Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘کا ایک پیچیدہ پہلو ہے

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘کا ایک پیچیدہ پہلو ہے

جنسیت

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘کا ایک پیچیدہ پہلو ہے ۔بہت سی صورتوں میں جنسیت ہمیں دُوسرے فرد کے لئے اپنے جذبات کو بھرپور طریقے سے ظاہر کرنے کی قوّت یا ہمّت فراہم کرتی ہے اور یہ ہماری نسل کو جاری رکھنے کے لئے ایک قدرتی محرّک بھی ہے۔ممکن ہے کہ کسی فرد کے لئے محسوس کی جانے والی کشش ہمیشہ جنسی نوعیت کی نہ ہو۔اِس کی وجہ حِس مزاح،شخصیت،’پسند‘، مطابقت، ذہانت بھی ہو سکتی ہے۔ اور جنس اور جنسیت کی حیثیت محض ثانوی ہو۔لہٰذا جنسیت صِرف جنسی ملاپ تک محدود نہیں ہوتی۔اِس کا تعلق ہماری ذات،ہماری اپنے اور دُوسروں کے بارے میں سوچ،ہمارے جسم اور دُوسروں سے ہمارے تعلقات سے ہے۔ ہر فرد کی جنسیت منفرد اور ذاتی ہوتی ہے جو ثقافت،روایات ،معاشرتی تجربات اورذاتی عقائد سے مِل کر تشکیل پاتی ہے۔

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘ کا ایک پیچیدہ پہلو ہے ۔کئی لحاظ سے جنسیت ہمارے لئے اپنے جذبات کا شدّت سے اظہار کرنے کا ایک قوی ذریعہ ہوتی ہے اور یہ نسل کو جاری رکھنے کا ایک قدرتی مُحرّک بھی ہے۔کسی فرد کے لئے کشش محسوس کرنا ہمیشہ جنسی نوعیت پر مبنی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ بلکہ اِس کا سبب حِس مزاح ، شخصیت ، ’پسندیدگی‘ ،ہم آہنگی یا ذہانت بھی ہو سکتی ہے۔جنس یا جنسیت کی اہمیت محض ثانوی ہوسکتی ہے۔
جنسیت بطور انسان ہماری شناخت ہوتی ہے۔ یہ ہمارے جسمانی ،نفسیاتی، معاشرتی جذباتی،رُوحانی پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے۔جوڑوں کے درمیان اُن کے تعلق کی مجموعی بہتری‘‘ میں جنسیت ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔یہ آپس میںپیار کرنے والے جوڑوںکے درمیان ، باہمی تسکین، قُربت اور گرم جوشی حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
جنسی تعلقات کے بارے میں دُرست معلومات حاصل کرنے کے لئے مجھے کیا جاننے کی ضرورت ہے؟

جنسی ملاپ کے بارے میں کچھ معلومات توہمارے ماحول سے آسانی سے حاصل ہوجاتی ہیں۔ بطور نوبالغ جنس سے متعلق سوالات اور اس کے بارے میں غیر واضح خیالات آپ کے ذہن میں اکثر اوقات گردش کرتے رہتے ہیں ،لیکن دُرست معلومات،محفوظ جنسی ملاپ اور بنیادی جنسی حقوق کے بارے میں معلومات ضرورحاصل کی جائیں۔

جنس کے بارے فیصلوں سے آپ کی تعلیم ،طرزِ زندگی، دُوسروں سے تعلقات اور آپ کا خاندان وغیرہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ایسے جنسی فیصلے کیجئے جن سے آپ کو خوشی، اعتماد اور سکون حاصل ہو۔یہ بات جاننا ضروری ہے کہ بطور نوبالغ جنسی تعلقات کے ساتھ خود کے لئے اور اپنے ساتھی کے لئے ذمّہ داری بھی آتی ہے تا کہ انفکشن، غیر مطلوبہ حمل اور جبر سے بچا جا سکے۔

جنسی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ ذاتی فیصلہ ہوتا ہے اور اِس سے متعلق تمام فوائد اور نقصانات پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے۔پاکستان کی ثقافت اور روایات کے مطابق متعلقہ مَرد اور عورت ایک دُوسرے سے شادی کرنے کے بعد ہی جنسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔
کیا جنسی خواہش اور محبت میں کوئی فرق ہوتا ہے؟

محبت اور جنسی ملاپ ایک بات نہیں ۔محبت ایک جذبہ یا احساس ہے۔محبت کی کوئی ایک تعریف نہیں کیوں کہ لفظ ’’محبت‘‘ کے معنیٰ مختف لوگوں کے لئے مختلف ہوتے ہیں۔محبت میں رومانس اور کشش کے احساسات شامل ہوتے ہیں۔ جب کہ جنسی ملاپ کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔
جنسی احساسات کیا ہوتے ہیں؟

جنسی احساسات ، ذہنی خیال آرائی ، اور جنسی خواہش فطری ہوتے ہیں جو زندگی بھر جاری رہتے ہیں۔زندگی کے کسی مرحلے میں جنسی سرگرمی میں شروع کرنا بھی فطری بات ہے ،البتّہ محفوظ رہنا اور خود کے لئے اور اپنے ساتھی کے لئے سکون حاصل کرنااہمیت کی بات ہے ۔
جنسی سرگرمیوں میں درجِ ذیل شامل ہیں
بوسہ لینا (چُومنا)

ہم ایک دُوسرے سے ہر وقت قریب ہوتے رہتے ہیں ،خواہ یہ نانی یا دادی کو ہیلوکہنے کے لئے بوسہ ہو یاساتھی کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ مَس کئے جائیں۔ظاہر ہے ہر بوسہ جنسی نوعیت کا نہیں ہوتالیکن بوسہ جنسی نوعیت کا تجربہ بھی ہو سکتا ہے اور عام طور پرجنسی ساتھیوں کے درمیان بوسہ ہی پہلا عمل ہوتا ہے۔
جنسی مِلاپ:

جنسی مِلاپ دَو افراد کے درمیان قُربت کا سب سے بڑا ممکنہ عمل ہے اور بہت سے لوگوں کے لئے جنسی ملاپ ایک انتہائی پُر مسرّت اور جذباتی تسکین کا ذریعہ ہوتا ہے۔

جنسی مِلاپ مقعد کے راستے (عضو تناسل کو اپنے ساتھی کے پاخانے کی جگہ میںداخل کیا جاتاہے)یا فُرج کے راستے(عضو تناسل کو اپنے ساتھی کی فُرج میں داخل کیا جاتاہے) ۔

مزید یہ کہ جنسی ملاپ صِرف صنف مخالف ہی سے نہیں کیا جاتا بلکہ ہم صنف افراد کے درمیان عضو تناسل کو دُوسرے فرد کی مقعد میں داخل کرنے یا جنسی تحریک دینے کو بھی جنسی مِلاپ کہا جاتا ہے۔
مُنہ کے ذریعے جنسی تحریک

اِس صورت میں اپنے ساتھی کے جنسی اعضاء کو مُنہ کے ذریعے تحریک دی جاتی ہے۔اپنے مُنہ سے ساتھی کے عضوتناسل کو تحریک دینے کو بعض اوقات Fellatio بھی کہا جاتا ہے اوراپنے مُنہ سے ساتھی کے عضوتناسل کو تحریک دینے کو بعض اوقات Cunnilingus بھی کہا جاتا ہے۔

مُنہ کے ذریعے غیر محفوظ طور پر جنسی تحریک دینے میں،جنسی انفکشنزز کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اِس کے معنیٰ یہ ہیں کہ مُنہ کے ذریعے جنسی تحریک دینے میں بھی انفکشن کا خطرہ ہوتا ہے اگرچہ یہ خطرہ جنسی ملاپ کی صورت میں ممکنہ خطرے سے کم ہوتا ہے۔

مُنہ کے ذریعے تحریک دینے کے عمل سے ممکنہ طور پر لاحق ہونے والے چند انفکشنز یہ ہیں: کلیمائیڈیا، سوزاک(گنوریا)،جنسی اعضاء پر ہرپیزاور آتشک۔

مُنہ کے ذریعے تحریک دینے کے عمل میں نسبتأٔ کم لاحق ہونے والے انفکشنز یہ ہیں: ایچ آئی وی، ہیپاٹائیٹس اے،بی اور سی ،جنسی اعضاء پر پھوڑے/پھنسیاں ،اور جنسی اعضاء پرجُوئیں۔
فون کے ذریعے جنسی باتیں کرنا

اِس صورت میں دَو یا زائد افراد ،ٹیلی فون کے ذریعے ،جنسی لحاظ سے واضح بات چیت کرتے ہیں ،خاص طور پر جب ایک ساتھی خود لذّتی یا جنسی خیا ل آرائی کر رہاہو۔فون کے ذریعے جنسی باتیں دَو محبت کرنے والے افراد (جو ایک دُوسرے سے دُور ہوں)کے درمیان بھی ہوتی ہیںاور پیشہ ورانہ طور پر بھی ،ادائیگی کرنے والے کسٹمراور معاوضہ حاصل کرنے والے پیشہ ورکے درمیان۔
بہت سے نیم حکیموں کے اشتہارات نظر آتے ہیں جو جڑی بوٹیوں کے ذریعے جنسی خواہش بڑھانے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔اِس کی حقیقت کیا ہے؟

