Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

نسوانی جنسی اعضاء

بظر (Clitoris)
یہ ایک نسوانی بیرونی عضو ہے، جو چھونے اور مسلنے پر بہت زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ اسے C Spot بھی کہتے ہیں۔ مردانہ عضو تناسل کی مثل اسے حرکت دینے سے اس میں خون بھر جاتا ہے اور یہ تناؤ حاصل کر لیتا ہے۔ یہ فرج کے چھوٹے اندرونی لبوں کے ملنے کے مقام پر اوپر کی طرف واقع ہوتا ہے۔ اس کی حفاظت کے لئے اس کے اوپر ایک ڈھکن یا خول ہوتا ہے، جسے ہاتھ سے ہٹانے پر یہ نظر آتا ہے۔ یہ نسوانی جنسی اعضاء میں سب سے اہم اور حساس ترین عضو ہے، جس کا مقصد مباشرت کے دوران جنسی لذت فراہم کرنا ہوتا ہے۔
فرج

(Vagina)
یہ بچہ دانی اور بیرونی جسم کے درمیان ایک نالی یا راستہ ہوتا ہے، جسے اندام نہانی بھی کہتے ہیں، کیونکہ مباشرت کے دوران آلہ تناسل اس میں چھپ جاتا ہے۔ اس کی دیواریں (اطراف) عام طور پر باہم ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ فرج ایسے عضلات سے بنی ہوتی ہے، جو اس میں عضو تناسل داخل کرنے یا پیدائش کے وقت بچے کے باہر آنے کی صورت میں پھیل جاتی ہے۔ نارمل پیدائش کی صورت میں بچہ فرج کے راستے باہر آتا ہے۔ ماہواری کا خون بھی فرج کے راستے ہی نکلتا ہے اور عورتوں کو ایسی صورت میں پیڈ استعمال کرنا پڑتا ہے۔
رحم مادر کا دھانہ (Cervix)
یہ رحم مادر کا نچلا حصہ ہے، جو فرج سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ اسی راستے سے منی کے جرثومے رحم مادر میں داخل ہوتے ہیں۔ بچے کی پیدائش کے دوران یہ سوراخ بھی پھیل کر کھلا ہو جاتا ہے تاکہ پیدا ہونے والے بچہ بآسانی باہر نکل سکے۔
رحم مادر / بچہ دانی (Uterus)
یہ عضلات سے بنا ہوا ناشپاتی کی شکل کا اندرونی عضو ہے۔ حمل کے دوران بچہ اسی میں پرورش پاتا ہے۔ حمل نہ ہونے کی صورت میں ہر ماہ رحم مادر سے ماہواری کا خون خارج ہوتا ہے۔
بیضہ دانیاں (Ovaries)
یہ دو اندرونی اعضاء ہوتے ہیں، جن میں انڈے بنتے ہیں اور مناسب وقت پر خارج ہو کر بچہ دانی تک پہنچتے ہیں۔ اس عمل کو بیضہ ریزی کہتے ہیں۔ ایک بیضہ دانی بچہ دانی کے دایہں طرف اور دوسری بائیں طرف ہوتی ہے۔
نل (Fallopian Tubes)
دونوں بیضہ دانیوں سے ایک ایک پتلی نالی رحم مادر میں داخل ہوتی ہے۔ بیضہ دانی سے خارج ہونے کے بعد انڈہ انہی نل میں سے گزر کر رحم مادر میں پہنچتا ہے۔ بارآوری کی صورت میں عام طور پر منی کے جرثومے اور اور انڈے کا ملاپ ان دونوں‌ میں سے کسی ایک نل میں ہی ہوتا ہے۔

مثالی مباشرت کا طریقہ .How to have Ideal Intercourse

مثالی مباشرت کے لئے ضروری ہے کہ میاں‌ بیوی دونوں دل کی رغبت سے ایک دوسرے سے مباشرت کرنے کے خواہشمند ہوں۔ مباشرت کے وقت دونوں‌کا تندرست و توانا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر دونوں‌ میں سے کسی ایک کے سر میں‌ درد ہے، یا اس کی مرضی شامل نہیں ہے تو دونوں مباشرت سے صحیح طریقے سے لطف اندوز نہیں‌ ہو سکتے۔ بیوی کی مرضی کے بغیر اس سے مباشرت کرنا شوہر کو کبھی حقیقی سکون نہیں دے سکتا۔ علاوہ ازیں جس سوچ اور جن حالات میں میاں بیوی مباشرت کر رہے ہیں اس کا اثر ان کی ہونے والی اولاد پر بھی پڑ سکتا ہے، اس لئے دونوں‌ کا تازہ دم ہونا اور برضا و رغبت جنسی عمل میں شریک ہونا نہایت ضروری ہے۔

مباشرت کے دوران مرد کو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیئے، کیونکہ وہ مباشرت سے قبل بیوی کے جذبات کو بیدار کرنے پر جتنی محنت کرنے گا، اتنی ہی بہترین مباشرت کے لئے وہ اسے تیار پائے گا۔ اگر بیوی کے جنسی جذبات کو تیز سے تیز تر کرتے ہوئے خوب بھڑکا دیا جائے تو میاں‌ بیوی دونوں‌ کے لئے وہ ایک مثالی مباشرت ہوتی ہے۔ اس لئے مباشرت شروع کرنے سے قبل مرد کو اس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہیئے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو خود کو ٹھنڈا رکھے، بوس و کنا ر میں بہت ضبط سے کام لے اور دوسری طرف عورت کے جذبات اور اس کے شوق کو بھڑکاتا چلا جائے۔ یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ مرد کی نسبت عورت کے جذبات کو بیدار ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اس لئے شروع میں کم از کم 15 منٹ کے لئے شوہر کو چاہیئے کہ وہ بیوی کو جنسی طور پر بیدار کرنے کے لئے اس کے مخصوص اعضاء سے کھیلے۔ بیوی کے پستانوں‌ کو منہ میں ڈال کر ہاتھوں‌ سے خوب اچھی طرح دباتے ہوئے چوسے۔ اس کی فرج کے دھانے پر اوپر کی طرف واقع مٹر کے دانے جتنے گوشت کے چھوٹے ٹکڑے بظر جسے C Spot بھی کہا جاتا ہے) کو مسلنے سے بیوی مباشرت کے لئے بے تاب ہو جاتی ہے۔

اگرچہ مثالی مباشرت کے لئے میاں‌ بیوی دونوں کا انزال ایک وقت میں‌ ہونا ضروری نہیں تاہم بہترین لطف اندوزی کے لئے یہ ایک اچھی صورت ہو سکتی ہے۔

دخول کے بعد بھی شوہر کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ اگر وہ بیوی کی پیاس بجھانے سے پہلے انزال کر دے گا تو بیوی اسے ناپسند کرنے لگے گی۔ جلدی انزال کر کے فارغ‌ ہو جانے والے شوہر کو خودغرض سمجھتے ہوئے اس کی بیوی سوچتی ہے کہ شوہر نے اس کی خواہش کو نظر انداز کرتے ہوئے محض اپنا کام نکالا ہے۔ چنانچہ وہ بعد ازاں خود بھی شوہر کی خواہشوں کو کچلنے میں مزہ لیتی ہے اور صرف اپنا الو سیدھا کرنے کی فکر میں پڑ جاتی ہے۔ نوبت بایں جا رسید کہ بعض عورتیں‌ اپنی جنسی تسکین کے لئے غیر مردوں سے جنسی تعلقات استوار کر لیتی ہیں۔

