Al-Shifa Naturla Herbal Laboratories (Pvt), Ltd.    HelpLine: +92-30-40-50-60-70

چھاتیوں کی نشوونما

چھاتیوں کی نشوونما

لڑکیوں کے لئے چھاتیوں کی نشوونما کا آغاز ،بلوغت کی اوّلین علامات میں شامل ہے۔عام طورپر چھاتیوں کی نشوونما کاآغاز ماہواری کے آغازسے ایک سال پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ بعض لڑکیوں میں چھاتیوں کی نشوونما سات یا آٹھ سال کی عمر سے شروع ہوجاتی ہے ،جب کہ بعض دِیگر صورتوں میں یہ نشوونما 13 سال یا اِس کے بعد شروع ہوتی ہے۔اگلے 5 سے 6 سالوں کے دوران،چھاتیاں نشوونما کے پانچ ’’مراحل‘‘ سے گزرتی ہیں اور 17 یا 18 سال کی عمر تک اِن کی مکمل نشوونما ہوجاتی ہے۔ چھاتیوں کی نشوونما کے ابتدائی مراحل میں،ایسٹروجین نامی ہارمون اِس نشوونما کا سبب بنتا ہے،جس کی وجہ سے چھاتیوں میں چربی جمع ہونے اور دُودھ کی نالیوں کے بڑھنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جب چھاتیوں کی جسامت سب سے زیادہ بڑھتی ہے۔جب لڑکیوں کی ماہواری ختم ہوجاتی ہے تو بیضہ دانیوں میں پروجسٹرون نامی ہارمون بننا شروع ہوجاتا ہے،جس کی وجہ سے تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔پروجسٹرون کی وجہ سے ،دُودھ کی نالیوں کے سِروں پر دُودھ کے غدود بننا شروع ہوجاتے ہیں یہ نشوونما ،جسامت کے لحاظ سے تو نمایاں نہیں ہوتی تاہم اپنے کام کے لحاظ سے یہ تبدیلی بہت اہم ہوتی ہے۔چھاتیوں کی حتمی جسامت کا انحصارموروثی عوامل پر ہوتا ہے اور یہ سلسلہ مختلف عورتوں کے لئے مختلف ہوتا ہے چھاتیوں کی ہر قِسم کی جسامت اور بناوٹ نارمل اور صحت مند ہوتی ہے۔
چھاتیوں کی نشوونما کے مراحل (Tanner Staging)
 مرحلہ 1

پہلے مرحلے میں ،نو بلوغت سے پہلے ،چھاتیاں ایک اُبھرے ہوئے چھوٹے نِپل کی صورت میں ہوتی ہیں جس کے نیچے چھاتیوں کی جسامت نمایاں نہیں ہوتی۔
 مرحلہ 2

پہلے مرحلے میں ،نو بلوغت سے پہلے ،چھاتیاں ایک اُبھرے ہوئے چھوٹے نِپل کی صورت میں ہوتی ہیں جس کے نیچے چھاتیوں کی جسامت نمایاں نہیں ہوتی۔
مرحلہ 3

اِس مرحلے میں ،چھاتیوں اور نپلز کے گِرد پائے جانے والے حلقوں کی جسامت مزید بڑھتی ہے اور اِن حلقوں کا رنگ مزید گہرا ہوجاتا ہے۔
 مرحلہ 4

اِ س مرحلے میں، نپلز اور اِن کے گِرد پائے جانے والے حلقوں کی جسامت میں اِضافہ ہوتا ہے اور چھاتیوں کی ثانوی گولائی بنتی ہے۔
مرحلہ 5

اِس مرحلے (بلوغت کے لحاظ سے عورت کی پختہ عمر)م یں ،نپلز کی لمبائی میں اِضافہ ہوتا ہے اور چھاتیوں کی نشوونما مکمل ہوجاتی ہے۔
حمل کے دوران چھاتیوں کی نشوونما

حمل کے دوران ،دُودھ کی نالیوں اور دُودھ کے غدودکی مزید نشوونما کی وجہ سے چھاتیوں کی جسامت کافی بڑھ جاتی ہے ۔اِس کے علاوہ نپلز کے گِرد پائے جانے والے حلقوں کی جسامت بھی بڑھتی ہے اور اِ ن کا رنگ بھی مزید گہرا ہوجاتا ہے۔
چھاتیوں کی نشوونما کے دوران پیدا ہونے والے عام مسائل
چھاتیوں میں درد ہونا

چھاتیوں میں درد ہونا ایک عام بات ہے یہ درد عام طور پرماہواری کے دوران ہارمونز میں پیدا ہو نے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے ۔مانع حمل گولیوں کا استعمال یا ہارمونز کے علاج کی وجہ سے بھی یہ درد پیدا ہو سکتا ہے بعض عورتوں کو چھاتیوں میں درد، نہ صِرف ماہواری کے دِنوں میں بلکہ روزانہ محسوس ہوتا ہے ۔یہ دردعام طور پر ، کندھوں کے درد سے بھی منسلک ہوتا ہے ،اور دِن کے اختتام پر یا ورزش کے بعدیہ درد مزید شِدّت اختیار کر سکتا ہے ۔

بعض عورتوں میں یہ درد اتنا شدید ہو سکتا ہے کہ اُنہیں کسی علاج کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
چھاتیوں کے درد میں کمی لانے کے لئے مفید نقاط
دِن کے علاوہ رات کو سوتے وقت بھی سِینہ بند استعمال کیجئے ۔
سِینہ بند کا استعمال نہ کیجئے یا ڈِھیلا سِینہ بند استعمال کیجئے ۔
 کیفین کی مقدار کم کرنے کے لئے کافی،چائے اور کولا کا استعمال کم کیجئے۔
 اپنی غذا میں نمک اور چکنائیوں کی مقدار کم کیجئے۔
وٹامن B6 اورB1 لیجئے اِن وٹامنز کی مقدار معلوم کرنے کے لئے اپنے ڈاکٹر یا دواساز سے رجوع کیجئے۔
 اپنی چھاتیوں سے گرم پانی کی بوتل لگائیے یا گرم پانی سے غسل کیجئے یا گرم پانی کا شاور لیجئے۔
 بعض عورتوں کے لئے ٹھنڈے پانی کا شاور یا برف کا استعمال زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے ۔
 آہستگی سے جسم کو ڈِھیلا چھوڑنے کی تکنیک یا نرمی سے مساج کروانے کا طریقہ استعمال کیجئے ۔
 اپنے ڈاکٹر سے ،سُوجن کم کرنے والی دواؤں کے استعمال کے بارے میں بات کیجئے۔
اگر آپ ہارمونز کا علاج کروارہی ہیں تو اِسے کچھ عرصہ روکنے کے لئے اپنے ڈاکٹر سے بات کیجئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اِس طرح کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں ، یااپنی ادویات میں تبدیلی لانے کے لئے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ لیجئے اگر اِن میں سے کوئی بات مفید ثابت نہیں ہوتی تو ممکن ہے کہ آپ کو گائینی کولوجسٹ یا چھاتیوں کی ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہو۔
خارش یا تناؤ کے نشان

یہ دونوں باتیں جِلد کے تیزی سے پھیلنے اور اِس میں تناؤ پیدا ہونے کی وجہ سے واقع ہوتی ہیں یہ دونوں مسائل عام طور پر ایک سال کے اندر ختم ہوجاتے ہیں اِس سلسلے میں ،اچھی نمی والی کریم کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔
چھاتیوں کی غیر یکساں نشوونما