پاکستان میں بہت سے نیم حکیم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جڑی بوٹیوں کے ذریعے جنسی خواہش بڑھا سکتے ہیں۔ایسے دعووں کی صورت میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے ماہرین سے رجوع کرنا چاہئے یا اِن نسخوں کے بارے مزید مطالعہ کیجئے۔بعض اوقات اِن نسخوں سے جسم کو نقصان پہنچ جاتا ہے ۔
ہم جنسیت کیا ہے؟

ہم جنسیت میں ایک ہی صنف کے دَو افراد ایک دُوسرے کے لئے کشش محسوس کرتے ہیں ہم جنسیت پر عمل کرنے والے افراد کو صنفی شناخت کا مسئلہ نہیں ہوتا۔لہٰذا ایسے افراد ہیجڑوں سے مختلف ہوتے ہیں جو خود کو صنف مخالف کا فرد تصّور کرتے ہیں جب کہ اُن کا جسم اُن کے تصّور سے مختلف صنف کا ہوتا ہے۔

ہم جنسیت پر عمل کرنے والے افراد ،وضع قطع اور ظاہری روّیے کے لحاظ سے صنف مخالف سے جنسی تعلقت رکھنے والے افراد کی طرح ہی ہوتے ہیں۔
صنفی تبدّل کیا ہے؟
اِس صورت میں فرد خود کواپنی پیدائشی صنف کے لحاظ سے ، صنف مخالف کافردتصّور کرتا ہے۔بعض اوقات بچّے کے جنسی اعضاء نمایاں نہیں ہوتے اور اسے ایک صنف کا فرد قرار دے دِیا جاتا ہے اور بعد میں وہ خود کو صنف مخالف کا فرد تصّور کرتا ہے۔پاکستان میں ایسے ا فراد کو عام طور پر ہیجڑے کہا جاتا ہے اور اُن سے معاشرتی طور پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

جامن سے شوگر کنٹرول اور پچاس بیمایروں کا علاج

جامن سے شوگر کنٹرول اور پچاس بیمایروں کا علاج

سندھی جموں
انگریزی Jambul
اس کا مزاج سرد خشک درجہ دوم ہے۔ اس کی مقدار خوراک ایک پاﺅ سے تین پاﺅ تک ہے۔ دوا آدھ پاﺅ جامن، راب جامن دو تولے، مغز خستہ جامن تین ماشہ ہے۔ اس کا ذائقہ قدرے شیریں ہوتا ہے اور رنگ اودا سیاہ ہوتا ہے ، اس کے حسب ذیل فوائد ہیں۔
 جامن قوت باہ بڑھاتا ہے۔
بھوک بڑھاتا ہے۔
 صفراوی دستوں کو تسکین دیتا ہے اور بند کرتا ہے۔
گرم مزاج والے خواتین و حضرات کے معدہ و جگر کو قوت دیتا ہے ۔
خون کے جوش کو دور کرتا ہے۔
جامن کا سرکہ ورم طحال کو تحلیل کرتا ہے ۔
 پرانے سے پرانے اسہال کی مرض کو دور کرنے کیلئے مغز خستہ جامن کا سفوف ایک ماشہ تنہا دینے یا پھر ایک ماشہ سفوف خستہ انبہ کے ہمراہ دینے سے بے حد فائدہ ہوتا ہے ۔
جامن کو ذیابیطس (شو گر ) کی بیماری میں متواتر استعمال کرنے سے بے حد فائدہ ہوتا ہے۔
 ذیابیطس کے مریضوں کو اگر جامن کا رس اورآم کا رس ہم وزن ملا کر دیا جائے تو اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ یہ ایک عمدہ غذا کا کام دیتا ہے اور پھر آم کی گرمی بھی ختم ہو جاتی ہے۔
 ذیابیطس کے مریض اگر تخم جامن تین تولہ ،طباشیر ایک تولہ ،دانہ سبز الائچی خورد، ڈیڑھ تولہ کا سفوف بنا لیں اور صبح و شام ایک چمچہ چائے والا ہمراہ پانی روزانہ استعمال کریں تو متواتر اکیس روز استعمال کرنے سے مرض مکمل کنٹرول ہو جاتا ہے او ر یہ نامراد بیماری اس وقت تک آعادہ نہیں کرتی جب تک بہت زیادہ بد پرہیزی نہ کی جائے۔ مجرب المجرب ہے۔
 جامن مادہ منویہ کو گاڑھا کرتا ہے۔
جامن تیزابیت کا خاتمہ کرتا ہے۔
خون کی کمی کو پورا کرتا ہے اور مصفیٰ خون بھی ہے۔
پیشاب کی جلن میں انتہائی مفید ہے۔
معدے کے زخم اور آنتوں کے ورم اس کے استعمال سے ٹھیک ہو جا تے ہیں۔
جامن چہرے کا رنگ نکھارتا ہے ۔
(رات کو سوتے میں منہ سے پانی بہنے کی شکایت کو دور کرتا ہے۔
سینے کی جلن کیلئے انتہائی مفید ہے۔
 بچوں کی دستوں کی شکایت میں جامن کے درخت کی کونپلیں رگڑ کر بکری کے دودھ کے ہمراہ پلانے سے فوری فائدہ ہوتا ہے۔
جامن کا سرکہ پیٹ کی جملہ بیماریوں کو دور کرنے میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔
جامن کا شربت استعمال کرنے سے خون کی کمی دور اور چہرے کی رنگت نکھرآتی ہے۔
چہرے کے داغ ،دھبے، چھائیاں ، جامن کے شربت کے استعمال سے یا خالی جامن متواتر استعمال کرنے سے دور ہو تے ہیں۔
اگر دانتوں کی خرا بی کی وجہ سے منہ سے بد بو آتی ہو تو جامن کھانے سے دور ہو جاتی ہے۔
جامن قابض ہوتا ہے۔ اسلئے اس پر نمک لگا کر استعمال کرنا چائیے۔ لیکن جوش خون والے مریض نمک استعمال نہ کریں بلکہ جامن کی مقدار آدھ پاﺅ کر لیں۔
جامن میں اللہ تعالیٰ نے شفا رکھی ہے اس لئے بچے، بوڑھے، جوان مرد اور خواتین تمام کو شوق سے کھانا چاہیے۔
جامن میں وٹامن سی بہت پائے جاتے ہیں۔
دو کلو جامن سایہ میں خشک کر کے سفوف بنائیں اور پھر اس میں کشتہ بیضہ مرغ (کسی اچھے دواخانے کا تیار شدہ لے لیں۔ ) ایک بڑا چمچہ سفوف جامن کے ہمراہ دو رتی کشتہ بیضہ مرغ پانی کے ساتھ صبح و شام کھانے سے ذیابیطس کی بیماری پر مکمل کنٹرول ہوجاتا ہے۔ ویسے بھی دیگر بیماریوں سے انسان محفوظ رہتا ہے۔
 جن مریضوں کا معدہ کمزور ہو انہیں چائیے کہ صبح ناشتے میں ایک پاﺅ جامن کھائیں۔ معدہ مضبوط ہو گا اور غذاجلد ہضم ہو جائے گی۔
دانتوں اور مسوڑھوں سے خون نکلنے کو بند کرنے کیلئے تخم جامن (گھٹلی ) دو تولہ، نمک سیاہ ایک تولہ اور عاقر قرعا چھ ماشے کا سفوف بنا کر دانتوں پر ملنے سے یہ شکایت ہمیشہ کیلئے دور ہو جاتی ہے اور دانت و مسوڑ ھے مضبوط ہو جاتے ہیں۔
 اگرمنہ پک جائے تو نرم پتے جامن کے لے کر ایک سیر پانی میں جوش دیں۔ بعد ازاں چھان کر کلیاں کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
بڑھی ہوئی تلی کی صحت کیلئے جامن کا سرکہ تین ماشہ شہد ملا کر چند روز تک استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔
معدہ، آنتوں کی کمزوری کو دور کرنے کیلئے ایک پاﺅ جامن کے سرکے میں تین پاﺅ چینی ملا کر سکنجبین بنا کر صبح و شام استعمال کرنے سے بے حد فائدہ ہوتا ہے۔
ذیابیطس کو دور کرنے کیلئے اس کے پھول دو تولے ایک کپ پانی میں رگڑ کر پلانے سے چند روز میں ہی بے حد فائدہ ہوتا ہے۔
جلنے سے بنے ہوئے سفید داغوں پر جامن کے پتے(خشک) تین ماشہ رگڑ کر دو تولے مکھن میں ملا کر بطورمرہم لگانے سے چند روز میں داغ دور ہو جاتے ہیں۔
گرم طبیعت والوں کے گرتے ہوئے بالوں کو روکتا ہے۔
 جامن کی چھال کا جوشاندہ پرانے اسہال اورپیچش میں مفید ہوتا ہے۔
جامن کی گھٹلیوں کا سفوف (جو سایہ میںخشک کر کے بنایا گیا ہو) تین ماشہ سردیوں میں ہمراہ شربت انجبار چاٹ لینے سے ہر قسم کی پیچش دور ہو جاتی ہے۔
رات کو بد خوابی کی صورت میں جامن کی گھٹلی کا سفو ف ایک تولہ صبح و شام ہمراہ پانی استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔
 جامن کا کھانا آواز کو درست کرتا ہے اور گلے بھی صاف کرتا ہے۔
دست اور پیچش روکنے کیلئے مغز تخم جامن ،آم کی گٹھلی کامغز، ہلیلہ سیاہ ہم وزن لے کر سفوف بنا لیں۔ تین ماشے سفو ف ہمراہ پانی لینا بے حد مفید ہوتا ہے۔
ذیابیطس کے مریض کیلئے سایہ میں خشک کی ہوئی چھال باریک پیس کر چھ ماشہ سفوف صبح، دوپہر اور شام ہمراہ پانی لینا بے حد مفید ہوتا ہے ۔
جامنوں کو جلاکر پانی میں گھو ل دیں اور پھر چھان اور پکا کر اڑا دیں جو ہر جامن تیار ہو جاتا ہے ۔ چار رتی سفوف صبح و شام ذیابیطس کو فائدہ دیتا ہے۔
 جامن کی گٹھلیاں کوٹ کر سفوف بنائیں۔ صبح و شام تین ماشہ سفوف ہمراہ پانی استعمال کرنے سے ذیابیطس چند روز میں ختم ہو جائے گی۔
جامن درخت کے تین پتے پانی میں رگڑ کر سانپ کے کاٹے کو پلانے سے زہر اثر نہیں کرتا۔
اگر پاﺅں میں جوتے کا زخم ہو جائے تو جامن کی گٹھلی پیس کر لگانے سے جلد آرام آجاتا ہے۔
 کثرت حیض کو کنٹرول کرنے کیلئے جامن کے پتے سایہ میں خشک کر کے سفوف بنا لیں اور روز ایک چمچہ چائے والا سفوف ہمراہ سرد پانی کے استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔
جامن گرتے ہوئے بالوں کو روکنے کیلئے قدرت کا بہترین تحفہ ہے۔
بواسیر کا خون بند کرنے کیلئے دو تولے جامن کے پتے ایک پاﺅ دودھ میں رگڑ چھان کر پلانا مفید ہوتا ہے۔
پیشاب میں شکر آنے کی صورت میں گٹھلی تخم جامن اور ہلدی ایک ایک تولہ دونوں اور کشتہ چاندی چھ ماشے سب کو پیس کر سفوف بنا لیں ۔ دو ماشہ سفوف صبح و شام ہمراہ پانی استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ بلکہ یہ نسخہ زیادتی پیشاب کو بھی مفید ہوتا ہے۔
تخم جامن، آم کی گٹھلی اور ہلیلہ سیاہ تینوں ہم وزن لے کر گھی میں ہلکا سا بریاں کر کے سفوف بنا لیں چھ ماشے سفوف ہمراہ پانی کے استعمال کرنے سے آنتوں کی خراش ، کچی پکی غذا کا دستوں کے ذریعے خارج ہونا دور ہو جاتا ہے۔