مزید بہترین مباشرت کے لئے بہتر ہے کہ مباشرت کے دوران میں مناسب دنوں کا وقفہ کیا جائے اور ہر دو مباشرت کے دوران اتنے دن کا وقفہ ہو کہ منی پختہ ہو چکی ہو۔

جنسی اعضاء کا بنیادی تعارف (Penis, Testicles, Urethra, Clitoris, Vagina, Uterus, Ovaries)

مردانہ جنسی اعضاء
ذکر / عضو تناسل (Penis)
یہ ایک ایسا مردانہ جنسی عضو ہے، جو انسان کی افزائش نسل میں سب سے زیادہ اہم مانا جاتا ہے، اسی لئے اسے عضو تناسل بھی کہا جاتا ہے۔ قدیم ہندو تہذیب میں اسے دیوتا کی حیثت حاصل تھی۔ یہ ایک لٹکتے ہوئے گوشت کا نالی نما لوتھڑا ہوتا ہے، جو حالتِ انتشار میں سلاخ کی صورت میں اکڑ کر اپنے اصل سائز سے کافی بڑا ہو جاتا ہے۔ تناؤ کی صورت میں اس کا سائز 3 سے 7 انچ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ جڑ کی طرح بدن کے اندر ہوتا ہے۔ عضو تناسل کے علاوہ اسے ذَکر اور قضیب کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
حشفہ
ذکر کا ٹوپی نما سرا، جو ختنہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، حشفہ کہلاتا ہے۔ حشفہ کی مقدار دخول کی صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔
خصیے (Testicles)
یہ دو گولی نما چھوٹے غدود ہوتے ہیں، جو ذَکر کے نیچے لٹکتے رہتے ہیں۔ سردوں میں کافی سکڑ جاتے ہیں جبکہ گرمیوں میں ڈھیلے ہو کر قدرے لٹک جاتے ہیں۔ یہ غدود روزانہ منی کے لاکھوں جرثومے بناتے ہیں۔ ہر خصیہ فی سیکنڈ ایک ہزار جرثومے بناتا ہے، یوں روزانہ 172 ملین جرثومے پیدا ہوتے ہیں۔
پیشاب کی نالی (Urethra)
یہ نالی مثانے سے عضو تناسل تک پہنچتی ہے۔ یہ نالی پیشاب کے علاوہ (بچے پیدا کرنے والے جرثوموں کی حامل) منی کی بھی گزرگاہ ہوتی ہے۔
جرثوموں کی نالیاں (Vas Deferens)
یہ نالیاں منی کے جرثوموں کو انزال سے پہلے پیشاب کی نالی تک پہنچاتی ہیں۔

حدود

ہدایت(۵۴۲)عبادہ بن صامت  روایت ہے فرمایا رسول اللهنے قریب اور بعید کے سب لوگوں میں الٰہی حدود کو جاری کرو اور اس میں ملامت کرنے والوں کی پرواہ نہ کرو۔ (ابن ماجہ)
(۵۴۳)عبدالله بن عمر سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے جو شخص الٰہی حدود کے نفاذ میں اپنی سفارش سے حائل ہو اس نے گویا ضد اور ہٹ دھرمی کی۔ جو شخص کسی ناحق اور جھوٹی بات میں جھگڑا کرے اور وہ اس بات کے ناحق اور جھوٹ ہونے سے واقف ہو وہ ہمیشہ غضب الٰہی میں رہتا ہے جب تک کہ اس سے باز نہ آئے اور جو شخص کسی مسلمان کی نسبت ایسی بات کہے جو اس میں نہیں پائی جاتی وہ اس وقت تک مورد عتاب رہے گا جب تک وہ اس سے توبہ نہ کرے۔ (ابوداؤد)
(۵۴۴)حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے باعزت لوگوں کی خفیف لغزشوں اور بھول چوک کی خطاؤں کو معاف کردیا لیکن جن امور کی شرعی حدیں مقرر ہیں انہوں معاف نہ کرو۔ (بخاری و مسلم)
(۵۴۵)ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا رسو لاللهنے کسی اخلاقی گناہ کی سزا دس کوڑوں سے زائد نہ ہو، مگر جن جرائم کی حدود مقرر ہیں ان میں رعایت اور کمی نہ کی جائے۔ (بخاری و مسلم)
(اخلاقی گناہوں میں، بازی لگانا، جواکھیلنا۔ رقص و سرور۔ شطرنج اور تاش کھیلنا، جھوٹ بولنا، بے حیائی اور کمینہ حرکتیں شامل ہیں ،ان کی سزا دس کوڑے تک ہے۔)
گالی کی سزا(۵۴۶)ابن عباس سے روایت ہے فرمایا رسو لاللهنے جب کوئی شخص کسی مسلمان کو مخنث کہے یایہودی کہے تو اس کے بیس کوڑے لگاؤ۔ (ترمذی)
(گالی دینے کی سزا بیس کوڑے تک ہے)
ممانعت(۵۴۷)ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا رسو لاللهنے جو کسی کو سزا دو تو منہ پر نہ مارو۔ (ابوداؤد)