ایک طرف کی چھاتی کا جسامت اور بناوٹ کے لحاظ سے دوسری طرف کی چھاتی سے مختلف ہونا بالکل نارمل بات ہے بلوغت کے دوران چھاتیوں کی نشوونما کے دوران ایسا ہوتا ہے اکثر اوقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فرق ختم ہوتا چلا جاتا ہے ۔تاہم تقریبأٔ 25 فیصد عورتوں میں ،چھاتیوں کا یہ فرق مستقل طور پر پایا جاتا ہے۔
اندر کی جانب دھنسے ہوئے نپلز

بعض عورتوں کے ایک یا دونوں نپلز اندر کی جانب دھنسے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ کیفیت اُن کی تمام عمر کے دوران قائم رہتی ہے یہ بات اُن کے لئے بالکل نارمل ہوتی ہے بعض اوقات یہ کیفیت بچّے کو اپنا دُودھ پلانے کی مُدّت ختم ہونے پر یا حمل کے دوران پیدا ہوتی ہے ۔

اگر آپ کے ساتھ یہ کیفیت پہلے نہیں تھی لیکن اب پیدا ہوگئی ہے تو آپ کو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہئے بعض اوقات یہ نپلز کے نیچے ،چھاتیوں کے سرطان کی علامت ہوتی ہے ۔
اپنی چھاتیوں سے واقف ہونا

باقاعدگی سے (مناسب ہوگا کہ ہر ماہ) اپنی چھاتیوں کا معائنہ کرنے سے آپ اپنی چھاتیوں کی خصوصیات سے واقف ہوجائیں گی،اور اگر کوئی تبدیلیاں واقع ہوں تو وہ آپ کو معلوم ہوجائیں گی اپنی چھاتیوں میں کسی بھی ایسی تبدیلی کو دیکھئے اور محسوس کیجئے جو آپ کے لئے نارمل نہ ہوں،یا ایسی تبدیلیاں جو اِس سے پہلے نظر نہیں آئیں یا محسوس نہیں ہوئیں۔
چھاتیوں کی درجِ ذیل تبدیلیوں میں سے کسی بھی تبدیلی کے پیدا ہونے کی صورت میں آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔
اُبھار، اُبھار پن یا موٹائی پیدا ہونا۔
چھاتیوں کی جِلد میں تبدیلی پیدا ہونا،مثلأٔ جِلد کا سُکڑ جانا،جِلد میں گڑھا پڑجانا، خارش یا سُرخی پیدا ہوجانا ۔
 مستقل یا خلاف معمول درد ہونا۔
 چھاتیوں کی جسامت یا بناوٹ میں تبدیلی پیدا ہونا۔
 نپلز سے رطوبت کا اخراج ہونا۔
 نپلز کے رنگ یا جسامت میں تبدیلی پیدا ہونا،مثلأٔ نپل کا اندر کی جانب دھنس جانا۔
ذاتی طور پر اپنی چھاتیوں کے معائنے کے مراحل

پہلے مرحلے میں بازو جسم کے ساتھ سیدھے اور نیچے کی جانب لٹکے ہوتے ہیں،دُوسرے مرحلے میں بازوؤں کو اپنے سَر کے پیچھے کی جانب تھاما جاتا ہے او ر تیسرے مرحلے میں اپنے بازوؤں کو اپنے پہلوؤں پر رکھا جاتا ہے ۔چوتھے مرحلے میں اپنی چھاتیوں کو چُھو کر دیکھا جاتا ہے پانچویں مرحلے میں اپنے نپلز کو چُھو کر دیکھا جاتا ہے چھٹے مرحلے میں لیٹ کر اپنی چھاتیوں کو چُھو کر دیکھا جاتا ہے۔

دوا خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

 

ماہواری آنے سے پہلے کی علامات کا

ماہواری آنے سے پہلے کی علامات کامجموعہ

(PMS)

ماہواری آنے سے پہلے کی علامات کا مجموعہ (PMS) میں ،جسمانی ، جذباتی ،نفسیاتی اور مزاج میں خلل ہونا وغیرہ شامل ہیں ۔یہ علامات انڈٖوں کے اخراج کے وقت (ماہواری آنے سے تقریبأٔٔ 7 سے 10 دِن پہلے)سے ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیںاور یہ علامات ماہواری کے آغاز کے ساتھ ختم ہوتی ہیں۔تقریبأٔ 80 فیصد عورتیں ، ماہواری سے پہلے کی علامات محسوس کرتی ہیں۔

مزاج کے حوالے سے ،ماہواری سے پہلے کی علامات میں سب سے زیادہ ظاہر ہونے والی علامات درجِ ذیل ہیں۔
# ناراضگی اور چڑچڑاہٹ
# تشویش
# تناؤ
# ڈپریشن
# رونا
# معمول سے زائد حِسّاسیت
# مزاج میں معمول سے زیادہ ردّوبدل ہونا
جسمانی علامات کے حوالے سے ،ماہواری سے پہلے کی علامات میں سب سے زیادہ ظاہر ہونے والی علامات درجِ ذیل ہیں۔
# تھکن
# سُوجن (رطوبتوں کے جمع ہونے کی وجہ
# وزن میں اِضافہ
# چھاتیوں میں دُکھن
# ایکنی(چہرے پر دانے
# نیند میںخلل یعنی بہت زیادہ سونا یا بہت کم سونا (بے خوابی)،
# بھوک میں تبدیلی ہونا یعنی ضرورت سے زائد کھانا یا بعض غذاؤں کی معمول سے زیادہ طلب یا خواہش

ماہواری آنے سے پہلے کی علامات کی تشخیص

ماہواری آنے سے پہلے کی علامات کی تشخیص،مشکل ثابت ہو سکتی ہے کیوں کہ بہت سی طبّی اور نفسیاتی کیفیات اِن علامات سے مماثلت رکھتی ہیں یا اِ ن علامات کو مزید شدید بنا سکتی ہیں۔اِن علامات کی تشخیص کے لئے کوئی لیباریٹری ٹیسٹ دستیاب نہیں ہیں۔تشخیص کے سب سے زیادہ مفید طریقے کے طور پر ماہواری کی ڈائری کو استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں گزشتہ کئی ماہ کے دوران اِس موقع پر پیدا ہونے والی جسمانی اور جذباتی علامات کا اندراج ہوتا ہے۔اگر یہ تبدیلیاں مسلسل طور پر انڈوں کے خارج ہونے کے وقت کے قریب قریب(اگلی ماہواری آنے سے 7سے10دِن پہلے) ظاہر ہوتی ہیں اور اگریہ علامات ماہواری کے آغاز تک برقرار رہتی ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ غالبأٔ اِن علامات کی درست تشخیص ہوگئی ہے ۔

ماہواری آنے سے پہلے کی علامات کی دیکھ بھال

اِن علامات کی عمومی دیکھ بھال میں صحت مند طرز زندگی پر مبنی ہوتی ہیں جس میں درجِ ذیل اُمور شامل ہیں۔
# ورزش
# گھر کے افراد اور دوست /سہیلیاں ماہواری کے دورانئے کے اےّام میں جذباتی طور پر معاونت کر سکتے ہیں۔
# ماہواری آنے سے پہلے نمک کے استعمال سے گریز کیجئے۔
# کیفین استعمال کرنے کی مقدار کم کیجئے ۔
# تمباکو نوشی ترک کیجئے۔
# الکحل (شراب)کی مقدار کم کیجئے ،اور
# پراسس کی ہوئی شکر کا استعمال کم کیجئے۔

تجویز پیش کی جاتی ہے کہ مندرجہ بالا تمام اُمور اختیار کئے جائیں،اور اِن باتوں پر عمل کرنے سے کچھ خواتین کو فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ۔مزید یہ کہ ،بعض مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وٹامن B6،وٹامن E،کیلشیم ،اور میگنیشیم کو سپلیمنٹ کے طور پر لینے سے کچھ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