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

پیاز ایک طاقت بخش اور ایک سستی سبزی ہے

پیاز ایک طاقت بخش اور ایک سستی سبزی ہے

پیاز کی تاریخ

پیاز
پیاز ایک طاقت بخش اور ایک سستی سبزی ہے اور سالن کے جزو کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ سالن کو گاڑھا کرتا ہے اور اسے ذائقہ دار اور خوشبودار بناتا ہے۔ اس میں وٹامن لوہا اور دیگر قیمتی دھاتیں باکثرت موجود ہیں جو ہمیں بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ پیاز کے متعلق مختلف ادوار میں مختلف آراء رہی ہیں ایک زمانہ ایسا بھی رہا ہے جب کوئی پیاز کو کھانا یا پکانا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ بلکہ اسے بدبودار سبزی سمجھ کر مکمل پرہیز کیا جاتا تھا۔ مگر سائنس دانوں کے تجربات اور اطباء کی کوششوں نے اس نظریہ کو بالکل تندیل کر دیا ہے۔

یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ پیاز میں ایک فرحت بخش خوشبو ہوتی ہے۔ جس سے باورچی خانے کی فضا میں ایک خوشگوار قسم کی مہک پیدا ہو جاتی ہے۔
ایک امریکی کیمیا گر نے دریافت کیا ہے کہ پیاز میں ایک چیز تھیال ڈی فائید پائی جاتی ہے جو جراثیم کش ہوتی ہے۔ اس کا استعمال کم خوابی کو دور کرتا ہے۔ اگر اس کا شوربا نوش کیا جائے تو نیند لانے کے لئے خواب آور گولیوں سے ذیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ حد درجہ فرحت بخش اور مصفی خون بھی ہے۔ اسی وجہ سے فرانس کے تمام ہوٹلوں میں پیاز کا شوربا با کثرت تیار کیا جاتا ہے۔ پیاز اور دودھ مرض استقاء کے لئے شافی علاج تسلیم کیا گیا ہے۔ ایک مرتبہ ایک طبیب نے استقاء کے مریض کو تین روز پیاز کھلوایا جس سے وہ بالکل صحت یاب ھو گیا۔
۱۹۱۲ میں ایک فرانسیسی ڈاکٹر نے” شفائے پیاز” کے نام سے ایک مضمون شائع کیا جس میں اس نے بتایا کہ پیاز استقاء، امراض گردہ اور پائیوریا کے لیے مجرعلاج ھے۔ دوسری جنگ عزیم میں روسی ڈاکٹروں نے محاز جنگ پر زخمی ھونے والے لوگوں کا علاج کچی پیاز سے کیا تھا۔ وہ زخم پر پیاز باندھ دیتے جس سے زخم جلد ہی خشک ھو جاتا تھا اور مریض کو آرام آ جاتا تھا ۔
ماہرین طب کے نزدیک پیاز کو بو سے بعض بیماریوں کے جراثیم ہلاک ھو جاتے ہیں انہوں نے ایک نیا طریق علاج” ٹیوب کلینک” دریافت کیا ھے۔ وہ پیاز اور لہسن کے ست سے بھری ھوئی نلکیاں وقفے وقفے سے مریض کی ناک سے لگا دیتےہیں تاکہ وہ ان سے سانس لے سکے۔ گلے کے غرود، کالی کھانسی، دمہ، پھیپھڑے اور حلق کی دق اور نزلہ وزکام کے لیے یہ طریقہ علاج بہت مفید ثابت ھوا ھے۔
برطانوی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کہا ھے کہ پیاز انجماد خون کے مریضوں کے لیے حیات نو کا پیغام ثابت ھو سکتی ھے اور اس دریافت سے اس جن لیوا بیماری کا علاج ممکن ھو گیا ھے۔ بریٹش ریویو میں شائع ھونے والی رپوٹ میں کہا گیا ھے کہ پیاز خواہ وہ ابلی ھوئی ھو یہ تلی ھوئی خون میں چکتوں کو تحلیل کرنے کی صلاحیت بڑھا دیتی ھے اس سلسلے میں مزید تجربات ھو رھے ہیں۔

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

Read More

خود لذتی اور اس سے بچنے کا طریقہ اور علاج

خود لذتی اور اس سے بچنے کا طریقہ اور علاج

اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرنا حرام ہے، اس کے بے شمار نقصانات ہیں حدیث پاک میں ایسے شخص کو ملعون کہا گیا ہے، اس بدعات میں مبتلا رہنے والا عموماً شادی کے قابل نہیں رہتا اس لعنت کے بُرے اثرات سے عضو خاص ٹیڑھا اور جڑ سے پتلا ہوجاتا ہے، اس میں روح،ریح اور خون کا دورہ پورے طور پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے بدلے زرد رنگ کا مواد رگوں میں بھر جاتا ہے، صحت بھی دچ بدن گرتی ہے، عام جسمانی اور عصابی کمزوری پیدا ہوکر قوت مردی تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔
مریض،بزدل،مغموم،متفکر،بے ہمت،پریشان حال اور قوت حافظہ اور دماغ بے حد کمزور ہوجاتا ہے کام کرنے کو جی نہیں چاہتا بسا اوقات وہ زندگی سے متنفر اور پریشان ہو کر موت کو ترجیح دیتا ہے۔
خود لذتی کی خاص علامات یہ ہیں، مریض کی نگاہیں عموماً لوگوں کے سامنے جھکی ہوئی ہوں گی

