Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

بیوی ؟ آپ سے کیا چاہتی ہے

wife

بیوی ؟ آپ سے کیا چاہتی ہے

گھر کو گھر بنانا اور آپ کو خو ش ومطمئن رکھنا محض آپ کی بیوی ہی کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے۔ جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ بیوی آپ کی مر ضی اور خوا ہش کے مطا بق کام کرے ۔ اسی طر ح ایک شو ہر اور خاندان کا سربراہ ہونے کے نا طے آپ پر بھی ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ آپ اپنی بیوی کی جا ئز خوا ہشات کا احترام کریں اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کی پسند و نا پسند معلوم کریں ۔ یہ جاننے کی کو شش کریں کہ آپ کی بیوی آپ سے کیا چاہتی ہے ؟ اور کیا نہیں چا ہتی ؟
ماہرین نے اس ضمن میں بتا یا ہے کہ میا ں اور بیوی کے درمیان جسمانی اور معاشر تی فرق کی وجہ سے دونو ں کے درمیان غلط فہمیا ں پیدا ہو جا تی ہیں ۔ جس کے نتیجے میں گھریلو زندگی متا ثر ہوتی ہے ۔ ان اختلا فات کی وجہ جان کر اور ان کا مداوا کرکے میا ں بیوی ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں اور اپنی گھریلو زندگی کو خوش گوار بنا سکتے ہیں۔ ذیل میں ہم چیدہ چیدہ نکا ت بیان کر رہے ہیں ۔ جن سے اندا زہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی بیوی آپ سے کیا چاہتی ہے ؟ ان نکا ت کو غور سے پڑھ کر اور ان کے مطابق عمل کر کے آپ بیوی کو خوش اور گھر کے ما حول کو خوش گوار بنا سکتے ہیں ۔
پر کشش رہنے کی خو اہش
ایک بیوی کے لیے یہ با ت بہت اہم ہو تی ہے کہ اس کے شوہر کی نظرمیں وہ خوبصورت اور پرکشش ہو ۔ خوا ہ وہ کتنی ہی موٹی ، بھدی اور سانولی کیو ں نہ ہو ۔ آپ نے بھی غور کیا ہو گا کہ بیویا ں آئے دن اپنے شوہروں سے سوال کر تی ہیں ” میں کیسی لگ رہی ہو ں“ اس سوال کے پیچھے اصل میں ان کی یہ نفسیات کام کر رہی ہو تی ہیں کہ ان کے شوہر اب بھی ان میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں ۔ اس قسم کے سوالو ں کے مثبت اور پُر محبت جواب دیجئے ۔ کیا میں آج بھی اتنی ہی پیا ری ہو ں کہ جب دلہن بنی تھی؟ کیا میں آج بھی جوانی کی طر ح پر کشش ہوں ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ اس قسم کے سوالات ہیں ۔ جن کا کوئی واضح اور درست جوا ب گو بہت مشکل ہوتا ہے۔ تا ہم بیوی کا یہ سوالات کرنے کا اصل مقصد محض یہ اندا زہ لگانا ہوتاہے کہ کیا اب بھی وہ مجھ سے اتنا ہی پیار کر تا ہے جتنا کہ وہ ابتدائی ایام میں کر تا تھا؟ اگر آپ بیوی کو اس مو قع پر خو ش و مطمئن کرنے میں کامیا ب ہو جا تے ہیں اور اسے اپنی محبت کا یقین دلا تے ہیں تو وہ آپ کے لیے ہر قسم کی قر بانی دینے کے لیے پہلے سے زیادہ مستعد رہے گی ۔

جسمانی سے زیا دہ جذبا تی لگا ﺅ
مر دو ں اور عورتو ں میں ایک بڑا نا زک اور اہم فر ق یہ ہو تاہے کہ مر د اپنی بیو ی سے جسمانی و جنسی لگاﺅ کا زیا دہ خوا ہش مند ہو تا ہے ۔ جب کہ عورت کو اپنے مر د سے جذبا تی اور قلبی لگا ﺅ کی ضرورت ہو تی ہے ۔ یہ نا زک فرق میا ں اور بیوی کے درمیا ن نا چا قی کا باعث بھی بن جا تاہے ۔ جو مر د اپنی بیویو ںسے کم کم بو لتے ہیں ۔ ان کی با تو ں پر تو جہ نہیں دیتے ، انہیں اس با ت پر خاص توجہ دینی چاہیے کہ ان کی بیویا ں ان کی آواز سننے کے لیے بے تا ب رہتی ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر دفتر سے ان کے شو ہر کا فون آجائے اور انہیں ایک جملہ ہی سننے کو مل جائے تو گھنٹو ں شوہر کی آوا ز ان کے کا نو ں میں رس گھولتی رہتی ہے ۔ شوہروں کو چاہیے کہ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر آتے وقت چند جملے دل لگی اور چاہت کے اندا ز میں ضرور کریں تاکہ وہ آپ کی عدم مو جو دگی میں آپ کی با تو ں کو سو چ کر خو ش و خرم رہے ۔

گھریلو اشیا ءکے تحفے
تحفہ یقینا محبت بڑھا تا ہے اور الفت پیدا کر تا ہے اور میا ں بیوی کے درمیا ن تعلق میں تو اس کی اہمیت اور بڑھ جا تی ہے لیکن تحفے کا انتخا ب اصل چیز ہے ۔ مر د اپنی بیویو ں کو کوئی گھریلو شے تحفے میں دے تو اس سے بیو ی
کو خاص دلچسپی نہیں ہو تی ۔ اس قسم کے تحفو ں میں بیوی سے انس اور پیا ر و محبت کا عکس نظر نہیں آتا ۔ جب آپ اس قسم کا کوئی تحفہ اپنی بیوی کو دیتے ہیں تو بیوی پر یہ ظاہر ہو تاہے کہ آپ کو اپنی بیوی سے زیا دہ اپنی پسند اور خوا ہش کی پرا وہ ہے ۔ بیوی اپنے شو ہر سے ایسا تحفہ چاہتی ہے جس سے یہ اظہا ر ہو کہ شوہر نے بیوی کی خو اہش کا احترام کیا ہے ۔ مثال کے طور پر اپنی بیو ی کو اس کی پسند کی کوئی کتا ب ، رسالہ یا اس کی پسند کے کپڑے اور جیو لری کا تحفہ دینا بیوی کے لیے زیا دہ خوشی کا با عث ہو گا ۔ اس لیے شوہروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی پسند پر نظر رکھیں اور پھر جان لینے کے بعد جب بھی مو قع ملے ، چاہت سے پیش کر دیں یقینا آپ کی بیوی جھو م اٹھے گی ۔

اولین ترجیح کی تمنا
یہ با ت ذہن میں رکھئیے کہ مر د اور عورت کے حسد کی وجہ الگ الگ ہو تی ہے ۔ مثلا ًجنسی طور پر زیا دہ فعال بیوی سے شوہر بد گمان ہو سکتا ہے ۔ جب کہ بیوی اس وقت کڑھتی ہے جب اس کا شوہر ا س سے دو رہو تا ہے ۔ خواہ دوستوں میں بیٹھا ہو یا اخبا ر پڑھ رہا ہو ۔ ایک بیوی یہ محسو س کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپنے شو ہر کی پہلی ترجیح ہے ۔ آپ ایک شو ہر ہیں اور یقینا آپ کی بیوی آپ کی اولین ترجیح ہے ۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ آپ یہ کہیں کہ میری بیوی یہ جا نتی ہے کہ وہ میری اولین ترجیح ہے ۔ لیکن جب آپ گھر سے با ہر ہو تے ہیں تو آپ کی بیوی کئی قسم کے وسوسو ں کا شکا ر ہو کر بعض اوقات ا س شک میں مبتلا ہو سکتی ہے کہ شا ئد وہ آپ کی اولین پسند نہ ہو۔ یہی معاملہ اس وقت بھی پیش آسکتا ہے جب آپ گھر پرہو تے ہو ئے بھی بیوی پر بھر پو ر تو جہ نہ دے رہے ہو ں ۔ وہ ایسے میں خیا ل کر تی ہے کہ آپ اسے مستر د کر چکے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ جب آپ گھر پر ہوں تو اپنی بیوی پر بھر پو ر توجہ دیجئے ۔ اس کے کا مو ں کی تعریف کیجئے اور زیا دہ سے زیادہ سے وقت اس کے ساتھ گزارئیے تاکہ آپ کی بیوی کسی بھی قسم کے وسوسے یا شکوک و شبہا ت میں مبتلا ہو کر گھریلو امن و سکون اور سلا متی کو تہہ و با لا نہ کردے۔ کا میا ب زندگی گزارنے کے لیے یہ ایک اہم اصول اور بنیا دی نقطہ ہے ۔

بیوی کا ہا تھ بٹائیں
آپ کتنے ہی بڑے عہدے پر کیو ں نہ ہو ں ۔ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے بیوی کے ساتھ کا م کا ج میں شرکت مفید ہے ۔ وہ چا ہتی ہے کہ چھٹی کے دن اگر وہ سا لن بنا رہی ہے تو آپ سلا د کا ٹ لیں وہ بر تنو ں پر صابن لگا کر پانی سے دھو رہی ہے تو آپ یہ بر تن اٹھا کر الما ری میں رکھتے جا ئیں ۔ بیوی کو اس وقت بہت خو شی ہو تی ہے کہ جب وہ اپنے شوہر کو اپنے ساتھ گھریلو کا م کاج کرتے دیکھتی ہے ۔ عام طور پر شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ امور خانہ داری محض بیویو ں کی ذمہ دا ری ہے اور وہ گھر میں کھانا کھا نے ، اخبا ر پڑھنے اور صرف سونے آتے ہیں۔ سو چ کا یہ اندا ز بالکل غلط ہے ۔ گھر کی زندگی ایک جما عت اور ٹیم کی طر ح ہے۔ چنانچہ یہ گھریلو کام جس طر ح دعوت کی ذمہ داری ہے ، اسی طرح شو ہر کی بھی ہیں ۔ یا درکھئیے ! آپ کی بیوی آپ کو محض اپنا شریک حیا ت ہی تصور نہیں کر تی بلکہ وہ آپ کو اپنا شریک کا ر بھی بنا نا چاہتی ہے۔ روز گا رکے لیے گھر سے جا نے سے پہلے اور آنے کے بعد ایک کونے میں پڑے رہنا یعنی بے اعتنا ئی والا رویہ ظاہر کرنا اور بیوی کو اپنے ذاتی کا موں کی فرمائشیں کر کے گھر یلو کام کا ج میں بے وقت مخل ہو تے رہنا ، بیوی کو ہر گز پسند نہیں ہوتا۔
یا د رکھئیے ! گھر میں ہونے والے میا ں بیوی کے جھگڑو ں میں جہا ں ایک وجہ رقم ہو تی ہے ۔ وہا ں دوسرا اہم سبب گھریلو کام کا ج بھی ہیں ۔ جو مر د گھریلو کا م کا ج اور بچو ں کی دیکھ بھال میں اپنی بیویو ں کا ہا تھ بٹاتے ہیں ، وہ پر سکون خانگی زندگی گزارتے اور بیویو ں سے بہتر تعلق رکھتے ہیں ۔

کن حالات میں مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیئے

کن حالات میں مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیئے

کن حالات میں مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیئے

مندرجہ ذیل اوقات میں مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیئے

دن کے وقت مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ اس وقت مباشرت کرنے سے اگر حمل ٹھہر چائے تو اولاد بدصورت اور بدچلن پیدا ہو گی

کھانے کے فورا معد یا خالی پیٹ مباشرت نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ اس سے دونوں فریق پر برا اثر پڑتا ہے اور محتلف قسم کی بیماریاں لگ جاتی ہیں

بخار یا نزلہ و زکام کی حالت میں مباشرت نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ اگر اس حالت میں حمل قرار پا گیا تو اولاد میں دائمی نزلہ زکام ہونے کا قوی امکان ہے