تاہم بعض عورتوں میں یہ علامات بہت شدید ہوتی ہیں اور اُنہیں طبّی علاج کی ضرورت ہوتی ہے

اسقاط حمل

اسقاط حمل

بچّہ دانی سے زیرِتکمیل یا تکمیل شُدہ جنین کو نکالنا یا اس کا خارج ہوجانا اسقاط حمل کہلاتا ہے یہ ڈاکٹر/صحت کی دیکھ بھا ل کرنے والوں کی مدد سے اختیاری طور پر بھی کیاجا سکتا ہے اور غیر اِرادی طور (بچّہ ضائع ہونا)پر بھی ہو جاتا ہے۔

پُورے ہفتے ،24گھنٹوں میں کسی بھی وقت ،ٹیلیفون نمبر 9977999 0313 پر بِلا معاوضہ مشورہ کیجئے یا اسقاط حمل پر مزید معلومات اور راہ نمائی کے لئے ہم سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیجئے۔ al_shifa.herbal@yahoo.com

اسقاط حمل کی اقسام

اسقاط حمل دَو قِسم کا ہوتا ہے۔

فوری اور قدرتی طور پر ،بغیر اِرادے سے ہونے والا اسقاط جس کے نتیجے میں زیر تکمیل یا تکمیل شُدہ جنین بچّہ دانی سے خارج ہوجاتا ہے۔ اِسے بچّہ ضائع ہونا بھی کہتے ہیں
ڈاکٹر یا صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں کی مدد سے ،اِرادے کے ساتھ ، حمل کو ختم کرنا۔

فوری اور قدرتی طور پر ہونے والا اسقاط حمل یا بچّہ ضائع ہونا  عورت کے انڈے اور مَرد کی منی کے جرثومے کے ملاپ کے نتیجے میں بننے والے زائی گوٹ (zygote) /جنین (fetus) میں سے کافی تعدا د ایسی ہوتی ہے جو بچّہ دانی کی اندرونی سطح جُڑنہیں پاتی ،لہٰذا بچّہ دانی اِسے مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیتی ہے۔یہ عمل یا تو حمل کے بہت ابتدائی دِنوں میں واقع ہو جاتا ہے ۔ایسی صورت میں متعلقہ عور ت کو اُس کے ماہواری کے متوقع ایّام میں معمول سے زیادہ خون بہتا ہے۔ اگر یہ عمل حمل ہونے کے کافی دِن بعد ہوتا ہے تو اِسے عام طور پر بچّہ ضائع ہونا کہا جاتا ہے ،جب کہ تکنیکی اعتبار سے حمل ہونے 20ہفتوں کے اند ر ہونے والے اِس عمل کو فوری اسقاط حمل کہا جاتا ہے۔یہ عمل نقص والا بچّہ پیدا ہونے سے بچنے کے لئے جسم کی ایک کوشش ہوسکتی ہے۔ اور بعض اوقات یہ عمل ماں کی صحت کی خرابی کی وجہ سے بھی ہوسکتاہے۔
طبّی طور پر حمل کو ختم کرنا

یہ اسقاط اپنے فیصلے سے،ڈاکٹر یا صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں کی مدد سے، طبّی طریقوںیا آپریشن کے ذریعے عمل میں لایا جاتا ہے۔

پُورے ہفتے ،24گھنٹوں میں کسی بھی وقت ،ٹیلیفون نمبر 9977999 0313 پر بِلا معاوضہ کال کیجئے یا اسقاط حمل پر مزید معلومات اور راہ نمائی کے لئے ہم سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیجئے۔
al_shifa.herbal@yahoo.com
علاج کے حوالے سے اسقاطِ حمل

بعض صورتوں میں اسقاطِ حمل کو ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔اِس کا سبب جنین کی نشوونما میں بے قاعدگی(fetal anamolies)ہونا، زنا بالجبرکی صورت میں یا ماں کی صحت کو بچانا ہو جب کہ حمل اور بچّے کی پیدائش سے ماں کی زندگی کو خطرہ ہو یاحمل جاری رکھنا ، ماںکے لئے جسمانی اور نفسیاتی نقصانات کا سبب بنتا ہو۔
رضاکارانہ طوریا اِرادے کے ساتھ کئے جانے والے اسقاط حمل:

اگر جنین کی نشوونما میں بے قاعدگی(fetal anamolies)نہ ہو اور ماں کی صحت کو خطرہ بھی نہ ہولیکن متعلقہ عورت کسی اور وجہ سے اسقاط حمل کی درخواست کرے تو یہ رضاکارانہ اسقاط یا اِرادے کے ساتھ اسقاط کہلاتا ہے۔ایسے فیصلے عام طور پر معاشرتی بنیادوں پر کئے جاتے ہیں۔ مثلأٔ نو عمری میں حمل،نکاح کے بغیر حاملہ ہونا، مالی مشکلات مثلأٔ بچّے کی پرورش کے لئے ناکافی آمدنی یا حمل کے لئے مناسب وقت کا نہ ہونایا مانع حمل طریقے یا آلات اور ادویات کی ناکامی کی وجہ سے غیر مطلوبہ حمل ہوجانا وغیرہ۔
ادویات کے ذریعے اسقاط حمل

ادویات کے ذریعے اسقاط حمل کے طریقے میں آپریشن نہیں کیا جاتا بلکہ ادویات استعمال کی جاتی ہیں ۔یہ طریقہ ایسی عورتوں کے لئے مناسب ہے جن کے حمل کی مُدّت 8 ہفتے یا اِس سے کم ہو۔
حمل کا کتنا عرصہ ممکن ہو سکتا ہے؟

بہترین کامیابی (97 فیصد) کے لئے 8 ہفتے تک (49 دِن)۔
اِس میں کتنا وقت لگتا ہے ؟

عام طور پر اِس طرح اسقاط حمل میں چند گھنٹوں کا وقت لگ سکتا ہے۔
اِس عمل میں کتنا درد ہوتا ہے ؟

اسقاط حمل کے پورے دورانئے میں ہلکی اور شدید اینٹھن جاری رہتی ہے (عام طور پر ایک سے تین گھنٹے تک)۔اِس قِسم کے درد کے لئے ،درد ختم کرنے والی سادہ ادویات استعمال کی جاسکتی ہیں۔
اِس عمل میں کتنا خون آتا ہے ؟

اسقاط حمل کے دوران کافی مقدار میں خون اور لوتھڑوں کا خارج ہونا معمول کی بات ہے ۔اِ س کے بعد ،9 سے 14 دِن یا زائد عرصے تک ہلکی مقدار میں خون جاری رہتا ہے۔
کیا اسقاط حمل کے بعد بھی بچّے پیدا ہوسکتے ہیں؟

جی ہاں۔
اِس کے ذیلی اثرات کیا ہوتے ہیں؟

اِس کے ذیلی اثرات میں کافی مقدار میں خون آتا ہے ،سَر درد ہوتا ہے،متلی اور اُلٹی کی کیفیت ہوتی ہے اور شدید اینٹھن ہوتی ہے ۔
آپریشن کے ذریعے اسقاط حمل

آپریشن کے ذریعے اسقاط حمل دَو طریقوں سے کیا جاتا ہے۔suction-aspiration(ہوا کے دباؤ کے ذریعے کھینچ کر نکالنا ) اور dilation evacuation D&E(پھیلانا اور خِلا پید اکرنا)
حمل کا کتنا عرصہ ممکن ہو سکتا ہے؟