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ جانا، سر چکرانا اگر بیٹھ کر اٹھے تو آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانا، پیشاب تیز اور جلا ہوا آنا، پاتھ بالکل ٹھنڈے یا بہت گرم رہنا، گالوں پر کبھی سفید ی کبھی جھریاں ناک کی نوک خمیدہ، زیادہ چلنے سے سانس پھول جانا، بے طاقتی کا روز بروز بڑھتے جانا، مشت زنی کی تباہ کُن عادت سے بے چینی بڑھتی ہے، دماغ انتہائی کمزور ہوجاتا ہے قوت ارادی گھٹتی چلے جاتی ہیں اور ذہنی الجھنیں ایسے نوجوانوں کے لئیے ترقی اور صحت و تندرستی کی تمام راہیں بند ہوجاتی ہیں۔
اس کا سبب عام طور پر بُری سوسائٹی اور گندے دوست ہیں جو اپنے بے تکلف عزیز دو ست یا رشتے دار وغیرہ نو عمر بھولے بھالے لڑکوں کو اس بدعات میں لگانے اور اس کی ترغیب دینے میں زیادہ حصّہ لیتے ہیں اور طرح طرح سے غلط بیانی کرکے ان کو اس گندی عادت کا غلام بنادیتے ہیں۔ اگرچہ اس کی کئی اور صورتیں بھی ممکن ہیں، مثلاً فحش ناول اور حیوانات کی مجامعت کے نظارے بھی اکثر نوجوانوں کو اس مرض کی طرف مائل کردیتے ہیں۔
اس مرض سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اچھی صحبت اور اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ مصرو ف اور کام کاج کی طرف توجہ بڑھائی جائے، بیکاری،تنہائی اور اخلاق بگاڑنے والے لٹریچر اور گندے خیالات سے بچیں اور چلتے وقت نگاہوں کو نیچا رکھیں۔
اگر بے سمجھی کے باعث خدا نخواستہ اس مرض میں مبتلا ہوں تو فوراً ترک کرکے توبہ کریں اور پھر اس پر مضبوطی سے قائم رہیں۔
اس خوف کو ذہن سے نکال دیا جائے کہ مجھ میں کمزوری پیدا ہوگئی ہے کیونکہ بعض نوجوان گھبرا کر اُلٹے سیدھے علاج کرتے ہیں اور طرح طرح کی دواؤں میں الجھ کر اپنا جنسی نظام خراب کرلیتے ہیں زہریلی اور خطرناک قسم کی دوائیں عضو خاص پر لگا لگا کر اسے اور زیادہ بے کار بنالیتے ہیں حالانکہ عموماً ان کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی البتہ سادہ قسم کی مالش سے بھی کام چل سکتاہے۔ مثلاً دار چینی کا تیل یا انڈوں کا تیل وغیرہ کام میں لایا جا سکتا ہے۔
بہرحال اس مرض کیوجہ سے جو کمزوری پیدا ہو جاتی ہیں اس کا علاج صفر یہ ہے کہ عام جسما نی صحت پر خاص توجہ دی جائے اس مقصد کیلئیے اچھی اور مناسب غذا استعمال کریں اس طرح رفتہ رفتہ خرابیاں دُور ہو جائیں گی۔
اطباء اس مرض میں دوا کی بجائے غذا کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔
اگر اس بدعات کو چھوڑنے کے بعد احتلام بار بار ہوتا ہو تو اس کا مناسب علاج کیا جاسکتا ہے۔
نسخہ احتلام

 نسخہ الشفاء :تخم قنب 6 گرام، اجوائن خراسانی 6 گرام، مغز بلوط 6 گرام، پوٹاشیم برومائیڈ 6 گرام، کافور 6 گرام، تمام ادویات کو باریک پیس کر ملالیں
مقدار خوارک : 6 ماشہ صبح و شام ہمراہ پانی کھائیں۔ قبض کیلئے رات کو چھلکا اسبغول دودہ کے ساتھ کھائیں اس سے ذکاوت حس چند دنوں میں دور ہو کر احتلام بند ہوجاتا ہے (نصاب 15 دن) اس کے بعد منی کی اصلاح اور گاڑھا کرنے کیلئے معجون آرد خرما کسی اچھے پنسار اسٹور سے لے کر تقریباً دو ہفتے دودہ کے ساتھ استعمال کریں ( دوران علاج گرم اور ترش اشیاء) سے پرہیز، اگر احتلام وغیرہ جملہ شکایات نہ ہوں تو پھر ان دواؤں کو استعمال کرنے کی حاجت نہیں ہے  مذکورہ بالا مشورہ ہی بطور علاج کافی ہے۔
کمزوری کی دوائیں شوقیہ بھی نہ کھائیں بادام سات عدد اخروٹ دو عدد چار پستے آٹھ چلغوزے ایک انگلی کے برابر ناریل (گری) تھوڑا سا شہد یا مصری ملا کر نہار منہ کھالیا کریں تو قوت مردمی کی کمی نہ ہوگی، اگر آپ ہر دوسرے تیسرے مہنے پندرہ بیس روز کیلئے کھاتے رہیں تو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہوگی حافظہ بھی تیز رہے گا۔
کثرت احتلام کی مفید تدابیر

تیز مصالحہ دار غذا تمباکو، چائے اور گوشت کی زیادتی سے پرہیز کیا جائے۔
 شام کا کھانا غروب آفتاب کے فوراً بعد کھالینا چاہیئے۔
پیشاب کرکے سونا چاہئیے۔
  عین سوتے وقت دودھ یا پانی پینے سے پرہیز کیجئیے۔
 ہمیشہ داہنی کروٹ کے بل لیٹ کر سونے کی عادت بنانی چاہئیے۔
نرم گدا اور بستر استعمال نہ کیا جائے بلکہ سخت بستر پر سویا جائے۔
 عشقیہ قصے کہانیاں اور فحش ناول وغیرہ سے توبہ کیجئیے۔
 صبح و شام پیدل ہوا خوری کو اپنا معمول بنائیے۔
 کھانا بھوک سے کم کھائیے خصوصاً رات کا کھانا۔
ہفتہ میں دو مرتبہ چھلکا اسبغول دودھ کے ہمراہ ایک چمچ کھالینا چاہیئے۔
نوٹ : عام نوجوان کو مہینہ میں دو تین بار احتلام ہو جائے تو بیماری نہیں ہے جب اس سے زیادہ ہو تو علاج کی فکر کرنی چاہیئے

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

Read More

شاٹیکا کا درد، حفاظتی تدابیر اور علاج

شاٹیکا کا درد، حفاظتی تدابیر اور علاج

انسانی جسم کا نظام اللہ تعالیٰ نے دو حصوں پر مرتب کیا ہے۔جسم کے کچھ حصے تو خود کار ہیں یعنی اپنے تسلسل میں کام کر رہے ہیں اور کچھ حصے انسانی مرضی کے تابع ہوتے ہیں۔ جب ان کے خود کار نظام میں خلل واقع ہونا شروع ہوتا ہے تو اس کا اظہار کسی نہ کسی شکل میں ہو جاتا ہے جو کہ اندرونی بیماری کا اظہار ہوتا ہے۔ در اصل یہی علامات کسی بھی بیماری کی اندرونی تصویر کا بیرونی عکس ہوتی ہیں
درد کی مختلف اقسام ہوتی ہیں مثلاً سردرد‘ کمر درد‘ گھٹیا کا درد‘ عرق النساءکا درد‘ ہڈیوں کا درد وغیرہ وغیرہ۔یہ معالج کا کام ہے کہ وہ مریض کی تمام علامات ‘ حرکات و سکنات اور مشاہدات کے بعد جسم میں ہونے والے درد کی درجہ بندی کرے اور اسے ایک مخصوص مرض کے زمرے میں رکھے
ہم یہاں جس درد کا ذکر کریں گے وہ شاٹیکا (عرق النسائ) کہلاتا ہے۔ موجودہ دور میں یہ درد بہت عام ہو گیا ہے اور اس میں زیادہ تر خواتین ہی مبتلا ہیں۔ عرق النساءاس درد کو کہتے ہیں جو کہ پیڑو Plevis کے سِروں سے شروع ہوتا ہے کیونکہ اسی جگہ ایک بڑا عصب (Nerve) موجود ہوتا ہے جس کو Sciatica Nerve کہتے ہیں۔ یہ درد پیڑو کے سِروں سے شروع ہو کر ٹانگ کے پچھلے حصے سے ہوتا ہوا بیرونی ٹخنے میں محسوس ہوتا ہے۔ در حقیقت یہ ایک عصبی مرض ہے۔
علامات
عرق النساءکا درد آہستہ آہستہ شروع ہو کر شدید ہوتا چلا جاتا ہے اور کبھی کبھی اچانک بھی شروع ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات متاثرہ ٹانگ بھاری ہو جاتی ہے اور مریض کے لئے اس پر وزن یا بوجھ ڈالنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔
تشخیص
عموماً مریض کو متاثرہ ٹانگ پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت پڑے‘ تو وہ پاﺅں کے اگلے حصے پر بوجھ ڈال کر ایڑی کو اونچا رکھتا ہے تاکہ شیاٹیکا نرو پر کسی قسم کا کھنچاﺅ نہ پڑے۔ اس مرض کی صورت میں مریض ٹانگ کو ڈھیلا رکھنا چاہتا ہے۔ پاﺅں کو گھسیٹ کر چلتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں اکثر بل (کڑل) پڑ جاتے ہیں اور نسیں کھنچ جاتی ہیں۔ مریض کرسی پر ٹانگ لٹکا کر بیٹھا ہو اور گھٹنے کو دبایا جائے تو مریض کو سخت درد محسوس ہوتا ہے۔ مریض ٹانگ کو جلدی جلدی اور باآسانی پیٹ کی طرف موڑ یا پھیلا نہیں سکتا کیونکہ کھنچاﺅ سے تکلیف ہوتی ہے اور ذرا سی ٹھنڈک بھی مریض کے درد کو بڑھا دیتی ہے۔
وجوہات : عرق النساءکا مرض عموماً قبض کے سبب زیادہ دیر تک پانی میں بھیگنے‘ نمدار جگہ پر بیٹھنے یا سونے‘ بہت زیادہ بوجھ (وزن) اٹھانے‘ شدید جھٹکا لگنے‘ ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہل جانے‘ اعصابی تناﺅ‘ پریشانی‘ مسلسل ایک ہی کروٹ لیٹنے‘ کئی گھنٹوں تک مسلسل بیٹھے رہنے‘ غلط قدموں سے چلنے اور ایکسیڈنٹ وغیرہ کے باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان تما م صورتوں میں شیاٹیکا نرو میں کھنچاﺅ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مرطوب مقامات پر رہنے والوں میں بھی یہ مرض عام ہے۔
علاج
اس مرض کا علاج نہایت احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے۔اس مرض کیلئے بہترین نسخہ درج ذیل ہے۔