غم وغصہ یا خوف وغیرہ کی حالت میں مباشرت نہیں کرنی چاہیئے

زیادہ گرمی کے موسم میں مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیئے

دوران حیض مباشرت نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ اس سے مہلک قسم کی بیماری پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے

حمل کے دوران مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیئے لیکن اگر اس دوران فطری طور پر خواہش پیدا ہو تو مباشرت کے لیے ایسا طریقہ اپنانا چاہیئے جس سے عورت کے پیٹ پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اور وہ تکلیف محسوس نہ کرے

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

گنے کے فوائد

 

گنے کے فوائد

گنا سستا اور میٹھا علاج

گنّا کھانے کو ہضم کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کوطاقت دیتا ہے ۔ یہ جسم کوطاقت اور خون دینے کے ساتھ ساتھ موٹا بھی کرتا ہے ، خشکی دور کرتا ہے ، پیٹ کی گرمی اور جلن کودور کرتا ہے ،پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے، اس کا بیلنے سے نکلا ہوا رس دیر سے ہضم ہوتا ہے چناچہ اسے دانتوں سے چوسنا زیادہ مفید ہے ۔ اس طرح اس میں لعاب دہن شامل ہوجاتا ہے جو ہاضم ہے
پوری دنیا میں شکر، گلوگوز،فروٹوز،گنّے سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اس کی گنڈیریاں بنا کر چوسنے سے گرمی دور کرنے، بدن سے زہریلی کثافتیں باہر نکالنے، بدنی مشنری چلانےکے لئے گرمی پیدا کرنے والی شکر بنانے اور دانتوں کی میل کچیل صاف کر کے مسوڑوں کو حرکت دے کرمضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے ۔
  گلاس گنّے کے رس میں 2 ہلکی چپاتیوں کے برابرغذائیت ہوتی ہے ۔
جوان اور گرم مزاج رکھنے والے اگر کھانے بعد چند گنڈیریاں چوس لیں تومعدہ ہلکا، دانت صاف، اور طبعت چست اور ہشاش بشاش ہوجاتی ہے ۔

گنے کے رس کا ایک گلاس پینے سے قبض ختم اور معدے کی تیزابیت میں کمی ہوجاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ بدنی تناؤکم اورخون کا دباؤ گھٹ کر کم ہوجاتا ہے ۔
اطباء کا کہنا ہے کہ دل کی گرمی اوردھڑکن کی زیادتی کو دورکرنے لئے آدھا پاؤسے آدھا سیرتک گنڈیریاں رات کو شبنم میں رکھ کرصبح کو بطورناشتہ چوس لی جائیں تو چند ایام میں گرمی دوراور دل مضبوط ہوجاتا ہے ۔

بعض لوگ نیند کی کمی ، طبعت کے بھاری پن اور چڑچڑے مزاج کا شکار رہتے ہیں ۔ ایسے افراد بھی اگر صبح کے وقت گنڈیریاں چوسیں تو نیند کی کمی دورطبعت ہلکی پھلکی اور چڑچڑاپن جاتا رہتا ہے ۔

گلابیٹھ جائے اورآواز بھاری ہوجائے تو گنے کو پانچ ساتھ منٹ بھوبل میں دبا کر چوسنے سے آواز صاف ہوجاتی ہے ۔

گنّے کا رس بادی طبعت رکھنے والوں کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس سے قبض دور ہوجاتی ہے۔

ہرے پیلے رنگ کے قے ہوتو گنّےکا ٹھنڈا میٹھا رس بہت فائدہ دیتا ہے ۔

اس کے سنگھانے سے نکسیر بھی بند ہوجاتی ہے۔

خشک کھانسی دور ہوجاتی ہے بلغم صاف ہوتا ہے ۔

یرقان کی بیماری میں آنکھیں اور پیشاب کا رنگ ذرد ہوجاتا ہے ، بعض کا سارا بدن پیلا اور بدن میں خارش بھی ہوجاتی ہے ۔ اس کے لئے اگر تین تین گھنٹے کے بعد گنڈیریاں چوسیں اور علاج کے ساتھ ساتھ گنّے کا رس بھی پۂیں تو چند روز میں پیلاہٹ ختم اورصحت اچھی ہوجاتی ہے ۔

بدن میں جابجا گلٹیاں اورگانٹھیں نمودار ہوں تو عمر اور جسمانی طاقت کے مطابق چند روزتک صبح ہرڑ کے ساتھ گنّے کا رس پیا جائے تو بڑھے ہوئے غدودوں اورگلٹیوں کا نام ونشان مٹ جاتا ہے ۔
سو فیصد مکمل علاج کیلیے رابطہ کریں حکیم محمد عرفان

info@alshifaherbal.com  ,  03040506070

Read More

کیا ہر شخص دباؤ محسوس کرتا ہے

کیا ہر شخص دباؤ محسوس کرتا ہے

دباؤ کی دیکھ بھال
دباؤ کیا ہوتا ہے؟

بیرونی دُنیا کے اثرات سے جسم میں محسوس ہونے والی شکست وریخت (ٹُوٹ پُھوٹ)
کو دباؤ کہا جاتا ہے یہ دباؤ مثبت بھی ہوسکت اہے اور منفی بھی مثبت دباؤ عمل پر آمادہ کرتا ہے اور زندگی میں گرم جوشی پیدا کرتا ہے منفی دباؤ سے انسان کی اُمنگ کمزور ہوجاتی ہے ڈپریشن، تشویش، خوف، اُلجھن وغیرہ جیسے اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ہم ٹریفک میں دیر ہوجانے کی وجہ سے لے کر زندگی کی بعض تبدیلیوں کی بُری خبر سُننے تک کے اثرات کو دباؤ سے تعبیر کرتے ہیں۔
کیا ہر شخص دباؤ محسوس کرتا ہے؟

یقینأٔ جب تک ہم زند ہ ہیں ،اچھّے اور بُرے دباؤ سے ہمارا واسطہ رہے گا۔دباؤ ہمیں ہر عمر اور عمر کے ہر مرحلے میں متاثر کرتا ہے۔
دباؤ کیا ہوتا ہے؟

آپ کوئی بُری خبر سُنتے ہیں وہ خوفناک خالہ جو آپ سے لاکھوں سوالات پوچھنے کا شوق رکھتی ہیں،اِس ہفتے کے اختتام پرآپ کے ہاں آرہی ہیں آپ کا کمپیوٹر عین امتحان سے پہلے خراب ہوجاتا ہے یاآپ کی اپنے دوست سے لڑائی ہو جاتی ہے۔یہ دباؤ پیدا کرنے والی صورت حال کی مثالیں ہیں اِن کی وجہ سے فکر مندی ، تشویش اور اُلجھن پید اہوتی ہے۔آپ کا سَر چکراتا ہے اور گردن اور شانوں کے عضلات میں تناؤ اور درد پیدا ہوجاتا ہے۔یہی دباؤ ہے۔بہت زیادہ دباؤ سے نہ ختم ہونے والی تھکن ،ہاضمہ کی خرابیاں، کمر درد، توجّہ میں کمی جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
دباؤ کی صورت میں کیا ہوتا ہے ؟

دباؤ کی صورت میں ،کورٹیسول نامی ایک کیمیکل پیدا ہوتا ہے ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ پیٹ پر وزن بڑھنے کا سبب بھی بنتا ہے ۔یہ کوئی اچھی بات نہیں کیوں کہ اس سے دِل کے امراض پیدا ہوسکتے ہیں بعض مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورٹیسول دِماغ کے خُلیات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے تاہم دباؤ ایک لحاظ سے فطری بھی ہوتا ہے لہٰذا اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں  در حقیقت بعض صورتوں میں دباؤ انسان کو عمل پر آمادہ کرتا ہے۔

امراض صِرف طویل مُدّت تک شِدّت کے ساتھ جاری رہنے والے دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔

بعض اوقات پیشہ ورانہ مشورے سے مدد حاصل ہوسکتی ہے درجِ ذیل پتے پر بِلا جھجھک رابطہ کیجئے:

alshifaherbal@gmail.com

03040506070

کیا آپ کو ہر وقت تھکن رہتی ہے؟
بِلاوجہ مزاج میں تبدیلی آجاتی ہے؟
 معمولی باتوں پر رونا آتا ہے؟
 نیند نہیں آتی؟
 سَر درد رہتا ہے؟
 خوف زدہ ہیں ،لیکن خوف کی وجہ نہیں جانتے؟
 ہتھیلیوں پر پسینہ آتا ہے؟
 حادثات کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں؟
 ہر وقت بُھوک لگتی ہے؟
کوئی کام کرنے کا دِل نہیں چاہتا۔
گرم جوشی ختم ہوگئی ہے؟

دباؤ ہونے کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟

دباؤ کی وجہ سے ،cortisol نامی ایک کیمیکل پید اہوتا ہے ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ پیٹ پر وزن بڑھنے کا سبب بھی بنتا ہے۔اور یہ کوئی اچھی بات نہیں کیوں کہ اِس کے اثرات دِل کا مرض پیدا کرتے ہیں۔بعض مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ cortisolدِماغ کے خُلیات کو بھی ضائع کرنے کا سبب بنتا ہے۔مقصد یہ نہیں کہ آپ کو خوف زدہ کیا جائے بلکہ  دباؤ کا ہونا ایک فطری عمل ہے ۔صِرف طویل مُدّت اور انتہائی صورتوں میں یہ مرض کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
دباؤ ختم کرنے والے چند عملی اقدامات:

دباؤ ختم کرنے کے لئے نقاط

جن دوستوںکے ساتھ آپ کو اچھا محسوس ہوتا ہے اُن کے ساتھ وقت گزارئیے۔
نانی /نانایا دادی /داداسے مشورہ کیجئے یا اُن سے اُن کی زندگی کے بارے میں پوچھئے اور حیران کُن باتیں سُنئے۔
روزانہ کسی کے کہنے پر کچھ کرنے کے بجائے ، کچھ اپنی ’مرضی‘ کے کام بھی کیجئے ۔
 گپ شَپ نہ کیجئے۔
کافی مقدار میں پانی پیجئے اکثر ہم تھکن محسوس کرتے ہیں جب کہ در حقیقت ہمارے جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اپنے کام کو حِصّوں میں تقسیم کر لیجئے اور ایک وقت میں ایک حِصّہ مکمل کیجئے۔
اپنی زندگی سے شور کو کم کیجئے فون ،ٹی وی وغیرہ بند رکھئے اور ای میل کم کیجئے۔
کوئی ۔جانور پالئے۔
 اپنے ماحو ل کو سادہ رکھئے۔اپنی زندگی سے اُلجھن والی چیزوں کو دُور کر دیجئے اگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہورہا تو اِس کا حل تلاش کیجئے یا اِس علحیدہ ہوجائیے اگر دَو سال تک یہ حل نہ ہو سکے تواِس سے علحیدہ ہوجائیے۔
 کوئی لطیفہ سُنائیے ۔اور ہنسنے کے مواقع بڑھائیے۔
افسوس کرنے کے بجائے اپنی حاصل کردہ نعمتوں کو یا د کیجئے اُنہیں لکھ لیجئے اور شُمار کیجئے۔
 دُوسروں کا شُکریہ ادا کیجئے کسی پُرانے دوست کو بُلائیے اور دیکھئے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔
کچھ سرگرمیاں اپنے لئے کیجئے۔اپنے لئے نئے کپڑے یا کھیل کا سامان یا جو چیز اچھی لگتی ہو وہ خریدیئے۔ہر فرد بعض اوقات معمول سے ہٹ کر کچھ کر سکتا ہے۔
نئے دوست بنائیے ریستوران میں ویٹر کا شُکریہ ادا کیجئے۔
 اپنہ پسندیدہ موسیقی سُنئے موسیقی سے آپ کے مزاج پر بڑا اچھااثرہوتا ہے۔
 دباؤ محسوس نہ کیجئے اور کسی ایسے کام کو جسے آپ نہ کرنا چاہتے ہیں اُس پر بھی جی ہاں کہئے۔
آپ دُوسروں کو معاف کرتے ہیں،ٹھیک؟ اب خود کو بھی معاف کرنا سیکھئے۔
اپنے وقت کی قدر کیجئے ہر روز خود کے لئے شُکر گزاری کا موقع تلاش کیجئے۔
دِن کے آغاز پر بلند آواز سے کہئے: ’’آج کا دِن اچھاہوگا یہ ضرور اچھا ہوجائے گا۔
آئینے کے سامنے مُسکرائیے۔اور خود سے کہئے کہ آپ شاندار اور خوب صورت ہیں۔
ناکامی پر غور کیجئے کہ یہ کیا ہے یہ ایک موقع ہے کوئی نئی بات سیکھنے کا۔
جتنا حُسنِ سلوک آپ اپنے بہترین دوست کے ساتھ کرتے ہیں اُتناہی حُسنِ سلوک اپنے ساتھ بھی کیجئے ۔اور خود کے ساتھ بھی غیر جانب دار رہئے۔
 کسی بھی عمر میں ساتھیوں کے ناپسندیدہ دباؤ کاشکارنہ ہوں۔
کوئی کرکٹ میچ یا فٹ بال میچ کا انتظام کیجئے۔
کسی کاغذ پر ہر پریشان کُن بات کو لکھئے اِس کا اظہار کیجئے اور کاغذ کو پھاڑ کر پھینک دیجئے۔