شرابی کی سزا(۵۴۸)انس سے روایت ہے رسول اللهنے شراب پینے کی سزا میں کھجور کی ٹہنی یا جوتوں سے مارنے کا حکم دیا۔ پس شرابی کھجور کی ٹہنی سے پیٹا جاتا تھا یا چالیس جوتے لگائے جاتے تھے۔ حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں چالیس دُرّے لگائے گئے۔ (بخاری و مسلم)
(۵۴۹)سائب سے مروی ہے کہ حضرت عمر کے عہد خلافت میں چالیس کوڑوں سے اسّی کوڑے تک شرابی کی سزا مقرر ہوئی۔ (بخاری)
(۵۵۰)ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللهکے سامنے ایک بدمست شرابی کو لایا گیا حکم دیا۔ اس کو مارو چناچہ ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے کسی نے جوتے سے اور کسی نے کپڑے کے کوڑے سے اس کو مارا پھر فرمایا اس کو عار دلاؤ اور تنبیہ کرو، لوگوں نے اس کی طرف مخاطب ہوکر کہا تو الله سے نہیں ڈرا، الله کے عذاب کو خیال میں نہیں لایا، اور رسو لاللهسے بھی نہیں شرمایا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ الله تجھ کو ذلیل و رسوا کرے۔ یہ الفاظ سن کر رسول اللهنے فرمایا اس طرح نہ کہو بلکہ اس طرح کہو کہ الله اس کو بخش دے، الله اس پر رحم فرمائے۔ (ابوداؤد)
دیّوث(۵۵۱)عبدالله بن عمر سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس نے ماں باپ کی نافرمانی، جس نے جوا کھیلا، جس نے ہمیشہ شراب پی، اور جس نے اپنے گھر والوں سے برے کام کرائے یعنی دیوّث۔ (دارمی۔ احمد)
مسئلہ(۵۵۲)جابر سے روایت ہے رسول اللهنے فرمایا ہر وہ چیز جو زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے نشہ لائے اس کا تھوڑی مقدار میں استعمال کرنا بھی حرام ہے۔ (ترمذی۔ ابوداؤد۔ ابن ماجہ)
ہدایت(۵۵۳)زید بن اسلم سے روایت ہے ایک زانی کو رسول اللهکے سامنے لایا گیا جو اپنے زنا کا خود اقرار کرتا تھا، رسول اللهنے کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا، اے لوگو! اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم باز رہو الله کی حدوں سے، جو شخص اس قسم کاکوئی گناہ کرے تو چاہیے کہ چھپا رہے الله کے پردے میں یعنی توبہ و استغفار کرے اور جو کوئی کھول دے گا اپنے پردے کو تو ہم موافق کتاب الله کے اس پر حد قائم کریں گے۔ (موطا)
(زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورت کے لئے ہر ایک کو سو درے کی سزا مقرر ہے خواہ مجرم شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ)
حدقذف(۵۵۴)ابن عباس سے روایت ہے ایک شخص رسول اللهکی خدمت میں حاضر ہوا اور اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے، رسول اللهنے اس کو سو درّے مارنے کی سزا دلوائی پھر عورت کے خلاف شہادتیں طلب کیں عورت نے الله کی قسم کھا کر کہا یا رسول اللهیہ شخص جھوٹا ہے، رسول اللهنے اس شخص کو دوسری سزا تہمت کی دی اور کوڑے لگوائے۔ (ابوداؤد)
(کوئی شخص کسی مسلمان عورت پر زنا کی تہمت لگائے اور چار گواہوں سے زنا ثابت نہ کرسکے تو اس کے لئے حد قذف یعنی اسّی کوڑے کی سزا مقرر ہے۔)
اخلاقی گناہوں کی سزا: جوئے بازی، جھوٹ، بے حیائی اور فحش ناچ گانے کی سزا دس کوڑے تک ہے۔ گالی گلوچ، لعن طعن اور غلط الزام تراشی کی سزا بیس کوڑے، شراب نوشی کی سزا چالیس کوڑے، زنا کی تہمت کی سزا جب کہ چار گواہ نہ لا سکے اسّی کوڑے اور زنا کی سزا سو کوڑے مقرر ہے خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ دونوں کو یعنی زانی اور زانیہ کو سو کوڑے کی سزا ہے۔ زنا بالجبر میں مرد کو سزا ملے گی اور عورت کو حد معاف ہوگی۔
(۵۵۵)وائل بن حجر سے روایت ہے ایک عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا۔ رسول اللهنے عورت کو حد سے بری قرار دے کر معاف فرمادیا اور مرد پر حد قائم کی۔ (ترمذی)
ہدایت(۵۵۶)عمرو بن العاص سے روایت ہے۔ فرمایا رسول اللهنے جس قوم میں زنا پھیل جاتا ہے اس قوم کو قحط پکڑ لیتا ہے یا وبا پھیل جاتی ہے۔ (مسند احمد)

