اورجب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ ( اللہ ) مجھے شفا دیتا ہے

کلونجی کے فوائد

آج کی مشینی زندگی اور جدید لوازمات نے انسان کو اعصابی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا ہے ہر دوسرا شخص اعصابی دبائو اور تنائو میں مبتلا ہے ایسے لوگ کلونجی کے چند دانے روزانہ شہد کے ساتھ استعمال کریں چند دنوں میں بہتر ی محسوس کریں گے۔ پیٹ اور معدہ کے امراض‘ پھیپھڑوں کی تکالیف خصوصاً دمہ کے مرض میں کلونجی بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سوتے وقت استعمال کرنا مفید ہے۔ بعض اوقات کلونجی اور قسط شیریں برابر مقدار میں لیکر سفوف بنا کر صبح و شام خالی پیٹ استعمال کروایا جائے (شہد کے ساتھ ملا کر) یہ نسخہ پرانی پیچش میں مفید ہے جن لوگوں کو ہچکیاں آتی ہوں وہ کلونجی کا سفوف تین گرام مکھن (گھر کا بنا ہوا) ایک چمچہ ملا کر استعمال کریں تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ جو خواتین بچوں کو اپنا دودھ پلارہی ہوں انہیں چاہیے کہ کلونجی کا استعمال کریں کیونکہ دودھ کی کمی سے بچہ بھوکا رہ

جاتا ہے اس کیلئے کلونجی کے چھ یا سات دانے نہار منہ اور رات سوتے وقت دودھ کے ساتھ کھالیے جائیں تو دودھ کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔البتہ حاملہ خواتین کو کلونجی کا استعمال پیس کر کرنا چاہیے جن خواتین کو ماہانہ ایام کی کمی ہو یا تکلیف ہو اور جن کو پیشاب کم یا تکلیف سے آتا ہو وہ تین گرام کلونجی کا سفوف روزانہ استعمال کریں۔ کلونجی سے نکلنے والا تیل دو قسم کا ہوتا ہے ایک سیاہ رنگ میں خوشبودار ہوا میں اٹھنے سے اڑنے لگتے ہیںاور دوسری قسم ارنڈی کے تیل جیسا دوائی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ تیل بیرونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے جلدی امراض میں مفید ہے۔ یہ تیل بال خورہ کی شکایت میں بہت مفید ہے۔ بال خورہ میں بال اڑ جاتے ہیں اور دائرے کی صورت میں نشان رہ جاتا ہے۔ یہ دائرہ دن بدن بڑھتا ہے اور عجیب ناخوشگواری کا احساس ہوتا ہے۔

یہ تیل گنج کو دور کرنے اور بال اگانے میں بہت مفید ہے۔ اس کے استعمال سے بال جلد سفید نہیں ہوتے اور مختلف طریقوں سے اسے داد اور ایگزیما میں استعمال کیا جاتا ہے جسم کا کوئی حصہ بے جان ہوجائے تو بہت مفید ہے۔ کان کے ورم اور نسیان میں فائدہ مند ہے۔ کیمیا دانوں نے کلونجی پر تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ اس میں ضروری روغن پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ ونگیلن، الیوسن،ٹے نین، رال دارمادے، گلوکوز، سایونین اور نامیاتی تیزاب بھی پائے جاتے ہیں جوکئی امراض میں موثر ہیں۔ کلونجی کے استعمال سے ذیابیطس کے مرض میں کمی ہوتی ہے۔ کلونجی کے سات دانے گن کر صبح نگل لینا‘ ذیابیطس کو کم کرتا ہے۔

کلونجی کو مختلف طریقوں سے زہر کے علاج کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بھڑ اور پاگل کتے کے کاٹنے پر کلونجی کا استعمال کریں۔ کلونجی میں ورموں کو تحلیل کرنے اور گلٹیوں کو گھلانے کی بھی صفت ہے۔ برص ہٹیلا مرض ہے اس کے سفید داغ جسم کو بدصورت بنادیتے ہیں۔ کلونجی اور ہالون برابر مقدار میں لے کر توے پر بھون کر تھوڑا سا سرکہ ملا کر مرہم بنا کر مسلسل تین یا چار ماہ داغوں پر لگائیں تو ساتھ کلونجی اور ہالون کا باریک سفوف شہد کے ساتھ نہار منہ کھائیں تو جلد فائدہ ہوگا۔ کلونجی کی دھونی سے گھر میں پائے جانے والے کیڑے مکوڑے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ کلونجی کو قیمتی کپڑوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ کیڑوں سے محفوظ رہیں سب فوائد کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ طویل عرصہ تک اور زیادہ مقدار میں اس کا استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس میں چند مادے ایسے ہیں جو صحت کیلئے مضر ہوسکتے ہیں البتہ وقفہ دے کر پھر استعمال میں لانا مفید ہے ویسے بھی اعتدال ہی مناسب راہ عمل ہے,کلونجی

Share