بعض اوقات کسی مستند مشاورت کار یا ماہر سے پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے ،ایسی صورت میں مدد حاصل کرنے سے جھجھک ہر گزمحسوس نہ کیجئے۔
دباؤکے سو فیصد مکمل علاج کیلیے رابطہ کریں حکیم محمد عرفان
alshifaherbal@gmail.com

0313 9977999

زنابالجبر ایک جُرم ہے

زنابالجبر ایک جُرم ہے
زنا بالجبر کی تعریف

پاکستابن کے قوانین کے مطابق زنا بالجبر کی تعریف یہ ہے: متعلقہ دَو افرداکے درمیان قانونی شادی نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ فرد کی مرضی کے خلاف یا اُس کی رضامندی کے بغیر جنسی ملاپ کرنا؛ یا 16سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ اُس کی رضامندی یا بغیر رضا مندی کی صورت میں جنسی ملاپ کرنا؛ پاکستان میں دَو شادی شُدہ افراد کے درمیان جبری جنسی ملاپ کو زنا بالجبر قرار نہیں دِیا جاتا ہے۔
زنابالجبر جنسی خواہش کی وجہ سے نہیں کیا جاتا بلکہ یہ عمل دُوسرے فرد پر غالب آنے یا اُس پر کنٹرول حاصل کرنے یا ظاہر کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ زنابالجبر کی صورت میں ،جنسی ملاپ کو دُوسرے فرد پر قُوّت اور غلبہ حاصل کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ زنابالجبر ایک جُرم ہے۔یہ کسی بھی صورت میں متاثرہ فرد کا قصور نہیں ہوتا۔ زنابالجبر سے متاثرہ فرد کو شدید ذہنی صدمہ ہوتا ہے اور اُسے اس مشکل وقت میں اپنے عزیزوں کی جانب سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
زنا بالجبر کی صورت میں متاثرہ فرد کو کیا کرنا چاہئے
* فوری طور پر طبّی مدد حاصل کی جائے خاص طور پر جب مقدّمہ دائر کرنے کااِرادہ ہو۔معائنے میں تاخیر کرنے کی صورت میں زخم ،خراشیں اور کٹاؤ وغیرہ بَھر جاتے ہیں اورمقدّمہ کے لئے مطلوبہ جسمانی ثبوت کمزور ہوجاتے ہیں ۔
* متاثرہ فرد کو معائنے سے پہلے اپنے جسم کی صفائی،غسل،پیشاب یا پاخانے کی حاجت سے فراغت یا اپنے کپڑے تبدیل نہیں کرنا چاہئیں،کیوں کہ مطلوبہ شواہد ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر عدالت میں مقدّمہ چلتا ہے۔
* جُرم کی تفتیش کے لئے ایف آئی آر کامقامی پولیس اِسٹیشن پر اندراج ضروری ہوتا ہے ۔کراچی میںرہنے والے افراد اگر ایف آئی آر کے اندراج میں کوئی دِقّت پائیں تو وہ سی پی ایل سی سے رجوع کر سکتے ہیں جس کا دفتر گورنرسندھ کے سیکریٹریٹ میں واقع ہے ۔اُن کا ٹیلیفون نمبر یہ ہے: 345-222-111
* اگر کوئی اشیاء (مثلأٔ کپڑے )پولیس کو دی جائیں تو ان کی رسید ضرور حاصل کی جائے۔

کس قِسم کا علاج حاصل کیا جائے؟

زنا بالجبر کی صورت میں درجِ ذیل اُمور کو یقینی بنایا جائے:

* حمل سے بچاؤ کے اقدامات: ایمر جنسی کی مانع حمل گولیاں جلد از جلد لینا اہم بات ہے۔ یہ گولیاں جنسی ملاپ ہونے کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر لی جاسکتی ہیںتاہم انہیں ابتدئی چند گھنٹوں کے اندر لے لینا بہتر ہوتا ہے۔ زیادہ تر میڈیکل اِسٹورز پر ،Emkit، Estinor، ECP اور EC جیسی مانع حمل گولیاں دستیاب ہوتی ہیں۔
 حمل کا ٹیسٹ: تولیدی عمر والی تمام خواتین کے لئے حمل کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہوتاہے۔
* جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفکشنز کا ٹیسٹ: اِس بات کا امکان ہوتا ہے کہ زنا بالجبر کے دوران جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفکشنز ہوجائیں۔مثلأٔ کلیمائیڈیا، سوزاک (گنوریا)، ایچ آئی وی اور ہِیپاٹائیٹس وغیرہ۔اِن انفکشنز کے لئے مطلوبہ ٹیسٹ بڑے سرکاری ہسپتالوں پر دستیاب ہیں۔

میڈیکو لیگل معائنے کے لئے کہاں رجوع کیا جائے؟

زنا بالجبر کی صورت میں، مقدّمہ دائر کرنے کا اِرادہ رکھنے والے فرد کو حکومت کے مقرّر کردہ ڈاکٹر سے، جو مقرّرہ سرکاری ہسپتال میں تعینات ہو، اپنا طبّی معائنہ کروانا ہوتا ہے۔ ایسے متاثرہ افرادکا معائنہ کرنے والے شُعبے کو میڈیکو لیگل شُعبہ کہا جاتا ہے۔ میڈیکو لیگل معائنے کے دَو مقاصد ہیں: متاثرہ افراد کو فوری اور بنیادی طبّی سہولت فراہم کرنا اور طبّی شواہد جمع کرنا جن کااستعمال قانونی کارروائی کے دوران کیا جاتا ہے۔

شہر کے بڑے سِول ہسپتالوں میں خاتون میڈیکو لیگل افسر بھی دستیاب ہوتی ہیں۔اگر وہ دستیاب نہ ہوں تو انہیں بُلائے جانے کی درخواست کی جاسکتی ہے تا کہ مطلوبہ معائنہ کیا جا سکے۔

میڈیکو لیگل معائنے کے لئے کسی خط، حوالے یا ایف آئی آر کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ قانون یہ ہے کہ کسی قِسم کے خط یا آیف آئی آرکے بغیر بھی متاثرہ فرد کا میڈیکو لیگل معائنہ کیا جائے۔ درحقیقت میڈیکو لیگل افسراس بات کا پابند ہے کہ قریبی پولیس اِسٹیشن کو اطلاع دے کر ہر قِسم کی معاونت کی جائے۔
معائنے کے دوران کیا ہوتا ہے؟

میڈیکو لیگل افسر ،زنابالجبر کی تصدیق کے لئے ،فُرج یا مقعد کا معائنہ کرتا/کرتی ہے۔متاثرہ فرد کی بیرونی(کٹاؤ ،خراشیں وغیرہ) اور اندرونی (ہڈّی کا ٹُوٹ جانا،خون آنا وغیرہ)چوٹوں اور زخموں کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے، شواہد جمع کئے جاتے ہیں اور ان کا ریکارڈ میں اندراج کیا جاتا ہے۔ زنابالجبر کے واقعے کو کچھ عرصہ گزرنے جانے کی صورت میں ،میڈیکو لیگل مرکز پر حمل کاٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ زنابالجبر کے واقعے کے فوری بعدمیڈیکو لیگل مرکز سے رجوع کرنے کی صورت میں ،حمل کے ٹیسٹ کے لئے چند ہفتوں بعد اسی ہسپتال دُوبارہ جانا ہوتا ہے۔متاثرہ فرد کے خون کا گروپ معلوم کرنے کے لئے مطلوبہ ٹیسٹ کے لئے بھی کہا جا سکتا ہے۔
میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ کیا ہوتا ہے؟

میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ میں معائنے کی تفصیلات کا اندراج ہوتا ہے۔یہ سرٹیفیکیٹ عدالت میں ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لہٰذا ،اِس پر دستخط کرنے سے پہلے اس کی تفصیلات کو غور سے پڑھ لینا چاہئے۔

جِرح کے لئے جمع کئے جانے والے حقائق کی صورت میں ،ان حقائق کے تجزیے سے پہلے حتمی میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیاجاسکتا ۔اس عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔دستیاب ہونے کی صورت میں میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ کی نقل ضرور حاصل کی جائے۔
میڈیکو لیگل معائنہ کروانے میں کیا خرچ آتا ہے؟

یہ معائنہ بِلا معاوضہ کیا جاتا ہے۔البتّہ معائنے کے لئے مطلوبہ اشیاء مثلأٔ دستانے ،کاٹن ،شیشے کی بوتلیں وغیرہ خریدنے کے لئے کہا جاسکتا ہے۔ درجِ ذیل اداروں سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے

War Against Rape (WAR)
Pakistan Women Lawyers’ Association (PAWLA)
Lawyers for Human Rights and Legal Aid (LHRLA)
Marie Stopes Society (MSS)
Sindh AIDS Control Programme Clinic
حوالہ جات

http://www.war.org.pk/rape_event.htm

حمل کیا ہے

حمل کیا ہے ؟ کوئی لڑکی/ عورت کس طرح حاملہ ہوتی ہے؟

جنسی ملاپ کے دوران منی کے جرثومے اور انڈے کے ملاپ سے حمل قائم ہوتا ہے۔یہ صورت حال عام طور پر اس وقت پیش آتی ہے جب لوگ کسی مانع حمل کے بغیر جنسی ملاپ کرتے ہیں۔ بار آور ہونے والا انڈہ نَل میں سے گزرتا ہُوا بچّہ دانی میں پہنچ جاتا ہے جہاں اور بچّہ دانی کی اندرونی سطح سے جُڑ جاتا ہے اور یہ افزائش پا کر ایمبریو (embryo) بن جاتا ہے جو آگے چل کر جنین (fetus) میں تبدیل ہوجاتا ہے
خواتین میں حمل کا آغازمہینے کے ایک خاص وقت پر ہی ہو سکتا ہے۔

حمل کی ابتدائی علامات کیاہیں؟

 ماہواری نہ آنا۔
 صبح کے وقت طبیعت میں گِراوٹ۔
 متلی محسوس ہونا۔
 چھاتیوں میں دُکھن ہونا۔
 تھکن۔
 بار بار پیشاب آنا۔
اِن علامات کے معنیٰ ہمیشہ یہ نہیں ہوتے کہ آپ حاملہ ہیں، لہٰذا فکر مند ہونے کے بجائے، بہترین بات یہ ہے کہ حمل ہونے کا سادہ ٹیسٹ کروالیا جائے۔
مجھے کس طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ میں حاملہ ہُوں؟