طلاق

طلاق(۵۲۳)ابن عمر  روایت ہے فرمایا رسول اللهنے حلال چیزوں میں سب سے بری چیز طلاق ہے۔ (ابوداؤد)
(۵۲۴)ثوبان سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے جو عورت بے وجہ اپنے شوہر سے طلاق چاہے اس پر جنت حرام ہے۔ (احمد۔ ترمذی۔ ابوداؤد۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
(۵۲۵)محمود بن بسید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکھٹی تین طلاقیں دیں جب رسول اللهنے سنا تو غضب ناک ہو کر فرمایا الله تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ کھیلا جاتا ہے حالانکہ میں تمہارے درمیان ابھی موجود ہوں۔ (نسائی)
ممانعت(۵۲۶)عبدالله بن مسعود سے مروی ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے پھر کسی سے کہے تو اس عورت سے نکاح کر کے طلاق دیدے تاکہ میرے لئے اس سے نکاح کرنا جائز اور
حلال ہوجائےاور وہ دوسرا شخص ایسا ہی کرے یعنی نکاح کر کے طلاق دیدے تو ایسے دونوں شخصوں پر رسول اللهنے لعنت فرمائی ہے۔ (دارمی۔ ابن ماجہ)
مسئلہ(جب کوئی شخص اپنی عورت کو تین طلاق دیدے تو پھر اس عورت سے نکاح درست نہیں جب تک وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اگر دوسرا شوہراس کو چھوڑےدے تو پہلے کو نکاح کرلینا درست ہوگا، لیکن اس نیت سے نکاح کرنا کہ پہلے شوہر کو وہ عورت حلال ہوجائے تو اب نکاح فاسد اور حرام ہے۔)
تشریح (طلاق کی دو قسمیں ہیں، ایک رجعی دوسری بائن۔ رجعی طلاق یہ ہے کہ ایک بار طلاق دی پھر عدت یعنی طُہر پورے ہونے سے قبل رجوع کرلیا، اگرتین طُہر گزر جائیں اور رجوع نہ کیا جائے تو پھر یہ طلاق بائن ہوجائے گی یعنی پھر رجوع نہیں ہوسکتا۔ رجعی طلاق دوبار ہوسکتی ہے یعنی ایک بار طلاق دی پھر مدت کے دن پورے ہونے سے قبل رجوع کرلیا، دوسری بار طلاق دی اور عدت کے ایام پورے ہونے سے قبل رجوع کر لیا، اب پھر اگر تیسری بار طلاق دی تو رجوع جائز نہیں کیونکہ طلاق بائن ہوگئی تاوقتیکہ کوئی دوسرا شخص نکاح کر کے طلاق نہ دے یا وہ عورت بیوہ ہوجائے تو بعد عدت پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے)
محمد بن مسلمہ انصاری کی بیٹی سے رافع بن خدیج کا نکاح ہوا تھا جب رافع کی بیوی یعنی محمد بن مسلمہ انصاری کی بیٹی پر بڑھاپا چھا گیا تو رافع بن خدیج نےایک جوان عورت سے نکاح کر لیا اور نئی بیوی کی طرف زیادہ مائل ہوگئے۔ بڑھیا بیوی نے طلاق مانگی رافع نے طلاق دے دی پھر جب عدت گزرنے لگی تو رجعت کرلی مگر میلان نئی بیوی کی طرف ہی رہا، چند روز بعد بڑی بیوی نےپھر طلاق مانگی، رافع نے ایک طلاق دیدی جب ایام ختم کے قریب قریب پہنچے رجوع کرلیا مگر رغبت و میلان اسی چھوٹی بیوی کی طرف رہا۔ بڑی بیوی نے پھر چند روز کے بعد طلاق کی خواہش کی، تب رافع بن خدیج نے کہا تجھے کیا منظور ہے اب ایک طلاق رہ گئی ہے اگرتو اسی حال سے میرے پاس رہ سکتی ہے تو رہ اور بالکل قطع تعلق چاہتی ہے تو پھر تیسری طلاق بھی دے دوں گا، بیوی نے آخر انجام پر نظز ڈالتے ہوئے کہا مجھے اسی حال میں رہنا منظور ہے، رافع نے اسے رکھ لیا اور طلاق نہ دی، اگرچہ مرد پر عورتوں کے ساتھ عدل سے برتاؤ کرنا فرض ہے لیکن جب عورت خود اپنا حق ہمبستری چھوڑنے پر راضی ہوجائے تو مرد پر کچھ گناہ نہیں، رسول اللهحضرت سودہ کی رضامندی سے ان کی باری میں حضرت عائشہ کے پاس رہا کرتے تھے۔)
(نکاح کے بعد اگر عورت سے ہم بستری نہ کی ہو، اور طلاق کی نوبت آئے تو ایک ہی طلاق سے طلاق بائن قرار پاتی ہے اگر بعد نکاح ہم بستری ہو چکی تو پھر تین بار کی طلاقوں سے طلاق بائن ہوتی ہے۔ حضرت علی کرم الله وجہ  سے مروی ہے کہ جو شخص اپنی عورت سے کہے کہ تو مجھ پر حرام ہے تو تین طلاق پڑجائیں گے۔ اگر کوئی مرد اپنی عورت کو طلاق دے اور عورت کے دن یعنی تین طہر گزر جائیں تو طلاق بائن ہوجائے گی۔ اگر کوئی شخص ایک ہی جلسے میں تین طلاق دے تو ایک ہی طلاق ہوگی پھر جب عدت کے دن یعنی طہر گزر جائیں گے اس عرصے میں رجعت نہ کی ہوگی تو طلاق ہوجائے گی۔
ایک جلسہ میں ایک طلاق دے یا تین یا سو طلاق یا ہزار طلاق وہ ایک ہی طلاق ہوگی۔ اگر کوئی شخص طلاق بائن ہی دینا چاہے تو ہر طہر میں تین طلاق دیا کرے مگر اس طہر میں ہم بستری نہ کرے جب تین طہر گزریں گے تو تین طلاق پوری ہوجائیں گی۔
جب عورت کچھ مال شوہر کو اس شرط پر دے کہ وہ اس کو طلاق دے دے اور خاوند تین طلاق ایک ہی دفعہ اس کو دیدے تو تین طلاق پڑجائیں گے۔ کیونکہ خلع سے طلاق بائن ہوجاتی ہے پھر رجوع نہیں ہوسکتا جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کر ے اور خلوت صحیحہ ہوجائے تو مہر واجب ہوگیا۔ اگر خلوت صحیحہ کے بعد کوئی شخص طلاق دے تو پورا مہرا ادا کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص بعد نکاح قبل صحبت اپنی منکوحہ کو طلاق دے اور مہر مقرر ہوچکا ہو تو نصف مہر واجب الادا ہوگا ۔اگر مہر مقرر نہ ہو تو مہر مثل واجب ہوگا۔ مہر مثل اسے کہتے ہیں جو اس مرد اور عورت کے خاندان میں مقرر کیا جاتا ہو۔ مہر کے حق دار منکوحہ یا منکوحہ کے جائز ورثا ہیں۔
(کوئی عورت طلاق کے بعد ایام عدت یعنی تین طہر گزرنے سے قول کسی سے نکاح ثانی نہیں کرسکتی طلاق اور خلع کی عدفت ایک ہی ہے یعنی طہر)
خلع(۵۲۷)ابن عباس سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی رسول اللهکی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یارسول اللهثابت بن قیس پر مجھ کو غصہ نہیں ہے اور نہ اس کے خلق اور دین میں کوئی عیب ہے مگر مجھ کو اس سے محبت نہیں ہے فرمایا کیا تو اس کا وہ باغ جو اس نے مہر میں دیا ہے۔ واپس کردے گی؟؀ اس نے کہا ہاں۔ رسول اللهنے ثابت کو بلا کر فرمایا تیری اس بیوی حبیبہ بنت سہل نے جو کچھ الله تعالیٰ کو منظور تھا مجھ سےکہا، تو اپنا باغ لے لے اور اس سے قطع تعلق کرلے۔ انہوں نے اپنا مال لے لیا اور حبیبہ اپنے میکے میں بیٹھ رہیں۔ (موطا۔ بخاری)