6 سے 12 ہفتوں تک کے حمل کے لئے suction-aspiration کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔حمل کی مُدّت 6 ہفتوں سے کم ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کی کامیابی کا اِمکان کم ہو جاتا ہے۔

15 سے تقریبأٔ 26 ہفتوں تک کے حمل کے لئے dilation and evacuation کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔
اِس میں کتنا وقت لگتا ہے ؟

کلینک پر ایک بار تین سے چار گھنٹے تک وقت لگتا ہے۔خود اسقاط حمل کے عمل میں تین سے پانچ منٹ کا وقت لگتا ہے ۔
اِس عمل میں کتنا درد ہوتا ہے ؟

اِس عمل میں ہلکی سے بہت شدید اینٹھن ہوتی ہے (عام طور پر 5 سے 10 منٹ تک)۔اِس عمل کے دوران اکثر اوقات درد ختم کرنے والی ادویات دی جاتی ہیں۔
اِس عمل میں کتنا خون آتا ہے ؟

عام طور پر ہلکے درجے سے درمیانے درجے تک خون آتا ہے اور یہ 6 سے 8 ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے ۔
کیا اسقاط حمل کے بعد بھی بچّے پیدا ہوسکتے ہیں؟

جی ہاں، بشرط یہ کہ یہ عمل کسی ماہر نے سر انجام دِیا ہو۔
اِس کے ذیلی اثرات یا پیچیدگیاں کیا ہوتی ہیں؟

اگر یہ عمل کسی ماہر نے سرانجام دِیا ہو تواِس عمل میں پیچیدگیاں شاذ ونادر (بہت کم صورتوں میں)ہی ہوتی ہیں (ایک فیصد سے بھی کم)۔اِس کے ذیلی اثرات میں،بے ہوشی کی دوا یا درد ختم کرنے والی ادویات سے سَر درد ،متلی اور اُلٹی کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔
غیر محفوظ اسقاط حمل

ضروری صلاحیتوں کے غیر حامل افراد کی جانب سے یا کم از کم مطلوبہ طبّی معیاردستیاب نہ ہونے کی صورت میں یا ایسی دونوں ہی صورتوں میںجب ،غیر مطلوبہ حمل کو ختم کیا جاتا ہے تو اِسے غیر محفوظ اسقاط حمل کہا جاتا ہے۔غیر محفوظ اسقاط حمل ماں کی صحت کے لئے ایک نمایاں خطرہ ہوتا ہے ۔عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ، دُنیا بھر میں،تمام اختیاری اسقاط حمل کی صورتوں میں سے 48 فیصد اسقاط حمل ،غیر محفوظ اسقاط حمل ہوتے ہیں اور اِن کے نتیجے میں آٹھ میں سے ایک ماں کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

ضروری صلاحیتوں کے غیر حامل افراد کی جانب سے یا کم از کم مطلوبہ طبّی معیاردستیاب نہ ہونے کی صورت میں یا ایسی دونوں ہی صورتوں میںجب ،غیر مطلوبہ حمل کو ختم

غیر محفوظ اسقاط حمل کی پیچیدگیوں میں ،نا مکمل اسقاط حمل،انفیکشن، کافی مقدار میں خون کا آنا، اور اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچنا،مثلأٔ بچّہ دانی کا پھٹ جانا یا اِس میں سوراخ پیدا ہوجانا وغیرہ شامل ہیں ،جس کے نتیجے میں،حاملہ ہونے کی صلاحیت مستقل طور پرختم ہوجاتی ہیں (بانجھ پن)۔

اگر مندرجہ بالا آپشنز کے بارے میںصحت کی خدمات فراہم کرنے والے ماہر سے تبادلہ خیال یا مشورہ اور مددکی ضرورت ہو تو ، براہِ کرم ٹیلی فون نمبر03139977999, پر بِلا معاوضہ مشورہ کریں,,, 24 گھنٹوں کے اندر جواب حاصل کرنے کے لئے ای میل کیجئے ۔
al_shifa.herba.@yahoo.com

ماہواری ماہانہ ایام کے بارے میں تمام باتیں

ماہواری(ماہانہ ایام) کے بارے میں تمام باتیں
ماہواری کیا ہے؟

لڑکیوں اور عورتوں کو ہر ماہ اُن کی بیضہ دانی سے ایک انڈہ خارج ہوتا ہے، جو نَل سے ہوتا ہُوا بچّہ دانی میں پہنچ جاتاہے۔ بیضہ دانی سے انڈے کے خارج ہونے سے پہلے، بچّہ دانی کی اندرونی سطح پر زائد خون اور عضلات کی تہہ بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔ اگر یہ انڈہ منی کے جرثومے سے بارآور ہوجاتا ہے تو یہ بچّہ دانی میں ٹھہر جاتا ہے اور جنین (fetus) بننے لگتا ہے۔ بیان کردہ زائد خون اور عضلات جنین کو صحت مند رکھنے اور اس کی افزائش میں کام آتے ہیں۔

لیکن زیادہ تر مواقع پر انڈہ بار آور ہوئے بغیر بچّہ دانی سے گزر رہاہوتا ہے۔ ایسی صورت میں زائد خون اور عضلات کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ فُرج کے راستے سے خارج ہوجاتے ہیں۔ یہ عمل ماہواری کہلاتا ہے۔ بعض لوگ اِسے ماہانہ ایام یا تاریخ بھی کہتے ہیں۔ ماہواری آنے سے لڑکیوں کو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ بلوغت کا عمل جاری ہے اور یہ کہ بلوغت کے ہارمونز اپنا کام کر رہے ہیں۔
کسی لڑکی کو ماہواری آنے کی توقع کب ہو سکتی ہے اور یہ کب تک جاری رہتی ہے؟

9سے 16سال کی عمر کے درمیان کسی بھی وقت ماہواری جاری ہو سکتی ہے، تاہم اپنی سہیلیوں سے موازنہ نہیں کیجئے کیوں کہ بعض کو ماہواری جلد آسکتی ہے اور بعض کو دیر سے۔ ہر لڑکی منفرد ہوتی ہے اور اس کا اپنا جسمانی نظام ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس بات سے فکر مند ہیں کہ آپ کی ماہواری ابھی تک شروع نہیں ہوئی تو ہمارے پینل کے ماہرین سے رابطہ کیجئے اور 24 گھنٹوں کے اندر جواب حاصل کیجئے۔ ماہواری کا دورانیہ عام طور پر 2سے7دِن تک جاری رہتا ہے۔
ماہواری کا دورانیہ کیا ہوتا ہے اور میں اِس کا حساب اپنے لئے کس طرح لگا سکتی ہُوں؟

ماہواری کے ایام کے درمیان وقفے کو ماہواری کا دورانیہ کہا جاتا ہے۔ لہٰذا ماہواری کے دورانئے کا حساب آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک ماہواری سے دُوسری ماہواری آنے تک کے دِنوں کا شُمار کیجئے۔ بعض کا دورانیہ 28دِن، 24دِن، 30دِن یا 35دِن بھی ہو سکتا ہے ۔

ماہواری کے دورانئے کا مختصر جائزہ کیا ہوتا ہے؟
ماہواری سے پہلے کی علامات کا مجموعہ (PMS)

لڑکیوں میں ماہواری شروع ہونے سے ایک یا دَو ہفتے پہلے بعض علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسی چند علامات ذیل میں درج ہیں

 مروڑ۔
 پھنسیاںیا دانے۔
 سَر درد۔
 کسی چیز کی شدید خواہش ہونا۔
 مزاج میں تبدیلیاں۔
 وزن میں اِضافہ ۔
 چھاتیوں میں دُکھن۔
 تھکن۔
 کھانے کی کسی چیز کی شدید خواہش ہونا۔
 تناؤ محسوس ہونا۔