نسخہ الشفاء اسگندھ‘پکھڑا‘ سنڈھ‘ مٹھا سوڈا‘ سرنجان شیریں‘ ان تمام ادویات کا کو ہم وزن کوٹ پیس لیں
استعمال
اور ایک چمچ ٹیبل اسپون صبح دوپہر شام ہمراہ تازہ پانی استعمال کریں۔ تین ہفتے مستقل استعمال سے اس مرض کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا انشاءاللہ

پرہیز اور احتیاط : عرق النساءکے درد میں جس قدر دوا کی ضرورت ہوتی ہے  اسی قدر پرہیز اور احتیاط کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً  مریض کو ٹھنڈک سے ہر ممکن بچاﺅ کی کوشش کرنی چاہیے مرطوب‘ تنگ و تاریک جگہوں پر رہنے سے گریز کرنا چاہیے مریض کو بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی پوزیشن بدلتے رہنا چاہیے۔ مریض کو پانی میں رہنے سے احتیاط برتنی چاہیے مریض کو قبض سے بچنا چاہیے کیوں کہ اس سے شاٹیکا عصب میں کھنچاﺅ پڑ سکتا ہے مریض کو چاہیے کہ وہ غسل‘ صبح گیارہ بجے کے بعد اور دوپہر‘ تین بجے سے قبل کر لیا کرے اور اس کے بعد ہوا لگنے سے بچنا چاہیے۔ مریض کو وزن نہیں اٹھانا چاہیے اور نہ ہی بہت زیادہ مشقت والا کام کرنا چاہیے مریض کو چاہیے کہ وہ فرش پر یا کسی سخت جگہ پر ہلکا گدا بچھا کر سوئے بہت زیادہ ذہنی دباﺅ اور ذہنی پریشانی سے اپنے آپ کو بچائے

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

غسل فرض اور واجب

اسباب فرضیت غسل
غسل کے فرض ہونے کی صورتمباشرت کے دوران مرد کے ذکر کی ٹوپی عورت کی فرج میں داخل ہونے سے مرد اور عورت دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔

اسباب وجوب غسل
غسل کے واجب ہونے کی درج ذیل صورتیں ہیں
 احتلام کی صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔
 عورت حیض اور نفاس سے فارغ ہو تو اس پر غسل فرض ہے۔
 مباشرت کے علاوہ کسی بھی دوسرے طریقے سے شہوت حاصل کرتے ہوئے انزال ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
 اگر شہوت کے علاوہ کسی دوسری وجہ مثلا محنت و مشقت یا کسی بیماری کی وجہ سے انزال ہو جائے تو غسل واجب نہیں، التبہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
 اگر پتلی منی پیشاب کے ساتھ بغیر شہوت کے نکلی تو غسل فرض نہیں۔

سو کر اٹھنے کے بعد کپڑوں پر کچھ نشانات پائے گئے تو اس پر غسل کی چند صورتیں ہیں

1. اگر اس کے ودی یا مذی دونوں میں سے ایک کے ہونے کا یقین یا اِحتمال ہو تو غسل واجب نہیں۔
2. اگر یقین ہے کہ منی یا مذی نہیں کچھ اور ہے تو غسل واجب نہیں۔
3. اگر منی ہونے کا یقین ہے مگر مذی کا شک ہے اور اگر خواب میں احتلام ہونا یاد نہیں تو غسل ضروری نہیں ورنہ ہے۔

سینہ اور پھیپھڑے کی بیماریاں

(کھانسی) اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں خشک اور تر۔ خشک کھانسی وہ ہوتی ہے جس میں کھانسنے کے بعد بلغم خارج نہ ہو جبکہ تر کھانسی میں سینے میں بلغم کی گڑگڑاہٹ واضح محسوس ہوتی ہے
ہوالشافی :  گوند کیکر‘ مصری اور شکر تیغال باریک ہم وزن لے کر کوٹ پیس کر چنے کے برابرگولیاں بنا لیں۔ بوقت ضرورت ایک گولی منہ میں رکھ کر چوسیں۔(کہنہ کھانسی) کیکر کی چھال اتار کر خشک کر لیں پھر پاﺅ بھر پانی میں ایک تولہ چھال لے کر جوش دیں جب چوتھائی حصہ باقی رہ جائے تو اتار کر نیم گرم نوش فرمائیں صرف تین روز کے استعمال سے ہی پرانی سے پرانی کھانسی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

صحت ہوا‘ پانی اور غذا

آج ہر شخص جانتا ہے کہ ہوا‘پانی اور غذا انسانی جسم کی مسلسل ضرورت ہے۔ لیکن ان کے طریقہ استعمال میں نت نئے انداز نکال کر لوگ بغیر سوچے سمجھے زندگی کی انہیں ضروریات سے فائدہ کی بجائے نقصان اٹھاتے ہیں۔ غذا اور پانی کو اصل شکل میں استعمال کرنے سے انسان کے حراروں‘لحمیات‘اور وٹامن کی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں لیکن ان میں رنگ آمیزی اور لذت آمیزی‘غذائیت کو دور کردیتی ہے۔ اس طرح ہم لذت کام و دہن کی خاطر اپنی صحت برباد کرلیتے ہیں۔
پانی اور کھانے سے متعلق سب سے پہلے قرآن مجید میں مختصر ترین آیت پڑھیں۔ ”وکلو اوشربو اولا تسرفوا“ یعنی کھائو پیو اور اسراف نہ کرو
(سورہ الاعراف آیت نمبر 13)
اس مختصر آیت میں مکمل طب موجود ہے یعنی کھانے پینے میں اعتدال قائم نہ رکھنا ہی بیماری کا اصل سبب ہے۔ آج تمام تر تحقیق کے بعد اسی بات پر زور دیا جاتا ہے کہ تمام بیماریوں کی ابتداءمعدہ سے ہے۔ اس سلسلے میں رسول خدا کا ایک ارشاد بھی موجود ہے جس سے صحت کی بقا کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ آج کا سائنسدان کہتا ہے کہ بیماری کے دوران پرہیز کا تصور فرسودہ ہے‘ مریض کو دوا کے دوران غذا ضرور دیں جبکہ رسول خدا فرماتے ہیں۔ بیماروں کو ان کی خواہش کے خلاف کھانے پر مجبور نہ کرو کیونکہ ان کو خدا کھلاتا ہے۔ (طب صادق صفحہ 23)۔ اس طرح کھانا اور پانی ضروری ہے لیکن حسب ضرورت۔
ہوا ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے اگر یہ نہ ہوتو دم گھٹنے لگتا ہے۔ ہمارے جسم کی آکسیجن کی ضرورت صاف ہوا سے پوری ہوتی ہے لیکن ہم اسے اپنے آرام کی خاطر اسے طرح طرح کے کیمکلز سے آلودہ کرتے ہیں۔ باہر نکلیں تو کیمیکل زدہ ہوا‘ جراثیم سے پُر اور دھوئیں سے لبریز ہوا نہ جانے کن کن اعضاءکا شکار کرتی ہے۔ صحت کے لیے کھلی اور تازہ ہوا اشد ضروری ہے۔ گھروں میں قدرتی ہوا کی آمدورفت کے لیے کھڑکیاں اور روشندان بھی بہترین ذریعہ ہیں۔
پانی انسانی جسم کے وزن کا ستر فی صد حصہ کہلاتا ہے جسم کے اہم کاموں میں پانی کے بغیر سارے کام رک سکتے ہیں جب تک پھیپڑے مرطوب نہ رکھے جائیں‘ ہوا جو سانس کے ذریعہ آکسیجن پہنچاتی ہے اچھی طرح استعمال نہیں ہوسکتی۔