حمل کا ٹیسٹ کروائیے۔ اِس ٹیسٹ میں پیشاب یا خون کا نمونہ لیبارٹری میں دے کر حمل ہونے یا نہ ہونے کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ اپنے شہر کے کسی اچھے میڈیکل اِ سٹور سے گھر پر ٹیسٹ کرنے کا سامان بھی لایا جا سکتا ہے۔ مثلأٔ اِس مقصد کے لئے Xact نامی کِٹ کسی بھی اچھے میڈیکل اِسٹور سے خریدی جا سکتی ہے۔

(pregnancy strip) حمل کی پٹّی کے ذریعے حمل کا پتہ لگانے کا طریقہ

ایک صاف برتن میں پیشاب کا نمونہ جمع کیجئے۔
 پٹّی کو اس کی پنّی میں سے نکالئے اور فورأٔ استعمال کیجئے (کھولنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر استعمال کر لی جائے)۔
 اِسے پیشاب کے اندر اس طرح ڈالئے کہ تیر کا نشان پیشاب کی جانب ہو۔خیال رہے کہ پیشاب کی سطح تیر کے نشان کے نیچے بنی ہوئی لائن سے نیچے رہے۔
سیکنڈ بعد پٹّی کو باہر نکال لیجئے اور اسے نتیجہ ظاہر ہونے کے لئے5منٹ تک رکھا رہنے دیجئے ۔
 مثبت نتیجہ (حمل ہونا) لال رنگ کے دَو واضح بند ظاہر ہوجائیں گے۔
 منفی نتیجہ (حمل نہ ہونا) لال رنگ کا صِرف ایک بند ظاہر ہوگا۔
 بے نتیجہ اگر کوئی لائن ظاہر نہ ہو یا ایک ہلکی لائن ظاہر ہو تو اِس ٹیسٹ کو پیشاب کے نئے نمونے اور نئے سامان کے ساتھ دُہرائیے ۔
 حمل کا ٹیسٹ مثبت ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری طور پر مشورہ کیجئے۔

اگرآپ کو حمل کے ٹیسٹ کے نتیجے کے بارے میں کوئی فکر مندی ہو یا غیر مطلوبہ حمل ہونے کی صورت میں، تبادلہ خیال یا مشورہ اور مددکی ضرورت ہو تو ، براہِ کرم ٹیلی فون نمبر9977999 0313 پر کال کیجئے یا ای میل کیجئے
alshifaherbal@gmail.com
حمل کو کس طرح صحت مند رکھا جائے؟

صحت مند حمل کے لئے بنیادی بات یہ ہے کہ اپنی صحت کا خیا ل رکھا جائے۔حمل کی مُدّت میں ڈاکٹر سے باقاعدگی سے معائنہ کرواتے رہئے متوازن غذا استعمال کیجئے اور روزانہ مناسب مقدار میں وٹامن/ سپلیمینٹ لیجئے۔

یہ دیکھاگیاہے کہ جن عورتوں کو حمل کی مُدّت میں باقاعدگی سے دیکھ بھال کی سہولت حاصل رہتی ہے اُن کے لئے، حمل سے متعلق سنگین پیچیدگیوں کا امکان کم ہوتا ہے اور اُن کے لئے صحت مند بچّے پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘کا ایک پیچیدہ پہلو ہے

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘کا ایک پیچیدہ پہلو ہے

جنسیت

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘کا ایک پیچیدہ پہلو ہے ۔بہت سی صورتوں میں جنسیت ہمیں دُوسرے فرد کے لئے اپنے جذبات کو بھرپور طریقے سے ظاہر کرنے کی قوّت یا ہمّت فراہم کرتی ہے اور یہ ہماری نسل کو جاری رکھنے کے لئے ایک قدرتی محرّک بھی ہے۔ممکن ہے کہ کسی فرد کے لئے محسوس کی جانے والی کشش ہمیشہ جنسی نوعیت کی نہ ہو۔اِس کی وجہ حِس مزاح،شخصیت،’پسند‘، مطابقت، ذہانت بھی ہو سکتی ہے۔ اور جنس اور جنسیت کی حیثیت محض ثانوی ہو۔لہٰذا جنسیت صِرف جنسی ملاپ تک محدود نہیں ہوتی۔اِس کا تعلق ہماری ذات،ہماری اپنے اور دُوسروں کے بارے میں سوچ،ہمارے جسم اور دُوسروں سے ہمارے تعلقات سے ہے۔ ہر فرد کی جنسیت منفرد اور ذاتی ہوتی ہے جو ثقافت،روایات ،معاشرتی تجربات اورذاتی عقائد سے مِل کر تشکیل پاتی ہے۔

جنسیت ہماری شخصیت اور ’ذات‘ کا ایک پیچیدہ پہلو ہے ۔کئی لحاظ سے جنسیت ہمارے لئے اپنے جذبات کا شدّت سے اظہار کرنے کا ایک قوی ذریعہ ہوتی ہے اور یہ نسل کو جاری رکھنے کا ایک قدرتی مُحرّک بھی ہے۔کسی فرد کے لئے کشش محسوس کرنا ہمیشہ جنسی نوعیت پر مبنی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ بلکہ اِس کا سبب حِس مزاح ، شخصیت ، ’پسندیدگی‘ ،ہم آہنگی یا ذہانت بھی ہو سکتی ہے۔جنس یا جنسیت کی اہمیت محض ثانوی ہوسکتی ہے۔
جنسیت بطور انسان ہماری شناخت ہوتی ہے۔ یہ ہمارے جسمانی ،نفسیاتی، معاشرتی جذباتی،رُوحانی پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے۔جوڑوں کے درمیان اُن کے تعلق کی مجموعی بہتری‘‘ میں جنسیت ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔یہ آپس میںپیار کرنے والے جوڑوںکے درمیان ، باہمی تسکین، قُربت اور گرم جوشی حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
جنسی تعلقات کے بارے میں دُرست معلومات حاصل کرنے کے لئے مجھے کیا جاننے کی ضرورت ہے؟

جنسی ملاپ کے بارے میں کچھ معلومات توہمارے ماحول سے آسانی سے حاصل ہوجاتی ہیں۔ بطور نوبالغ جنس سے متعلق سوالات اور اس کے بارے میں غیر واضح خیالات آپ کے ذہن میں اکثر اوقات گردش کرتے رہتے ہیں ،لیکن دُرست معلومات،محفوظ جنسی ملاپ اور بنیادی جنسی حقوق کے بارے میں معلومات ضرورحاصل کی جائیں۔

جنس کے بارے فیصلوں سے آپ کی تعلیم ،طرزِ زندگی، دُوسروں سے تعلقات اور آپ کا خاندان وغیرہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ایسے جنسی فیصلے کیجئے جن سے آپ کو خوشی، اعتماد اور سکون حاصل ہو۔یہ بات جاننا ضروری ہے کہ بطور نوبالغ جنسی تعلقات کے ساتھ خود کے لئے اور اپنے ساتھی کے لئے ذمّہ داری بھی آتی ہے تا کہ انفکشن، غیر مطلوبہ حمل اور جبر سے بچا جا سکے۔

جنسی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ ذاتی فیصلہ ہوتا ہے اور اِس سے متعلق تمام فوائد اور نقصانات پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے۔پاکستان کی ثقافت اور روایات کے مطابق متعلقہ مَرد اور عورت ایک دُوسرے سے شادی کرنے کے بعد ہی جنسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔
کیا جنسی خواہش اور محبت میں کوئی فرق ہوتا ہے؟

محبت اور جنسی ملاپ ایک بات نہیں ۔محبت ایک جذبہ یا احساس ہے۔محبت کی کوئی ایک تعریف نہیں کیوں کہ لفظ ’’محبت‘‘ کے معنیٰ مختف لوگوں کے لئے مختلف ہوتے ہیں۔محبت میں رومانس اور کشش کے احساسات شامل ہوتے ہیں۔ جب کہ جنسی ملاپ کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔
جنسی احساسات کیا ہوتے ہیں؟

جنسی احساسات ، ذہنی خیال آرائی ، اور جنسی خواہش فطری ہوتے ہیں جو زندگی بھر جاری رہتے ہیں۔زندگی کے کسی مرحلے میں جنسی سرگرمی میں شروع کرنا بھی فطری بات ہے ،البتّہ محفوظ رہنا اور خود کے لئے اور اپنے ساتھی کے لئے سکون حاصل کرنااہمیت کی بات ہے ۔
جنسی سرگرمیوں میں درجِ ذیل شامل ہیں
بوسہ لینا (چُومنا)

ہم ایک دُوسرے سے ہر وقت قریب ہوتے رہتے ہیں ،خواہ یہ نانی یا دادی کو ہیلوکہنے کے لئے بوسہ ہو یاساتھی کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ مَس کئے جائیں۔ظاہر ہے ہر بوسہ جنسی نوعیت کا نہیں ہوتالیکن بوسہ جنسی نوعیت کا تجربہ بھی ہو سکتا ہے اور عام طور پرجنسی ساتھیوں کے درمیان بوسہ ہی پہلا عمل ہوتا ہے۔
جنسی مِلاپ:

جنسی مِلاپ دَو افراد کے درمیان قُربت کا سب سے بڑا ممکنہ عمل ہے اور بہت سے لوگوں کے لئے جنسی ملاپ ایک انتہائی پُر مسرّت اور جذباتی تسکین کا ذریعہ ہوتا ہے۔

جنسی مِلاپ مقعد کے راستے (عضو تناسل کو اپنے ساتھی کے پاخانے کی جگہ میںداخل کیا جاتاہے)یا فُرج کے راستے(عضو تناسل کو اپنے ساتھی کی فُرج میں داخل کیا جاتاہے) ۔

مزید یہ کہ جنسی ملاپ صِرف صنف مخالف ہی سے نہیں کیا جاتا بلکہ ہم صنف افراد کے درمیان عضو تناسل کو دُوسرے فرد کی مقعد میں داخل کرنے یا جنسی تحریک دینے کو بھی جنسی مِلاپ کہا جاتا ہے۔
مُنہ کے ذریعے جنسی تحریک

اِس صورت میں اپنے ساتھی کے جنسی اعضاء کو مُنہ کے ذریعے تحریک دی جاتی ہے۔اپنے مُنہ سے ساتھی کے عضوتناسل کو تحریک دینے کو بعض اوقات Fellatio بھی کہا جاتا ہے اوراپنے مُنہ سے ساتھی کے عضوتناسل کو تحریک دینے کو بعض اوقات Cunnilingus بھی کہا جاتا ہے۔

مُنہ کے ذریعے غیر محفوظ طور پر جنسی تحریک دینے میں،جنسی انفکشنزز کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اِس کے معنیٰ یہ ہیں کہ مُنہ کے ذریعے جنسی تحریک دینے میں بھی انفکشن کا خطرہ ہوتا ہے اگرچہ یہ خطرہ جنسی ملاپ کی صورت میں ممکنہ خطرے سے کم ہوتا ہے۔

مُنہ کے ذریعے تحریک دینے کے عمل سے ممکنہ طور پر لاحق ہونے والے چند انفکشنز یہ ہیں: کلیمائیڈیا، سوزاک(گنوریا)،جنسی اعضاء پر ہرپیزاور آتشک۔

مُنہ کے ذریعے تحریک دینے کے عمل میں نسبتأٔ کم لاحق ہونے والے انفکشنز یہ ہیں: ایچ آئی وی، ہیپاٹائیٹس اے،بی اور سی ،جنسی اعضاء پر پھوڑے/پھنسیاں ،اور جنسی اعضاء پرجُوئیں۔
فون کے ذریعے جنسی باتیں کرنا