بعض لڑکیوں میں یہ علامات ہلکی ہوتی ہیں جب کہ بعض کے لئے یہ علامات زیادہ شِدّت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔ ہر صورت میں یہ بات یاد رکھئے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور درد ختم کرنے والی دوا سے فائدہ ہوسکتا ہے۔ اگر اِن علامات کی شِدّت بہت زیادہ ہو یا یہ علامات ماہواری شروع ہونے کے بعد بھی جاری رہیں تو ہمارے پینل کے ماہرین کو ای میل کے ذریعے لکھئے اور 24گھنٹوں کے اندر جواب حاصل کیجئے۔
ماہواری کے دِنوں میں درد کیوں ہوتا ہے؟

ماہواری کے دِنوں میں جسم کے ہارمونز میں تبدیلی آتی ہے۔بعض لڑکیوں یا خواتین کے جسم میں Prostaglandin نامی ہارمون زیادہ مقدار میں بنتا ہے جس کی وجہ سے بچّہ دانی کے عضلات میں مروڑ اور درد پیدا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں درد ختم کرنے والی کوئی ہلکی دوا لی جا سکتی ہے، یا گرم پانی کی بوتل سے پیٹ کی سکائی کی جاسکتی ہے یا گرم پانی سے نہایا جا سکتا ہے۔

ایسٹروجین ایک اور زنانہ ہارمون ہے جس سے مجموعی طور پر، خواتین کو تسکین اور بہتری محسوس ہوتی ہے۔ ماہواری شروع ہونے سے ایک ہفتہ پہلے جسم میں ایسٹروجین کی مقدار کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔ اِس وجہ سے،ماہواری کے ساتھ، بعض خواتین کے مزاج میں تبدیلی آتی ہے۔
ماہواری سے پہلے کی علامات (PMS) سے کس طرح نمٹا جاسکتا ہے؟

ماہواری سے پہلے کی علامات کی دیکھ بھال درجِ ذیل خود احتیاطی تدابیر کے ذریعے کی جاسکتی ہے
اپنی غذا تبدیل کیجئے

 روزانہ تھوڑا تھوڑا کھاناتین سے زائد وقتوں میں کھائیے تا کہ پیٹ پھولنے اور زیادہ بھر جا نے کا احساس نہ ہو۔
نمک اور نمکین کھانوں کی مقدار کم کر دیجئے تا کہ پیٹ نہ پُھولے اور جسم میں رطوبتیں جمع نہ ہوں۔
مرکّب کاربو ہائیڈریٹ والی غذائیں کھائیے مثلأٔ پھل، سبزیاں اور سالم اناج وغیرہ۔
 زیادہ کیلشیم والی غذائیں استعمال کیجئے۔ اگر ڈیری کی چیزیں ہضم نہ ہوں یا آپ کی غذامیں کیلشیم کی مناسب مقدار موجود نہ ہو تو آپ کو روزانہ کیلشیم سپلیمینٹ لینے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
 روزانہ ایک ملٹی وٹامن سپلیمینٹ لیجئے۔
 کیفین اورالکحل والے مشروبات سے گریز کیجئے۔
 وٹامن B6 لیجئے۔ یہ وٹامن سالم اناج، کیلے، گوشت اور مچھلی میں پایا جاتا ہے۔ اِس وٹامن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جسم میں رُکی ہوئی رطوبات (جن کی وجہ سے اکثر اوقات چھاتیوں میں دُکھن ہوتی ہے) کو خارج کرتا ہے۔ یہ وٹامن ڈپریشن کو کم کرنے کے لئے بھی مفید ہے۔

ورزش کو اپنا معمول بنائیے

ہفتے کے اکثر دِنوں میں کم از کم 30 منٹ تک تیز چال کیجئے، سائیکل چلائیے، تیراکی کیجئے یا کوئی اور جسمانی حرکت کی سرگرمی کیجئے۔ روزانہ ورزش کرنے سے صحت مجموعی طور پر بہتر ہو جاتی ہے اور تھکن اور ڈپریشن دُور ہوجاتا ہے۔
تناؤ میں کمی

 خوب نیند کیجئے۔
 یوگا آزمائیے یاسکون حاصل کرنے اور تناؤ ختم کرنے کے لئے، مساج کروائیے ۔

چند ماہ تک اپنی علامات کا ریکارڈ رکھئے

علامات کا ریکارڈ رکھنے سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ علامات شروع کرنے والے عوامل کیا ہیں اور علامات ظاہر ہونے کا وقت کیا ہوتا ہے۔ اِس طرح آپ اپنے معالج سے اپنے مسائل کے بارے میں بات کر سکیں گی تا کہ وہ اِن علامات کو کم کرنے کے لئے آپ کو مناسب تدابیر بتا سکے۔
ماہواری سے پہلے کی علامات کے بارے میں غلط فہمیاں اورحقائق

غلط فہمی: ماہواری کے دوران ہمیشہ آرام کرنا چاہئے اور کبھی ورزش نہیں کرنا چاہئے۔

حقیقت: جس بات سے آپ کو آرام محسوس ہو وہ کیجئے، لیکن ورزش کرنے سے نہ گھبرائیے کیوں کہ اِس سے ماہواری کے بہاؤپر فرق نہیں پڑتا ہے، بلکہ ورزش کرنے سے عضلات میں آکسیجن زیادہ مقدار میں پہنچتی ہے اور درد میں کمی آجاتی ہے۔
غلط فہمی: ماہواری کے دوران نہانے سے مروڑ/ دردمیں اِضافہ ہو جاتاہے ۔

حقیقت: ماہواری کے دوران نہانا بالکل دُرست ہے۔ درحقیقت ماہواری کے دِنوں میں نہاناصفائی کے لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ اگر نہانے کے دوران کچھ خون یا دھبّے آجائیں تو گھبرائیے نہیں، یہ بالکل معمول کے مطابق ہے۔

غلط فہمی: ماہواری کا خون، ‘‘گندہ’’ خون ہوتا ہے۔

حقیقت: ماہواری کا خون درحقیقت بچّہ دانی کی اندرونی دیواروں کے عضلات کا بہاؤ ہوتا ہے تا کہ نئے عضلات بن سکیں، لہٰذااِس میں ‘‘گندہ’’ ہونے کی کوئی بات نہیںہے۔
غلط فہمی: انڈے، مُرغی، بکرے کا گوشت اور خشک میوہ نہیں کھانا چاہئے کیوں کہ یہ ‘گرم’ ہوتے ہیں اور اِن کی وجہ سے ماہواری جلدشروع ہو سکتی ہے۔

حقیقت: بشمول مندرجہ بالاغذاؤں کے آپ کو ہر قِسم کی غذا لینا چاہئے۔ اِس کے علاوہ موسم کی سبزیاں اور پھل بھی کھانا چاہئیں۔

غلط فہمی: ماہواری کے دِنوں میں بہت خون ضائع ہوتا ہے۔

حقیقت: اِس کی مقدار زیادہ محسوس ہو سکتی ہے لیکن نظر آنے والی مقدار سے اِس کی حقیقی مقدار بہت کم ہوتی ہے

