Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

کثرت سے خود لذّتی کیسے بچا جاے

کثرت سے خود لذّتی کیسے بچا جائے

کثرت سے خود لذّتی کیسے بچا جاے خود لذّتی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ذیل میں چند تجا و یزدی جا رہی ہیں۔
یہ عمل اُس صورت میں مسئلہ بنتا ہے۔جب اِس کی وجہ سے آپ کی زندگی اور آپ کے تعلقات پرروز مرّہ منفی اثرات مُرتّب ہو رہے ہوں۔اگر خود لذّتی کے عمل میں بہت زیادہ وقت صَرف ہورہاہے اور دِیگر اہم کاموں کے لئے وقت نہیں بچ رہا ہو تو آپ کو اپنا روّیہ تبدیل کرنا چاہئے ۔ ۔آپ کو معلوم کرنا ہوگا کہ خود لذّتی کا عمل بہت زیادہ کرنے کا سبب کیا ہے ۔
ذہنی طور پر پُرسکون ہوجائیے اور غور کیجئے کہ آپ کو خود لذّتی کے عمل کی ضرورت کیوں محسوس کرتے ہیں۔آپ کس بات سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
اپنے احساسات سے نمٹنا سیکھئے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ۔بوریت کی وجہ سے خود لذّتی کا عمل کرتے ہوں۔
٭کثرت سے خود لذّتی کرنے کے عمل کی عادت کو اپنے خیالات میں تبدیلی لانے کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے اپنے مسائل کے حل کے لئے ،خود لذّتی کا عمل کرنے کی اِجازت نہیں دینا چاہئے ۔اپنی زندگی سے زیادہ لطف حاصل کرناسیکھئے ۔
یہ بات معلوم کیجئے کہ دِن کے کن حِصّوں میں سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ،مثلأٔ جب آپ رات کے وقت لیٹتے ہیں تو آپ کو بڑی کوشش کرنا پڑتی ہے ۔ورزش سے آپ کے تناؤ کو کم کرنے میں مدد مِل سکتی ہے اور آپ کو نیند جَلد آسکتی ہے ۔ایسے اوقات معلوم کے برے میں جانیں اور بچنے کی خوششں کریں۔
٭اپنی عادات کو تبدیل کیجئے ۔اگر آپ بوریت کی کیفیت کوکافی وقت جاری رکھتے ہیں اور صِرف عریاں فلمیں دیکھتے رہتے ہیں ،تو خود لذّتی کی عادت پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا اپنے گھر سے باہر نکلئے اور لوگوں سے ملاقات کیجئے
خود لذّتی کے خیالات کو ،ربر بینڈکے ذریعے چَوٹ لگانے سے ہٹایا جاسکتا ہے ۔مقصد خود کو نقصان یا چَوٹ پہنچانا نہیں ہے بلکہ اپنے ذہن سے خود لذّتی کا خیال دُور کرنے کا اِمکان پیدا کرنا ہے۔
اگر آپ کو بستر پر جانے پر خود لذّتی کا عمل کرنے کی خواہش ہوتی ہے تو پہلے ،ورزش کیجئے اور توانائی صَرف کیجئے اور خود کو یقین دِلائیے کہ آپ خود لذّتی کی عادت کو چھوڑ سکتے ہیں اور اِسے چھوڑدیں گے۔
یاد رکھئے کہ اصل مسئلہ آپ کے ذہن میں ہے ،اگر آپ چاہیں تو ایک قِسم کے خیالات کو دوسری قِسم کے خیالات سے تبدیل کر سکتے ہیں۔آپ میں اِسے روکنے کی قوّت موجود ہے۔
اپنے کمپیوٹر کو ایک ایسی جگہ رکھ دیجئے جہاں دُوسرے لوگ بھی اِسے دیکھ سکتے ہوں،اِس طرح عریاں فلمیں سے بچنے میں مدد ملے گی۔
خود لذّتی کے عمل سے ہمیشہ کے لئے گریز کرنے کی کوشش نہ کیجئے ،صِرف اِس کی تعدا کو کم کرنے کی کوشش کیجئے
عضو تناسل کی معمول کی لمبائی کتنی ہوتی ہے اور کیا اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
معمول کے مطابق انفرادی طورعضو تناسل کی جسامت اور بناوٹ میں فرق ہوتا ہے ،اورعضو تناسل کی لمبائی میں بعض مخصوص تحریکوں کے لحاظ سے اِضافہ یا کمی بھی واقع ہو سکتی ہے۔ عام طور پر عضو تناسل کی لمبائی میں اِضافہ اِس کے تناؤ کی وجہ سے ہوتا ہے ،اِس کے علاوہ آرام اور سکون کی حالت میں ،عضو تناسل کی لمبائی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔اِسی طرح ذہنی تناؤ ،ٹھنڈی ہَوا یا ٹھنڈے پانی کے اثر سے عضو تناسل سُکڑ جاتا ہے ۔مختلف مَردوں میں عضو تناسل کی بناوٹ بھی مختلف ہوتی ہے۔اکثر صورتوں میں معمول کی جسمانی بناوٹ کے لحاظ سے عضو تناسل میں خم بھی پایا جاتا ہے
اکثر مردوں کے عضو تناسل کی،تناؤ نہ ہونے کی حالت میں گولائی 4.13 سے 3.14 اِنچ تک ہوتی ہے اور لمبائی 4.92 سے 2.36 اِنچ تک ہوتی ہے ۔اور عضو تناسل کی تناؤ ہونے کی حالت میں گولائی 3.66 سے 5.11 اِنچ تک ہوتی ہے اور لمبائی 3.74 سے 5.70 اِنچ تک ہوتی ہے ۔ ایک انتہائی چھوٹا عضو تناسل وہ ہوتا ہے جس کی لمبائی تناؤ کی حالت میں ایک اِنچ ہوتی ہے ۔ایسا بہت ہی کم صورتوں میں ہوتا ہے ۔ایسی صورت کا تناسب ، ایک ہزار مَردوں میں سے ایک مَرد ہے ۔ عضو تناسل کی لمبائی بڑھانے کے لئے کوئی کریم ،دوا یا قابلِ اعتماد طریقہ دستیاب نہیں ہے۔

خود لذّتی کرتا ہُوں/کرتی ہُوں،کیا کوئی ایسا طریقہ جس کے ذریعے اِس عادت کو کنٹرول کیا جاسکے ؟

  خود لذّتی کرتا ہُوں/کرتی ہُوں،کیا کوئی ایسا طریقہ جس کے ذریعے اِس عادت کو کنٹرول کیا جاسکے ؟

خودلذّتی کا عمل ایک عام عمل ہے جسے تقریبأٔ تمام مَرد اور عورتیں ،اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں اختیار کرتی ہیں ۔طبّی لحاظ سے ،خودلذّتی کے عمل سے کوئی ذیلی اثرات نہیں ہوتے ۔تاہم اگر آپ اِس عمل سے بے چینی محسوس کرتے ہوں تو اِس عمل کو ترک کرنے کا فیصلہ آپ خود ہی کر سکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ جس عمل سے آپ مطمئن نہیں اُسے ترک کردینے کے لئے صِرف آپ کی قوّتِ اِرادی اور آپ کے عزم کی ضرورت ہے ۔اِس مقصد کے لئے کوئی دوا تجویز نہیں کی جاسکتی ۔خود لذّتی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ذیل میںچند تجاویزدرجِ ذیل ہیں۔
Read More