اِس صورت میں دَو یا زائد افراد ،ٹیلی فون کے ذریعے ،جنسی لحاظ سے واضح بات چیت کرتے ہیں ،خاص طور پر جب ایک ساتھی خود لذّتی یا جنسی خیا ل آرائی کر رہاہو۔فون کے ذریعے جنسی باتیں دَو محبت کرنے والے افراد (جو ایک دُوسرے سے دُور ہوں)کے درمیان بھی ہوتی ہیںاور پیشہ ورانہ طور پر بھی ،ادائیگی کرنے والے کسٹمراور معاوضہ حاصل کرنے والے پیشہ ورکے درمیان۔
بہت سے نیم حکیموں کے اشتہارات نظر آتے ہیں جو جڑی بوٹیوں کے ذریعے جنسی خواہش بڑھانے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔اِس کی حقیقت کیا ہے؟

پاکستان میں بہت سے نیم حکیم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جڑی بوٹیوں کے ذریعے جنسی خواہش بڑھا سکتے ہیں۔ایسے دعووں کی صورت میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے ماہرین سے رجوع کرنا چاہئے یا اِن نسخوں کے بارے مزید مطالعہ کیجئے۔بعض اوقات اِن نسخوں سے جسم کو نقصان پہنچ جاتا ہے ۔
ہم جنسیت کیا ہے؟

ہم جنسیت میں ایک ہی صنف کے دَو افراد ایک دُوسرے کے لئے کشش محسوس کرتے ہیں ہم جنسیت پر عمل کرنے والے افراد کو صنفی شناخت کا مسئلہ نہیں ہوتا۔لہٰذا ایسے افراد ہیجڑوں سے مختلف ہوتے ہیں جو خود کو صنف مخالف کا فرد تصّور کرتے ہیں جب کہ اُن کا جسم اُن کے تصّور سے مختلف صنف کا ہوتا ہے۔

ہم جنسیت پر عمل کرنے والے افراد ،وضع قطع اور ظاہری روّیے کے لحاظ سے صنف مخالف سے جنسی تعلقت رکھنے والے افراد کی طرح ہی ہوتے ہیں۔
صنفی تبدّل کیا ہے؟
اِس صورت میں فرد خود کواپنی پیدائشی صنف کے لحاظ سے ، صنف مخالف کافردتصّور کرتا ہے۔بعض اوقات بچّے کے جنسی اعضاء نمایاں نہیں ہوتے اور اسے ایک صنف کا فرد قرار دے دِیا جاتا ہے اور بعد میں وہ خود کو صنف مخالف کا فرد تصّور کرتا ہے۔پاکستان میں ایسے ا فراد کو عام طور پر ہیجڑے کہا جاتا ہے اور اُن سے معاشرتی طور پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

پیاز ایک طاقت بخش اور ایک سستی سبزی ہے

پیاز ایک طاقت بخش اور ایک سستی سبزی ہے

پیاز کی تاریخ

پیاز
پیاز ایک طاقت بخش اور ایک سستی سبزی ہے اور سالن کے جزو کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ سالن کو گاڑھا کرتا ہے اور اسے ذائقہ دار اور خوشبودار بناتا ہے۔ اس میں وٹامن لوہا اور دیگر قیمتی دھاتیں باکثرت موجود ہیں جو ہمیں بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ پیاز کے متعلق مختلف ادوار میں مختلف آراء رہی ہیں ایک زمانہ ایسا بھی رہا ہے جب کوئی پیاز کو کھانا یا پکانا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ بلکہ اسے بدبودار سبزی سمجھ کر مکمل پرہیز کیا جاتا تھا۔ مگر سائنس دانوں کے تجربات اور اطباء کی کوششوں نے اس نظریہ کو بالکل تندیل کر دیا ہے۔

یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ پیاز میں ایک فرحت بخش خوشبو ہوتی ہے۔ جس سے باورچی خانے کی فضا میں ایک خوشگوار قسم کی مہک پیدا ہو جاتی ہے۔
ایک امریکی کیمیا گر نے دریافت کیا ہے کہ پیاز میں ایک چیز تھیال ڈی فائید پائی جاتی ہے جو جراثیم کش ہوتی ہے۔ اس کا استعمال کم خوابی کو دور کرتا ہے۔ اگر اس کا شوربا نوش کیا جائے تو نیند لانے کے لئے خواب آور گولیوں سے ذیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ حد درجہ فرحت بخش اور مصفی خون بھی ہے۔ اسی وجہ سے فرانس کے تمام ہوٹلوں میں پیاز کا شوربا با کثرت تیار کیا جاتا ہے۔ پیاز اور دودھ مرض استقاء کے لئے شافی علاج تسلیم کیا گیا ہے۔ ایک مرتبہ ایک طبیب نے استقاء کے مریض کو تین روز پیاز کھلوایا جس سے وہ بالکل صحت یاب ھو گیا۔
۱۹۱۲ میں ایک فرانسیسی ڈاکٹر نے” شفائے پیاز” کے نام سے ایک مضمون شائع کیا جس میں اس نے بتایا کہ پیاز استقاء، امراض گردہ اور پائیوریا کے لیے مجرعلاج ھے۔ دوسری جنگ عزیم میں روسی ڈاکٹروں نے محاز جنگ پر زخمی ھونے والے لوگوں کا علاج کچی پیاز سے کیا تھا۔ وہ زخم پر پیاز باندھ دیتے جس سے زخم جلد ہی خشک ھو جاتا تھا اور مریض کو آرام آ جاتا تھا ۔
ماہرین طب کے نزدیک پیاز کو بو سے بعض بیماریوں کے جراثیم ہلاک ھو جاتے ہیں انہوں نے ایک نیا طریق علاج” ٹیوب کلینک” دریافت کیا ھے۔ وہ پیاز اور لہسن کے ست سے بھری ھوئی نلکیاں وقفے وقفے سے مریض کی ناک سے لگا دیتےہیں تاکہ وہ ان سے سانس لے سکے۔ گلے کے غرود، کالی کھانسی، دمہ، پھیپھڑے اور حلق کی دق اور نزلہ وزکام کے لیے یہ طریقہ علاج بہت مفید ثابت ھوا ھے۔
برطانوی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کہا ھے کہ پیاز انجماد خون کے مریضوں کے لیے حیات نو کا پیغام ثابت ھو سکتی ھے اور اس دریافت سے اس جن لیوا بیماری کا علاج ممکن ھو گیا ھے۔ بریٹش ریویو میں شائع ھونے والی رپوٹ میں کہا گیا ھے کہ پیاز خواہ وہ ابلی ھوئی ھو یہ تلی ھوئی خون میں چکتوں کو تحلیل کرنے کی صلاحیت بڑھا دیتی ھے اس سلسلے میں مزید تجربات ھو رھے ہیں۔

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

Read More

خود لذّتی کرتا ہُوں/کرتی ہُوں،کیا کوئی ایسا طریقہ جس کے ذریعے اِس عادت کو کنٹرول کیا جاسکے ؟

  خود لذّتی کرتا ہُوں/کرتی ہُوں،کیا کوئی ایسا طریقہ جس کے ذریعے اِس عادت کو کنٹرول کیا جاسکے ؟

خودلذّتی کا عمل ایک عام عمل ہے جسے تقریبأٔ تمام مَرد اور عورتیں ،اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں اختیار کرتی ہیں ۔طبّی لحاظ سے ،خودلذّتی کے عمل سے کوئی ذیلی اثرات نہیں ہوتے ۔تاہم اگر آپ اِس عمل سے بے چینی محسوس کرتے ہوں تو اِس عمل کو ترک کرنے کا فیصلہ آپ خود ہی کر سکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ جس عمل سے آپ مطمئن نہیں اُسے ترک کردینے کے لئے صِرف آپ کی قوّتِ اِرادی اور آپ کے عزم کی ضرورت ہے ۔اِس مقصد کے لئے کوئی دوا تجویز نہیں کی جاسکتی ۔خود لذّتی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ذیل میںچند تجاویزدرجِ ذیل ہیں۔
Read More

تمام سبزیاں، فروٹ، ڈرائی فروٹ، دالیں ان کے مزاج اور فوائد

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

تمام سبزیاں، فروٹ، ڈرائی فروٹ، دالیں ان کے مزاج اور فوائد

سبزیوں کے مزاج اور فوائد
پھلوں، فروٹس کے مزاج اور فوائد
خشک میوہ جات کے مزاج اور فوائد
دالیں ان کے مزاج اور فوائد
کولڈ ڈرنکس، مشروبات کے مزاج اور انکے فوائد
دودھ گائے، بھینس، بکری کا مزاج اور فوائد
مصالحہ جات کے مزاج اور فوائد

تندر ستی ہزار نعمت ہے
 تند رستی ہزار نعمت ہے واقعی اگر انسان صحت مند او ر توانا ہو تو وہ ہر مشکل سے مشکل کام کو بھی کرنے کا پکا ارادہ کر لیتا ہے، وہ دین کا کام بھی زیادہ اور اچھے انداز سے کرسکتا ہے اور دنیا کے کام بھی احسن طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے، لیکن بشرطیکہ وہ صحت مندہو اور صحت مند رہنے کے لیے آپ کو متوازن غذا کا استعمال اور جن اشیاء سے آپ کی صحت کو نقصان ہو سکتا ہے اُن سے پرہیز کرنا ضروری ہوگا۔جیسے بعض لوگوں کو’’سرد تاثیر رکھنے والی اشیاء کی ضرورت اور  گرم تاثیر رکھنے والی اشیاء کے کم استعمال کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی طرح بعض لوگوں کو گرم تاثیر رکھنے والی اشیاء کی ضرورت اور  سرد تاثیر رکھنے والی اشیاء کے زیادہ استعمال سے بچنے کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے آپ کو اپنی صحت کے مطابق غذا استعمال کرنی چاہیے لیکن یہ اُس وقت ممکن ہوگا جب آپ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونی والی اشیاء کے متعلق معلومات رکھتے ہونگے۔
(سبزیات) (Vegetables)
نام سبزی، تاثیر، فائدے، نقصان، رائے
کدو ، سرد تر
گرمی کے بخار میں مفید ہے،کدو شریف جگر اور دماغ کو فرحت دیتا ہے،پیشاب کے امراض میں بے حد مفید ہے،پیشاب کی جلن کو دورکرتا ہے بعض لوگ کدو شریف اور چنے کی دال ملا کر کھاتے ہیں یہ مناسب نہیں ہے،کدو شریف کو زیادہ پکانے سے بھی اس کی غذائیت کم ہوجاتی ہے اگر ممکن ہو توشوربے والے ہر سالن( خصوصاً گوشت )میں کدو شریف کے چند ٹکڑے ڈال لیا کریں ان شاء اللہ عزوجل کھانے کی تاثیر سرد ہ ہو جائے گی۔بلڈ پریشر اور خون کی گرمی کو ختم کرنے میں کدو شریف لاثانی ہے۔
آلو، سرد خشک
بچوں کی بڑھوتری کے لیے بہت مفید ہے،ہر عمر کے افراد کے لیے کھانا مناسب ہے 250 گرام سے زیادہ آلو کھانا نقصا ن دہ ہے،اس سے پیٹ میں گیس بہت زیادہ پیدا ہوتی ہے آلو جب بھی پکائیں تو اس کو چھلکے سمیت پکائیں،اور کھانے وقت چھلکا اُتار لیں ،اور کھاتے وقت نمک لگا کر کھانا زیادہ مفید ہے
بینگن، گرم خشک
امراض جگر میں بہت مفید ہے
گرم مزاج والے زیادہ استعمال نہ کریں انگاروں پر بھنا ہوا بینگن ریاحی امراض میں بہت مفید ہے
توری، سرد
بخار کے مریض کے لیے عمدہ غذا ہے یہ بھوک بڑھاتی اور جلد ہضم ہوتی ہے توری کو زیادہ دیر اور تیز شعلے پر پکانے سے اس کی غذائیت ختم ہو جاتی ہے توری، کدو شریف اور ٹماٹر مکس کر کے پکائیں تو زیادہ مفید رہے گا
شلغم ،گرم تر
نظر اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے،کھانسی میں بھی مفید ہے،جوڑوں کے درد کو دور کرتا ہے گرم مزاج والوں کے لیے زیادہ استعما ل کرنا مناسب نہیں جن کے چہرے پر نکھار نہ ہو وہ شلغم استعمال کریں اس سے چہرے پر نکھار آتا ہے
بھنڈی، سرد تر
آنتوں کی خراش کو دور کرنے میں بہت مفید ہے کھانسی ،بدہضمی اور ریاحی امراض میں اس کا استعمال نہ کریں،قبض بھی کرتی ہے تیل کی بجائے گھی میں پکی ہوئی بھنڈی زیادہ مناسب ہے،تیل میںپکی بھنڈی طبعی اوصاف نہیں رکھتی
کریلا، گرم خشک

دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور طبیعت میں چڑچڑا پن پیدا ہوتا ہے۔جن کے معدے اور جگر میں گرمی ہو وہ استعمال نہ کریں
جوسرمشین میں کریلے کا جوس نکال کرپیناشوگرکے مریض کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں
ہری مرچ، گرم خشک
تھوڑی مقدار میں کھانے سے آنکھوں کو فائدہ دیتی ہے گرم مزاج والوں کے لیے نقصان دہ ہے،زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ہے
پالک، سرد
خون کی خرابی کو دور کرتا ہے ،وٹامن A اور C پایا جاتا ہے اس لیے جن کو کم سنائی دیتا وہ مناسب مقدار میں استعمال کریں جن کے معدے اور جگر میں گرمی ہو وہ پالک استعمال نہ کریں۔جن کو غصہ جلدی آتا ہو وہ بھی کم استعمال کریں پالک جلدی ہضم ہوتی ہے اس لیے مریض بھی اس کو استعمال کر سکتے ہیں
اروی، سرد تر
بدن کو موٹا کرتی اور طاقتور بناتی ہے،خشک کھانسی کو دور کرتی ہے اروی کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہے ،پیٹ میں گیس پیدا ہوتی ہے یہ آلو کے مقابلے میں ڈیرھ گنا زیادہ مفید ہے اس لیے آلو کی بجائے اروی کھانا زیادہ مفید ہے
شکرقند، گرم تر
دماغی قوت کے لیے اچھی ہے، زیادہ کھانے سے انتڑیوں میں پھنس جاتی ہے جس سے پیٹ میں اپھارہ پیدا ہوتا ہے شکر قندی کھانے کے بعد سونف چبانا مفید ہے
چقندر، گرم
خون کی کمی ،قبض،پتھری اور بواسیر کے لیے مفید ہے، جن کی نبض تیز چلتی ہو اُن کے لیے نقصان دہ ہے
گوبھی، سرد خشک

پکی ہوئی کی نسبت کچی گوبھی کھانازیادہ فائدہ مند ہے، پیٹ میں گیس پیدا کرتی ہے، گوبھی کو اگر کم آنچ اور زیادہ نہ پکایا جائے تو اس کی غذائیت برقرار رہتی ہے

تر، سرد

معدے کا نظام درست رکھتی اور جلدی ہضم ہوتی ہیں زیادہ پکی ہوئی اور کڑوی تر کھانا مناسب نہیں تر کھانا کھانے سے پہلے کھانا زیادہ مناسب ہے
گاجر، گرم تر
گاجر نظر کی تقویت کے لیے مفید ہے،دل کو طاقت دیتی ہے اور دل کی گھبراہٹ کے لیے بہت مناسب ہے،معدے کو طاقت دیتی ہے گاجر کا زیادہ استعمال گرم مزاج رکھنے والوں کے لیے نقصان دہ ہے جن کی آنکھوں میں سوزش ہواُن کے لیے گاجر کاجوس بہت فائدہ مند ہے ،یہ نظر کو تیز بھی کرتا ہے،گاجر کے اندر بھورے رنگ کا ایک ’’کیل‘‘ ہوتا ہے اس کا استعمال مناسب نہیں ۔یہ بہت سخت ہوتا ہے
بند گوبھی، سرد تر
بند گوبھی ورمِ معدہ،سوزشِ معدہ اور معدے کے پھوڑے کے لیے مفید ہے پیٹ میں گیس پیدا کرتی ہے بند گوبھی کو سلاد کے طور پر استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے
لہسن، گرم خشک
اگر لہسن کی گٹھلی گرم کر کے دانتوں کے درمیان رکھی جائے تو درد فوراً دور ہوجائے گا۔ اس کے استعمال سے منہ کی بدبو پیدا ہوتی ہے بہتر یہ ہے کہ اس کی تین چار گٹھلیاں سالن میں ڈال کر استعما ل کریں
پیاز، گرم خشک
پیاز پیس کر دہی اور شکر ملا کر کھانے سے گلے کی سوزش کو فائدہ پہنچتا ہے کچی پیازکھانے سے منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے لہذا پیاز کو نمک لگا کر پھر دھوکر استعمال کریں جن کو قبض کی شکایت وہ پیاز استعمال کریں کیونکہ اس کے کھانے سے رطوبتِ ہاضمہ پیدا ہوتی ہے اور یہ قبض کشاء ہے
ٹنڈا، سرد تر
ٹنڈا مرغوب غذاہے،پتھری کی تکلیف دور کرتا ہے،بدن کی خشکی اور گرمی کو دور کرتا ہے،جسم سے تزابی مادہ اور دیگر فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے،پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے تیز آنچ پر پکانے سے ٹنڈے کے غذائی اجزاء کافی حد تک ضائع ہو جاتے ہیں جن کو قبض کی شکایت ہو وہ ٹنڈا بکثرت استعمال کریں ان شاء اللہ عزوجل فائدہ ہوگا،ٹنڈا خون کو بھی صاف کرتا ہے
مولی، گرم تر
مولی کدو کش کر کے نمک اور کالی مرچ لگا کر کھانے سے قبض دور ہوتی ہے، مولی کا زیادہ استعمال معدے کو نقصان دیتاہے،منہ میں بد بو پیدا ہوتی ہے، اگر مولی کھانا چاہیں تو کھانے کے ساتھ سلاد کے طور پر صرف چند ایک قتلس کھائیں زیادہ کھانے سے منہ سے بد بو آتی ہے۔
مٹر، سرد خشک
مٹر کھانے سے خون کی صفائی ہوتی ہے،قبض کے لیے مفید ہے کچی حالت میں کھانے سے دست لگ جانے کا اندیشہ ہے
مٹر کھانے سے چہرے پر شادابی آتی ہے،اور نکھار پیدا ہوتا ہے
پیٹھا، سرد تر
پیٹھا دل دماغ اور تمام جسم کو طاقت دیتا ہے جگر اور دل کی گرمی کو دور کرتا ہے،انسان کا وزن بڑھاتا ہے ،پیشاب کی جلن میں مفید ہے، سرد مزاج والے کم استعمال کریں، تپِ دق کے مریض کے لیے مفید ہے
کلفہ، سرد تر
خون کے جوش کو تسکین دیتا ہے،جگر اور معدے کی سوجن میں مفید ہے،پیشاب کی جلن اور گرمی کو دور کرتا ہے پالک اور کلفہ مکس کر کہ نہ پکایا جائے اس کا ساگ گرمی کے بخار،بواسیر ، جریان اور جگر کی گرمی میں مفید ہے
(پھل) (Fruit)
نام پھل، تاثیر، فائدے، نقصان، رائے
آلوبخارا، سرد تر
قبض کشاء ہے،جگر کی گرمی اور خون کے جوش اور گرمی کو دور کرتا ہے،اس کے باقاعدہ استعمال سے انسان کے چہرے کی زردی دور ہوجاتی ہے، آلوبخارا کھانے کے فوراً بعد دودھ پینا نقصان دہ ہے، یرقان کے مریض کے لیے آلو بخارا بہت مفید ہے
سیب، سرد خشک
دماغ کو تقویت دیتا ہے اور روح لطیف کرتا ہے، سیب چھلکا اُتار کر کھانا چاہیے کیونکہ اس کا چھلکا دیر سے ہضم ہوتا ہے اور دماغی نظام کے لیے مناسب نہیں، کمزور اور دبلے بدن کے لیے سیب بہت لاجواب پھل ہے ،جسم کو موٹا کرتا اور ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے،خشک کھانسی میں میٹھے سیب کھانا بہت مفید ہیں
آڑو، سرد تر
خون کی گرمی کو دور کرتا ہے دماغ کو طاقت دیتا ہے اور خون پیدا کرتا ہے کمزور ہاضمہ والوں کے لیے چھلکے سمیت کھانا نقصان دہ ہے، جسم میں خون پیدا کرتا ہے ،جریان اور بواسیر کے مرض کے لیے بہت مفید ہے
آم، گرم تر
دیسی آم کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے ،خون پیدا کرتا ہے اور جگر اور معدے کو تقویت دیتا ہے، جن کے معدے ،جگر اور مثانے میں گرمی ہو وہ آم استعمال نہ کریں، آم کھانے کے ساتھ کھانا مناسب ہے یا پھر دوپہر کے بعد کھائیں ،آم کھانے کے بعد دودھ یا دودھ کی لسی پینے سے تازہ خون پیدا ہوتا ہے
مالٹا، سرد تر
خون کو صاف کرتا ہے،جسم اور ہڈیوں اور دانتوں کو تقویت دیتا ہے،مالٹا مزاج کی گرمی اور خشکی کو دور کرتا ہے
کھانسی ،سر درد اور زکام کی حالت میں مالٹے کا استعمال نقصان دہ ہے، مالٹے میں وٹامن  سی ہوتا ہے جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے،مالٹے کے استعمال سے بد ہضمی بھی دور ہوتی ہے
تربوز، سرد تر
جلدی ہضم ہوتا ہے ۔اس کے بیج معدے میں موجود فاضل معدوں کو خارج کرتے ہیںدماغی گرمی کو دور کرتا ہے، تربوز کھانے کے بعد پانی پینا مناسب نہیں،کھٹا اور گلا ہوا تربوز کھانے سے ہیضہ ہوسکتا ہے۔سرد مزاج والوں کے لیے تربوز کھانا نقصان دہ ہے، تربوز جب بھی کھائیں ٹھنڈا کھائیں اور خالی پیٹ کھائیں ،کھانا کھانے سے پہلے تربوز کھانا بہت فائدہ مند ہے
خربوزہ، گرم تر
گرمی سے بچاتا ہے اور دل و دماغ کو تازگی بخشتا ہے،تربوز کھانے سے پہلے کھانا مفید ہے اور خربوزہ کھانے کے بعد کھانا مفید ہے، خربوزہ کھانے کے بعد پانی یا دودھ پینے سے ہیضہ ہوجا نے کا اندیشہ ہے، زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے خربوزے کو کاٹے بغیر برف میں رکھ دیں اور مناسب وقت کے بعد کاٹ کر کھائیں ۔کٹا ہوا خربوزہ برف میں رکھ کر کھانا مناسب نہیں
ٹماٹر، سرد تر
خون صاف کرتا ہے،غذا کو ہضم کرتا ہے،امراض جگر اور معدہ کے لیے مفید ہے، ٹماٹر کا چھلکاسخت ہوتا ہے لہذا اس کا چھلکا استعمال کرنا مناسب نہیں، ٹماٹر صحت کو قائم رکھنے والی غذاؤں کاسرتاج ہے،جراثیم سے بچنے کی قو ت پیدا کرتا ہے،کمزوری کو دور کرتا ہے
کھیرا، سرد تر
خون کی گرمی،آنتوں کی سوجن کو دور کرتا ہے،پیاس بجھاتا ہے،پتھری اور پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے، سرد مزاج والوں کے لیے غیر مفید ہے، کھیرے کو نمک لگاکرکھانے کے بعد کھائیں تواندر کی گرمی کو دور کرتا اورمزاج میں نرمی پیدا کرتا ہے ،جگرکے لیے بہت مفید ہے،قبض کشاء ہے
انناس، سرد تر
دل کو طاقت دیتا ہے،موسم گرما میں پیاس کی شدت کو تسکین دیتا ہے،گرم مزاج والوں کے لیے بہت مفید ہے، موٹے حضرات کم استعما ل کریں کہ اس سے جسم جلد موٹا اور فربہ ہوتا ہے، جن کو یرقان کی شکایت وہ اس کا لگاتار استعمال کریں کہ اس کے لگاتار استعمال سے یرقان دور ہوجاتا ہے
خوبانی، سرد تر
قبض کشاء ہے،سوزش معدہ اور معدہ کی سوزش کے لیے مفید ہے، سرد مزاج والے کم استعما ل کریں، خوبانی کا خیساندہ صفراوی بخار،اور معدے کی سوزش میں مفید ہے
کیلا، سرد خشک
کیلے کا کودا ایک اونس نمک لگا کھانا پیچس کے لیے مفید ہے، کیلا معدے میں بھاری پن پیداکرتا ہے،کچا کیلا کھانا مناسب نہیں، کیلے کے استعمال میں اس کا جوس زیادہ مناسب ہے
امرود ،گرم تر