عمر کے لحاظ سے ماہواری کا بند ہوجانا

عمر کے لحاظ سے ماہواری کا بند ہوجانا

عورت کی زندگی میں ،جب اُس کے تولیدی دورانئے ختم ہونے لگتے ہیںتو عمر کے لحاظ سے اُس کی ماہواری رفتہ رفتہ بند ہوجاتی ہے۔بالغ عورتیں جن کے جسم میں بچّہ دانی موجود ہواور وہ حاملہ نہ ہوں اور اُن کی چھاتیوںسے دُودھ بھی نہ آرہا ہوتو مستقل طور پر ماہواری بند ہونے کی علامت یہ ہے کہ کم از کم ایک سال تک ماہواری نہ آئے۔ یہ کیفیت قُدرتی عمل کا حِصّہ ہے جو اکثرعورتوں کو لگ بھگ 45 سال کی عمر سے درپیش آتا ہے۔عورت کی عمر کے اِس مرحلے میں بیضہ دانیاں اپنا کام چھوڑ دیتی ہیں اور اُسے بانجھ سمجھا جا تاہے اور اب اُسے حاملہ ہونے کے اِمکان کے بارے میں غور کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
عمر کے لحاظ سے ماہواری بند ہونے کی تکالیف کا علاج ہر عورت کے لئے مختلف ہوتا ہے۔اِس علاج میں بے آرامی اور تکلیف والی علامات کو کم کرنے یا دُور کرنے پر توجّہ دی جاتی ہے۔
عمر کے لحاظ سے ماہواری بند ہونے سے پہلے کا عرصہ (Perimenopause)

عمر کے لحاظ سے ماہوار ی راتوں رات بند نہیں ہوجاتی بلکہ یہ عمل رفتہ رفتہ واقع ہوتا ہے اور یہ عبوری دَور ہر عورت کے لئے مختلف ہوتا ہے ۔اِن عبوری سالوں کے دوران بہت سی عورتوں میں ہارمونز کی کمی بیشی کی وجہ سے ،عورتوں میں واضح اورطبّی طور پر قابلِ مشاہدہ جسمانی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں ۔اِن علامات میں سے ایک بہت مشہور علامت ’’جسم میں گرمی کا دور‘‘ ہوتی ہے ، یعنی اِس کیفیت میں جسم کے درجہ حرارت میں اچانک تیزی سے اِضافہ ہوجاتا ہے۔اِس عبوری دَور میں ،عام علامات میں ،مزاج میں تبدیلی ،نیند میں خلل ،تھکن، اور حافظے کے مسائل شامل ہیں۔
عمر کے لحاظ سے ماہواری بند ہونے کی علامات

عمر کے لحاظ سے ماہواری بند ہوجانے کے بعد عورت درجِ ذیل علامات میں سے کچھ علا ما ت محسوس کر سکتی ہے۔
# خون کی نالیوں کی علامات جسم میں گرمی کا دَور
# آدھے سَر کا درد
# فُرج سے خلافِ معمول خون آنا
# دِل کے دورے کا زائد خطرہ

# پیشاب اور جنسی اعضاء کی علامات خارش
# آخُشکی
# پیشاب آنے کی تعداد میں اِضافہ/بار بار پیشاب آنا
# پیشاب روکنے کی صلاحیت نہ ہونا (ایسا شاذونادر صورتوں میں ہی ہوتا ہے
# فُرج اور پیشاب کی نالی کے انفکشنز کا زائد اِمکان

# ہڈّیوں کے ڈھانچے کی علامات کمر میں درد
# جوڑوں اور عضلات میں درد
# ہڈّیوں کا بُھربُھرا پن (osteoporosis) یعنی ہڈّیوں کا مواد کم ہو جاتا ہے اور ہڈّی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

# جِلد اور نرم عضلات کی علامات جِلد کا پتلا ہوجانا
# چھاتیوں کا سُکڑ جانا

# نفسیاتی علامات ڈپریشن اور تشویش ہونا
# تھکن
# مزاج میں چڑچڑاہٹ
# حافظے میں کمی یا حافظہ ختم ہوجانا
# مزاج میں خلل پیدا ہونا
# نیند میں خلل واقع ہونا

# جنسی علامات فُرج کی خُشکی کی وجہ سے تکلیف دہ جنسی ملاپ ہونا
# جنسی خوا ہش میں کمی پیدا ہونا
# آرگیزم کی کیفیت حاصل کرنے میں دُشواری پیش آنا

حیض کا نہ آنا

حیض  کا نہ آنا

ماہوری کا نہ آنا بہت عام بات ہے جس کا لوگوں کو صحیح اندازہ نہیں ہے ۔یہ ماہواری کا نہ آنا

(amenorrhea)

کہلاتا ہے ۔غیر حاملہ عورتوں میں ماہواری کا نہ آنے کا سبب ہارمونز کا عدم توازن ہے اگرچہ ہارمونز کا یہ عدم توازن،عام طور پر ، شدید تو نہیں ہوتاتاہم صحت کے لئے بعض طویل مُدّتی خطرات ہوتے ہیں جن سے علاج کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔یاد رکھئے کہ ماہوارہی کا نہ آنا ،نہ تو کوئی بیماری ہے اور یہ حاملہ ہونے کی یقینی علامت بھی نہیں ہے۔ بعض اوقات ماہواری کا نہ آنا ایک نارمل بات ہوتی ہے اور اِس کے معنیٰ یہ نہیں ہوتے کہ کوئی خرابی ہے ۔
اگر ماہواری میں تاخیر ہو رہی ہے اور متعلقہ عورت حاملہ نہیں ہے تو عام طور پر اِس کا سبب ہارمونز ہوتے ہیں۔اِس کے معنیٰ یہ ہیں کہ متعلقہ عورت میں انڈوں کے اخراج کا عمل کسی سبب سے باقاعدگی سے نہیں ہو رہا ہے ۔ذہنی دباؤ کی وجہ سے بھی ماہواری اپنے وقت پر نہیں آتی۔ذہنی دباؤ کی وجہ سے جسم کے ہارمونز کا نارمل تناسب بگڑ جاتا ہے اور اِس وجہ سے ماہواری دیر سے آتی ہے یا کسی مہینے میں بالکل نہیں آتی۔ماہواری کا اپنے وقت پر نہ آنے کی چند خاص وجوہات میںآپ کی زندگی کی بڑی تبدیلیاں شامل ہیں مثلأٔ منتقل ہونا، نئے کام کا آغاز ، غذا میں تبدیلی ، یا ورزش کے معمولات وغیرہ ۔آپ کے وزن میں نمایاں کمی بھی کسی مہینے میں ماہواری نہ آنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر یہ کیفیت چند ماہ تک جاری رہے تو آپ کو اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔

اگر تین بار سے زائد مرتبہ ماہواری نہیں آتی ہے یا فکر مندی کی علامات پائی جائیں تو آپ کو اپنے ڈاکٹر سے ملاقات کرنا چاہئے تاکہ اصل سبب معلوم کیا جاسکے ۔عام طور پر یہ وجوہات پیچیدہ نہیں ہوتیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ کیفیت خود بخود ٹھیک ہوجائے

ضبط ولادت (مانع حمل) – شرعی نقطہ نظر سے

اولاد اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے مگر اس کے باوجود بعض اوقات انسان ضبط ولادت کو ضروری خیال کرتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر ضبط ولادت کے پیچھے حرام کاری ہی کارفرما ہو۔