ہاضمہ کے عرق کو بھی پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ پانی کی کمی سے ڈی ہائڈریشن ہوسکتا ہے۔ اسی طرح جسم میں موجود بے کار اجزا کو پیشاب کے ذریعہ نکالنے میں گردوں کا عمل پانی کی وافر مقدار نہ ملنے پر بے کار ہوسکتا ہے۔

اور ہم ہیں کہ پانی جیسی اہم ضرورت میں طرح طرح کی رنگ آمیزیاں سوڈا وغیرہ کی صورت میں کرتے رہتے ہیں۔ہمارے پانی کے حصول کے ذرائع ہی اسے آلودہ کرنے میں کیا کم ہیں کہ ہم خود لذت کام و دہن کے لیے اسے مضر صحت بنا دیتے ہیں۔ پانی ابال کر پینے سے آپ جراثیم تو مار دیں گے لیکن باہر سے آئی ہوئی برف ملا کر پھر اسے ویسا ہی مضر صحت بنا دیں گے۔ اس لیے برف کے استعمال میں بھی توجہ کی ضرورت ہے۔

حلق اور زکام کی بیماریوں میں برف کا استعمال قطعی بند کردیں۔ رہا پانی کے ذائقہ دار بنانے کا سوال تو پھلوں کے عرقیات سے لطف اندوز ہوں اور فائدہ بھی اٹھائیں۔ ان مشروبات کو تو لازمی ترک کردیں جن میں گیس کا عمل دخل ہو۔ پانی کو اپنی اصل حالت میں روزانہ چھ سات گلاس پیئں۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ کھانا وقت پر کھانا‘ چبا کر کھانا اور دو کھانوں کے درمیان کم از کم چار پانچ گھنٹے کا وقفہ ہونا ضروری ہے۔ اپنے کھانے میں مناسب مقدار میں نشاستہ‘ لحمیات اور حیاتین شامل ہوں تو بیماریوں سے دور رہ سکتے ہیں۔ حکمت اور آئیو رویدک طریقہ علاج میں گرم اور ٹھنڈی غذائوں کی درجہ بندی بھی کی گئی ہے۔ اگر ان کے توازن کا خیال نہ رکھا جائے تو بیماری پیدا ہوسکتی ہے۔

طب چین میں بھی ٹھنڈی اور گرم غذائوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ چین میں سر درد‘ گلے کی تکالیف‘ قبض اور بخار وغیرہ کو گرم مزاجی کیفیت کہا گیا ہے جس میں ٹھنڈی چیزیں استعمال کرنا چاہئے جبکہ دوران خون میں کمی‘ چکر اور دست وغیرہ کی کیفیت سرد ہے اس لیے اس کا علاج گرم اور طاقت والی اشیاءسے کرنا چاہئے۔

مغربی ڈاکٹروں کا بھی نظریہ ہے کہ ناقص اور بے وقت کھانے سے امراض جنم لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک فہرست مرتب کرتا ہوں جس کے بعد نفع و نقصان حاصل کرنا آپ کا کام ہے۔ یہ بھی ذہن نشین کرلیں کہ بیماری میں بھوک نہیں لگتی اس لیے ہلکی غذا سوپ کی شکل میں لیں اور تندرست ہونے پر اپنے کھانے پینے کا چارٹ خود حسب ضرورت اپنی جیب پر نظر رکھتے ہوئے مرتب کریں بس مرض بڑھانے والی چیزیں استعمال نہ کریں۔ مثلاً نزلہ زکام میں ٹھنڈا پئیں گے اور کیلا کھائیں گے تو مرض بڑھے گا۔ خواتین دوران حمل کھجور اور پپیتا کھائیں گی تو حمل ساقط ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ اسی طرح گلے کی خرابی میں ٹھنڈا اور سرکہ اچار کھائیں گے تو گلا ٹھیک نہ ہوگا۔

کھانے پینے کی چیزوں میں نفع و نقصان سمجھنے سے قبل نہایت اہم غذا روٹی اور چینی پر ایک ریسرچ کی روداد بھی نوٹ کرلیں۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ”ایگنس فے مورگن“ کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عام طور پر جو سفید روٹی دستیاب ہے اس میں تیس اہم تغذیہ میں سے چھبیس غائب ہوکر صرف چار رہ جاتی ہیں یعنی ہم اصلی گندم کی روٹی سے محروم سفید آٹا کھا کر صحت سے دور ہورہے ہیں یا یوں سمجھیں کہ تین چوتھائی سے بھی زیادہ تعداد میں اہم دھاتوں‘ بی کمپلیکس اور وٹامن e سے محروم رہتے ہیں۔ اس طرح گنے اور چقندر کی اصل غذائیت دور کرکے ہمیں سفید چینی دے دی جاتی ہے جسے ہم دل و جان سے خوش ہوکر کھاتے ہیں اور نشاستہ کے سوا باقی قدرت کی فراہم کردہ غذا کی اہمیت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہی حال تمام کھانے پینے کی چیزوں میں ہے کہ ہمیں اصل سے ہٹا کر نقل کو خوبصورت بنا کر بہلایا گیا ہے ۔ ”کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں“

اس سلسلے میں ہماری‘آپ کی اور حکومت‘ سب کی سوچ ایک ہونا چاہئے کہ ہم اچھی صحت کے اصولوں کو اپناکر اچھے معاشرے کی تعمیر کریں جو کم از کم کھانے پینے میں دھوکا نہ دے۔

گرم غذائیں: گوشت‘ مرغی‘ ادرک‘ کالی مرچ‘ لونگ‘ سرسوں‘ سرخ مرچ‘ لہسن‘ کھجور‘ پپیتا‘ گڑ‘ کافی اور چائے وغیرہ
ٹھنڈی غذائیں:۔ آلو‘ ککڑی‘ کھیرا‘ گوبھی‘ انگور‘ دودھ‘ مکھن‘ سفید چینی‘ گندم پسا ہوا‘ چاول‘ دال اور سونف وغیرہ

کھانے میں گوشت کم سے کم کھائیں۔ اس سے اجزاءلحمیہ ضرور حاصل ہوتے ہیں لیکن دالوں کا استعمال بھی ان اجزاءکی فراہمی کا ذریعہ ہے۔ مرغ اور مچھلی زیادہ بہتر ہے۔ حضرت علی نے غالباً اسی لئے کہا تھا کہ” اپنے پیٹ کو جانوروں کا قبرستان مت بنائو“

کارن‘آئل‘ مارجرین‘آلیو آئل استعمال کریں اور گھی کا استعمال کم ہونا چائے۔ دل سے متعلق امراض میں تو گھی بالکل بند کردیں۔ سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں کہ نوے (٩٠) فیصد پانی کے ساتھ ان میں وٹامن cبھی ہوتا ہے۔ پہلے سے کٹی ہوئی سبزیاں اور گوشت سے پرہیز بہتر ہے ہمیشہ انہیں تازہ کاٹ کر استعمال کرنے میں فائدہ ہے‘ نمک اور چینی کم کھائیں۔

بلڈ پریشر میں نمک اور ذیابیطس میں چینی کا استعمال ترک کرنا چاہئے۔ کھانے کے ساتھ پیاز‘ لہسن‘ اور لیموں کا رس مفید ہے۔ آلو سے مٹاپے کے ساتھ بدہضمی بھی ہوسکتی ہے جبکہ وہ چھلکے کے ساتھ مفید ہے۔
انڈے کا استعمال کم سے کم ہونا چاہئے۔ ہفتہ میں زیادہ سے زیادہ تین انڈے کھائیں جبکہ اس کی سفیدی جتنا چاہے کھائیں۔ دل کے مریض تو انڈے سے قطعی دور رہیں ہاں سفیدی وہ بھی کھاسکتے ہیں۔ جلدی امراض میں بھی انڈے کی زردی اور مچھلی نقصان دیتی ہے۔