یہ پہلا خلع تھا، اس کو خلع کہتے ہیں کہ خاوند عورت سے کچھ مال لے کر اس کو چھوڑے دے، اگر عورت جتنا خاوند نے اس کو دیا ہے اس سے زیادہ خاوند کو دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو اس میں کچھ قباحت یا کراہت نہیں۔
جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو پھر اپنے خاوند سے مل نہیں سکتی کیونکہ خلع سے طلاق بائن ہوتی ہے جس کے بعد رجعت نہیں ہوسکتی)
(۵۲۸)ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے شوہروں کی نافرمانی کرنے والی اور بے وجہ خلع کا مطالبہ کر نے والی عورتیں منافق ہیں۔ (نسائی)
مسئلہ(جوان العمر عورت کا شوہر نامرد ہو یا کسی خبیث بیماری میں مبتلا ہو۔ جیسے برمن ۔ جذام۔ جنون۔ آتشک۔ سوزاک۔ بواسیر۔ گندہ دہنی اور عورت برداشت نہ کرستی ہو یا جنسی خواہشات و جذبات پر قابو نہ پاسکتی ہو یا شوہر ضروریات زندگی پوری نہ کرتا ہو اور ظلم بیجا کا خوگر ہو تو خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے اور اس کا یہ مطالبہ جائز ہوگا۔)
(اگر کوئی شخص اس خیال سے کہ عورت کو ترکہ نہ پہنچے اپنی بیماری کی حالت میں طلاق دے کر مرجائے تو جب تک وہ عورت عقد ثانی نہ کرے تر کہ کی وارث ہوتی ہے۔ عبدالرحمٰن بن عوف نے مرض الموت میں اپنی بیوی کو طلاق دی تھی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی مطلقہ بیوی کو حضرت عثمان نے ترکہ میں سے حصہ دلایا اگر بیماری کی حالت میں ایسی عورت کو طلاق دے کر مرجائے جس سے صحبت نہ کی ہو۔ تو اس کو آدھا مہر اور ترکہ ملے اور عدت لازم نہ آئے گی۔ اور اگر مریض جمع کے بعد طلاق دے کر مرے تو مطلقہ کو پورا پورا مہر ملے گا اور عدت لازم ہوگی۔)
(مرد کو لاز م ہے کہ طلاق کے ساتھ عورت کو بطور سلوک کچھ دے اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق حیض کی حالت میں طلاق دینا ممنوع ہے۔ عبدالله بن عمر نے اپنی عورت کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی رسول اللهنے فرمایا جب تک حیض سے پاک نہ ہو۔ طلاق جائز نہیں جب طہر شروع ہو تو طلاق دو تاکہ تین طہر پورے ہونے پر طلاق بائن ہوجائے تین قروء کی جو مدت مقرر ہے جس سے تین طہر مراد ہیں۔ جب شروع طہر میں طلاق دی جائے تو تیسرا حیض شروع ہونے پر طلاق بائن ہوجائے گی اور تعلق منقطع ہوجائے گا پھر تو مرد عورت کا وارث ہوگا اور نہ عورت مرد کی وارث ہوگی اور نہ رجعت ہوسکے گی۔
(مطلقہ کی عدت تین ماہ، بیوہ کی عدت چار ماہ دس مقرر ہے۔)
مطلقہ اگر حاملہ یا ایّام عدت شوہر کے گھر میں گزارے تو اس کا نفقہ خاوند پر ہے۔ حاملہ کا نفقہ وضع حمل تک اور غیر حاملہ کا نفقہ تاختم عدت ہے۔
طلاق کے بعد عورت مختار ہے چاہے تو عدت کے دن خاوند کے گھر گزارے یا اپنے عزیزوں میں چلی جائے۔ اگر خاوند مطلقہ بیوی پر ظلم و تشدد نہ کرے اور عدت کے ایّام میں مطلقہ کی ضروریات زندگی مہیا کرسکے تو عورت کے لئے اسی گھر میں عدت گزارنا بہتر ہے جس گھر میں طلاق ہوئی ہے۔ بشرطیکہ جان و آبرو کا خطرہ نہ ہو)
(بیوہ)عورت کو بھی اسی مکان میں عدت گزارنی چاہیے۔ جہاں اس کے شوہر نے وفات پائی ہو اگر کوئی عذر پیش آئے۔ جیسے مکان کا اکیلا ہونا یا کرایہ مکان ادا نہ کرسکنا یا لڑائی جھگڑا ہونا یا کوئی اچانک حادثہ کا پیش آنا تو اس مکان سے اٹھ جانا درست ہے۔
(مطلقہ یا بیوہ اگرحاملہ ہوتووضع حمل کے بعد عدت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ عدت کی غرض و غایت حمل کا ظاہر ہونا ہی ہے۔)
ہدایت (ایّام حمل میں مجامعت سے یا شیر خورانی کے ایّام میں حمل قرار پانے سے جنبین پر اثر پڑتا ہے)
مسئلہ(۵۲۹)حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ اگر کسی عورت کا شوہر گم اور لاپتہ ہوجائے تو چار برس انتظار کرے اور پھر چار ماہ دس دن عدت کر کے چاہے تو نکاح کرلے۔ عقد ثانی کے بعد اگر مفقود الخبر شوہر واپس آجائے تو عورت کا حق دار نہ ہوگا یعنی اسے عورت پر کچھ اختیار نہ ہوگا۔ (موطا)
(اگر کوئی متاہل مرد یا عورت اسلام سے منحرف ہو کر مرتد ہوجائے یا کلمات کفر و شرک علانیہ ارادتاً زبان پر لائے تو نکاح رجوع فسخ ہوجاتا ہے بشرطیکہ دونوں میں سے کوئی ایک راہ راست پر ہو اور دوسرا گمراہ، بعد توبہ و ادائے کفارہ رجوع کر سکتے ہیں کیونکہ تبدیلی مذہب یا الحاد و بے دینی سے نکاح فسخ ہوتا ہے طلاق نہیں پڑتی۔)
(اگر کوئی مرد نکاح کے کچھ عرصہ بعد کسی سبب سے ازکار رفتہ یعنی ناکارہ نامرد ہوجائے تو علاج کے لئے ایک برس کی مہلت دی جائے اس عرصہ میں صحت یاب نہ ہو تو عورت کی درخواست پر مسلمان حاکم یا قاضی تفریق کردینے کا مجاز ہوگا۔)
(بیوہ کے لئے ایام عدت میں بناؤ سنگار کرنا منع ہے)
ایلاء (کوئی مرد قسم کھائے کہ میں اپنی عورت سے ہم بستری نہ کروں گا۔ اس کو ایلاء کہتے ہیں، اگر ایلاء کو چار ماہ سے زائد گزر جائیں تو ایک طلاق پڑجائے گی، اس طلاق کی عدت یعنی تین طہر پورے ہونے سے قبل رجعت ہوسکتی ہے قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوگا۔ اگر ایلاء کے چار ماہ اور عدت کے تین ماہ گزر جائیں اور اس عرصہ میں رجوع نہ کیا جائے تو طلاق بائن پڑ جائے گی پھر رجعت نہیں ہو سکتی۔
اگر ایلاء کو چار ماہ کا عرصہ نہ گزرے تو طلاق نہ پڑے گی اس عرصہ میں اگر ہم بستری کرے تو قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا کم ازکم تین روزے یادس یا چھ مسکین کی دعوت طعام یا ایک بکری کی قربانی کا صدقہ)
ظِہار (اپنی عورت کے کسی عضو کو اپنی ماں یا بہن یا بیٹی کے اعضا سے تشبیہ دینے کو ظہار کہتے ہیں ظہار بدترین گناہ ہے، ظہار واقع ہوتے ہی عورت حرام ہوجاتی ہے جب تک ظہار کا کفارہ ادا نہ کرے طلاق معلق رہے گی۔)
ظہار کاکفارہ ہے ایک بردہ آزاد کرنا یا دو ماہ مسلسل روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا اگر ظہار کے بیہودگی سے صرف عورت کو ضرر پہنچانا مقصود ہو اورکفارہ ادا کرنے کی نیت نہ تو ایلا ہوجائے گا۔