ضبط ولادت میں ممکنہ جائز وجوہات

 ماں اور بچوں کی صحت کے نکتہ نظر سے خواہش ہوتی ہے کہ بچوں کی پیدائش میں دو تین سال کا وقفہ ہو۔
 بعض اوقات ماں کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ مزید بچے پیدا کر سکے۔
بعض اوقات میڈیکل ٹیسٹوں کی مدد سے پتہ چل جاتا ہے کہ آئندہ بچے نارمل نہیں‌ ہوں گے، چنانچہ حمل سے احتراز کیا جاتا ہے۔
 والدین کی بعض بیماریاں بچوں کو منتقل ہونے کے خدشے سے بھی بعض اوقات ضبط ولادت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
 اکثر جوڑے دو یا تین بچوں کی پیدائش کے بعد اپنے خاندان کو مزید بڑا کرنے سے احتراز کرتے ہیں تاکہ وہ بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کا انتظام کر سکیں۔
 ملازمت پیشہ خواتین بچوں کی تربیت کے لئے کم وقت نکال پاتی ہیں، چنانچہ ان کی بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کم بچے پیدا کریں۔
شرعی نقطہ نظر
مذکورہ بالا ممکنہ وجوہات کے پیش نظر بہت سے علماء ضبط ولادت کو سو فیصد حرام قرار نہیں دیتے۔ اس کے جواز میں وہ احادیث پیش کی جاتی ہیں جن میں صحابہ کرام کے عزل کرنے کا ذکر ہے۔ عزل اس دور میں ضبط تولید کا ایک طریقہ تھا۔

صحیح بخاری میں مذکور حدیث مبارکہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم عزل کیا کرتے تھے درآنحالیکہ قرآن مجید کے نزول کا سلسلہ جاری تھا۔

بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ عزل کرنا کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا جس جان کو اللہ نے قیامت سے پہلے پیدا کرنا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی۔ (یعنی تم اسے روک نہیں سکو گے۔)

حقیقت بھی یہی ہے کہ عزل کے دوران انزال سے پہلے ذکر کو فرج سے باہر نکالنے کی کوشش میں یا انزال سے بھی پہلے بعض اوقات چند سپرم فرج میں رہ جاتے ہیں اور وہ حمل کا باعث بن جاتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق عزل کی صورت میں 25 فیصد تک حمل کا امکان باقی رہتا ہے۔ یہی بات چودہ صدیاں قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمائی تھی۔

اس صفحہ کے مواد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
دوبارہ ملاحظہ کرنا مت بھولئے گا۔

بچے میں روح کب پھونکی جاتی ہے؟

بچے کی زندگی کا آغاز مرحلہ جنین سے ہوتا ہے اور حمل کے 4 ماہ بعد رحم مادر میں موجود بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے حدیث مبارکہ میں ہے:

یہی وجہ ہے کہ فقھاء کرام نے کسی مجبوری کی بناء پر 4 ماہ سے قبل اسقاط حمل کو جائز قرار دیا ہے۔ بچے کی زندگی کا آغاز مرحلہ جنین سے ہوتا ہے اور حمل کے 4 ماہ بعد رحم مادر میں موجود بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ حمل کے پہلے 4 ماہ کے دوران کسی معقول وجہ کی بناء پر حمل ضائع کرنا جائز ہے جبکہ 4 ماہ گزرنے کے بعد حمل کو ضائع کرنا بچہ کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
رحم مادر میں استقرارِ حمل جب تک 120 دن یعنی چار ماہ کا نہ ہو جائے یعنی بچہ کے اندر روح پھونکے جانے سے قبل اسقاطِ حمل

(abortion)

اگرچہ جائز ہے مگر بلا ضرورت مکروہ ہے، جب کہ 4 ماہ کا حمل ہو جانے کے بعد اسے بلا عذر شرعی ضائع کرنا حرام ہے۔

عذر شرعی سے مراد یہ ہے کہ اگر حمل کے 4 ماہ گزرگئے ہوں لیکن حمل برقرار رہنے کی وجہ سے عورت کی ہلاکت یقینی ہو، جس کی ماہر ڈاکٹروں نے تصدیق کردی ہو، تو ایسی صورت میں 4 ماہ کے بعد بھی اسقاط حمل جائز ہے بلکہ عورت کی جان بچانے کے لیے ضروری ہے کیونکہ اِسقاط نہ کرانے کی صورت میں ماں اور بچہ دونوں کی ہلاکت کا خطرہ یقینی ہے۔ ماں‌ کے مقابلہ میں پیٹ میں‌ موجود بچہ کا زندہ ہونا محض ظنی ہے، چنانچہ بچے کی نسبت ماں کی جان بچانا زیادہ اہم ہے۔ اس لیے اس صورت میں اسقاط کرانا واجب ہے۔
اسقاطِ حمل بارے فقھاء کے اقوال
درالمختار اور فتح القدیر میں ہے:
جب تک بچہ کی تخلیق نہ ہو جائے اسقاط حمل جائز ہے، پھر متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے اور تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے۔
(درالمختار، 1 : 76) (فتح القدير، 3 : 274)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے
عورت حمل گرا سکتی ہے جب تک اس کے اعضاء واضح نہ ہو جائیں اور یہ بات 120 دن (چار ماہ) گزرنے سے پہلے ہوتی ہے۔
(فتاویٰ عالمگیری، 1 : 335)
علامہ ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں
جب تک تخلیقی عمل (نطفہ میں اَعضاء کی ساخت کا عمل) شروع نہ ہو اِسقاطِ حمل جائز ہے۔ پھر فقہاء نے بیان کیا کہ یہ مدت چار ماہ ہے۔ اس تصریح کا یہ تقاضا ہے کہ تخلیقی عمل سے مراد روح کا پھونکا جانا ہو ورنہ یہ غلط ہے کیونکہ مشاہدہ سے ثابت ہے کہ تخلیقی عمل چار ماہ سے پہلے شروع ہوجاتا ہے۔
(فتح القدير، 3 : 274)
علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں
اگر عورت رحم میں نطفہ پہنچنے کے بعد اس کے اخراج کا ارادہ کرے تو فقہاء نے کہا ہے کہ اگر اتنی مدت گزر گئی ہے جس میں روح پھونک دی جاتی ہے تو جائز نہیں۔ اس مدت سے پہلے اخراج کرانے میں مشائخ کا اختلاف ہے اور حدیث کے مطابق یہ مدت چار ماہ ہے۔
(ردالمختار، 5 : 329)
علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں:
اور اگر اسقاط کے نتیجہ میں زندہ بچہ نکلا اور پھر مرگیا تو عورت کے عاقلہ پر اس بچہ کی دیت ہے جو تین سال میں ادا کی جائے گی، اور اگر عورت کے عاقلہ نہ ہوں تو عورت کے مال سے ادا کی جائے گی، اور عورت پر (دو ماہ کے مسلسل) روزے فرض ہیں اور عورت اس بچہ کی وارث نہیں ہوگی۔‘
(ردالمختار، 5 : 379)
علامہ حصکفی حنفی لکھتے ہیں:
عورت کے لیے حمل ساقط کرانے کی کوشش کرنا مکروہ ہے، اور عذر کی وجہ سے جائز ہے، بشرطیکہ بچہ کی صورت نہ بنی ہو اور اگر اس نے کسی دوا کے ذریعہ سے ناتمام (کچے) بچے کا اسقاط کرایا تو ماں کے عاقلہ (دودھیال) کی طرف سے بچہ کے وارثوں کو (ایک سال میں) پانچ سو درہم ادا کیے جائیں گے۔
(درالمختار، 5 : 397)

حمل (Pregnancy)

تخلیق انسانی بارے آیات قرآنی

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ. (النساء، 4 : 1)
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری تخلیق ایک جان سے کی۔

(single life cell)

وَهُوَ الَّذِيَ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ. (الانعام، 6 : 98)
اور وہی (اﷲ) ہے جس نے تمہاری (حیاتیاتی) نشوونما ایک جان سے کی۔

مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ. (لقمان، 31 : 28)
تمہیں پیدا کرنا اور تمہیں دوبارہ اُٹھانا بالکل اُسی طرح ہے جیسے ایک جان

Zygote یا fertilized ovum

سے انسانی زندگی کا آغاز کیا جانا

إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (الدهر، 76 : 2)
بیشک ہم نے اِنسان کو مخلوط نطفےسے پیدا کیا۔ پھر ہم اسے مختلف