ڈبوں میں بند کھانوں کا استعمال زیادہ بہتر نہیں۔ روٹی‘ چاول اور دالوں کا استعمال زیادہ رکھیں۔ ویسے ایک وقت میں ایک چیز کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔ کھانے دیر تک پکانے سے اس کے وٹامنز اور ضروری اجزاءختم ہوجاتے ہیں۔
ناشتہ اور رات کا کھانا اچھا ہونا چاہئے جبکہ دوپہر میں ہلکا کھانا یا پھل پر قناعت کریں۔ آلو چینی‘ اور نشاستہ کی چیزیں کم کھائیں تو وزن بھی نہ بڑھے گا۔

ورزش کریں یا روز صبح و شام پیدل چلیں۔ ڈائٹنگ کرنا یا بھوکا رہنا سخت غلطی ہے۔ غذا آہستہ آہستہ چبا کر کھائیں اور اس کے ساتھ پانی یا تو بالکل نہ پئیں‘ یا پھر کم مقدار میں لیں۔ زیادہ پانی پینے سے ہاضمہ میں فرق آتا ہے۔ کھانے سے ایک گھنٹہ بعد جی بھر کر پانی پینا بہتر ہوتا ہے۔ سرکہ اچار یا کھٹی اشیاءکے استعمال میں زیادتی نہ کریں کیونکہ اس سے معدہ خراب ہونے کے ساتھ اعصاب بھی کمزور ہوتے ہیں۔

خصوصی توجہ: دودھ کے ساتھ نہ ترشی کھائیں نہ مچھلی۔ چاول کے ساتھ تربوز اور انڈوں کے ساتھ مولی استعمال نہ کریں۔ دودھ کے ساتھ مچھلی کھانے سے سفید داغ کی بیماری ہونے کا اندیشہ ہے۔

کھانے اور پینے کی مفید ترین اشیائ: صحت کی بقاءکے لیے غذا‘ پانی‘ روشنی‘ ہوا‘ لباس اور غسل وغیرہ پر روشنی ڈالنے کے بعد ضروری ہے کہ ان کھانے پینے کی اشیاءکا ذکر کردیا جائے جن سے انسان زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے اور ان کے غیر ضروری استعمال سے نقصان کا خطرہ ہے۔

خدا جانے یہ بات کیوں مشہور ہے کہ طاقتور یا طاقت دینے والی اشیاءکھانے سے ہی جسم طاقتور اور تندرست رہ سکتا ہے۔ اصل میں کھانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ معدہ میں کس قدر جان ہے۔ وہ طاقتور غذا کو ہضم بھی کرسکتا ہے یا نہیں۔

طاقت کے حصول کے لیے محنت درکار ہے۔ زیادہ محنت کرنے پر اس قسم کی طاقتور غذا کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ محنت نہ کرنا اور مقوی غذا استعمال کرنا صحت کو برباد کرنا ہے۔

عمر کے لحاظ سے بھی غذا کا خیال رکھنا چاہئے۔ کم خور کے لیے طاقتور چیزوں کے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ کھانا ویسے بھی مناسب نہیں۔ کھانے کے بعد لوگ ٹھنڈا پانی پیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ معدہ میں جاکر اس کی حرارت کو کم کردیتا ہے جس سے ہاضمہ میں نقص پیدا ہوسکتا ہے۔ جسے ہاضمہ کی شکایت رہتی ہو اس کو کھانے کے بعد تھوڑا نیم گرم پانی پینا چاہئے اور کھانے کے بعد تھوڑا آرام کرنا بھی مناسب ہے۔

معدہ کو بہت دیر تک خالی رکھنے سے صحت خراب ہوسکتی ہے۔ دن کی غذا کے مقابلہ میں رات کی غذا ہلکی اور سادی ہونا چاہئے۔ لیکن سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے کچھ ضرور کھا لینا چاہئے۔ معدہ کو خالی نہ چھوڑا جائے نہ اسے خوب بھردیا جائے۔ ضعیفی میں رفتہ رفتہ خوراک کم کردینا چاہئے۔ مختصر یہ کہ کھانا اچھا اور اعتدال میں رہ کر کھانا چاہئے۔

پینے کے لیے سب سے زیادہ مفید صاف اور خالص پانی ہے۔ صاف پانی نہ صرف گوشت کو مضبوط رکھتا ہے بلکہ جسم کو بڑھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ گردوں کو اپنا کام بہتر طور پر انجام دینے کے لیے پانی زیادہ پینا چاہئے۔ پانی اس لیے بھی ضروری ہے کہ بغیر اس کے غذا ہضم نہیں ہوتی۔ اس مقام پر چند مفید ترین اشیاءکا ذکر بھی ضروری ہے جو درج ذیل ہیں:
کھانے سے متعلق اشیائ:
گندم: چکی کا پسا ہوا چھلکے دار گندم کا آٹا‘ ایسی غذا ہے جس سے آنتوں کے کینسر کی روک تھام ہوتی ہے۔
جو: کینسر سے بچنے ‘ کولیسٹرول کی مقدار کو کم رکھنے اور دل کے امراض کے لیے بہترین غذا ہے۔ گرمی کے زمانے میں اس کا ستو پینا فرحت بخش ہے۔
مکئی: وبائی امراض سے محفوظ رکھتی ہے اور کینسر پر قابو پانے میں بھی مدد دیتی ہے۔
سیب: روز صبح ضرور کھائیں۔ یہ نہ صرف کولیسٹرول کی مقدار کم کرتا ہے بلکہ کینسر سے محفوظ رکھنے میں بھی مددگار ہے۔ قبض دور کرتا ہے۔ جگر‘ دل اور دماغ کو طاقت دینے کے علاوہ بھوک بھی بڑھاتا ہے۔
سنگترہ‘ مالٹا اور کینو: سینے اور معدے کو کینسر کے محفوظ رکھنے کے ساتھ اس میں وٹامن cکی وافر مقدار ہونے کی وجہ سے دمہ کے حملے سے بھی بچاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جبڑے کے امراض میں بھی مفید ہے۔
آم: آنتوں‘ معدے‘ گردے اور مثانہ کی کمزوریوں کو دور کرتا ہے۔
انگور: جسم کی کمزوری دور کرنے کے ساتھ خون پیدا کرتا ہے۔
آڑو: نہ صرف قبض دور کرتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے بلکہ مقوی باہ بھی ہے اور مولد خون بھی۔

امرود اور قبض، امرود، اور ضعف قلب کا علاج

امرود اور قبض، امرود، اور ضعف قلب کا علاج

امرود ایک عام اور مشہور پھل ہے ۔ یہ غذائیت سے بھرپور اور نہایت خوشبو دار اور لذیذ پھلوں میں شمار ہوتا ہے اور واحد پھل ہے جو سال میں دو دفعہ ہوتا ہے۔ سردیوں میں بھی گرمیوں میں بھی۔ مگر اتنا لطیف اور نازک ہوتا ہے کہ زیادہ دیر تک پڑا رہنے سے اس میں تعفن پیدا ہو کر کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اکثر لوگ اسے گرمیوں میں زیادہ پسند نہیں کرتے کیونکہ گرمیوں میں عموماً پیاس زیادہ لگتی ہے اور امردو کھا کر اوپر سے پانی پی لیا جائے یا کسی اور قسم کا مشروب نوش کر لیا جائے تو گویایہ عمل قے‘ پیٹ درد یا پیچش کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ سردیوں میں امردو زیادہ پیدا ہوتا ہے اور نسبتاً لذیذ اور میٹھا بھی ہوتا ہے اور زیادہ دیر تک رکھا جا سکتا ہے۔ امرود کے باغات خود لگائے جاتے ہیں اوربرصغیر میں بہت سے علاقوں میں باآسانی پیدا ہوتا ہے ۔ امرود پکا ہوا اور تازہ کھانا چاہے۔ باسی امرود معدے اور آنتوں کی بہت سی بیماریوں کا موجب بنتا ہے۔ خاص طور پر امرود کھا کر لسی یا پانی وغیرہ نہیں پینا چاہیے۔ امرود کا مزاج سرد تر ہے۔ بعض کے نزدیک متعدل بہ حرارت ہے۔
امرود اور قبض
امردو جو ملین تاثیر بھی رکھتا ہے‘ معدہ اور آنتوں کی خشکی کو زائل کرتا ہے اور غذا کو ہضم کرنے میں معاون معدہ کا کام دیتا ہے۔ اگر کھانے کے بعد نرم اور پختہ تازہ امرود کھایا جائے تو قبض کو دور کرتا ہے اور معدہ کو تقویت دیتا ہے۔امرود نمک اور کالی مرچ لگا کر کھانا چاہیے۔

امرود اور ضعف ِ قلب
ضعف ِ قلب میں امرود نہایت مفید ہے اور دل کو تقویت دیتا ہے اور فرحت بخش ہے۔ جن لوگوں کو خفقان اور گھبراہٹ ‘بے چینی کی شکایت ہو ان کے لئے یہ ایک بہترین غذا ہے۔ سر کے درد اور چکر آنے میں بھی مفید ہے ‘ تبخیر معدہ اور دل کی گھبراہٹ کو دور کرتا ہے۔