لعان(۵۳۰)عبدالله بن عمر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے لعان کیا اور اپنے لڑکے کو کسی غیر کا کہا، رسول اللهنے دونوں میں تفریق کرادی اور لڑکے کو ماں کے حوالے کردیا۔ (موطا)
(شرعی اصطلاح میں لعان اس کو کہتے ہیں کہ کوئی مرد اپنی عورت پر زنا کی تہمت لگائے تو قاضی یا مسلمان حاکم میاں بیوی کا حلفیہ بیان لے کر تفریق کرادے۔
جب کوئی مرد اپنی عورت پر زنا کی تہمت لگائے تو اس کو چار گواہ عینی پیش کرنا ہوگا اگر گواہ نہ لاسکے تو حاکم آخری فیصلہ کے لئے دونوں سے حلفیہ بیان لے گا، دونوں میں ہر ایک کو چار بار الله کی قسم کھا کر پانچویں بار یہ کہنا ہوگا کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہو اس پر الله کا قہر وغضب نازل ہو۔ اس کے بعد حاکم یا قاضی باہم تفریق کرادے گا۔ پھر میاں بیوی آپس میں کبھی نکاح نہیں کرسکتے۔ کیونکہ لعان کے فیصلہ کے بعد تفریق مدّت العمر کے لئے ہوتی ہے۔ اگر بعد ان کے مردو خود کو جھٹلائے تو اس پر حدقذف پڑے گی اور جنبین یا مولود کا نسب اس سے ملادیا جائے گا۔)
ہدایت(۵۳۱)ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے جو عورت زنا کا بچہ جنے اور اس کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کردے وہ جنت میں داخل نہ ہوگی۔ اور مرد انکار کرے اپنے بچہ کا یہ جانتے اور یقین رکھتے ہوئے کہ وہ بچہ درحقیقت اسی کا ہے تو الله تعالیٰ اس کو اگلے اور پچھلے لوگوں میں رسوا کرے گا اور قیامت کے دن اس کو دیدار الٰہی نصیب نہ ہوگا۔ (ابوداؤد۔ نسائی۔ دارمی۔)
(۵۳۲)ابن عمر سے روایت ہے رسول اللهنے لعان کرنے والے سے فرمایا کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے،اب تیرا اس عورت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ تفریق دائمی ہے اور یہ عورت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تجھ پر حرام ہے۔ اس شخص نے عرض کیا یارسول اللهمیرا دیا ہوا مہر اورمال فرمایا اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے مہر اور مال ہم بستری کے بدلے میں گیا اور اگر تیرا دعویٰ جھوٹا ہے مہر کا واپس لینا تجھ سے بہت بعید ہے۔ (بخاری و مسلم)
(۵۳۳)ابوہریرہ سے روایت ہے ایک دیہاتی رسول اللهکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری بیوی نے ایک سیاہ فام بچہ جنا ہے جو میرے نطفہ سے نہیں۔ رسول اللهنے فرمایا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں عرض کیا ہاں، فرمایا ان کے بالوں کا رنگ کیسا ہے؟ عرض کیا سرخ، فرمایا سرخ اونٹوں کے بچے خاکستری رنگ کے کیسے پیدا ہوگئے؟ عرض کیا کوئی رنگ ہے جس نے ان کو خاکی رنگ بنادیا، فرمایا شاید اسی رنگ نے تیرے بچہ میں کالا رنگ پیدا کردیا ہو، (بخاری و مسلم)
(محض رنگ کا فرق موجب شبہ نہیں ہوسکتا)
(۵۳۴)سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف خود کو منسوب کرے اس پر جنت حرام ہے۔ (بخاری و مسلم)
کفران نعمت(۵۳۵)ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے اپنے حقیقی باپوں سے اعراض نہ کرو یعنی ان کے نسب سے خود کو بیگانہ اور غیر نہ بناؤ اس لئے کہ جس شخص نے اپنے باپ کے نسب سے اعراض کیا اس نے کفران نعمت کیا۔، (بخاری و مسلم)
(کفران نعمت کی سزا جہنم ہے)
سوگ(۵۳۶)ام حبیبہ ، ام عطیہ ، زینب بن حجش سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے کوئی مسلمان عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے مگر شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن تک ایام مدت میں سوگ کیاجائے اور ان دنوں میں نہ تو رنگین کپڑے پہنے اور نہ مہندی و سرمہ لگائے۔ (بخاری و مسلم)
ہدایت(۵۳۷)عمرو بن شعیب روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول الله کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرا بیٹا جس کو میں نے پالا پرورش کیا۔ مدتوں میرا پیٹ اس کا برتن رہا۔ میری چھاتی اس کی مشک رہی اور میں گود اس کا گہوارہ، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ مجھ سے اس کو چھین لینا چاہتا ہے رسول اللهنے فرمایا جب تک تو دوسرا نکاح نہ کرے اس کی پرورش کی زیادہ مستحق ہے۔ (ابوداؤد)
(۵۳۸)ابوہریرہ سے روایت ہے ایک عورت نے رسول اللهکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میرا شوہر چاہتا ہے کہ میرے بیٹے کو لے جائے حالانکہ اب وہ اس قابل ہوا ہے کہ میری خدمت کر ے اور مجھے نفع پہنچائے۔ رسول اللهنے باپ اور بیٹے کو طلب فرما کر لڑکے سے فرمایا یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کے پاس تو رہنا پسند کرے اس کا ہاتھ پکڑ لے، لڑکے نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اس کو لے گئی۔ (ابوداؤد۔ نسائی۔ دارمی)
(لڑکے کو اختیار دیا گیا چاہے ماں کے پاس رہے یا باپ کے پاس رہے)
(۵۳۹)حضرت عائشہ سے روایت ہے رسول اللهکی خدمت میں ایک عورت نے عرض کیا کہ میرا شوہر نہایت بخیل آدمی ہے مجھ کو اس قدر نہیں دیتا جو میرے اور میری اولاد کے مصارف کے لئے کافی ہو، اگر میں اس کے مال میں سے بقدر ضرورت اس طرح نکال لوں کہ اس کو خبر نہ ہو تو جائز ضروریات پوتی ہو سکتی ہیں۔ رسول اللهنےفرمایا جب وہ مالدار ہے اور اہل و عیال کی جائز ضروریات پوری نہیں کرتا تو بقدر ضرورت تو اس کے مال میں سے لے لیا کرو اوراپنے اور اس کی اولاد کے شرعی حق کے برابر خرچ کر لیا کر۔ (بخاری و مسلم)
(۵۴۰)جابر بن سمرہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللهنے جب الله تعالیٰ تم سے کسی کو مال عطا فرمائے تو اس کو چاہیے کہ اپنی ذات اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرے۔ (مسلم)
(۵۴۱)ابو موسیٰ سے روایت ہے رسول اللهنے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو باپ اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالے یا دو بھائیوں کو علیحدہ علیحدہ کردے۔ (ابن ماجہ۔ دارقطنی)