قبض کے لیے مفید ہے،شہد کے ساتھ ملا کر کھانے سے دل، دماغ اور معدے کو طاقت دیتا ہے، پھیکے اور سخت امرود کھانے سے قبض ہوتی ہے لہذا امرود نرم کرکہ کھانے چاہیے۔، امرود کھانے کے بعد قبض کشاء اور خالی پیٹ کھانے سے قابض یعنی قبض کرتا ہے
انگور، گرم تر
انگور کے استعمال سے بال اور آنکھیںچمک دار ہوتی ہیں جلد صحت مند اور نرم رہتی ہے، گرم مزاج والوں کے لیے زیادہ استعمال نقصان دہ ہے، انگور کو ٹھنڈا کر کے کھانا زیادہ مناسب ہے،کم کھائیں کہ زیادہ کھانے سے دست لگ جانے کااندیشہ ہے
کھجور، گرم تر
یہ بہت زیادہ طاقت والا پھل ہے ،دل اور دماغ کو طاقت دیتا ہے، کھجور کا زیاد ہ استعمال جسم میں گرمی بڑھا دیتا ہے لہذا اس کوکم استعمال کیا جائے، جنرل کمزوری کے لیے 10عدد بادام اور 10کھجوردھو کر کھانا بہت مفید ہے
ناشپاتی، سرد خسک
ناشپاتی دست اور پیچس کے لیے کسی تحفہ سے کم نہیں
بخار کی حالت میں نقصان دہ ہے۔سرد مزاج والے بوڑھوں ،اور بلغمی مزاج والے کے لیے مناسب نہیں
کوشش کر کے میٹھی ناشپاتی کھائیں کہ ترش ناشپاتی دیر ہضم اور قابض ہے۔
انار، سرد تر
میٹھا انار خون پیدا کرتا ہے اور جگر کی تقویت کے لیے مفید ہے قبض کشاء ہونے کے ساتھ ساتھ پیشاب بھی جاری کرتا ہے، جن کو دست لگے ہوں اُن کے لیے انار کھانا نقصان دہ ہے، کابلی انار سب سے اچھا ہے،جن کو خشک کھانسی ہو اُن کے لیے انار کھانا بہت اچھا ہے انار کھانے سے چہرے میں نکھاآتا ہے اور چہرہ دلکش اور کھِلا ہوا نظر آتا ہے
جامن، سرد خشک
قبض کے لیے مفید اور ہاضمہ درست رکھتی ہے، سخت جامن کا زیادہ استعمال پھپھڑوں کے لیے نقسان دہ ہے اور اس سے تپ دق ہو جاتا ہے، جامن جب بھی کھائیں پکی ہوئی کھائیں اور نمک لگا کر کھائیں اس سے اس کا نقصان کم ہوجاتا ہے
بیر، سرد خشک
گرم مزاج والوں کے لیے بہت مفید ہیں،پیاس بجھاتا ہے، جن کے معدے ،جگر اور مثانے میں گرمی ہو وہ بیر زیادہ استعمال کریں
املی، سرد خشک
قے اور متلی کو روکنے کے لیے اس کا استعمال مفید ہے، زیادہ کھانے سے دانت خراب ہونے کا اندیشہ ہے، املی پانی میں ڈال کرپانی پینے سے دل کی گرمی دور ہوتی ہے،بے چینی کو دور کرتی ہے،طبیعت کو فرحت بخش بناتی ہے
شہتوت، کچا گرم تر ،پکا ہو ،سرد تر
گرمی ،پیاس،پیشاب کی بندش اور لو لگنے سے بچاؤ رہتا ہے،پکا ہو توت خوش ذائقہ ،ٹھنڈا اور گرمی کو دور کرتا ہے، کچا توت کھانے سے نقصان کا اندیشہ ہے، پکے ہوئے توت ٹھنڈے کر کے کھانے سے دل کو تسکین ہوتی ہے،اور مزاج میں نرمی پیدا ہوتی ہے
فالسہ، سرد تر
پیاس اور گرمی کو دور کرتا ہے،قوتِ ہاضمہ کو تیزکرتا ہے،بلغم کو خارج کرتا ہے، سرد مزاج والوں کے لیے نقصان دہ ہے، جن میں خون کی کمی ہو وہ فالسہ استعما ل کریں کیونکہ فالسہ نیا خون کافی مقدار میں پیدا کرتا ہے،گرمیوں میں اس کا شربت بہت مفید ہے
گنا، گرم تر
پیشاب کی بندش اور جلن میں مفید ہے،تیز مصالحہ جات اور تلی ہوئی چیزوں سے جو نقائص پیدا ہوتے ہیں گنے کے استعما ل سے وہ دور ہوجاتے ہیں ،گنے کے استعمال سے جسم کی تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور جسم میں چستی آتی ہے، مشینوں سے نکالا ہو ا گنے کا رس دیر ہضم بھی ہوتا ہے اور نقصان دہ بھی کیونکہ اس میں صفائی نہیں ہوتی،گنے کے رس کی بجائے اس کی گنڈریاں کھانا زیادہ مفید ہے،اس سے رس بھی تازہ ملتا ہے اور دانت بھی مضبوط ہوتے ہیں
پپیتا، سرد تر
دل اور معدے کی سوزش ،جگر اور امراض دل کے لیے مفید ہے، سرد بلغمی مزاج والوں کے لیے نقصان دہ ہے، جن کو دائمی قبض ہو وہ ہر روز استعمال کریں۔کم میٹھا ہونے کی وجہ سے شوگر والے بھی استعما ل کر سکتے ہیں
لیچی ،تر سرد

یرقان کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے،لیچی ہاضمہ کو تیز کرتی ہے،دماغی کمزوری اور دل کی دھڑکن میں بہت زیادہ مفید ہے، لیچی بلغم کو بڑھاتی ہے اس لیے دمہ کے مریض استعمال نہ کریں، اس کے کھانے کے تقریباً 2گھنٹے بعد پانی پینا چاہیے ،پہلے پانی پینا نقصان دہ ہوسکتا ہے،ہاتھ پاؤں کی جلن میں بھی بہت مفید ہے
(خشک میوہ جات) (Dry Fruit)
نام میوہ۔ تاثیر، فائدے، نقصان، رائے
انجیر، گرم تر
سفید انجیرحلق کی سوزش،سینے کا بوجھ اورپھپھڑوں کی سوجن میں مفید ہے، بہت زیادہ استعمال کرنے سے نقصان کا اندیشہ ہے، جن کے سینے میں بلغم ہو وہ استعما ل کریں کیونکہ انجیر بلغم کو پتلا کر کہ خارج کرتا ہے،انجیر نہار منہ کھانے سے عجیب و غریب فائدے حاصل ہوتے ہیں
اخروٹ، گرم خشک
دماغی کمزوری کے لیے مفید ہے، گرم مزاج والوں کے لیے نقصان دہ ہے، اخروٹ کو مناسب مقدار میں استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اس کے زیادہ استعمال سے منہ میں پھنسیاں پیدا ہوجاتی ہیں
بادام، گرم تر
دماغ اور بصارت کی تقویت کے لیے اس کا استعمال بہت مفید ہے ،دل کی کمزوری کے لیے موسمِ گرما میں اس کا شربت بنا کر پینا بہت مناسب ہے، سات سے گیارہ عدد بادام سے زیادہ کھانا نقصان دہ ہے،کیونکہ یہ بہت گرم ہوتا ہے اور اس سے کو لیسٹرول بھی بڑھ جاتا ہے، بادام ذرہ دیر سے ہضم ہوتا ہے اس لیے اگر اس کا چھلکا اتار کر اور نمک لگا کر کھائیں تو جلد ہضم ہو تا ہے
پستہ، سرد خشک، جو لوگ اسکو گرم خشک کہتے ہیں سراسر غلط ہے
دل کو طاقت دیتا اور بدن کو موٹا کرتا ہے،دماغی کمزریوں کے لیے بہت مفید ہے، پستہ گرم ہوتا ہے اس لیے گرم مزاج والے لوگ زیادہ استعمال نہ کریں
کشمش، گرم تر
دل کی کمزوری میں مفید ہے،دماغ کے کل اعضاء کو تقویت دیتی ہے،قبض کشاء ہے،بلغم کو دور کرتی ہے، جن کے جگر اور معدے میں گرمی ہو وہ کم استعمال کریں، خشک کھانسی کا بہترین علاج ہے،رات سونے سے پہلے41دانے، کشمش 7عدد بادام بسم اللہ شریف اور درود پاک پڑھ کر کھا لیں ان شاء اللہ  شفاء ملے گی
مونگ پھلی، سرد خشک
چمبل اور جلد کے تمام امراض کے لیے مونگ پھلی کے تیل کی مالش بہت مفید ہے، مونگ پھلی کے زیادہ استعمال سے کھانسی لگ سکتی ہے، مونگ پھلی کم مقدار میں کھائیں اور کھاتے وقت اس کے دانے سے لال رنگ کا چھلکا اُتار لیں یہ دیر ہضم ہوتا ہے
چھوٹی الائچی، گرم خشک
دل کو تقویت دیتی ہے، مسوڑوں اور دانتوں کے لیے مفید ہے، جن کو کھانسی یا پھپھڑوں کا مرض ہو اُن کے لیے اس کا استعمال نقصان دہ ہے، جب بھی کھانا کھائیں تو بعد میں ایک سے دو دانے کھا لیں اس سے قے ،متلی،رطوبتِ معدہ اور دماغی تکلیف کو فائدہ پہنچتا ہے
ناریل، گرم تر
خون پیدا کرتا ہے،فالج کے مریض کے لیے مفید ہے، ناریل میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس کا کم استعمال منا سب ہے، ناریل کا پانی پتھری کو آرام دیتا ہے،اور سخت ناریل کھانے کی بجائے کچی ناریل زیادہ مناسب ہے
چلغوزہ، گرم تر
جسمانی پٹھوں کو تقویت دیتا ہے،گردوں اور جگر کی بیماری میں مفید ہے،یہ دل کو طاقت دینے کے ساتھ ساتھ رگوں اور پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے، کچا چلغوزہ استعمال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ دیر ہضم ہوتا ہے اور اس سے بھوک بند ہوجاتی ہے،زیادہ کھانے سے بھی نقصان ہو سکتا ہے، بلڈ پریشر کے مریض استعمال کریں کہ یہ فالج کے اثر سے محفوط رکھتا ہے
ناریل، گرم تر
جسم کے تمام اعضاء کو تقویت دیتی ہے،جسم کو موٹا کرتی ہے، زیادہ استعمال نقصان دہ ہے،دیر ہضم ہے، جن کا معدے کمزور ہو وہ بہت کم استعمال کریں
تِل، گرم تر
تل چبانے سے دانت اور مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں،جسم صحت مند رہتا ہے اور چہرے پر چمک آتی ہے، گرم مزاج والے زیادہ استعمال نہ کریں، جن کو موسم سرمامیں زیادہ سردی لگتی ہواُن کے لیے تل کے لڈو بہت مفید ہیںیہ جسم میں طاقت پیدا کرتے ہیں اور اعصاب کو مضبوط بناتے ہیں
سونف، گرم خشک
کھانے کے بعد کھانے سے ہاضمہ درست کرتی ہے،اور گیس ختم کرتی ہے، گرم مزاج والے کم استعمال کریں، ہلکے گرم دودھ میں ایک دو چھوٹی الائچی اور ایک چمچ سونف ڈال کر مکس کر کے استعمال کریں بہت مفید رہے گا۔ان شاء اللہ
عناب، سرد تر
جگر ،معدے اور مثانے کی گرمی دور کرتے ہیں،اس کے استعمال سے چہرے پر نکھار آتا ہے، سرد مزاج والے کم استعمال کریں، اس کے استعمال کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ عناب کے15 دانے رات کو پانی میں بگھگو دیں اور اس کے ساتھ 5 دانے املی کے ڈال دیں صبح چینی یا شہد ڈال کر استعمال کریں  ان شاء اللہ بہت مفید رہے گا۔

