شہد دنیا کی قدیم ترین دواؤں اور غذاؤں میں سے ایک ہے۔
اللہ تعالٰی نے شہد کو “شفاء کا مظہر“ قرار دیا ہے۔ عرصے سے روایت چلی آ رہی ہے کہ دنیا میں اولین سانس لینے کے بعد (مسلمان) بچے کی زبان پہلی بار جس ذائقے سے آشنا ہوتی ہے۔ وہ شہد ہے۔ طبیب بھی نوازئیدہ بچوں کو دودھ کے ساتھ شہد دینے کی تاکید کرتے ہیں۔ تمام اطباء شہد کو بہترعین دوا اور ٹانک تسلیم کرنے پر متفق ہیں گویا شہد کئی بیماریوں کا موثر علاج ہے شوگر کی کمی اور حرکت قلب بند ہو جانے سے روکنے کیلئے شہد اکسیر ہے “برٹش فارما کوبیا“ کے مطابق کھانسی کے بعض شربت شہد سے بنائے جاتے ہیں۔ نہار منہ شہد کھانا یا پینا معدے، جگر، گردوں کی اصلاح کیلئے مفید ہے۔

شہد جسم سے فاسد مادوں کو نکالنے کے علاوہ زہریلے اثرات سے بھی بچاتا ہے۔ جگر کی قوت اور دانتوں کی مظبوطی کیلئے شہد بہترین ٹانک ہے۔ کسی بھی نوعیت کے وبائی مرض میں چند تولہ شہد ٹھنڈے پانی میں ملا کر علی الصبح پینا مفید ہے۔ جلدی امراض میں شہد کی افادیت مسلم ہے۔ شہد استعمال کرنے سے حافظہ عمدہ ہوتا ہے۔ یورپ میں شہد سے مٹھائیاں اور بسکٹ بنتے ہیں۔ افزائش حسن میں شہد کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ بقول “بو علی سینا“ چہرے کی شگفتگی اور ملاحت کو بڑھاپے میں بھی قائم رکھنے کیلئے شید “طلسمی اثرات“ رکھت ہے۔ شہد کھاتے رہنے والے کے چہرے کی کشش و جاذبیت کبھی کم نہیں ہوتی“۔ پس شہد شیر خوار بچوں کی ہی طاقتور غذا نہیں بلکہ شہد کا مسلسل استعمال جسم کے بڑھاپے سے بچاکر طاقت کو بحال رکھتا ہے۔
طبیب بھی نوائیدہ بچوں کو دودھ کے ساتھ شہد دہنے کی تاکید کرتے ہیں۔ تمام اطباء شہد کو بہترین دوا اور ٹانک تسلیم کرنے پر متفق ہیں گویا شہد کئی بیماریوں کا موثر علاج ہے۔

Leave a Reply



  • error: Content is protected !!