امرود اور پیٹ کے کیڑے
امردو کے بیجوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی ہے ‘ ان سے پیٹ اور آنتوں کے کیڑے اور سوزش دور ہوتی ہے بلکہ کیڑے خود بخود نکلنے لگتے ہیں ۔ امرود کے بیجوں کو فضول سمجھ کر ضائع نہیں کر دینا چاہیے۔ انہیں استعمال کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ امرود کو دھو کر مع بیجوں کے کھانا چاہیے۔

دانت مضبوط کرنے اور مسوڑھوں سے خون آنے کو روکنے کا آسان طریقہ
امرود مسوڑھوں کے ورم اور سوجن کو رفع کرتا ہے اور مسوڑھوں سے خون آنے کو روکتا ہے۔ اگر باقاعدہ طور پر کچھ دن امرود بلا ناغہ کھایا جائے (مگر کھانے کے بعد اور بقدر ِ ہضم ) تو دانتوں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ مسوڑھوں کے خون کو بند کرنے کا موجب بنتا ہے۔ اس مقصد کیلئے امرود کے درخت کی چھال نہایت مفید ہے۔

ھوالشافی
درخت امرود کی چھال2 تولہ کو تقریباً ڈیڑھ پاﺅ پانی میں بھگو دیں اور صبح کا بھگویا ہوا شام کو اور شام کو بھگویاصبح کے وقت کام میں لائیں‘ اس پانی سے کلی اور غرارہ کریں۔ چند دن کے استعمال سے دانت اور مسوڑھے مضبوط ہو جاتے ہیں۔

امرود اور کانچ کا نکلنا
بچوں کا یہ ایک ایسا مرض ہے کہ جس میں پاخانہ کرتے وقت بچے کی مقعد کا کچھ حصہ باہر نکل آتا ہے۔ اس کو خروج مقعد یا کانچ کا نکلنا بھی کہتے ہیں۔ پوست امرود کو سائے میں خشک کر لیں اور باریک پیس کر رکھ چھوڑیں۔ جب بچے کی کانچ نکلے تو یہ پوڈر یا سفوف اوپر چھڑک کر انگلی کی مدد سے کانچ کو اندر کر دیں۔ چند دن تک مرض دور ہو جائےگا۔ (انشا ءاللہ)

امرود اور اسہال
امرود کے تازہ پتے سائے میں خشک کر کے باریک پیس لیں۔ یہ سفوف ایک ماشہ صبح‘ دوپہر‘ شام کھانے سے دست اور اسہال دور ہو جاتے ہیں۔ امرود ہاضم‘ قبض کشا اور مفرح و مقوی معدہ ہونے کے ساتھ ساتھ بھوک بھی لگاتا ہے۔ گول امرود کی بجائے بیضوی امرود ‘ خوشبو‘ اثر اور ذائقہ کے لحاظ سے بہتر ہوتا ہے۔

امرود اور کھانسی
تازہ پکا ہوا ٹھوس امرود لے کر گوندھے ہوئے آٹے میں لپیٹ کر کچھ دیر آگ میں دبا دیں اور جب آٹا سرخ ہو جائے تو نکال کر امرود کھا لیں چند روز استعمال کریںگلے کی خرابی‘ سانس کی نالیوں اور کالی کھانسی کا مجرب علاج ہے۔


Read More

اسہال, اور, بدہضمی, کا, ٹوٹکہ

کتنے ایسے لوگ ہیں جو دائمی قبض سے عاجز اور پریشان ہیں اور کتنے ایسے اللہ کے بندے ہیں جو دن میں بار بار بیت الخلاءکا منہ دیکھتے ہیں۔ کوئی بھی چیز کھائیں‘ ہضم نہیں ہوتی اور طبیعت بے چین ‘ بے قرار حتیٰ کہ جب تک سب کھایا پیا نکل نہ جائے اس وقت تک سکون نہیں ملتا۔ ایک دور افتادہ دیہات میں ترکھان ڈاکٹر کے نام سے ایک صاحب کی شہرت سنی کہ وہ صرف بڑوں اور بچوں کے دستوں کا علاج کرتے ہیں۔ وہ ایک پُڑیا دیتے اور دوقسم کی غذائیں بتاتے تھے اور مایوس مریض خوش واپس لوٹتا تھا ۔ انہوں نے بڑے بڑے چھپر اور جھونپڑے نما ہال بنائے ہوئے ہیں وہ بعض دور سے آئے مریضوں کو داخل کر کے چند دن رکھ کر علاج کرتے پھر انہیں صحت مند کر کے رخصت کرتے۔
یہ کہانی کئی مریضوں سے سنی‘ اشتیاق پیدا ہوا کہ آخر وہ پُڑیا کیا ہے اور وہ غذائیں کیا ہیں۔ اس علاقے کے ایک بڑے سیاسی شخص روحانی علاج کے سلسلے میں میرے پاس آتے تھے۔ جب مجھے ضرورت پڑی تو بہت عرصہ وہ آئے نہیں۔ ان کا رابطہ نمبر بھی نہیں تھا۔ آخر بڑے عرصے کے بعد وہ آئے۔ تاخیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ میرے مسائل الحمدللہ حل ہو گئے تھے لہٰذا میں اپنی زندگی کی مصروفیات میں محو ہو گیا۔ آج لاہور اپنی بیٹی کے جہیز کے سلسلے میں آیا تو آپ سے ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا۔ بندہ نے اس ترکھان ڈاکٹر کا تذکرہ کیا تو ہنس کر کہنے لگے ہاں اس کے پاس دور دور سے لوگ آتے ہیں اور اس نے بے شمار لوگوں کو بے وقوف بنایا ہوا ہے۔ میں نے ان سے عرض کیا کیا وہ دوائی اور غذائی مکمل ترتیب کسی طرح مجھے مل جائے اور میں اپنے عبقری کے قارئین کیلئے لکھ سکوں تاکہ لاکھوںکو نفع ملے ‘ کہنے لگے یہ کوئی مشکل نہیں کہ اس کی چند ایکڑ زمین ہے اور میرے پاس کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں وہ آتا جاتا رہتا ہے۔ بندہ نے تاکید سے ان کے ذمے لگایا کہ یہ کام ضرور کریں۔ ان کا رابطہ نمبر لے لیا۔ تقریباً دس دن کے بعد انہوں نے وہ تمام ترکیب بتا دی کہنے لگے کہ اس نے آج تک یہ تمام ترکیب کسی کو بھی نہیں دی حتیٰ کہ ایک مریض صحت یاب ہو گیا تو اس نے اسے عمرہ کرایا۔ جاتے ہوئے اپنے ڈیرے کو تالا لگا گیا اور اپنے بیٹے کو بھی چابی نہیں دے کر گیا لیکن مجھے بنی ہوئی دوائی ‘ نسخہ بنانے کی ترکیب ‘ استعمال کا طریقہ کار سب کچھ بتا دیا۔ قارئین !وہ سب کچھ آپ کی نذر کر رہا ہوں اور آپ سے بھی امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی اپنے روحانی اور طبی تجربات و مشاہدات ضرور لکھیں گے۔ اسہال کسی بھی قسم کے ہوں‘ مروڑ ‘ پیچش چاہے خونی ہو یا آﺅں ہی کیوں نہ آ رہی ہو‘ کھانا کھاتے ہی پیٹ میں مروڑ اٹھ کر اجابت آجاتی ہو۔ دن میں 8 یا 9 بار پاخانہ آتا ہو ‘ چھوٹوں یا بڑوں‘ سب کیلئے یہ ترتیب اور شفائی فارمولہ نہایت مفید ہے۔ جس کو بھی دیا اسی نے اس کی تعریف کی اور اسی نے اسے پھر اوروں کو بتایا۔ اچھی بات یہ ہے کہ بنانے میں آسان ‘ استعمال کرنے میں بھی بالکل سہولت اور رقم چند روپے اور بس۔ ہوالشافی ۔ 1۔ بل گری‘ کالی ہریڑ دونوں ایک ایک چھٹانک لے کر کوٹ پیس کر دیسی گھی میں نہایت ہلکا بھون لیں اور محفوظ رکھیں آدھا چمچ پانی کے ہمراہ دن میں 3سے 4 بار‘ بچوں کو چٹکی چٹکی دن میں 4 سے 5 بار۔ 2۔ بطور غذا نان یا کلچہ صرف دہی کے ساتھ جس میں چینی نہ ڈالیں اور 2 گھنٹے تک پانی بالکل نہ پئیں۔ دن میں جب بھی ضرورت ہو نان اور دہی لیں۔ 3۔ چائے کے اندر سفید مکھن پیلا نہ ہو‘ ملا کر پئیں دن میں جتنی بار پی سکیں۔ بس یہ ترتیب ہے ‘ اس ترکھان ڈاکٹر کی جو آپ کی خدمت میں بغیر چھپائے پیش کر دی ہے۔