بڑی عمر میں اکثر مردوزن کی ہڈیاں اتنی کمزور ہوجاتی ہیں کہ ان کے لیے دو قدم چلنا بھی دشوار ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کی ہڈیوں کی مضبوطی کا راز یہ ہے کہ وہ باقاعدگی سے ایسی غذائیں کھاتے ہیں جن میں کیلشیم اور وٹامن ڈی موجود ہو۔ ہڈیاں مضبوط کرنے میں ان دونوں غذائی عناصر کا بنیادی کردار ہے۔ کیلشیم ہماری ہڈیاں طاقتور بناتا جبکہ وٹامن ڈی کی بدولت کیلشیم انسانی جسم میں بہ سہولت جذب ہوتا ہے۔ یہ وٹامن ہڈیوں کی نشوونما میں بھی سودمند ہے۔
بچوں اور نوجوانوں کو یہ دونوں غذائی عناصر ضرور لینے چاہئیں کیونکہ تب ہڈیاں بڑھ رہی ہوتی ہیں۔ تاہم ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں بھی ان کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر بڑھاپے میں بیشتر مرد و زن ہڈیوں کی ایک بیماری , بوسیدگی استخوان, کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اس بیماری میں ہڈیاں رفتہ رفتہ نہایت کمزور ہوجاتی ہیں۔ تاہم انسان غذائوں یا ادویہ کے ذریعے وافر کیلشیم اور وٹامن ڈی لے، تو ہڈیاں جلد بھربھری نہیں ہوتیں اور یوں ان کے ٹوٹنے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
ماہرین طب کے مطابق 50 سال کی عمر تک مردو زن کو روزانہ 1000 ملی گرام کیلشیم جبکہ 200 عالمی یونٹوں کے وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے مردوزن کے لیے لازم ہے کہ وہ روزانہ 1200 ملی گرام کیلشیم جبکہ 2004 سے 2006 عالمی یونٹ وٹامن ڈی استعمال کریں۔ ذیل میں ایسی غذائوں کا ذکر ہے جن میں دونوں غذائی عناصر وافر مقدار میں ملتے ہیں۔ بازار میں ایسی گولیاں دستیاب ہیں جن میں کیلشیم اور وٹامن ڈی ہوتا ہے، تاہم ڈاکٹر غذائوں میں موجود فطری غذائی عناصر کو ترجیح دیتے ہیں۔
دہی
وٹامن ڈی کے سلسلے میں قباحت یہ ہے کہ وہ بہت کم غذائوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ وٹامن بنیادی طور پر سورج کی روشنی سے حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ کوئی انسان پندرہ بیس منٹ روزانہ دھوپ میں کھڑا ہو، تو اُسے وٹامن ڈی کی مطلوبہ مقدار مل جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں مسئلہ یہ ہے کہ موسم سرما اور برسات کے دوران وہاں اکثر سورج نہیں نکلتا۔ چنانچہ وہاں ایسا دہی سامنے آیا ہے جس میں مصنوعی وٹامن ڈی شامل کیا جاتا ہے۔ چونکہ دہی میں قدرتاً وافر کیلشیم ہوتا ہے، لہٰذا انسانی صحت کے لیے وہ سہ آتشہ بن گیا۔ اس خاص دہی کا صرف ایک پیالہ کیلشیم کی روزانہ 30 فیصد جبکہ وٹامن ڈی کی 20 فیصد ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں عام دستیاب دہی میں کیلشیم تو خاصا ملتا ہے، البتہ وٹامن ڈی کی بہت کم مقدار ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے یہ سوچ کر نہ کھائیے کہ وہ وٹامن ڈی کی مطلوبہ ضرورت پوری کر دے گا۔
دُودھ
دنیا کی تمام غذائوں میں سب سے زیادہ کیلشیم دودھ ہی میں ملتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ صرف ایک گلاس دودھ کیلشیم کی 30 فیصد روزانہ ضرورت پوری کردیتا ہے۔ اگر یہ دودھ چکنائی سے پاک ہو، تو اچھا ہے کہ یوں انسان کو محض 90 حرارے (کیلوریز) ملتے ہیں۔ مغربی ممالک میں اب دودھ میں بھی مصنوعی وٹامن ڈی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ اُسے زیادہ غذائیت بخش بنایا جاسکے۔
پنیر
پنیر دہی سے بھی زیادہ کثیف ہوتا ہے۔ اسی لیے اس میں سب سے زیادہ کیلشیم ہوتا ہے۔ اگر انسان محض 1.5 اونس پنیر کھالے، تو اُسے 30 فیصد کیلشیم مل جاتا ہے لیکن پنیر ہضم کرنا کٹھن مرحلہ ہے، اسی لیے اُسے کثیر مقدار میں کھانے کی کوشش نہ کریں۔ پنیر کی معتدل مقدار ہی فائدہ پہنچاتی ہے۔پنیر میں وٹامن ڈی کی بھی معمولی مقدار ملتی ہے۔ تاہم وہ اس غذائی عنصر کی مطلوبہ ضرورت پوری نہیں کر سکتا۔ لہٰذا وٹامن ڈی کے معاملے میں محض پنیر پر بھروسا مت کریں۔
مچھلی
سالمن، سارڈین اور ٹونا وہ سمندری مچھلیاں ہی جن میں وٹامن ڈی کثیر مقدار میں ملتا ہے، تاہم پاکستانی سمندروں میں یہ مچھلیاں کم ہی ملتی ہیں۔ گو ڈبوں میں دستیاب ہیں لیکن مہنگا ہونے کے باعث امیر لوگ ہی انھیں کھا سکتے ہیں۔ دیگر مچھلیوں میں وٹامن ڈی اتنا زیادہ نہیں پایا جاتا۔
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں
Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Customer Service (Pakistan) +92-313-99-77-999
Helpline+92–30-40-50-60-70
Customer Service (UAE)+971-5095-45517
E-Mailinfo@alshifaherbal.com
Dr. Hakeem Muhammad Irfan Skype IDalshifa.herbal

Leave a Reply



  • error: Content is protected !!