Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

اسپرین کا استعمال دماغ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، نئی طبی تحقیق

روزانہ اسپرین استعمال کرنے والوں کے دماغ میں جریان خون ہوسکتا ہے، تازہ ترین تحقیق کے حوالے سے روزنامہ ایکسپریس لندن نے یہ خبر دی ہے۔ اخبار کے مطابق ایک ہزار افراد کے دماغ کی سکیننگ سے یہ ظاہر ہوا کہ سپرین استعمال کرنے والوں کے دماغ میں خون رسنے کے واقعات دوسروں کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تھے،اخبار کے مطابق یہ نئی تحقیق دل کے جان لیوا دورے سے محفوظ رہنے کیلئے اسپرین استعمال کرنے والے ہزاروں برطانوی شہریوں کیلئے ایک تشویشناک خبر ہے۔ اسپرین عام طور پرخون کو پتلا رکھنے اور اس میں لوتھڑے بننے سے روکنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ اس سے قبل کی تحقیق میں بتایا گیا تھا خون کے لوتھڑے توڑنے والی دوائیں آنتوں میں جریان خون کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

غذائی چارٹ معدے کی تیزابیت کے مریضوں کیلئے

غذائی چارٹ
پھل   معدے کی تیزابیت کے مریضوں کیلئے جو حسب ضرورت لے سکتے ہیں۔
سیب ، امرود ، کیلا
سبزیاں
اُبلے ہوئے آلو ، گوبھی ، بند گوبھی ، گاجریں،سبز پھلیاں ، مٹر
گوشت
مرغی کا گوشت (بغیر کھال کے) ، بکرا ، دنبہ ، کباب، انڈے کی سفیدی ، مچھلی (بغیر چکنائی)
ڈیری اشیاء
پنیر(بغیر چکنائی)
اناج سے بنی اشیاء روٹی(سفید یا براون)،سادہ میٹھی ڈبل روٹی  مکئی کا بھٹہ۔
مشروبات
صاف ، ابلا ہوا پانی
میٹھا/حلوہ جات بسکٹ بغیر چکنائی
 

Read More

انڈے دل کیلئے مفید ہیں

 ماہرین نے کہا ہے کہ دل کو صحت مند رکھنے کیلئے انڈوں کا استعمال برا نہیں ہے۔ انڈوں سے متعلق امریکی ماہر ڈاکٹر ڈون میکنمارا نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ طویل عرصے تک انڈے کو امراض قلب کے حوالے سے بدنام کیا جاتا رہا ہے لیکن اب حقائق سامنے آنے کے بعد امریکی ہارٹ فاؤنڈیشن نے بھی اپنی پابندی اٹھالی ہے اور کہا ہے کہ ہفتے میں چھ انڈے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ انڈوں میں Saturated Fat بہت قلیل مقدار میں ہوتی ہے جبکہ اس میں بعض صحت بخش اہم مرکبات بھی ہوتے ہیں جو غذا ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔ انڈے کھانے سے شکم مادر میں پرورش پانے والے بچے کے دماغ کی نشوونما بھی بہتر ہوتی ہے۔ انڈے میں ایک اور جزو Lutein بھی ہوتا ہے جو آنکھوں کے مختلف امراض سے بچاتا ہے، جن میں موتیا اور عمر میں اضافے کے باعث نظر کی کمزوری کا مرض شامل ہیں۔

