہ دانتوں کو چمکدار بھی بناتا ہے۔ عرق گلاب میں شہد کو حل کر کے لگانے سے جوئیں مر جاتی ہیں۔ دمہ کے مرض میں نالیوں کی گھٹن کو دور کرنے اور بلغم نکالنے کے لئے گرم پانی میں شہد سے بہتر کوئی دوا نہیں۔ گلے کی سوزش کے لئے گرم پانی میں شہد ملا کر غرارے کرنا مفید ہے۔ نہار منہ اور عصر کے وقت شہد گرم پانی میں ملا کر پینا توانائی مہیا کرتا ہے اور سانس کی نالیوں کے ورم بھی دور کرتا ہے ۔انجیر
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے انجیر سے بھرا تھال آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کھاﺅ“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں کہتا کہ جنت سے ایک کھانا آیا ہے تو میں کہتا یہ انجیر ہے“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجیر کے دو بڑے فائدے بتائے۔ فرمایا (1) یہ بواسیر کو ختم کرتی ہے (2) جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔ انجیر سے جگر اور تلی کو تقویت ملتی ہے۔ نہار منہ کھانے سے پتے اور خون کی نالیوں سے پتھریاں اور سدے باہر نکل جاتے ہیں۔ انجیر پتہ کی سوزش اور پتھری کا بہترین علاج ہے۔ اس سے بھوک بڑھتی ہے۔ سکون آور، دافع سوزش اور ورم ہے۔ ہاضمہ درست کرتی ہے پیٹ کو چھوٹا کرتی ہے۔ اس کا مسلسل استعمال جسم سے زائد چربی گلا کر خارج کر دیتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کا بہترین علاج ہے۔ خشک انجیر توے پر جلا کر اس کی راکھ سے دانتوں پر منجن کیا جائے تو دانتوں سے زنک اور میل کے داغ اتر جاتے ہیں اور مسوڑھوں کی سوزش ختم ہو جاتی ہے۔

زیتون
اللہ علیم وحکیم نے زیتون کے درخت کو مبارک یعنی برکت والا کہا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیتون کو بیشتر بیماریوں کا علاج قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیتون کی تعریف فرمائی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”زیتون کا تیل کھاﺅ اسے لگاﺅ کیونکہ یہ پاک صاف اور مبارک ہے“ زیتون کے بھی بیشمار طبی فوائد ہیں۔ زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے اعضاءکو قوت حاصل ہوتی ہے۔ پٹھوں کا درد جاتا رہتا ہے۔ عرق النساءکا بہترین علاج ہے۔ زیتون کے تیل کو مرہم میں شامل کر کے لگانے سے زخم بھر جاتے ہیں۔ ناسور (ہمیشہ رسنے والا پھوڑا) کو مند مل کرنے میں زیتون سے بڑھ کر کوئی دوا بہتر نہیں۔ زیتون کا تیل تیزابیت کو ختم کرتا ہے اور جھلیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ معدہ میں کینسر یا زخم کی صورت میں زیتون کا تیل شافی علاج ہے۔ خالی پیٹ زیتون کا تیل زخموں پر دوا کا کام کرتے ہوئے معدے کو درست کرتا ہے۔ بدن کی خشکی کو دو ر کرنے اور جلدی امراض مثلاً چنبل اور خشک گنج میں مفید ہے سانس کے ہر قسم کے امراض کا بہترین علاج ہے۔ دمہ کے مرض کا اس سے بہتر کوئی علاج نہیں۔ انفلوئزا اور نمونیہ کیخلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ زیتون کا تیل کلونجی میں ملا کر ناک میں ڈالنا نکسیر کے لئے مفید ہے۔ کھجور کا ذکر قرآن وحدیث میں متعدد بار آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی حضرت رافع بن عمر المزنی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”عجوہ کھجور اور بیت المقدس کی مسجد کے گنبد دونوں جنت سے آئے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوزائیدہ بچوں کے لئے کھجور کی گھٹی پسند فرماتے، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوا میں اسے لیکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور چبا کر اس کے منہ میں ڈالی، کھجور کے طبی فوائد درج ذیل ہیں۔ کمزوری کو دور کرنے والی قوت بخش غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ قولنج سے محفوظ رکھتی ہے۔ نہار منہ کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ جگر کو زہروں کے اثرات سے بچانے کے لئے اور شراب کے اثر کو زائل کرنے کے لئے کھجور ایک لاجواب تحفہ ہے۔ جگر کی بیماریوں کی بہترین دوا ہے، جگر کو تقویت دیتی ہے اور جگر کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اسہال کو دور کرتی ہے یرقان کا بہترین علاج ہے جسم کو فربہ کرتی ہے کھجور کی جڑیا پتوں کی راکھ سے منجن کرنا دانتوں کے درد میں مفید ہے۔ کھجور کی گٹھلی جلا کر دانتوں پر ملی جائے تو منہ کے تعفن کو دور کرتی ہے۔ دانتوں سے میل اتارتی ہے بہتے خون کو روک لیتی ہے زخم کو جلدی ختم کرتی ہے۔