بیوی کے خاوند پر حقوق

 حقوق الزوجین  میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق
 بیوی کا رُتبہ و حیثیت
بلا شک  خاوند جی کو اللہ تعالیٰ نے بیوی پر برتری اور افضلیت عطاء فرمائی ہے ، اپنے کلام پاک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان مبارک سے خاوند کو بیوی کا مالک و آقا قرار دِیا ہے ، لیکن اُسے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی اِس برتری کو جب ،جہاں اور جیسے چاہے اِستعمال کرتا پھرے ، جِس خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو برتری عطاء فرمائی ،اِسی خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوندکو اپنی طرف سے دی گئی برتری کے استعمال کے لیے حد بندی کر دی ، اور وہ اللہ ہے جو اکیلا خالق ہے اور اُس کے عِلاوہ ہر کوئی اُس کی مخلوق ہے اور خالق اپنی مخلوق کے بارے میں کِسی بھی دوسری مخلوق سے بڑھ کر یقینی عِلم رکھنے والا ہے اور زبردست حکمت والا ہے
پس اپنی حکمت سے اُس نے خاوند کو عظمت دی اور اپنی حکمت سے اُس کے لیے حدود مقرر فرمائیں اور اپنی کتاب میں اُن کو ذِکر فرمایااور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان مُبارک سے جب چاہا اُن حدود کو بیان کروایا
خاوند حضرات اپنی برتری کی سرشاری میں یہ مت بھولیں کہ اُنکے خالق و مالک نے اُنہیں برتری عطاء فرمانے سے پہلے اُنہیںیہ بھی بتا یا ہے کہ ( وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ )   ( اور عورتوں کے لیے بھی ویسا ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق )ہے ) اور پھر فرمایا ( ولِلرِّجَالِ عَلِیھِنَّ دَرجۃٌ) ( اور ( اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ ) عورتوں پر مَردوں کا درجہ( بلند ) ہے ) سورت البقرۃ/آیت ٢٢٨
اور خاوند کے لیئے حُکم فرمایا ( و عاشِرُوھُنَّ بِالمَعرُوفِ ) ( اور اُن کے ساتھ نیکی والا رویہ رکھتا ہوئے زندگی بسر کرو ) سورت النساء /آیت٤،
عاشر کا لفظیٰ معنی  مل جل کر زندگی بسر کرنا بنتا ہے ، اور میل جول بُرائی اور ظُلم والا بھی ہوتا ہے اور نیکی اور بھلائی والا بھی ، اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو یہ حُکم دِیا کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی اور خیر والی زندگی بسر کریں ، نہ کہ بُرائی اور ظُلم والی ، یہ ایک عام اجمالی حُکم ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیتا ہے ، اورمزید وضاحت کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام صادر فرمائے ، آئیے اُن کا مُطالعہ کرتے ہیں
 خاوند پر بیوی کے حقوق
پہلا حق  یوی کا مہر ادا کرنا
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا حُکم ہے (وَآتُوا النَّسَاء صَدُقَاتِہِنَّ نِحلَۃً)( اور بیویوں کو اُن کا مہر ادا راضی خوشی ادا کرو) سورت النساء /آیت ٤
اور مزید حُکم ہے (فَمَا استَمتَعتُم بِہِ مِنہُنَّ فَآتُوہُنَّ اُجُورَہُنَّ فَرِیضَۃ) ( اور جو تُم نے اُن سے (جنسی) لذت و فائدہ حاصل کیا ہے اُس کے لیے اُن کی قیمت (مہر) ادا کرو ، یہ( تُم پر) فرض ہے ) سورت النساء /آیت ٢٤،
اور مزید حُکم فرمایا (فَانکِحُوہُنَّ بِاِذنِ اَہلِہِنَّ وَآتُوہُنَّ اُجُورَہُنَّ بِالمَعرُوف) ( اور عورتوں سے اُن کے گھر والوں کی اجازت سے نکاح کرو اور اُن عورتوں کو اُن کی قیمت معروف طریقے پر ادا کرو) سورت النساء /آیت ٢٧
عورت اپنے نکاح کو جو مہر مقرر کرے اور جِس پر اُس سے نکاح کرنے والا اتفاق کر لے وہ مہر اُس عورت کا خاوند پر حق ہو جاتا ہے ، ہم بستری ہو چکنے کی صورت میں وہ خاوند وہ مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہے ، فوراً یا بعد میں جیسے بھی نکاح سے پہلے اتفاق ہوا تھا
اہم فوائد : اُوپر ذِکر کی گئی آیات میں سے دوسری آیت مکمل پڑہی جائے تو  ‘ متعہ ‘ کا حرام ہونا ثابت ہوتا ہے ، اور آخری آیت کورٹ میرج اورکِسی عورت کا اپنے گھر والوں کی اِجازت کے بغیر نکاح کرنے کو حرام قرار دینے کے دلائل میں سے ایک ہے
 دوسرا حق : خاوند بھی خود کو بیوی کے لیے صاف سُتھرااور بنا سنورا رکھے
اُوپر بیان کی گئی دو میں سے پہلی آیت مُبارکہ کی تفسیر میں ، مُفسرِ قُران عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے  ( مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اپنی بیوی کے لیے خود کو بنا سنوار کر رکھوں جیسا کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے بنی سنوری رہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ ) ( اور عورتوں کے لیے بھی ویسے ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق ہے ) ) تفسیر ابن کثیر ، سورت البقرۃ / آیت ٢٢٨
 تیسرا حق : نرمی والا رویہ رکھے اور اُسے (بلا حق ) تکلیف اور اذیت نہ پہنچائے
بیوی کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی نافرمانی کے عِلاوہ اگر کِسی اور معاملے میں اُس سے کوئی غلطی ، کوتاہی وغیرہ ہوتی ہو تو خاوند اُسکے ساتھ نرمی والا رویہ رکھے اُس پر سختی نہ کرے اور زُبان یا ہاتھ سے یا کِسی بھی طور اُسے دُکھ یا اذیت نہ پہنچائے، اور صبر کرتے ہوئے اُسے سمجھاتا رہے ، اور اُسکی غلطیوں کوتاہیوں پر صبر کرنے کےلیے اُسکی نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف توجہ کرے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دِیا ( لَا یَفرَک مُؤمِنٌ مؤمنۃٌ اِن کَرِہَ مِنہَا خُلُقًا رَضِی مِنہَا آخَرَ ) ( کوئی اِیمان والا (خاوند) کِسی اِیمان والی (بیوی) کو غُصہ(و غم) نہیں دِلاتا ، اگر اُس (بیوی )کا کوئی کام خاوند کو نا پسند ہو تو کوئی دوسرا کام پسند بھی ہو گا) صحیح مُسلم / حدیث ١٤٦٩ /کتاب الرضاع / باب ١٨
اور جیسا کہ ایک دفعہ ایک صحابی رضی اللہ عنہُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا  اے اللہ کے رسول ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے ؟ ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اَن تُطعِمَہَا اِذ طَعِمتَ وَتَکسُوَہَا اِذا اکتَسَیتَ او اکتَسَبتَ ولا تَضرِب الوَجہَ ولا تُقَبِّح ولا تَہجُر اِلا فی البَیتِ ) ( (بیوی کا حق )یہ ہے کہ جب تُم کھاؤ تو اُسے بھی کِھلاؤ اور جب تُم (نئے) کپڑے پہنو یا کمائی کرو تو اُسے بھی پہناؤ ، اور نہ اُسکے چہرے پر مارو ، اور نہ اُسکے لیے (کچھ) بُرا ہونے کی دُعاء کرو ، اور نہ ہی گھر سے باہر کہیں اُسکو خود سے الگ کرو ) سُنن ابی داؤد /حدیث ٢١٤٢ /کتاب النکاح /باب ٤٢، مُسند احمد /حدیث ٢٠٠٢٥ / حدیث حکیم بن معاویہ /پہلی روایت ، سنن ابن ماجہ / حدیث ١٨٥٠ /کتاب النکاح/ باب٣،اِمام الالبانی نے کہا حدیث حسن صحیح ہے ۔