اولاد انسان کیلئے قدرت کا ایک عظیم عطیہ ہے

نسان کو رب کریم نے احسن تقویم میں خلق کیا۔ انسان ہر مخلوق سے افضل ترین ہے۔ اولاد انسان کیلئے قدرت کا ایک عظیم عطیہ ہے اور اس عظیم عطیہ اور انعام کیلئے ماں کا دودھ ایک انمول اور بے مثل تحفہ ہے۔ ایک نوزائیدہ بچے کیلئے ماں کے دودھ سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں ہے اوراس نعمت کی فراوانی کا انتظام رب کریم اس کی پیدائش سے پہلے ہی کر لیتا ہے۔
جدید ترقی یافتہ دور میں نوزائیدہ بچوں کو ماں کا دودھ نہ پلانے کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے اس کی بجائے بچوں کو مختلف اقسام کے غذائی فارمولے اور ڈبے کا دودھ پلانے کے رحجان میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ ان غذائی فارمولوں اور خشک دودھ کے ڈبوں کی تشہیر ہوئی ہے کہ ہر ماں کی خواہش کہ اس کا بچہ یہ فارمولے اور دودھ استعمال کرے مگر ماں کے دودھ کو چھوڑ کر خشک دودھ اور غذائی فارمولے استعمال کرنے کے اس قدر نقصانات سامنے آئے ہیں کہ پوری دنیا میں ماں کا دودھ ہلانے کا ایک دن منایا جاتا ہے تاکہ ماں کو مصنوئی دودھ کے نقصانات اور اپنے دودھ کے فوائد سے آگہی ہو سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے سے ان بچوں کے ابتدائی مسائل صحت ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر نوزائیدہ بچوں کو پیدا ہونے سے پہلے گھنٹے کے اندر اندر ماں کا دودھ پلانا شروع کر دیا جائے تو دنیا بھر میں ہر سال دس لاکھ بچوں کو موت کے منہ سے بچایا جا سکتا ہے۔ پہلے دہ تین گھنٹوں کا ماں دودھ نوزائیدہ بچے کیلئے صحت کا ایک انمول خزانہ ہے۔ اس میں ضروری غذائی اجزاء اور بیماریوں سے تحفظ کیلئے مدافعاتی مادے موجود ہوتے ہیں۔ جو بچے اس خزانے سے محروم رہ جاتے ہیں وہ ساری عمر اس کمی کو پورا نہیں کر سکتے۔
دوملینیم ترقیاتی اہداف یعنی بھوک وافلاس سے نجات اور بچوں کی اموات پر قابو پانا ماں کے دودھ کے استعمال سے بچے کی افزائش کی رفتار بڑھتی ہے۔ بچہ متعدی سانس اور اسہال کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شیر خوار اور پانچ سال تک کے بچوں میں شرح اموات کم ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں زندہ پیدا ہونے والے ہزار بچوں میں سے 57 بچے پیدائش کے پہلے مہینے میں ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اگر پیدائش کے بعد پہلے گھنٹے سے یہ ماں کا دودھ پلانا شروع کر دیا جائے تو ان میں سے12بچوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
ضروری ہے کہ وزارت صحت اور دیگر متعلقہ ادارے پیدائش کے بعد پہلے گھنٹے سے ماں کا دودھ کی حوصلہ افزائی کریں اور اس بیماریوں کے خلاف بچاؤ کیلئے کلیدی علامت کے طور پر متعارف کروائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ طفل دوست ہسپتالوں کے قیام کیلئے ضروری اقدامات کی حاصلہ افزائی کی جائے، صحت کی خدمات و سہولیات فراہم کرنے والے عملے، پالیسی سازوں، خاندانوں اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون اور شعوری کوششیں ہی ماں کے دودھ کے استعمال کے رحجان کو تحفظ اور فروغ دے سکتی ہیں۔
٭۔۔ ماں کا دودھ شیر خوار بچے کی ضروریات کے مطابق غذائی اجزاء اور دوسرے مدافعاتی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ جراثیم سے پاک ہوتا ہے۔ انسانی جسم کے قدرتی درجہ حرارت سے کے مطابق ہوتا ہے۔ بچے کو بوقت ضرورت فوراً پلایا جا سکتا ہے اور اس کیلئے کسی قسم کی تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ماں کا دودھ ماں اور بچے کے تعلق کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ ماں اور بچے میں محبت زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کا دووھ پینے والے بچے ابتدائی خطرناک بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔ رب کریم نے قرآن حکیم میں بھی ماؤں کو دو سال تک اپنا دودھ پلانے کا حکم دیا ہے۔ نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کو قدرت کے اس انمول اور بے مثل تحفے سے محروم رکھنا ایک اظلم ہے جس کی تلافی کبھی نہیں ہو سکتی۔