زیرہ سفید، گرم خشک
معدے اور جگر کی آنتوں کو تقویت دیتا ہے،بلغم نکالنے میں مفید ہے،گردہ کی کمزوری میں مفید ہے،پیشاب کی رکاوٹ میں بہت فائدہ مند ہے، گرم مزاج والوں کے لیے زیادہ استعمال نقصان دہ ہے
کلونجی، گرم خشک
پیٹ درد اور پیٹ کے کیڑے مارنے کے لیے مفید ہے،کھانسی کے لیے بھی مفید ہے، شہد کے ساتھ استعمال کرنے سے پتھری ،گردہ اور مثانہ کے لیے بہت مفید ہے،ریاحی امراض میں اچھا ہے
جو  ، سرد خشک
جو شریف کے استعمال سے پیاس اور گرمی کم ہوتی ہے،تپ دق،کھانسی اور سر درد میں بہت مفید ہے، موسم گرما میں جو شریف کی روٹی بہت عمدہ غذا ہے،جسم میں سردی پیدا کرتی ہے،گرمی کے موسم میں ستو  کا شربت پینا بہت مفید اور پیاس کو بجھاتا ہے
مکئی، سرد خشک
بھونی ہوئی مکئی طاقت دیتی ہے اور ذائقہ دار ہے، مکئی خشک ہے اس لیے جن میں خشکی ہو وہ کم استعمال کریں، مکئی ابال کر کھانا زیادہ مناسب ہے
(مختلف اشیاء) (Other eatables)
تاثیر، فائدے، نقصان، رائے
چینی، گرم تر
کھانے کے بعد تھوڑی سی کھانے سے کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے، زیادہ استعمال سے جگر خراب ہوتا ہے،اور بد ہضمی پیدا ہوتی ہے، شوگر کے مریض کے لیے چینی زہر قاتل ہے،لہذا شوگر کے مریض چینی استعمال نہ کریں
آٹا ، گندم کا، گرم خشک
جسم کو تقویت دیتاہے، موٹی اور کچی چپاتی کھانا نقصان د ہ ہے، سفید آٹے کی بجائے لال آٹا زیادہ اچھا اور جلد ہضم ہونے والا ہے ،یہ معدے کو تقویت بھی دیتا ہے،جبکہ سفید آٹا دیر ہضم ہوتا ہے
سوجی کا حلوہ، گرم تر
جسمانی طاقت میں مفید ہے
زیادہ کھانے سے پیٹ کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اورجگر کو بھی نقصان پہنچتا ہے، خالی پیٹ کھانے سے آنکھوں کو تقویت ملتی ہے لیکن کم مقدار میں
چائے، گرم خشک
چائے پینے سے تھکان دور ہوتی ہے،چستی آتی ہے اور کام کرنے کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے، چائے میں کوئی غذائیت نہیں ہوتی،چائے کے ساتھ نشاستہ والی اشیاء کیک،بسکیٹ اورپیسڑی وغیرہ اور تلی ہوئی اشیاء کھانے سے معدہ کمزور ہوجاتا ہے،ہائی بلڈ پریشر والوں کے لیے چائے بہت نقصان دہ ہے، چائے کا زیادہ استعما ل اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا شراب کا۔چائے کے زیادہ استعما ل سے مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے۔
گھی اور تیل، گرم تر
بدن کو طاقت دیتا ہے،خشکی کو کم کرتا ہے، دیر ہضم ہوتا ہے،معدے اور جگر کے لیے نقصان دہ ہے، گرم مزاج والوں کو چاہیے وہ بہت کم استعمال کریں
شہد، گرم تر
شہد ایک بڑی مفید،لذیذ اور صاف خون پیدا کرنیوالی غذا ہے،اس سے دل ودماغ کوتقویت ملتی ہے،جسم کے زیریلے اثرات زائل ہوجاتے ہیںاور جسم صحت مند رہتا ہے، گرم مزاج والے کم استعمال کریں، شہد استعمال کرنیکا مناسب طریقہ یہ ہے کہ اس کو پانی میں ڈال کر استعمال کیا جائے۔زیادہ گرم ہونے کی وجہ سے اکیلا کھانا مناسب نہیں ،شہد کے استعما ل سے جسم کی بلغم خارج ہوجاتی ہے،شوگر کے مریض شہد استعما ل نہ کریں
دہی، تر گرم
چہرے کی رنگت میںنکھار آتا ہے،اور کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے، اگر ممکن ہو تو ہر کھانے کے تھوڑی سی دہی استعمال کریں ان شاء اللہ  معدے درست رہے گا۔

ساگودانہ، سرد خشک
کمزور مریضوں کے لیے مفید ہے،دودھ میں پکا کر چینی ملا کر کمزور مریضوں کے دینے سے فوراً جسم کو تقویت ملتی ہے اور بدن موٹا ہوتا ہے
پان، خشک گرم

جن کا بلڈپریشر لو رہتا ہو اُن کے لیے اس کا استعمال مفید ہے، زیادہ پان کھانے سے منہ کے کینسر ہونے کا اندیشہ ہے
اگر پان کھانا چائیں توخودبنا کر کھائیں تو مناسب ہے کیونکہ بازاری پان غیر مفید ہو تا ہے۔
انڈے، گرم تر
دل ودماغ کو تقویت دیتا اور جسم میں چونے کی کمی کو دور کرتا ہے،انڈے کی زردی خون پیدا کرتی ہے، گردے کی پتھری، بد ہضمی اور تیزابیت کی شکایت میں انڈا استعمال نہ کریں، انڈے کو جس قدر زیادہ ابالیں گے یہ اتنی ہی دیر سے ہضم ہوگا، لہذا انڈا اتنا ابالیں (پکائیں) کہ سفیدی جم جائے اور زردی نہ جمے
مرچ سرخ، گرم خشک
بچھو کے ڈنک پر اس کو پانی میں پیس کر لگا نے سے جلدی فائدہ ہوتا ہے، معدے میں جلن پیدا کرتی ہے اور معدے کے نظام کو خراب کرتی ہے، اگر ممکن ہو تو سالن میں لال مرچ بالکل نہ ڈالی جائے یہ بہت مناسب ہے،بلکہ ہری مرچ اور کالی مرچ سے کام چلا لیا جائے
گرم خشک : یعنی ایسی شے جس کی تاثیر گرم ہو اور اُس میں تیل یا چکنائی نہ ہو یا کم مقدار میں ہو (کلونجی،چھوٹی الائچی،پیاز)
گرم تر : یعنی ایسی شے جس کی تاثیر گرم ہو اور اُ س میں تیل یا چکنائی کی مناسب مقدار پائی جائے۔(پستہ،کشمش،چلغوزہ)
سرد خشک : ایسی شے جس کی تاثیر سرد ہو اور اُس میں تیل یا چکنائی نہ ہو یا کم مقدار میں ہو۔(جامن،بیر،جو)
سرد تر : ایسی شے جس کی تاثیر سرد ہو اور اس میں تیل یا چکنائی کی مناسب مقدار پائی جائے۔(ٹنڈا،مولی،خربوزہ)
پیپسی اور دوسرے کولڈ ڈرنکس (جن میں گیس ہوتی ہے )نہ پینا مناسب ہے خصوصاً خالی پیٹ کیونکہ ان میں تیزابیت ہوتی ہے خالی پیٹ پینے سے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
جن کو آم منع ہوں وہ آم کا ملک شیک بنا کر استعمال کرسکتے ہیں بشرطیکہ اس میں دودھ زیادہ مقدار میں ہو
کولڈ ڈرنکس اور دوسرے مشروبات کی بجائے ، لیموں کا شربت،  بہت مناسب ہے یہ مزاج میں نرمی پیدا کرتا ہے اور چڑچڑ اپن دور کرتا ہے
بسکیٹ،کیک ،چاکلیٹ اور اسی طرح کی دوسری بیکری کی اشیاء نہ استعمال کرنا مناسب ہے کیونکہ یہ معدے اور آنتوں میں جا کر چمٹ جاتے ہیں،جس سے معدے کا نظام متاثر ہوتا ہے
عام آدمی کے لیے مٹھائی کھانا (زیادہ مقدار میں)مناسب نہیں،مٹھائی صرف اُس کے لیے مفید ہے جسکا  شوگر لیول لو ہو
جن کے چہرے کی رنگت  زرد ہو وہ دہی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں
بکری کا دودھ : بکری عموماً خاردار،کڑوی اور کسیلی جڑی بوٹیاں کھاتی ہے،پانی کم پیتی ہے اور خوب بھاگتی دوڑتی ہے اس لیے اسکا دودھ لطیف،جلدی ہضم ہونے والا،خون صاف کرنے والاہوتا ہے۔بکری کا دودھ تپ دق کے جراثیم سے پاک ہوتاہے جبکہ گائے کے دودھ میں تپ دق کے جراثیم شامل ہوتے ہیں
گائے کا دودھ : گائے کا دودھ خوش ذائقہ اور جلدی ہضم ہونے والا ہوتا ہے،دل و دماغ اور پورے جسم کو تقویت دیتا ہے
بھینس کا دودھ : بھینس کا دودھ گائے کے دودھ کی نسبت زیادہ میٹھا اور زیادہ طاقتور ہوتا ہے بلغمی مزاج والے بھینس کا دودھ استعمال نہ کریں،بھینس کا دودھ دیر ہضم ہوتا ہے اس لیے دودھ پیتے بچوں کو گائے کا دودھ مناسب ہے جن کے چہرے پر ہر وقت چکنائی رہتی ہو وہ تھورڑا سا بیسن لیکر اُس میںسرسوں کا تیل اور تھوڑی سی ہلدی ملا کر گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں اور اسکو اپنے چہرے پر مل لیں ۔تقریباً 26 منٹ کے بعد چہرے پر ملا ہوا پیسٹ اندر جذب ہوجائے گا، لگارتار 5دن تک یہ عمل کرنے سے ان شاء اللہ عزوجل چہرے کی ساری چکنائی دور ہوجائے گی
جن کا معدہ کمزور ہو وہ میٹھی اشیاء کم استعما ل کریں کہ میٹھی اشیاء دیر سے ہضم ہوتی ہیں
چاول سرد خشک، اورلوبیا سرد خشک،  دال چنا سرد خشک، دال ماش سرد خشک، دوال مونگ سرد تر، دال مسور سرد خشک، کالے چنے گرم خشک، سفید چنے خشک سرد، ثابت مسور گرم خشک، لہذا جن کے معدے،جگر اور مثانہ میں گرمی ہو اورخشکی بھی ہو وہ یہ اشیاء کم سے کم استعمال کریں

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

Read More