(mingled fluid)

حالتوں میں پلٹتے اور جانچتے ہیں، حتیٰ کہ اُسے سننے دیکھنے والا بنا دیتے ہیں

أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً (القيامه، 75 : 37، 38)
کیا وہ ابتداءً محض منی کا ایک قطرہ

(spermatic liquid یا sperm)

نہ تھا جو (عورت کے رحم میں) ٹپکا دیا گیا۔ پھر وہ لوتھڑا بنا۔

فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ (الطارق، 86 : 5 – 7)
پس انسان کو غور (و تحقیق) کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ قوت سے اُچھلنے والے پانی (یعنی قوِی اور متحرک مادۂ تولید) میں سے پیدا کیا گیا ہے۔ جو پیٹھ اور کولہے کی ہڈیوں کے درمیان (پیڑو کے حلقہ میں) سے گزر کر باہر نکلتا ہے۔

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ. (السجده، 32 : 8)
پھر اس کی نسل کو ایک حقیر پانی کے نطفہ سے پیدا کیا جو اس کی غذاؤں کا نچوڑ ہے۔

إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ. (الدهر، 76 : 2)
بیشک ہم نے اِنسان کو مخلوط نطفےسے پیدا کیا۔

(mingled fluid)

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً. (النساء، 4 : 1)
اے لوگو! اپنے ربّ سے ڈرو، جو تمہاری تخلیق ایک جان

(single life cell)

سے کرتا ہے، پھر اُسی سے اُس کا جوڑ پیدا فرماتا ہے، پھر اُن دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلاتا ہے۔

خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا. (الزمر، 39 : 6)
اُس (ربّ) نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اُسی میں سے اُس کا جوڑ نکالا۔

وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى. (الحج، 22 : 5)
اور ہم جسے چاہتے ہیں (ماؤں کے) رحموں میں ایک مقررہ مدّت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں۔

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ (العلق، 96 : 1، 2)
اپنے رب کے نام سے پڑھیئے جس نے پیدا کیاo اُس نے اِنسان کو (رحمِ مادر میں) جونک کی طرح ’’معلّق وُجود‘‘ سے پیدا کیاo

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً. فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً. فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا. فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا. ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (المومنون، 23 : 12 – 14)
اور بیشک ہم نے اِنسان کی تخلیق (کی اِبتدا) مٹی کے (کیمیائی اجزا کے) خلاصہ سے فرمائی پھر ہم نے اُسے نطفہ (تولیدی قطرہ) بنا کر ایک مضبوط جگہ (رحمِ مادر) میں رکھا پھر ہم نے اس نطفہ کو (رحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلّق وجود بنا دیا۔ پھر ہم نے اُس معلّق وُجود کو ایک (ایسا) لوتھڑا بنا دیا جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے۔ پھر ہم نے اُس لوتھڑے سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنایا۔ پھر ہم نے اُن ہڈیوں پر گوشت (اور پٹھے) چڑھائے۔ پھر ہم نے اُسے تخلیق کی دُوسری صورت میں (بدل کر تدرِیجاً) نشوونما دی، پھر (اُس) اﷲ نے (اُسے) بڑھا کر محکم وُجود بنا دیا جو سب سے بہتر پیدا فرمانے والا ہے

ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ (السجده، 32 : 9)
پھر اُسے (اعضائے جسمانی کے تناسب سے) درُست کیا اور اُس میں اپنی طرف سے جان پھونکی اور تمہارے لئے (سننے اور دیکھنے کو) کان اور آنکھیں بنائیں اور (سوچنے سمجھنے کے لئے) دِماغ، مگر تم کم ہی (اِن نعمتوں کی اہمیت اور حقیقت کو سمجھتے ہوئے) شکر بجا لاتے ہو

إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (الدهر، 76 : 2)
بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفےسے پیدا کیا۔

(mingled fluid)

  پھر ہم اُسے مختلف حالتوں میں پلٹتے اور جانچتے ہیں، حتیٰ کہ اُسے سننے والا (اور) دیکھنے والا (انسان) بنا دیتے ہیں

يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (الزمر، 39 : 6)
وہ تمہیں ماؤں کے پیٹ میں تاریکیوں کے تین پردوں کے اندر ایک حالت کے بعد دُوسری حالت میں مرحلہ وار تخلیق فرماتا ہے۔ یہی اللہ تمہارا ربّ (تدرِیجاً پرورش فرمانے والا) ہے۔ اُسی کی بادشاہی (اندر بھی اور باہر بھی) ہے۔ سو اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، پھر تم کہاں بہکے چلے جاتے ہو!o

وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (الفرقان، 25 : 2)
اور اُسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے، پھر اُس (کی بقا و اِرتقاء کے ہر مرحلہ پر اُس کے خواص، اَفعال اور مدّت الغرض ہر چیز) کو ایک مقرّرہ اندازے پر ٹھہرایا ہے

مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَهُ (عبس، 80 : 18 – 22)
اﷲ نے اُسے کس چیز سے پیدا فرمایا ہے؟o نطفہ میں سے اُس کو پیدا فرمایا، پھر ساتھ ہی اُس کا (خواص و جنس کے لحاظ سے) تعیّن فرما دیاo پھر (تشکیل، اِرتقاء اور تکمیل کے بعد بطنِ مادر سے نکلنے کی) راہ اُس کے لئے آسان فرما دیo پھر اُسے موت دی، پھر اُسے قبر میں دفن کر دیا گیاo پھر جب وہ چاہے گا اُسے (دوبارہ زندہ کر کے) کھڑا کر لے گا

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى (الاعلیٰ، 87 : 1 – 3)
اپنے ربّ کے نام کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہےo جس نے (کائنات کی ہر چیز کو) پیدا کیا، پھر اُسے (جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ) درُست توازُن دیاo اور جس نے (ہر ہر چیز کے لئے) قانون مقرّر کیا، پھر (اُسے اپنے اپنے نظام کے مطابق رہنے اور چلنے کا) راستہ بتایا

أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَى قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ (المرسلات، 77 : 20 – 23)
کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہیں فرمایاo پھر ہم نے اُسے ایک محفوظ جگہ (رحمِ مادر) میں رکھاo ایک معلوم ومعین انداز سے (مدت) تکo پھر ہم نے (اگلے ہر ہر مرحلے کے لئے) اندازہ فرمایا، پس ہم کیا ہی اچھے قادر ہیںo

وَهُوَ الَّذِيَ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ (الانعام، 6 : 98)
اور وہی (اﷲ) ہے جس نے تمہیں ایک جان (یعنی ایک خلیہ) سے پیدا فرمایا ہے پھر (تمہارے لئے) ایک جائے اقامت (ہے) اور ایک جائے امانت (مراد رحمِ مادر اور دنیا ہے یا دنیا اور قبر ہے)۔ بیشک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیںo

پردہ بکارت (Virginity)

فرج کے دہانے کو ڈھکنے والی باریک جھلی پردہ بکارت کہلاتی ہے۔ یہ جھلی عموما شب عروسی کے موقع پر پہلی مباشرت کے دوران ختم ہو جاتی ہے اور اس کے زائل ہونے پر معمولی خون بھی نکلتا ہے۔

اسے عموما کنوارپن کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ عین ممکن ہے کہ یہ بچپن میں ہی کھیلتے ہوئے اچھل کود کے دوران ختم ہو جائے۔ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آسانی سے زائل نہ ہو اور اسے زائل کرنے کے لئے تھوڑا تردد کرنا پڑے۔