اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ “اے ایمان والو! بیشک شراب اور جوا اور بت اور پانسے یہ سب گندے کام ہیں شیطان کے سوان سے بشتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدہ 90)
جب بھی قرآن و حدیث کے حوالے سے نشے کی بات آتی ہے تو نشے سے مراد شراب لی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن مندرجہ بالاحکم صرف شراب سے متعلق نہیں اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو نشہ طاری کرتی ہے ذیل کی حدیث نشے کی وسعت واضح کرتی ہے۔
چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہے ہر وہ چیز خمر کے زمرے میں آتی ہے جو نشہ آور ہو اور وہ حرام ہے ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو۔ (جامع صغیر)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک جمعہ کے خطبے میں خمر کے معنی کسی چیز کو ڈھانپ دینا یا پردہ ڈال دینا، اور خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈالتی ہے۔ یہی تو نشہ ہوتا ہے کہ عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور نیک و بد کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ان دو آیات (سورۃ المائدہ 91/90) میں شراب اور جوئے سے متعلق حتمی حکم آیا ہے کہ یہ حرام ہیں اور شیطانی کام ہیں ان دو آیات کے علاوہ اور بھی احکام آئے ہیں یہاں تک تو بات ہوئی شراب کی، جب بات ہوتی ہے نشے کی تو اس میں بھنگ، چرس، افیون، ہیروئن اور ہر وہ چیز جو نشے کی خاطر کھائی یا پی لی جاتی ہے۔
نشہ کی اس سے بھی زیادہ اصطلاح ہے نشہ دولت کا بھی ہوتا ہے۔ اونچے رتبے اور جاگیرداری کا بھی نشہ ہے اور بعض نادان کسی خوبرو عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات بنا کر اپنے آپ پر اسے نشے کی طرح طاری کر لیتے ہیں ان میں سے کوئی بھی نشہ ہو جائے وہ عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے، دولت رتبے اور جاگیرداری کا نشہ انسان میں شیطانی عادات پیدا کر دیتا ہے اور عورت کا نشہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرواتا ہے۔
اب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ایک پیش گوئی ملاحظہ فرمائیں۔
میرے بعد میری امت شراب نوشی کرے گی ان کے اپنے امراء (حکام اور لیڈر) شراب نوشی میں ان کے معاون اور مددگار ہوں گے۔ (ابن عساکر)
آہ! آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں حدیث میں بھی لفظ خمر فرمایا گیا ہے جس میں شراب ہی نہیں بلکہ تمام منشی اشیاء شامل ہیں۔
اب یہ جاننا انتہائی ضرروی ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے کون سی محرومی یا کون سا فائدہ ہے جو انسان سے حیوان اور معاشرے سے علیحدہ کر دیتا ہے۔

Leave a Reply



  • error: Content is protected !!