جنسی اعضاء کے ساتھ منہ کا استعمال

جنسی اعضاء کے ساتھ منہ کا استعمال
بیوی کے منہ میں عضو تناسل ڈالنا یا اس کی فرج میں اپنی زبان داخل کرنا اور اسے اندرونی طرف سے چاٹنا وغیرہ بھی مذموم جنسی اعمال میں سے ہیں۔ اسلام کی پیش کردہ مثبت جنسی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے نوجوان طبقہ نے مغربی ذرائع سے جنسی معلومات حاصل کرنے پر اکتفاء کیا اور ایسی جنسی خرافات ہمارے معاشرے میں بھی رائج ہونے لگیں۔فطرت سلیمہ ایسے سفلی عمل کو ناگوار گردانتی ہے اور ایک عام عقلمند شخص بھی ایسی حرکتوں‌ کو مہذب قرار نہیں‌ دے سکتا۔
مباشرت کے دوران میاں‌ بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو زبان لگانا یا چاٹنا مکروہ عمل ہے اور اگر اس دوران میں‌ ایک دوسرے کی جنسی رطوبتیں (منی وغیرہ) منہ میں چلی جائیں‌ تو یہ عمل حرام کے زمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔

کسی قسم کی جنسی بیماری کی صورت میں جنسی اعضاء کے ساتھ منہ کے استعمال سے جنسی انفکشن کا بھی خطرہ ہوتا ہے، اگرچہ یہ خطرہ جنسی ملاپ کی صورت میں ممکنہ خطرے کی نسبت کم ہوتا ہے۔

جنسی اعضاء کے ساتھ منہ کے استعمال سے ممکنہ طور پر لاحق ہونے والے چند انفکشن یہ ہیں
 کلیمائیڈیا
 سوزاک (گنوریا)
آتشک
 ایچ آئی وی
 ہیپاٹائیٹس اے،بی اور سی
 جنسی اعضاء پر پھوڑے/پھنسیاں
جنسی اعضاء پر جوئیں

Read More

دوران حیض مباشرت Intercourse during Menses

حیض‌ کے دوران مباشرت ایک ناپسندیدہ عمل ہے، جس کے بہت سے میڈیکل نقصانات بھی ہیں۔ حیض کے دوران مباشرت سے عورت کو تکلیف ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں دوران حیض مباشرت کو صریح لفظوں‌ میں‌ ممنوع قرار دیا ہے۔وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ

(القرآن، البقرہ، 2 : 222)
اور آپ سے حیض (ایامِ ماہواری) کی نسبت سوال کرتے ہیں، فرما دیں: وہ نجاست ہے، سو تم حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ کش رہا کرو، اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جایا کرو، اور جب وہ خوب پاک ہو جائیں تو جس راستے سے اﷲ نے تمہیں اجازت دی ہے ان کے پاس جایا کرو، بیشک اﷲ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

بعض‌ مرد حیض کے دنوں‌ میں‌ اپنی بیوی سے یوں‌ دور رہتے ہیں جیسے اسے کوئی چھوت کی بیماری ہو۔ ایسا رویہ قطعا اسلامی نہیں ہے، بلکہ اسلام کی رو سے حیض کے دوران مباشرت کے علاوہ میاں‌ بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ کسی بھی طریقے سے کھیلنا اور تسکین حاصل کرنا جائز ہے۔

مباشرت میں‌ کون کون سے طریقے جائز ہیں؟ What Sex Positions are Allowed in Islam

قرآن و حدیث کی رو سے ممنوع قرار دیئے جانے والے طریقوں کے علاوہ میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلقات استوار کرنے کے تمام طریقے جائز ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں‌ خود اللہ رب العزت نے فرمایا ہے
نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُم (القرآن، البقرہ، 2 : 223)
تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ۔بیوی کو اس کے شوہر کی کھیتی قرار دے کر اللہ تعالی نے مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ جنسی عمل کی صورت میں‌ تسکین حاصل کرنے کی مکمل آزادی فراہم کر دی۔

جیسے ایک کسان زمین میں‌ ہل چلاتا اور بیج بوتا ہے اور بعد ازاں فصل پکنے پر اپنا پھل حاصل کرتا ہے، اسی طرح شوہر اپنی بیوی سے ملاپ کی صورت میں اس کے حمل کا باعث بنتا ہے اور مقررہ مدت کے بعد بیوی کے پیٹ سے اس کا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ یوں‌ اللہ تعالی نے ایک نازک حقیقت بڑے مناسب پیرائے میں‌ کھول کر بیان کر دی۔

جس طرح ایک کسان کو اس بات کی آزادی ہوتی ہے کہ وہ موسم کی مناسبت سے جب چاہے جیسے چاہے اپنے کھیت میں‌ ہل چلائے، بیج بوئے، زمین کو پانی سے سیراب کرے اور فصل اگائے اسی طرح مرد کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی بیوی سے ہر قسم کا جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے (سوائے ان بعض طریقوں‌ کے جنہیں اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے)

دواء خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

مباشرت کا بہترین وقت

مباشرت کا بہترین وقت
مباشرت کے لئے سب سے بہتر وقت وہ ہے جب میاں بیوی دونوں مباشرت کی سچی خواہش اپنے دل میں محسوس کریں۔ یعنی اس وقت جب منی کی کثرت کی وجہ سے عضو مخصوصہ میں خودبخود حرکت پیدا ہو یا طبعیت خود بخود اس کی طرف راغب ہو۔
مباشرت اس وقت کرنی چاہئے جب کھانا اچھی طرح ہضم ہو چکا ہو، یعنی کھانے سے چار گھنٹے بعد۔ کھانے کے فوری بعد مباشرت سخت نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس وقت معدہ غذا کو ہضم کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔ اس وقت مباشرت کرنے سے انسانی جسم کی مشینری دوسری طرف لگ جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں غذا صحیح طور پر ہضم نہیں ہو پاتی اور ضعف ہضم کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا مسلسل ہوتا رہے تو معدہ کمزور ہو جاتا ہے اور ہلکا بخار رہنے لگتا ہے اور بعض اوقات یہ مرض انسان کی جان بھی لے لیتا ہے۔خالی معدے کی حالت میں بھی مباشرت صحت کے لیے نہایت مضر ہے۔ اس حالت میں مباشرت کرنے سے بدن میں‌ موجود چربی پگلنے لگتی ہے اور انسان کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ طبی نقطہ نگاہ سے مباشرت اس وقت کرنی چاہیئے جس وقت نہ تو معدہ غذا سے خالی ہو اور نہ ہی خوب بھرا ہوا ہو۔ غذا کو کھائے ہوئے اتنا عرصہ گزر چکا ہو کہ غذا معدہ میں تحلیل ہو کر جگر کی طرف متوجہ ہو رہی ہو۔ عام طور پر کھانا چار گھنٹے میں تحلیل ہو کر جگر کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔کسی خوبصورت عورت کو دیکھنے سے مرد کے دل میں جو خواہش پیدا ہوتی ہے وہ مصنوعی ہوتی ہے۔ اس حالت میں مباشرت حقیقی لطف نہیں‌ دیتی۔ حقیقی لطف اس مباشرت میں ہے جب کثرتِ منی کی وجہ سے بغیر خیال کئے ہوئے خودبخود طبیعت میں جماع کا خیال پیدا ہو۔ ایسی حالت میں مباشرت کرنے سے بدن ہلکا ہو جاتا ہے، طبیعت سے بوجھل پن دور ہو جاتا ہے، سکون محسوس ہوتا ہے اور نیند آنے لگتی ہے۔ یہی فطری مباشرت ہے۔

 

Read More